New Age Islam
Sat Sep 18 2021, 05:55 AM

Urdu Section ( 20 Aug 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Afghan Woman Anchor Barred from Working in TV افغان خاتون ٹی وی اینکر کو کام کرنے سے روک دیا گیا حالانکہ طالبان نے خواتین کے حق ملازمت کا احترام کا وعدہ کیا تھا

طالبان : ان کے علماء خواتین کے حقوق کا فیصلہ کریں گے

 اہم نکات:

1. ایک عورت کو نقاب نہ پہننے پر قتل کیا گیا

2. ایک شیعہ رہنما کا مجسمہ گرایا گیا

3. عام افغان اپنے عام معافی کے اعلان پر شکوک و شبہات کا شکار ہیں

4. طالبان اسلام کی اپنی خود ساختہ مذہبی تشریحات سے دور نہیں جا سکتے

 -----

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

 20 اگست 2021

 -----

Shabnam Dawran (Photo courtesy ShethePeople)

-----

 طالبان نے افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے اور کابل میں اپنی حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کی حکومت امارت اسلامی افغانستان ہوگی۔ 1996 سے 2001 تک حکومت کرنے والی ایک جابرانہ حکومت کی واپسی کے خوف سے لاکھوں افغانی پاکستان ، ایران ، ترکی اور یورپی ممالک بھاگ گئے ہیں۔ اپنے پہلے دور حکومت میں انہوں نے خواتین کی تعلیم پر پابندی عائد کی اور خواتین کو عوامی زندگی سے روک دیا، بچیوں کے اسکول جانے پر پابندی لگا دی گئی اور شیعہ ہزارہ سمیت اقلیتوں کو بدترین ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بامیان بدھ اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو تباہ کر دیا اور شیعہ مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کو قتل کیا۔

 طالبان کے تحت ظلم و ستم کے ایک اور دور کے خوف سے، بہت سے افغان باشندے پڑوسی ممالک بھاگ کر چلے گئے ۔ خواتین اور اقلیتیں خاص طور پر اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔

 تاہم ، اس بار طالبان نے خواتین اور اقلیتوں کے حوالے سے ایک عملی انداز اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے عام معافی کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کا احترام کریں گے اور خواتین کو اسلامی شریعت کے دائرے میں رکھتے ہوئے انہیں ان کے مقام پر بحال رکھا جائے گا۔ ایک دن قبل ایک بیان میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اتوار کے روز کہا کہ ہماری حکومت اسلام کے دائرے میں رہ کر کام کرنے کے لیے آزاد ہوگی لیکن انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ’اسلام کے فریم ورک‘ سے ان کی کیا مراد ہے۔

دو دن بعد اب طالبان کے رہنما وحید اللہ ہاشمی نے کہا کہ مسلم خواتین کے کام اور تعلیم کے حق کا فیصلہ اسلامی علماء کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ علماء فیصلہ کریں گے کہ لڑکیاں اسکول جاسکتی ہیں یا نہیں۔

دوسری طرف سرکاری ٹی وی آر ٹی اے کی ایک خاتون اینکر کو اس بنیاد پر کام میں شامل ہونے سے روک دیا گیا کہ ’نظام‘ بدل چکا ہے۔ ایک اینکر شبنم ڈوران نے کہا کہ طالبان کے قبضے کے بعد انہیں اپنی نوکری جوائن کرنے سے روک دیا گیا۔ یہ طالبان رہنماؤں کی باتوں سے متصادم ہے۔

ایک اور واقعہ جو طالبان کے موقف سے متصادم ہے وہ یہ ہے کہ طالبان نے ایک افغان خاتون کو کابل میں سرعام نقاب نہ پہننے پر قتل کر دیا۔ یہ قتل ذبیح اللہ مجاہد کے اس بیان کے بعد ہوا جس میں خواتین کے حقوق کا احترام کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

 ایسا لگتا ہے کہ طالبان خواتین کے حقوق کے بارے میں اور اس بارے میں کوئی واضح پالیسی نہیں بنا سکے ہیں کہ کیا انہیں کام کرنے اور اسکول جانے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔

یہ ایک مبہم بیان ہے کہ اسلام کے دائرے میں خواتین کو ان کے حقوق کی اجازت دی جائے گی اور اسلامی اسکالر اس مسئلے پر فیصلہ کریں گے۔ شریعت کی بہت سی تشریحات ہیں اور پردہ اور خواتین کے لیے تعلیم اور ملازمتوں کے حوالے سے اسلامی علماء و فقہاء کی بہت سی آراء ہیں۔ اور طالبان شروع سے ہی اپنے علماء کی تشریحات پر عمل پیرا ہیں۔ لہذا یہ تھوڑا پیچیدہ معلوم ہوتا ہے جب وہ کہتے ہیں کہ تعلیم کے معاملے اور خواتین کے لیے پردے کی حد اور ملازمتوں میں ان کی شرکت کے بارے میں ان کے علماء فیصلہ کریں گے۔ ان کے پاس پہلے سے ہی ان کی اپنی شریعت ہے اور اس لیے انہیں ان خاص مسائل پر اپنے علماء کی رائے لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ اقلیتوں یا عورتوں کو اسلام کے فریم ورک کے اندر اپنے حقوق حاصل ہوں گے، تو کیا وہ ہزارہ مسلمانوں کو مارتے وقت اسلام کے فریم ورک کی پیروی نہیں کر رہے تھے یا اب وہ تسلیم کریں گے کہ جب انہوں نے اپنے پچھلے دور حکومت میں لڑکیوں کو اسکول جانے سے منع کیا تھا تب کیا انہوں نے اسلام کے فریم ورک کی خلاف ورزی کی تھی؟

 1990 کی دہائی میں طالبان نے ہزاروں شیعوں کا قتل عام کیا۔ اس دور میں ایک طالبان کمانڈر مولوی محمد حنیف کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ ہزارہ مسلمان نہیں ہیں لہذا انہیں قتل کیا جا سکتا ہے۔ 1998 میں ہزاروں ہزارہ مسلمانوں کو مزار شریف میں قتل کیا گیا۔ حال ہی میں اقتدار میں آنے کے بعد طالبان نے ایک ہزارہ رہنما کا مجسمہ گرا دیا جسے انہوں نے 1999 میں قتل کیا تھا۔

یہ سب کو معلوم ہے کہ طالبان کا اپنا مذہبی نظریہ ہے اور ان کے اپنے اسلامی علماء ہیں جو ایک پرتشدد اور انتہا پسند اسلامی نظریہ پیش کرتے ہیں۔ ان کی شریعت کے مطابق خواتین کو عوامی زندگی گزارنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اگر وہ ان سب باتوں کی اجازت دیتے ہیں تو وہ خود اپنی شریعت کی خلاف ورزی کریں گے اور یہاں تک کہ اگر وہ کچھ عملی نقطہ نظر اپناتے بھی ہیں تو وہ اس سمت زیادہ آگے نہیں جا سکتے۔ ان کی اپنی قدامت پسندانہ تشریح ان کے راستے میں حائل ہو جائے گی۔ جو کچھ وہ پچھلے ایک ہفتے سے کہہ رہے ہیں اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس سے ظاہر ہے کہ وہ دنیا کے سامنے اپنی تنظیم کی ایک لبرل اور اصلاح شدہ تصویر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کے نظریاتی وعدے انہیں پیچھے کھینچ رہے ہیں۔

 طالبان کے ممبران میں یہ الجھن ہے جو کہ افغان عوام خصوصا خواتین اور اقلیتوں کے درمیان بدگمانی اور شکوک و شبہات کی جڑ ہے۔ وہ طالبان کی ان باتوں سے مطمئن نہیں ہیں جن میں انہیں تحفظ کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ خواتین اور شیعوں کے بارے میں طالبان کی پالیسی آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو جائے گی۔ لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ خواتین کے حق تعلیم، ملازمت اور سماجی حقوق کے بارے میں اپنے دہائیوں پرانے موقف اور افغانستان میں رہنے والے ہزارہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے بارے میں اپنے قدیم فتوے سے زیادہ دور نہیں جا سکتے۔

---------------

Related Article:

Afghan Woman Anchor Barred from Working in TV While Taliban Vow to Respect Women’s Right to Work in Afghanistan

 URL:  https://www.newageislam.com/urdu-section/afghan-taliban-journalist/d/125251

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..