New Age Islam
Tue Mar 03 2026, 10:34 PM

Urdu Section ( 21 Nov 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Does US Want Regime Change in Afghanistan? کیا امریکا افغانستان میں تختہ پلٹ چاہتا ہے؟

نیو ایج اسلام اسٹاف رائیٹر

21 نومبر 2025

اکتوبر کے آخری ہفتے اور نومبر کے پہلے ہفتے میں  استنبول میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان منعقدہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ شروع نہیں ہوئی ہے جس کا پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے عندیہ دیا تھا لیکن پاکستان نے طالبان سے نپٹنے کے بجائے اندرونی طور پر تحریک طالبان پاکستان سے نپٹنے کی پالیسی اپنائی ہے۔ پاکستان میں اب بھی افغانستان سے ٹی ٹی پی کے جنگجو داخل ہوکر پاکستانی فوج پر حملے کررہے ہیں اور ان کو جانی نقصان پہنچارہے ہیں۔پاکستانی فوج کو خیبر پختونخوا میں ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے میں اڑچنیں آرہی ہیں کیونکہ مقامی آبادی کا ایک حصہ ان کے ساتھ ہے۔۔گزشتہ ماہ جب پاکستانی فوج نے خیبر ضلع کے تیراہ میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن چلانا چاہا تو عوام نے مزید کسی آپریشن کی مخالفت کی کیونکہ ہر آپریشن میں انہیں نقل مکانی کرنے کو کہا جاتا ہے اور فوج کے ڈرون حملوں میں معصوم شہری مارے جاتے ہیں۔ان آپریشنوں میں فوج نے جنگجوؤں سے زیادہ معصوم شہریوں خصوصاً  عورتوں اور بچوں کو قتل کیا ہے۔

پاکستان افغانستان کے خلاف باقاعدہ جنگ تو نہیں کررہا ہے لیکن کچھ ایسے واقعات دونوں ملکوں کے درمیان ہورہے ہیں جن سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت کو گرانے کی سازش ہورہی ہے۔۔افغانستان اور پاکستان کی کچھ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک مشرقی ایشیائی ملک افغانستان سے طالبان حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے اور اس کے لئے درپردہ کوششیں بھی کررہا ہے۔ اس ملک نے پاکستان سے اس پلان میں مدد چاہی ہے لیکن پاکستان اس خفیہ پلان کا,حصہ نہیں نننا چاہتا۔ اس مشرقی ایشیائی ملک نے پاکستان سے کہا ہے کہ کم از کم وہ  طالبان کی مدد یا اس کا دفاع نہ کرے۔ اسی دوران سی آئی اے کی ایک سابق ایجنٹ سارہ ایڈمس نے  جو ٹویٹر پر سرگرم رہتی ہیں اور افغانستان میں کام کرچکی ہیں  اپنے ایک بیان میں یہ انکشاف کیاہے  کہ 10 نومبر کو 5 بجکر 13 منٹ پر قندھار میں طالبان کے امیر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ پر ان کے ایک۔محافظ نے چھری سے حملہ کیا جس کےنتیجے میں ان کے دائیں ہاتھ میں زخم آیا۔۔اخوندزادہ قندھار کے ایک مدرسے کے دورے پر گئے تھے۔ حملہ آور کا نام حافظ صدیق اللہ ہے ۔ اسے گرفتار کرلیا گیا ہے۔سارہ ایڈمس کے مطابق یبت اللہ پر یہ حملہ طالبان کی اندرونی گروہ بندی کا نتیجہ تھا۔واضح ہو کہ طالبان  میں پاکستان کے لئے دو طرح کا موقف رکھنے والے لوگ ہیں ۔اہک گروہ پاکستان سے مفاہمت چاہتا ہے تو دوسرا گروہ پاکستان مخالف ہے۔ہبت اللہ اخوندزادہ تو اس حملے میں بچ گئے لیکن اس حملے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ طالبان کے اندر شدید رسہ کشی جاری ہے۔

طالبان کے لئے دوسرا بڑا جھٹکا 18 نومبر کو لگا جب صوبہ بدخشاں   میں نیشنل رزسٹینس فرنٹ یا این آر ایف اور طالبان فورسز کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی اور اس جھڑپ میں طالبان فورسز کو پسپا ہونا پڑا۔ طالبان کے لئے تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ این آر ایف کی قیادت افغانستان کی فوج کے سابق چیف یسین ضیاء کررہے تھے۔ یہ۔پہلا موقع نہیں ہے کہ آین آر ایف کے ساتھ بدخشاں میں طالبان کی جھڑپ ہوئی ہے لیکن موجودہ تناظر میں اس جھڑپ کے مضمرات وسیع ہیں۔کیونکہ افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی نے بھی دو دن قبل ٹویٹر پر ایک بیان دیا ہے جو افغانستان کی۔موجودہ صورت حال میں اہمیت کا حامل بن جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے طویل بیان میں افغانستان اور پاکستان کی کشیدگی ،مہاجرین اور طالبان کی۔پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر افغانستان کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لئے ان کی ضرورت پڑی تو وہ اس کے لئے تجاویز بھی دے سکتے ہیں اور عملی کردار بھی ادا کرسکتے ہیں۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر افغانستان  میں حکومت کی تبدیلی ہو تو وہ دوبارہ افغانستان کی سیاست میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

اس دوران ایک اور خبر کو اسی تناظر میں رکھنا ضروری ہے۔اقوام متحدہ میں ڈنمارک کی سفیر کرسٹینا نے ٹی ٹی پی کو پوری دنیا کے لئے ایک خطرہ قرار دہا اور افغان طالبان پر اس کی۔مدد کرنے اور انہیں پناہ دینے کا الزام لگایا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان۔میں 6000 ٹی ٹی پی جنگجوموجود ہیں اور اس تنظیم نے پاکستان میں لا تعداد حملے کرکے بڑی تعداد میں معصوم افراد کو قتل کیا ہے۔ واضح ہو کہ ڈنمارک کی سفیر نے ٹی ٹی پی اور طالبان پر پاکستان کے ہی موقف کا اعادہ کیا ہے جبکہ ڈنمارک سے پاکستان کے بہت اچھے تعلقات نہیں ہیں۔قیاس کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی درخواست پر  امریکا نے ڈنمارک سے یہ بیان طالبان حکومت کے خلاف عالمی سطح پر ماحول سازی کے لئے دلوایا ہو۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب امریکی صدر ٹرمپ افغانستان سے بگرام ہوائی اڈہ مانگ رہے تھے ۔طالبان  نے بگرام کا کنٹرول  امریکا کو نہ دے کر امریکاکی بھی دشمنی مول لی تھی جبکہ طالبان کو افغانستان میں  اقتدار تک پہنچانے میں امریکا نے ہی اہم کردار نبھایا تھا۔

قرائن یہ بتاتے ہءں کہ طالبان سے شدید اختلافات کے باوجود پاکستان طالبان حکومت کا خاتمہ نہیں چاہتا اسی لئے اس نے طالبان کے ساتھ مژاکرات کی ناکامی کے بعد کھلی جنگ کی دھمکی دینے کے باجود ابھی تک اس کے خلاف کوئی فوجی کارروائی نہیں کی ہے اور نہ ہی اس کے خلاف کسی خفیہ پلان میں شامل ہونا چاہتا ہے۔شاید وہ یہ سمجھتا ہے کہ افغانستان میں ایک کمزور طالبان  کی موجودگی خطے میں امریکا کی۔موجودگی سے بہتر ہے۔

-------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/regime-change-afghanistan/d/137717

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..