New Age Islam
Sun Oct 17 2021, 04:01 PM

Urdu Section ( 27 Sept 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

After Establishment of Taliban, Growing Threat of IS-K towards India and Roles of Indian Ulama and Muslims قیام طالبان کے نتیجے میں ہندوستان کو دولت اسلامیہ خراسان کی جانب سے در پیش خطرات اور ہندوستانی علماء اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں

دولت اسلامیہ خراسان کی بھارت مخالف بیانیے کی تردید کرنا ہندوستانی علماء اور مسلم حکام کے لیے ضروری ہے

اہم نکات:

1.      دولت اسلامیہ خراسان تلنگانہ، کیرالہ، آندھرا پردیش، کرناٹک اور تمل ناڈو میں زیادہ سرگرم عمل ہے

2.      ہندوستان کو دولت اسلامیہ خراسان کے ممکنہ خطرے سے  بچانا ہندوستانی علماء اور مسلم اسکالرز پر لازم ہے

3.      مسلمانوں کو اسلام کے نام پر دہشت گردوں کو  نفرت اور تباہی کا کھیل نہیں کھیلنے دینا چاہیے

4.      دہشت گردوں نے اپنی توجہ افغان-پاکستان کے خطے سے ہٹا کر برصغیر ہند کی طرف کر لی ہے۔ اس لیے ہندوستانی مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردی کے بیانیے کی تردید کریں

5.      ہندوستانی علماء اور مسلم دانشوروں کو بار بار یہ باور کرانا چاہیے کہ جنگ سے متعلقہ قرآنی آیات اور احادیث کے احکامات ایک سیاق و سباق کے حامل ہیں اور آج ان کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔

-------

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

 23 ستمبر 2021

(Photo courtesy: European Eye of Radicalisation)-Islamic State’s Khorasan Province: A Potent Force in Afghan Jihad

------

داعش نے عراق اور شام کے بڑے علاقوں میں اپنی نام نہاد 'خلافت' برطانیہ کے برابر بنائی ۔ یہ القاعدہ کے بطن سے پیدا ہوا لیکن اس نے تیزی سے القاعدہ کو پیچھے چھوڑ دیا اور دنیا بھر میں جہادیوں کا مرکز بن گیا۔ اس نے ننگرہار اور افغانستان کے دیگر صوبوں میں کیمپ قائم کیا۔ شہاب المہاجر اس کے موجودہ امیر ہیں۔ جون میں اقوام متحدہ کے ایک مطالعے کے مطابق امریکی انخلاء سے قبل کے مہینوں میں 8000 سے 10،000 جہادی جنگجو وسطی ایشیائی ریاستوں، روس کے شمالی قفقاز، پاکستان اور چین کے صوبے سنکیانگ سے ایغور افغانستان میں داخل ہوئے ہیں۔ کچھ نے طالبان میں شمولیت اختیار کی جبکہ اکثریت دولت اسلامیہ خراسان میں شامل ہو گئی۔ ٹی ٹی پی کے علاوہ طالبان کے القاعدہ سے بھی قریبی تعلقات ہیں لیکن دولت اسلامیہ خراسان نے طالبان کو امریکی ایجنٹ قرار دیا ہے اور مبینہ طور پر اس کے خلاف جنگ کر رہی ہے۔ اس میں بعض مشتعل طالبان جنگجو بھی شامل ہوئے ہیں جو خراسان میں داعش کی طرح قومیت کے بجائے عالمی جہاد پر یقین رکھتے ہیں۔

پچھلے سال ستمبر میں بھارت کی کئی ویب سائٹس پر شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق داعش کئی ریاستوں اور خاص طور پر بھارت کی جنوبی ریاستوں کے نوعمر لوگوں کو اپنے دہشت گرد گروہ کی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ آئی ایس میں شامل ہونے والے افراد مرکزی اور ریاستی سیکورٹی ایجنسیوں کی توجہ میں لائے گئے۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے جنوبی ریاستوں مثلا تلنگانہ، کیرالہ، آندھرا پردیش، کرناٹک اور تمل ناڈو میں آئی ایس آئی ایس کی موجودگی پر 17 تحقیقات شروع کی اور 122 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔

آئی ایس نے کئی شکلیں اختیار کی ہیں، مثلا اسلامک اسٹیٹ، اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ دی لیونٹ، اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا، داعش ، اسلامک اسٹیٹ ان خراسان، داعش ولایت خراسان، اسلامک اسٹیٹ آف عراق اور شام-خراسان ۔ اپنے نظریات کو پھیلانے کے لیے اس دہشت گرد گروہ نے مختلف قسم کے انٹرنیٹ پر مبنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال کیے ہیں۔ ہم نے اس سے قبل نیو ایج اسلام پر آئی ایس آئی ایس کے  جریدے ‘وائس آف ہند’ کے کچھ اقتباسات کو پیش کیا تھا جس میں ان کے نظریات و خیالات کا کا خاکہ پیش کیا گیا تھا کہ وہ ہندوستان کے بھولے بھالے نوجوانوں کو اپنی راغب کرنے کے لیے اسلام کا استعمال کیسے کر رہے ہیں۔

متعلقہ ایجنسیاں اس سلسلے میں سائبر اسپیس پر سخت نظر رکھے ہوئے ہیں، اور ضرورت کے مطابق قانونی کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔ تاہم، یہ مسئلہ اب بھی اپنی جگہ باقی ہے کہ افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے قیام کے بعد آئی ایس اور خاص طور پر دولت اسلامیہ خراسان میں نوجوانوں کی بھرتی کو روکنے کے لیے ہندوستانی علماء اور مسلم دانشوران کیا کر سکتے ہیں؟

اس سوال کا سامنا کرتے ہوئے امت مسلمہ اس وقت انتشار کی حالت میں ہے۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جدید دور کے دہشت گردوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ تاہم، اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردوں کے خیالات اور نظریات نوجوانوں منفی ذہن سازی کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان دہشت گردانہ عقائد کو اسلام کے بینر تلے فروغ دیا جا رہا ہے۔ ان تصورات کے رد عمل میں جو بھی آوازیں اٹھائی جاتی ہیں وہ خاموش کر دی جاتی ہیں۔ دہشت گرد تنظیمیں اپنے مقصد کو جاری رکھتی ہیں لیکن دہشت گردوں پر تنقید کرتے ہوئے ہم کبھی کبھی خاموش ہو جاتے ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ہم دہشت گردانہ نظریات کو مستقل طور پر رد نہیں کرتے ہیں تو غیر مسلم طبقہ ہمارے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہو جائے گا جس سے ہم دوہرے خطرے کا شکار ہو جائیں گے۔

اس سوال سے نمٹنے کے دوران مرکزی دھارے کے مسلمان ذہنی اذیت کی حالت میں رہے ہوں گے۔ ایک طرف اسلام دشمن گروہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے انتھک جدوجہد کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایسے مسلمان ہیں جو نہتے لوگوں کا خون بہاتے ہیں، عورتوں کے گلے کاٹتے ہیں اور بے گناہوں کو قتل کرتے ہیں۔ وہ اسے شرعی قوانین کا حصہ بنانے کے لیے تیار ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم خارجی قوتوں کے حملوں کو برداشت کر سکتے ہیں لیکن داخلی حملوں کا کیا کیا جائے؟ دہشت گردی کو اسلام کی ضمانت سمجھنے والے افراد کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟ ہم ان لوگوں کو کیسے شکست دیں گے جو ظلم و ستم کے بدلے ظلم و ستم کو منطقی سمجھتے ہیں؟

ہم ان سرکردہ دہشت گردوں کو اسکولوں، صوفی مزارات، مذہبی اجتماعات، عبادت گاہوں اور شاہراہوں پر اسلام کے نام پر خودکش حملے کرنے سے کیسے روک سکتے ہیں؟ وہ دہشت گرد جو حکومتوں کے قیام یا اپنی 'امارت' یا 'خلافت' کے لیے لڑ رہے ہیں ، اور جنہوں نے اپنی لڑائی کو مقدس بنانے کے لیے اس پر جہاد کا لیبل لگا دیا ہے، انہیں کیسے روکا جا سکتا ہے؟ کیا انہوں نے ماضی میں اسلامی لڑائیوں کے بارے میں نہیں پڑھا؟ کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ حضور نے کبھی کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کیا جو مجرم نہ ہو؟ کیا انہیں احساس نہیں ہے کہ جنگ سے بچتے ہوئے کسی کا پیچھا کرنا بھی اسلام نے ناپسندیدہ سمجھا ہے؟

کون ان گمراہ نوجوانوں کو سمجھائے گا کہ اسلام کو پھیلانے والے نبی ﷺ کو اللہ نے دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث کیا ہے۔ دہشت، نفرت اور تباہی کا کھیل اس عظیم نبی ﷺ کے نام پر نہیں کھیلا جا سکتا۔

اسلام امن اور بھائی چارے کا مذہب ہے اور یہ غیر مسلح شہریوں بالخصوص خواتین، بچوں، بوڑھوں، بے بسوں اور کمزوروں کے قتل سے منع کرتا ہے۔ دوسری طرف دہشت گرد تنظیمیں ان باتوں کو قبول نہیں کرتی ہیں۔ تاہم، ہم مسلمانوں کو کبھی بھی اس دہشت گرد بیانیے کے خلاف اپنی جدوجہد پر اعتماد نہیں کھونا چاہیے، جو اسلام کی آڑ میں پوری دنیا میں پھیلانے جا رہے ہیں۔ یہ وہ خدشات ہیں جن سے نمٹنے کیلئے امت مسلمہ اور بالخصوص علمائے کرام کو ایک پر امن دینیات اور انسداد دہشت گردی کے بیانیے کی تردید کے ساتھ متحد ہونا ہوگا۔

ہندوستانی علماء اور مسلم دانشوروں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ نوائے افغان جہاد کے 2021 کے (جنوری سے اپریل) شمارے کے مطابق دہشت گردوں نے اپنی توجہ افغان-پاکستان کے علاقے سے ہٹا کر برصغیر اور خاص طور پر کشمیر کے علاقے پر مرکوز کر دی ہے۔ مذکورہ میگزین کے (جنوری 2021 کے شمارے میں) ایک حیرت انگیز سرورق پیش کیا اور مومنین کو ہندوستان کے مشرکین سے لڑنے کی دعوت دی، اور اس کے ثبوت میں مسند احمد کی ایک حدیث کا حوالہ پیش کیا گیا جس میں ہے کہ "اس امت میں [جہاد کرنے اور اس طرح جہنم سے اپنی نجات کو یقینی بنانے کے لئے] سندھ اور ہند کی طرف فوجیں بھیجی جائیں گی۔

یہ وہ خیالات اور نظریات ہیں جو شاید کسی نوجوان کو آسانی سے گمراہ کر دیں۔ کیونکہ اسلام کے نام پر اس طرح کے بھارت مخالف پروپیگنڈے کو پھیلایا جا رہا ہے، ہندوستانی علماء، مسلم اسکالرز اور مفکرین کو اس دہشت گردانہ نظریے کی تردید کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہیں داعش کے اسلامی نظریہ پر غور کرنا چاہیے اور اس کی تردید کرنا چاہیے۔ علمائے کرام کو اپنے نقطہ نظر پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اب وہ ساتویں اور آٹھویں صدی میں نہیں ہیں جب اسلامی فکر اور فقہ بنیادی طور پر پختہ ہوچکے تھے۔ کیا ہمیں انہیں یہ یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ یہ اکیسویں صدی ہے؟ آج دنیا یکسر بدل چکی ہے۔ غزوات اب ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ کا چارٹر، جس پر کرہ ارضی کے تقریبا ہر ملک نے دستخط کیے ہیں، اس وقت دنیا پر غالب ہے۔

ہندوستانی علماء اور مسلم دانشوروں کو بار بار یہ باور کرانا چاہیے کہ جنگ سے متعلقہ قرآنی آیات اور احادیث کے احکامات ایک مخصوص سیاق و سباق کے حامل ہیں اور آج ان کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر قرآنی آیت "مشرکین کو قتل کرو انہیں جہاں پاؤ" (9:5) کی صحیح تشریح اسی طرح کی جانی چاہیے جس طرح ایک مشہور کلاسیکل اسکالر ابوبکر الجصاص (م۔370ھ) نے اسی آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھا تھا، "صارقوله تعالى: {فَاقْتُلُواالمُشْرِكِين َحَيْث ُوَجَدْتُمُوهُمْ} خاصّاً في مشركي العرب دون غيرهم" ترجمہ: "آیت (مشرکین کو قتل کرو انہیں جہاں پاؤ) خاص طور پر عرب کے مشرک کے لئے ہے اور کسی کے لئے نہیں۔(احکام القرآن للجصاص، ج5، ص270،)

انہیں غیر مسلموں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے قرآن و سنت میں دی گئی تنبیہات پڑھنی چاہئیں، جیسا کہ درج ذیل قرآنی آیات اور احادیث سے ثابت ہے۔

اللہ قرآن میں فرماتا ہے،

"جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کیے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جِلا لیا اس نے گویا سب لوگوں کو جلالیا، اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے پھر بیشک ان میں بہت اس کے بعد زمین میں زیادتی کرنے والے ہیں "(5:32)

 "اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں نہ لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہ نکالا کہ ان کے ساتھ احسان کرو اور ان سے انصاف کا برتاؤ برتو، بیشک انصاف والے اللہ کو محبوب ہیں۔ " (60:8)

 "ترجمہ: "خبردار ہو جاؤ، اگر کوئی کسی پرامن غیر مسلم شہری [معاہد ] پر ظلم کرے، یا اس کا حق کم کرے، یا اس کی صلاحیت سے بڑھ کر اسے کام کرنے پر مجبور کرے، یا اس کی رضامندی کے بغیر کچھ بھی اس سے چھین لے، میں قیامت کے دن اس کا وکیل ہوں گا’’۔ (ملاحظہ ہو سنن ابی داود ۔ کتاب 20 ، حدیث نمبر 125۔ عربی)۔

 حالت جنگ کے دوران بھی مسلمانوں کے لئے یہ احکامات تھے: کسی بچے، کسی عورت، یا کسی بڑے یا بیمار شخص کو نہ مارو۔" (سنن ابو داؤد)۔ "فریب یا مثلہ مت کرو۔ (موطا امام مالک)۔ "گاؤں اور شہروں کو تباہ نہ کرو، کھیتوں اور باغوں کو ویران نہ کرو اور مویشیوں کو قتل نہ کرو۔" (صحیح بخاری ؛ سنن ابو داؤد)۔ "پادریوں اور راہبوں کو نہ مارو ، اور انہیں بھی قتل نہ کرو جو عبادت گاہوں میں پناہ لیں۔ (مسند احمد بن حنبل )

ان احکامات کو بار بار دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہئے تاکہ مسلمانوں کو یاد دلایا جا سکے کہ پیغمبر اسلام کے زمانے میں اسلامی جنگوں کا ہدف مذہبی ظلم و ستم کو روکنا اور تمام مذہبی برادریوں کے لیے مذہبی آزادی اور سلامتی کو فروغ دینا تھا، جبکہ جدید "اسلام پسند" دہشت گرد گروہ ایسے احکامات کی سب سے زیادہ خلاف ورزی کرنے والے ہیں۔ وہ خود مذہبی طبقات کو ستاتے ہیں لہٰذا وہ ان ظالموں میں شامل ہیں جن پر "اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔ سورہ آل عمران:86،87۔

قرآن ہمیں بتاتا ہے: "اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے اور گواہ کہیں گے یہ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا، ارے ظا لموں پر خدا کی لعنت۔ (11:18) یہ یقینی طور پر آئی ایس آئی ایس کے نظریات پر منطبق ہوتا ہے، وہ ظالم ہیں جو عملی طور پر اسلام کے نام پر ایک نیا مذہب ایجاد کر چکے ہیں، جس کا بنیادی مقصد اسلام کو بدنام کرنا ہے۔

یہ صرف ان چند طریقوں میں سے چند ایک ہیں جن کے ذریعے علماء اور مسلم اسکالرز عوامی سطح پر اپنے اثر و رسوخ کو بڑھا سکتے ہیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ انہیں آئی ایس آئی ایس کے انتہا پسند بیانیے پر گہری نظر رکھنی چاہیے اور ایک ایک کر کے ان کی تردید کرنی چاہیے۔ مزید برآں، امن اور تکثیریت پر مبنی اسلامی تعلیمات، جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا، ہمارے دور کے لئے موزوں اور ضروری ہے۔ صرف مرکزی دھارے کے مسلمانوں کے لیے بااثر بننے کے علاوہ، انہیں ان تعلیمات کو  انتہا پسند دہشت گرد گروہوں کے خفیہ ہمدردوں کے لیے بھی قابل قبول بنانا ضروری ہے۔

 

English Article: After Establishment of Taliban, Growing Threat of IS-K towards India and Roles of Indian Ulama and Muslims

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/khorasan-ulema-muslims-taliban/d/125454

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..