New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 08:06 PM

Urdu Section ( 4 Nov 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The United Nations Calls The 'Blasphemous Act' A Cause Of Violence And Hatred اقوام متحد ہ نے’ گستاخانہ عمل‘ کو تشددو نفرت پھیلانے کا سبب قراردیا


31اکتوبر،2020

اقوام متحدہ (ایجنسی) فرانسیسی میگزین کی جانب سے ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت پر اقوام متحدہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مذکورہ عمل کو تشدد اور نفرت پھیلانے کا سبب قرار دیا ہے۔یو این کے ذیلی ادارے دی یونائیٹڈ نیشنس الائنس آف سولائیزیشن (یو این اے او سی) نے فرانسیسی میگزین کی جانب سے پیغمبر ؐ کے ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔اقوام متحدہ کی مذکورہ تہذیبوں کے اتحاد کے ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت کے بعد تشدد اور انتہاپسندی کے بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے۔ذیلی ادارے کے سربراہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ توہین آمیز مواد کی وجہ سے ہی تشدد میں اضافہ ہوا، جس کا نشانہ معصوم شہری بنے۔بیان میں واضح کیا گیا کہ مذاہب، عقیدوں یا تہذیبوں کی تذلیل کیے جانے سے ہی تشدد، انتہاپسندی اور نفرت میں اضافہ ہوتا ہے اور ایسے متنازع اقدامات سے دور رہ کر تہذیبوں اور مذاہب کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی پیدا کی جانی چاہیے۔ادارے کے سربراہ میگوئل اینجل موراتینوس نے اپنے بیان میں بتایا کہ آزادی اظہار، آزادی مذہب و عقائد، باہمی انحصار اور انسانوں کے مشترکہ حقوق سے متعلق تمام تفصیلات اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کے آرٹیکل ۱۸؍ اور۱۹؍ میں درج ہے، جن میں واضح ہے کہ آزادی اظہار کو کسی بھی مذہب یا عقیدے کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔اقوام متحدہ کے تہذیبوں کے اتحاد کے ادارے کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار کا استعمال اس طرح کرنا چاہیے جس سے دنیا کے تمام مذاہب اور عقائد کا احترام مسخ نہ ہو۔میگوئل اینجل موراتینوس نے اس بات پر زور دیا کہ آزادی اظہار سے متعلق انسانی حقوق کے عالمی منشور کے آرٹیکلز پر عمل کرنا تمام ممبر ممالک کا فرض ہے۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے نے فرانسیسی صدر یا وہاں کے سیاستدانوں کا ذکر کیے بغیر ہی اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ’گستاخانہ خاکوں‘ یا ’توہین مذاہب‘ کے معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔عالمی ادارے کے مطابق تشدد کی کارروائیوں اور انتہاپسندی کو کسی بھی مذہب، عقیدے، نسل یا قوم کے ساتھ منسلک نہیں کیا جانا چاہیے اور یہ کہ کسی طرح کے غلط عمل کو عقیدے یا مذہب کی بنیاد پر کرنے کی اجازت بھی نہیں ہونی چاہیے۔میگوئل اینجل موراتینوس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ عالمی قوانین میں نفرت انگیز تقریروں، امتیازی سلوک، کسی کے مذہب اور عقیدے کے خلاف توہین آمیز بات کرنے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔عالمی ادارے نے دنیا بھر کے تمام مذاہب اور عقائد کے درمیان باہمی تعاون، فروغ اور محبت پر زور دیا تاکہ دنیا سے تشدد اور انتہاپسندی کا خاتمہ کیا جا سکے۔عالمی ادارے نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ وہ دنیا امن لانے کے لیے ہر طرح کے مذاکرات کی حمایت کرے گا۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانسیسی صدر نے آزادی اظہار کے نام پر ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

فرانسیسی صدر نے رواں ماہ ۲۳؍اکتوبر کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ فرانس آزادی اظہار پر یقین رکھتا ہے اور ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔فرانسیسی صدر کے ایسے بیان کے بعد پاکستان، ترکی، ایران، ملائیشیا، کویت اور سعودی عرب سمیت تقریبا دنیا کے تمام مسلم ممالک میں فرانس کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے تھے اور فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی کیا گیا۔

فرانسیسی صدر ایمونل میکراں کے رویہ

پردارالعلوم دیوبند کا سخت احتجاج


دیوبند (یواین آئی) ہندوستان کے معروف دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم کے خلاف توہین آمیز خاکوں کی حمایت کرنے پر فرانس کے صدر ایمونل میکراں کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ دارالعلوم کے مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے جمعہ کو بیان جاری کرکے کہا  ہے کہ یہ فرانس کی  اسلام سے دشمنی کی علامت ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس مسئلہ پر اسلامی تعاون تنظیم  (او آئی سی) فرانس کے خلاف سخت کارروائی کرے۔پوری دنیا میں مسلم جمہوری اقدار کے نام پر صدر امینوئل میکراں کے سخت رویہ کے خلاف مظاہرہ کررہے ہیں۔ پیغمبر اسلام کا خاکہ بنانے والے فرانس کے استاذ کے قتل کے بعد مسٹر میکراں  کے اسلام کے تئیں رویہ میں تبدیلی سے مسلمان ناراض ہیں۔مولانا نعمانی نے کہا کہ ’’یہ اسلامک ممالک اور ممالک کے سربراہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلہ  پر فرانس کے خلاف مضبوط حکمت عملی تیار کریں اور اسے مضبوطی کے ساتھ بین الاقوامی اسٹیجوں پر اٹھایا  جائے۔ او آئی سی، عرب لیگ اور دوسرے مسلم ممالک کو حکومت فرانس کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان تنوع میں یکجہتی کی بہترین مثال پیش کرتا ہے اور ہماری روایت ہے کہ یہاں سبھی مذاہب اور اس  کے رہنماؤں کی عزت کی جاتی ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت  سے  اپیل کی کہ وہ  ملک کے مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے وہ ان کی آواز بلندکریں۔

فرانسیسی صدر کو مسلمانوں سے معافی کیلئے مجبور ہونا پڑے گا:احمد بخاری


ممتاز عالم رضوی

نئی دہلی :پیغمبر اسلام حضرت محمد ؐ کی اہانت کیے جانے کی تائید کرنے والے فرانسیسی صدر میکراں کی  سخت تنقید کرتے  ہوئے شاہی امام سید احمد بخاری نے کہا آج نہیں تو کل انھیں دنیا کے مسلمانوں سے معافی مانگنے کے لیے مجبور ہونا پڑے گا ۔یہاں شاہی جامع مسجد میں نماز جمعہ سے قبل شاہی امام نے جہاں ایک طرف فرانس پر سخت تنقید کی وہیں دوسری طرف اسرائیل پر بھی زور دار حملہ کیا اور اس سے دوستی کرنے والے مسلم ممالک کو موجودہ صورت حال کا ذمہ دار قرار دیا ۔ یہی نہیں فرانسیسی صدر کو منہ توڑ جواب دینے والے ترکی کے صدر طیب اردگان کو ہندوستانی مسلمانوں کی طرف سے شاہی امام نے خراج تحسین پیش کیا ۔

 شاہی امام نے اشارتاً ملک کی مرکزی حکومت کو بھی متنبہ کیا کہ وہی حکومت ترقی کرتی ہے جو انصاف پر قائم ہوتی ، جہاں آئین و قانون کی بالا دستی ہے ہوتی ، وہ حکومتیں تباہ ہو جاتی ہیں اور وہ ملک برباد ہو جاتے ہیں جہاں ناانصافی سے کام لیا جاتا ہے ۔ واضح رہے کہ حضرت محمد ؐ کے خاکے بنانے اور اس کی اشاعت کی اجازت دینے کے خلاف پوری دنیا میں ملت اسلامیہ فرانسیسی صدر میکران کے خلاف علم احتجاج بلند کر رہی ہے ۔ ہندوستان میں بھی فرانس کے خلاف آواز  بلند کی جا رہی  ہے ۔ شاہی امام نے خطبہ کا آغاز کرتے ہوئے کہا آج پوری دنیا میں نگاہ اٹھاکر دیکھئے تو ہر طرف ایک عجیب آہ وزاری کاعالم ہے۔ دنیا کے جس خطہ میں بھی مسلمان رہ رہاہے وہ وہاں رہ کر غریب الوطنی کی زندگی گزاررہاہے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ دنیا کا مسلمان اس وقت اپنی تاریخ کے بد ترین دور سے گزررہاہے اوریہ صورت حال تقریبا دنیا کے ہرملک میں ہے۔ کوئی خطہ ایسا نہیں ہے جہاں وہ پورے اطمینان اور سکون کے ساتھ زندگی گزاررہے ہوں۔ مصائب ، پریشانیاں اور رسوائیاں مسلمانوں کا مقدر بن گئی ہیں۔یہ دنیا حادثات اور دلخراش واقعات کی آماجگاہ ہے۔ یہاں اچھے واقعات بھی رونما ہوتے ہیںاوربرے بھی، یہاں خوشیاں ہیں تو غم بھی ہیںنیز شادمانیاں ہیں مگر تکلیفیں زیادہ ہیں۔ انصاف کم اور نا انصافیاں پوری دنیا میں سراٹھائے ہوئے ہیں۔ مظلومیت کی سب سے طویل تاریخ دنیا کے اگرکسی خطہ سے وابستہ ہے تو وہ سرزمین فلسطین ہے۔اہل فلسطین کئی دہائیوں سے ظالم اسرائیلی حکومت سے نبردآزماہیں۔ کوئی بھی فلسطینی آنکھ ایسی نہیں جو اشک بارنہ ہو۔ یہ فلسطینی مسلمان جن کے پاس دنیاوی ہتھیار تو نہیں ہیں لیکن فلسطینی نوجوان حوصلوں اور عزائم سے لیس ہیںکیونکہ تاریخ شاہد ہے ، جنگیں ہتھیاروں سے نہیں بلکہ حوصلوں سے ہوتی ہیں ۔

شاہی امام نے یو اے ای ، سعودی حکومت وغیرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ افسوس تویہ ہے کہ کچھ مسلم ممالک آج یہودی حکومت کے آلۂ کاربنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے صیہونی طاقتوں کے حوصلے بلند ہیں اور وہ مسلسل دنیابھرمیں اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ جبکہ اسلام امن وسلامتی کا مذہب اور اس کا امین ہے۔انھوں نے کہا کہ آپ کو یادہوگا چند سال پہلے ڈنمارک کے ایک اخبار نے نبی اکرمؐ کو استغفراللہ دہشت گرد سے تعبیر کرکے دنیابھرکے مسلمانوں میں غم وغصہ پیداکردیاتھا۔ اس کے بعد فرانس کے ایک مگیزین نے حضور اکرمؐکے کارٹون بناکر شائع کئے اور پھر یہودیوں کی ایماء پر بیشتر ممالک نے اس کارٹون کو پریس کی آزادی کی آڑ میں باربار اسے شائع کیا تو مسلمانوں کے صبر کادامن چھوٹ گیا۔ دنیا بھرمیں مسلمانوں نے احتجاج کیا۔اب فرانس میں ایک بار پھر اہانت رسول کا دلخراش واقعہ انجام دیاگیا اور گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی گئی۔ اس دلخراش اور افسوسناک حرکت پر دنیا بھرکے مسلمانوں میں بے چینی ہے ، احتجاج اور مظاہرے ہورہے ہیں۔افسوس تو یہ ہے کہ اس گستاخانہ حرکت کی فرانس کے صدر میکراں نے کھل کر حمایت ہی نہیں کی بلکہ وہ ملک کہ جنہوں نے اس واقعہ کی مذمت کی اور حکومت فرانس کو للکارا تو فرانس کے صدر نے کارٹون کی اشاعت کو اظہار خیال کی آزادی قراردیا۔ مگر ترکی کے صدر طیب اردگان نے فرانس کے خلاف سخت موقف اختیار کیا اور طیب اردگان فرانس کے خلاف لئے گئے اپنے فیصلے پرقائم ہے۔میں ہندوستانی مسلمانوں کی طرف سے اور اپنی طرف سے طیب اردگان کے اس جرأت مندانہ اقدام پر خراج تحسین پیش کرتاہوں۔شاہی امام نے کہا کہ فرانسیسی حکومت کا اس گستاخانہ حرکت پر دنیا کے مسلمانوں سے آج نہیں تو کل معافی مانگنے پر مجبور ہونا پڑیگا۔

مسلمان نبیؐ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا


مولانا رابع حسنی

لکھنؤ(عامرندوی)آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر و ناظم دارالعلوم ندوۃ العلماء نے فرانس میں اہانت آمیز خاکوں کی اشاعت کی سخت مذمت کی ہے ۔ مولانا نے اپنے بیان میں کہاکہ دنیا کا کوئی بھی مسلمان نبی اکرم ؐ کی شان میں ادنیٰ درجہ کی بے ادبی بھی برداشت نہیں کر سکتاہے ۔ فرانس کے صدر کا خاکوں کی اشاعت ذہنی دیوالیہ پن کی علامت ہے ۔ عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ کو اس کا نوٹس لینا چاہئے اور اس پر مناسب کارروائی کرنی چاہئے ۔ مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی نے اپنے بیان میں کہا کہ فرانس میں حالیہ اہانت آمیزخاکوں کی اشاعت بےحدافسوسناک ہے۔کوئی بھی مسلمان اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی تو بڑی چیز ہے ، ادنیٰ درجہ کی بے ادبی بھی برداشت نہیں کرسکتا، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اس کو اپنی جان سے زیادہ عزیز ،اپنے ماں باپ سے زیادہ محبوب اور اپنی اولاد سے زیادہ پیاری ہے ،اگر ایسا نہ ہو تو اس کا ایمان مکمل نہیں، وہ اپنا سب کچھ لٹا سکتا ہے، لیکن اپنے محبوب نبی کی محبت کے اس سرمایہ کو وہ اپنی جان سے بھی زیادہ قیمتی سمجھتا ہے اور اس کی حفاظت کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے اور اس قربانی کو وہ اپنے لیے باعث افتخار اور باعث نجات سمجھتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کی جانے والی یہ گستاخیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتیں ہاں گستاخی کرنے والوں کے چہروں میں پڑے داغوں میں ضرور اضافہ کردیتی ہیں ،فرانس میں اور اس سے پہلے ڈنمارک میں اس طرح کے خاکوں کی اشاعت اور پھر موجودہ فرانسیسی صدر کا ان خاکوں کی اشاعت پر اصرار، یہ ایسے لوگوں کے ذہنی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔عالمی برادری اور خاص طور پر اقوام متحدہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ فرانس میں اہانت آمیز خاکوں کی اشاعت کا نوٹس لے اور اظہار رائے کی آزادی کے نام پر جو بیہودگی کی جارہی ہے اس کو جرم قرار دے کر اس پر روک لگائے ۔

اسی کے ساتھ ان حالات میں اسلام اور سیرت نبوی کو علمی وفکری انداز میں پیش کرنا وقت کا اہم فریضہ اورمسلمانوں کی اولین ذمہ داری ہے جو کسی طرح بھی دعوتی فریضہ سے کم اہمیت کی حامل نہیں، حالات کا تقاضا ہے کہ اسلامی نظام زندگی کی اہمیت وافادیت اور محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی تابناک حقیقی زندگی کودنیا کے سامنے علمی و عصری انداز میں پیش کیا جائے اورسیرت رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم  وتاریخ اسلام کو مخاطب کے مزاج و مذاق کے مطابق پیش کریں، کیونکہ اسی طریقہ سے فکری انحراف کو راہ مستقیم پر لایا جاسکتا ہے اور یہ وقت کا ایک اہم اسلامی فریضہ ہے جس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔

شانِ رسالتؐ میں گستاخیوں کیخلاف زبردست احتجاج

بلال بجرولوی

پانی پت: ہریانہ وپنجاب کے کئی شہروں میں جہاں فرانس کے صدر کے حالیہ بیان کے مدنظر بڑے پیمانہ پر احتجاج درج کرائے گئے ہیں ،وہیں درگاہوں اور دوسری جگہوں پر ۱۲ ربیع الاول کی تقاریب میں بھی فرانس والا مسئلہ حاوی رہا اور ہر جگہ فرانس کے صدر کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔

اطلاع کے مطابق بخشی ہندحضرت بو علی شاہ قلندرؒ کی درگاہ میںسیکڑوں عقیدت مند اکھٹے ہوئے اور تلاوت ونوافل پڑھ کر ہادی عالم کو خراج عقیدت پیش کیا۔  بتادیں کہ درگاہ قلندر صاحب میں ۱۲ ؍ربیع الاول کے موقع پر اہل ایمان بغیر کسی دعوت کے ہی روایتی طور پر دہائیوں سے خود ہی اکھٹے ہوجاتے ہیں اور پوری رات عبادت کرتے ہیں۔یہ معمول برسوں سے ہے۔موقع پر کوئی عالم ہوتا ہے تو اس کا بیان ہوجاتا ہے۔بصورت دیگر لوگ قرآن کریم کی تلاوت اور نوافل میں مشغول رہتے ہیں۔دوسری طرف انبالہ میں مولانا محمد اصغر قاسمی اور مولانا جاوید ندوی نے جمعہ کی نماز سے پہلے حاضرین سے کہا کہ اسوۂ نبی یقیناً اسوۂ حسنہ ہے،ہر مومن کا یہی اعتقاد ہوناچاہیے اور بلا کسی دلیل کے ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہاکہ طاغوت اور شیطانی طاقتیں ہر دور میں لوگوں کو گمراہ کرتا رہی ہیں۔آج فرانس بھی ایک طاغوت کی شکل میں سامنے آیا جو کھل کر محمدؐکی ذات پر کیچڑ اچھال رہا ہے۔   

اسی دوران خطہ میوات کے نوح علاقہ میں جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد صابر قاسمی نے کہاکہ ماضی میں فرانس میں جو کچھ ہوا ہے، کچھ لوگ اس کو آزادی اظہار رائے کہہ رہے ہیں اور اس کی حمایت بھی کررہے ہیں ، لیکن کیا ایک سنجیدہ معاشرہ میں اس طرز عمل کا جواز پیش کیا جاسکتا ہے؟ انہوں نے کہا دنیا میںتمام مذہبی اعتقادات کا احترام کیا جاتا ہے۔ ہمارے نبیؐ نے یہ تعلیم دی ہے کسی بھی مذہب اور کسی بھی مذہبی شخصیت کو برا نہ کہو ، پوری دنیا کے مسلمان اس حکم کی تعمیل کر رہے ہیں ۔انہوں نے فرانس کے صدر کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کی حمایت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔اُدھر ہوشیار پور میں فرانس کے خلاف بڑا پروگرام ہوا ہے ،جہاں مولانا سید اظہر حسن مفتاحی نے کہاکہ محمد ؐ بنی نوع انسان کے لیے رحمت ہیں۔ انھوں نے کہاکہ فتح مکّہ کے وقت مکّہ شہر میں کوئی بھی انہونی نہیں ہوئی تھی،حالانکہ دس ہزار صحابۂ کرام لشکر جرار کے ساتھ فاتحانہ طور پر اس شہر میں داخل ہوئے تھے۔ ہر طرف امن ہی امن تھا۔ کوئی قتل نہیں ہوا ۔کسی کا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔اسی کے چلتے پنجاب کے شہرلدھیانہ کی تاریخی جامع مسجدکے باہر فیلڈ گنج چوک میں مجلس احرار اسلام کے زیر اہتمام فرانس کے اخبارات اور صدرمیکراں کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔اس موقع پر مظاہرین رہبرو رہنمامصطفیٰ مصطفیٰ ، نعرہ تکبیر اللہ اکبر ، فرانس سرکار مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے ۔نائب شاہی امام مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی نے کہاکہ اہل فرانس اس بات کو سمجھ لیں کہ جہاں کہیں بھی ہمارے آقا حضرت مولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی گئی اور مظلوم مسلمانوں کا خون بہایا گیا اس سرزمین کی مٹی سے پیدا ہونے والے لوگوں کا اسلام قبول کر لینا فطرتی عمل ہے جسے فرقہ پرست عناصر روک نہیں سکتے ، انہوں نے کہا کہ فرانس کے اخبار اور رسائل وہاں کی حکومت کی شہ پر گستاخیاں کر رہے ہیں کیونکہ انہیں اسلام فوبیا ہو گیا ہے ، نائب شاہی امام نے کہاکہ  مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اقتصادی طور پر اہل فرانس کا بائیکاٹ کریں جیسا کہ پہلے کیا گیا تھا اور پھر فرانس کو معافی مانگنی پڑی تھی ،نائب شاہی امام نے کہاکہ دنیا بھر کے مسلمان اپنی اپنی جگہ سے فرانس کی گستاخی پر غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں ، نائب شاہی امام نے کہاکہ سڑک پر سب کو چلنے کی آزادی ہے ،اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ آپ چلتے چلتے کسی کے بھی گھر میں گھس جائیں ، ٹھیک اسی  طرح بولنے کی آزادی کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آپ کسی کے متعلق نا مناسب باتیں کرنے لگیں ۔اس موقع پر قاری محمد محترم ، غلام حسن قیصر ، محمد آزاد احرار ، شاہ زیب خان ، مولانا محمد سلمان ، اکرم علی ٹنڈاری خاص طور پر موجودتھے۔

 فرانسیسی صدر کے متنازع بیان کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری

سہارنپور(شبیر شاد) ناموس رسالت کی حفاظت ہمارا دینی اور ایمانی فریضہ ہے۔ مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے، تاجدار مدینہؐ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا ۔روزانہ ہزاروں کی تعداد میں غیر مذاہب اسلام میں داخل ہورہے ہیں ،اس سے خائف ہوکر اسلام دشمن طاقتیں پیغمبر اسلامؐ کی شان میں گستاخی کررہی ہیں جن مذمت کرتے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار جمعیۃ علما ہند کے ضلع صدرمولانا ظہور احمد قاسمی نے فرانس کے خلاف مظاہرہ اور میمورنڈم دینے کے موقع پر کیا۔

جمعیۃ علماء ہند کی مجلس منتظمہ کے رکن مولانا شمشیر قاسمی نے کہا کہ ناموس رسالت کی توہین سے مسلمانان عالم کو سخت قلبی اذیت پہنچی ،کیونکہ رسول پاک ؐکی ناموس کی حفاظت ہر مسلمان کا دینی و ایمانی فریضہ ہے۔ فرانس کی کی بدنام زمانہ میگزین اور صدر ملعون میکرون کے اس فعل سےدنیا میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ۔اظہار رائے کی آزادی کے نام پر یہ بدترین دہشت گردی ہے۔ مولانا شمشیر قاسمی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حساس مسئلہ پر فرانس حکومت کے خلاف سخت ایکش لے کر ان کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کر کے دنیا کے سامنے اپنی اعلیٰ روایاتی نظریہ پیش کرے ۔

بعد ازاں جمعیۃ علماء کے کارکنان نے مولانا ظہور احمد قاسمی صدر جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور اور مجلس منتظمہ کے رکن مولانا شمشیر قاسمی کی قیادت میں ایس ڈی ایم رامپور منیہاران کی غیر موجودگی میں صدرجمہوریہ ہند کے نام احتجاجی میمورنڈم کوتوال رامپور کو دیا ۔میمورنڈم دینے والوں میں قاری مکرم ،قاری شوقین، مفتی عمیر، مولانا قمر، مولانا ثوبان ،مولانا عبد القادر، مولانا مدثر، حاجی عمران ،قاری تنویر ،صادق پردھان ،انیس وغیرہ شامل تھے۔

دوسری انجمن حمایت اسلام کے زیر اہتمام ایک خاموش مظاہرہ کیا گیا ،جس میں قصبہ کے ذمہ دار لوگوں نے شرکت کی ۔ مظاہرہ انجمن حمایت اسلام کے دفتر سے جیوتی کرن چوک پر ختم ہوا۔ مظاہرہ خاموشی اور امن کے ساتھ پورا ہوا۔ انجمن حمایت اسلام کے صدر مفتی عطاء الرحمٰن قاسمی نے کہا کہ حضرت محمد مصطفی ؐ نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ ہم تمام مذاہب کا احترام کریں ، تمام مذاہب کے جو پیر، پیغمبر اور رشی منی ہیں، ان کا احترام کریں، تمام مذاہب کی کتابوں کا احترام کریں ۔انہو ں نے کہا کہ فرانس کے صدر میکرون اپنے ملک میں نبی ؐ کی شان میں گستاخی کو بڑھاوا دے رہے ہیں، ہم شدید الفاظ میں اس کی مذمت کرتے ہیں ۔ انجمن کی سکریٹری مولانا خالدندوی نے کہا کہ وزیر اعظم مودی سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فرانس کے خلاف بیان جاری کریں اور اس کی مذمت کریں۔ انجمن کے خزانچی مولانا سرورعالم نے کہا کہ ہم فرانس میں بنی ہوئی تمام اشیاء کا بائیکاٹ کرتے ہیں ۔ اس دوران قاری محمد مستفیض نے بھی اپنا بیان جار ی کر کے فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کی اپیل کی ۔ مظاہر ہ میں حاجی سلیم، حاجی نواب انصاری، حاجی چھوٹا ملک، انور ملک، بابو عبد الشہید، مولانا آصف قاسمی و قصبہ کے باشندگان نے کثیر تعداد میں شرکت کی  ۔

اظہارِ رائے کی آزادی گالی دینے کی حد تک نہیں ہو سکتی


پروفیسر اخترالواسع

نئی دہلی (پریس ریلیز) فرانس میں اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر اہانتِ رسول کی صدرِ مملکت کی مبینہ تائید ورہنمائی میں جاری مہم کی مشہور ماہرِاسلامیات اور مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے وائس چانسلر پدم شری پروفیسر اخترالواسع نے سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومتِ ہند سے کہا ہے کہ فرانس میں اہانتِ رسول کے نام پر جو دہشت گردی اور مسلمانوں کی دل آزاری سامنے آئی ہے، وہ اس میں منصفانہ اور متوازن رویہ اپنائے اور بلاوجہ فرانسیسی حکومت کی ہمنوا نہ بنے۔عالمِ اسلام کے تمام ملکوں سے اپنے سفراء کو فرانس سے واپس بلانے کی اپیل کے ساتھ پروفیسر واسع نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ  تمام جمہوری طریقوں کو اپناتے ہوئے احتجاج کرتے رہیں۔ انہوں نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی بھی اپیل کی ہے۔  پروفیسر واسع نے اس تمہید کیساتھ کہ فرانسیسی صدر بظاہراہانتِ رسول کے ذریعے ساری دنیا کو ایک آزمائش اور بحران میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں جس کی انہیں قطعاً اجازت نہیں ہونی چاہیے کہا ہے کہ  اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر کسی کو گالی دینے کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا اورمسلمان پیغمبر اسلام، تمام آسمانی نبیوں، پیغمبروں اور دیگر مذاہب کے پیشواؤں کی توہین گوارا نہیں کرتے۔

  انہوں نے  ہر طرح کے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی ہونی چاہئے لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہر آزادی کچھ پابندیوں کے دائرے میں رہ کر ہی ممکن ہوتی ہے۔ ہر شخص کو فضا میں چھڑی گھمانے کی پوری آزادی ہے لیکن یہ آزادی وہاں سے ختم ہو جاتی ہے جہاں سے دوسرے کی ناک شروع ہوتی ہے۔ 

پروفیسر اخترالواسع نے پاپائے روم پوپ فرانسس سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر ویٹکن میں دنیا بھر کے اہم مذہبی رہنماؤں جیسے آرک بشپ آف کینٹر بری، دلائی لاما، شیخ الازہر احمد الطیب، آیت اللہ سیستانی،مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبدالعزیز آل شیخ، شری شری روی شنکر، مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی اور اکال تخت کے جتھے دار سردار گیانی ہرپریت سنگھ کی ایک میٹنگ بلائیں تاکہ ایسے اقدامات وضع کئے جا سکیں کہ اس عالمی گاؤں میں کسی کو بھی کسی مذہب، مذہبی عقیدے اور مذہبی پیشواؤں کو برا کہنے کی نہ ہمت ہو نہ اجازت۔ مشہورعالم دین وملی رہنما ڈاکٹرمفتی محفوظ الرحمن عثمانی بانی و مہتمم جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ سپول بہار نے فرانس میں توہین رسالت ﷺ اور پھر گستاخ رسول کی حمایت میں فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں کی دیدہ دلیری اس بات کا ثبوت ہے کہ جان بوجھ کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لئے قربان ہونے کو تیار ہیں۔ ہمیں دشمن طاقتیں آزمانے کی کوشش نہ کریں، پیغمبر اسلام کی شان اقدس میں ذرہ برابرگستاخی بھی ناقابل برداشت ہے۔ مفتی عثمانی نےکہاکہ ہندوستان کے سربراہان کی جانب سے فرانس کے صدر کی حمایت بھی قابل مذمت ہے۔ تحفظ ناموس رسالت کے واقعہ کو دہشت گردی سے جوڑنا قطعی درست نہیں ہے۔ ہوناتو یہ چاہئے کہ گستاخ رسول کارٹونسٹ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا کیوں کہ یہ سب عمدا ًاٹھایاگیا قدم ہے۔مگر فرانس کے صدر نے شان رسالتﷺ میں گستاخی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی ہے جس سے ان کی گندی اور شاطرانہ زہنیت کا اندازہ ہوتا ہے۔انہوں نےکہاکہ اقوام متحد نے بھی فرانسیسی میگزین کی جانب سے ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مذکورہ عمل کو تشدد اور نفرت پھیلانے کا سبب قرار دیا ہے۔اس لئے حکومت ہند کو فرانس کی حمایت کرنے سے قبل سوچنا چاہئے تھا  لیکن ایسا نہیں کیا گیا اس لئے ہم حکومت ہند کے اقدام کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کرتےہیں۔

فرانس کے صدر کے خلاف جمعیۃ علماء دہلی کی جانب سے دہلی کے سبھی اضلاع میں احتجاجی مظاہرے کا انعقاد

نئی دہلی(پریس ریلیز)پچکوئیاں روڈ سید حسن رسول نما مسجد کے سامنے شدید رنج و غم کے ساتھ مولانا محمد جاوید صدیقی قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کی سرپرستی میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مصلیان نماز جمعہ نے کالے کپڑے کی لمبی لائن بناکر آقا ئے مدنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس و رفعت کی نسبت غمناک ہوکر احتجاجی مظاہرہ کیااور نہایت دکھ کا اظہار کیا لوگوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔اس موقع پر سبھی نے جن میں بھائی قمر ،حاجی ضمیر ،حاجی محبوب، قاری جمشید ، حاجی سخاوت ،بھائی محفوظ ،بھائی نور، حاجی گلزار، بھائی محفوظ، مولانا علم اللہ قاسمی نے حکومت ہند سے زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند فرانس کے صدر سے دکھ کا اظہار کرے کسی مذہب کسی سماج کی دل آزاری نہیں ہونی چاہیے۔

آج بعد نمازجمعہ دہلی کےجن علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اس میں نئی دہلی، اوکھلا، رانی گارڈن، جعفرآباد، ترکمان گیٹ ، ناگلوئی،میر وہار مبارک پور، مصطفیٰ آباد ، شمالی دہلی، وزیر آباد کئی علاقوں میں لوگوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

مولانا ضیاء اللہ قاسمی جمعیۃ بلڈنگ بلی ماران،قاری عبد السمیع نائب صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی و مولانا محمد داؤد امینی نائب صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی، قاری احرار الحق جوہر قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء صوبہ دہلی نے کہا کہ دنیا کا کوئی قانون اس کی اجازت نہیں دیتا ہے کہ کسی مذہب یا مذہبی پیشوا کی توہین کرے چہ جائیکہ دنیائے انسانیت کی عظیم ہستی پیغمبر اسلامؐ کی توہین کی جائے افسوس صد افسوس وہیں اسی کے ساتھدہلی جمعیۃ کے سبھی ذمہ داران و اراکین نےجن میں مولانا خرم علی، مولانا غیاث الدین مظاہری، بھائی شاہد ، بھائی شکیل، بھائی ذاکر ، مفتی عبد الواحد قاسمی ، مفتی نثار الحسینی، ڈاکٹر مفتی جاوید انور، حافظ اکرام ، مولانا رضوان قاسمی ، مولانا رضوان قاسمی ، مولانا افشان قاسمی ،حافظ محمد علی ، مولانا رئیس قاسمی وغیرہ نے فرانس کے صدر کی حرکت کی شدید مذمت کی۔

31اکتوبر،2020،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/the-united-nations-calls-blasphemous/d/123371


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..