New Age Islam
Tue Jan 27 2026, 10:57 PM

Urdu Section ( 23 Jan 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Dr. Martin Luther King’s fight against discrimination ایجوکیشن فار پیس سینٹر میں سماجی اور نسلی تفریق کے خلاف ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کی جد و جہد کو ان کی 85 ویں یوم پیدائش کے موقع پر یاد کیا گیا

 

نیو ایج اسلام کے خصوصی نامہ نگار

17 جنوری 2014

محترمہ ڈیانے ملر نے جب نیو ایج اسلام فاؤنڈیشن کی شاخ ایجوکیشن فار پیس کے طلباء و طالبات کے ساتھ اپنی گفتگو میں امن، آزادی اور تعلیم کے لیے اپنی زندگی کو وقف کرنے والی اس دنیا کی عظیم شخصیات کی قائدانہ صلاحیتوں اور خوبیوں کو عنوان بنایا تو ان کا موضوع گفتگومہاتما گاندھی کی پرامن مزاحمت، سماجی اور نسلی تفریق کے خلاف ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنک کی جد و جہد، آزادی کے لیے نیلسن منڈیلا کی جنگ اور تعلیم کے لیے ملالہ یوسف زئی کا بے پناہ جوش و جذبہ تھا۔

16 جنوری 2014 کو ایجوکیشن فار پیس سینٹر میں منعقد کیے گئےاس پروگرام کا بنیادی مقصد یہاں کے طلباء و طالبات کے کو مکالماتی انگریزی زبان میں ماہر بنانا تھا۔ ایجوکیشن فار پیس غریب اور پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے اکثر ایسے تربیتی پروگراموں کا انعقاد کرتا ہے۔

3 گھنٹے تک جاری رہنے والے اس مکالماتی انگریزی زبان کے تربیتی پروگرام میں مہمان خصوصی اور استاذ محترمہ ڈیانے ملر، ریجنل انگلش لینگویج آفیسر، سفارت خانہ ریاستہائے متحدہ امریکہ تھیں۔ ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کی 85 ویں یوم پیدائش کے موقع پر ان قائدوں کی قربانیوں اور ان کے تعاون پر گفتگو کرنے کے بعد انہوں نے طلبہ کو ان نمایاں صلاحیتوں اور خوبیوں سے آگاہ کیا جو ایک اچھے قائد کے لیے ناگزیر ہیں۔ باہمی گفتگو کے انداز میں بات کرتے ہوئے انہوں نے طلبہ کو بتایا کہ ایک اچھے لیڈر کے لیے ایماندار، عقلمند، خوش اخلاق، امن پسند، ہمدرد اور اپنے مقاصد میں پرعزم اور ثابت قدم ہونا کیوں ضروری ہے۔

 انہوں نے طلبہ کے سامنے ایسے بہت سارے کھیل بھی پیش کیےجن سے ایک ایسے آزاد ماحول میں انہیں انگریزی زبان میں مشق و ممارست کا موقع ملتا ہے جس میں طلبہ بطریق احسن اپنی خوبیوں اور صلاحیتوں کا اظہار کر سکتے ہیں۔ ان کھیلوں کی نوعیت کچھ ایسی تھی کہ ان کا استعمال ایسے مکالماتی انگریزی دروس کے لیے کیا جا سکتا ہےجن سے طلبہ کو بہت سارے مختلف موضوعات پرایک دوسرے کے ساتھ مکالماتی انگریزی کی مشق کرنے کا موقع ملتا ہے۔ انہوں نے مختلف موضوعات سے متعلق سوالات اور دلچسپ تصاویر کے ذریعہ گفتگو کو آگے بڑھایا جس سے طلبہ میں دلچسپی پیدا ہوئی اور ضمناً ان کے علم میں بھی اضافہ ہوا۔ ڈیانے ملر نے طلبہ کو کہا کہ وہ  مختلف موضوعات سے متعلق مفردات کے بارے میں سوچیں اور اس طرح انہوں نے طلبہ کو مفردات پر مشق کرنے کا موقع بھی فراہم کیا۔

طلباء و طالبات کو باہمی مکالمہ پر ابھار کر ڈیانے ملر نے انہیں مکالماتی انگریزی سکھانے کے لیے انتہائی اعلی درجے کی جدید ترین اور حیرت انگیز تکنیک کا استعمال کیا۔ طلبہ کے ذہنوں میں تخلیقی سوچ و فکر پیدا کرنے کی کوشش میں انہوں نے میجک بیگ سے سولات کا رقعہ نکال کر ہر ایک طالب علم کو دیا۔ ان میں سے کچھ سوالات اس طرح تھے: مہاتما گاندھی کس چیز پر یقین رکھتے تھے؟َ ڈاکٹر مارٹین لوتھر کی جد و جہد کس لیے تھی؟ نینسن منڈیلا نے کس چیز کے خلاف جنگ لڑی؟ نینسن منڈیلا نے جیل میں کتنا عرصہ گزارا وغیرہ۔

 اسی طرح، ایجوکیشن فار پیس کے طالب علموں کو مکالماتی انگریزی زبان سکھانے کے لیے ڈیانے ملر نے جو شاندار انوکھا اور مکالماتی طریقہ اختیار کیا تھا اسے دیکھ کر حیرت ہوئی۔ ڈیانے ملر نے اس تربیتی پروگرام میں کھلے طور پر سوال و جواب کا بھی پروگرام رکھا اور انہوں نے طلبہ کے تمام سوالوں کا جواب بھی دیا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایجوکیشن فار پیس میں زیر تعلیم لڑکیاں مختلف سرگرمیوں میں لڑکوں پر فوقیت لے گئیں خاص طور پر سوال و جواب کے پروگرام میں انہوں نے لڑکوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس ورک شاپ میں ایجوکیشن فار پیس اور نیو ایج اسلام دونوں کے اسٹاف ممبران نے شرکت کی۔ اس ورک شاپ کے اصل منتظمین میریل پوتھریٹ، سونیکا رحمٰن اور ورشا شرما تھیں۔

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

URL for English report:

https://newageislam.com/current-affairs/dr.-martin-luther-king’s-fight/d/35358

URL for this report:

https://newageislam.com/urdu-section/dr.-martin-luther-king’s-fight/d/35396

 

Loading..

Loading..