New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 11:11 AM

Urdu Section ( 16 Jul 2014, NewAgeIslam.Com)

Caliphate of Terrorists دہشت گردوں کی خلافت

 

 

 

نیو ایج اسلام ایڈٹ ڈیسک

17جولائی، 2014          

عراق اور شمام کے کچھ حصے پر قبضہ کرنے کے بعد داعش کے گینگ لیڈر ابوبکر البغدادی نے اسلامی خلافت کے قیام کا اعلان کیا اور خود کو مسلمانوں کا خلیفہ نامزد کیا۔ انہوں نے تمام دنیا کے مسلمانوں کواپنی خلافت میں آکر شہریت حاصل کرنے کی دعوت دی اور اسلامی ملکوں سے کہا کہ وہ اس اسلامی خلافت کو قبول کرکے اس کے باجگذار بن جائیں۔ جواب میں مرحبا مر حبا کی شور کی بجائے عالم اسلام کے سرکردہ عالم دین علامہ یوسف القرضاوی نے اس خلافت کو اسلامی ماننے سے انکار کردیا۔ برطانیہ کے علماء نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ ابوبکر کی نام نہاد حکومت اسلامی حکومت یا خلافت نہیں ہے۔ کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے اسلامی ملک نے بھی ابوبکر کی اس دعوت پر لبیک نہیں کہا اور اس کی خلافت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔دنیا کے کسی بھی حصے کے کسی مسلمان نے ابوبکر کی خلافت میں جانے میں دلچسپی نہیں دکھائی ۔ بلکہ اس کے برعکس وہاں موجود ہندوستانی مسلمان نکل بھاگنے کی کوشش میں ہیں اور جو لوگ وہاں سے راہ فرار اختیار کرنے اور ملک واپس آنے میں کامیاب ہوگئے انہوں نے اللہ کا شکریہ ادا کیا۔عراق کے نجف میں ملازمت کرنے والے کیرالا کے کوزی کوڈ کے دو مسلم نوجوان صفدر کنہی اور محمد عباس جو نجف میں تھے نے داعش کے جنگجوؤں کے وحشی پن اور درندگی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔وہ کسی طرح عراق سے نکلنے میں کامیا ب ہوگئے اور واپس اپنے وطن کیرالا چلے آئے۔محمد عباس نے مشہور نیوز ویب سائٹ ریڈف ڈاٹ کام کو دئے گئے بیان میں کہاکہ داعش کے جنگجو وحشی درندے ہیں۔ ان کی درندگی نا قابل برداشت اور ان کا تشدد ناقابل بیان ہے۔ان کے ساتھی صفدر کنہی نے کہا کہ وہ لوگ وحشی ہیں۔وہ خاص طورسے شیعوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں جو مقدس مقامات کی زیارت کے لئے عراق گئے ہیں۔لوگوں نے ہمیں بتایا کہ وہ لوگ زائرین کو عبادت یا زیارت کے وقت ہلا ک کردیتے تھے۔زائرین کو پکڑ کر بے دردی سے ہلاک کردیا جاتاتھا۔سمارہ میں صورت حال سب سے زیادہ سنگین تھی۔

ان دونوں کی باتوں سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ عراق میں داعش کے جنگجو صرف عراقی فوج سے نہیں لڑرہے ہیں بلکہ وہ شیعوں کو بے دریغ قتل کررہے ہیں کیونکہ ان کے نقطہ نظر سے وہ کافر ہیں۔ اسی طرح سے جولوگ مزار پر دیکھے گئے یا مزار جاتے ہوئے راستے میں پائے گئے انہیں بھی کافر قرار دے کر ہلاک کردیا گیا۔انہی وجوہات کی بنا پر عالم اسلام کے مشہور عالم اور مفتی علامہ القرضاوی نے ابوبکر کی خود ساختہ خلافت کو کالعدم اور اسلامی شریعت کی خلاف ورزی قرار دیاہے۔برطانیہ کے شیعہ اور سنی علماء نے اپنے مشترکہ بیان میں ابوبکر کی نام نہاد خلافت کی مخالفت اور مذمت کی ہے اور مسلمانوں کو اس کے بہکاوے میں نہ آنے کا مشورہ دیاہے۔برطانیہ کے مجلس علماء شیعہ کے سربراہ سید علی رضوی نے کہا کہ ہم مسلمان ہیں اور ہم سب داعش کے خلاف، دہشت گردی کے خلاف، ظلم ، اذیت اور تشدد کے خلاف متحد ہیں۔لیسٹر کی مرکزی مسجد کے امام مولانا شاہد رضا نے کہا کہ ایک سنی مسلم کی حیثیت سے میں داعش کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتا۔ میں داعش کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتاہوں۔فلاحی تنظیم جماس کے سربراہ ابو منتصر نے اپنے بیان میں کہا ’’بھائیو اور بہنو!اگر میں ایک جملے میں داعش کے بارے میں کہنا چاہوں تو میں کہوں گا کہ یہ لوگ بدی کی علامت ہیں،فاسق ہیں،اپنی خواہشوں کے غلام ہیں، برے لوگ ہیں۔ان کے قریب نہ جائیں۔‘‘

اخباری رپورٹو ں کے مطابق داعش نے اپنے قبضے والے علاقے خاص کر موصل میں امام بارگاہوں اور سنی برزگوں کے مزارات کو مسمار کردیاہے اور کئی گرجا گھروں کو اپنے قضبے میں لے کر اپنا سیاہ پرچم لہرادیا ہے جو کہ اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔

داعش کی خود ساختہ خلافت اوراس کا خود ساختہ خلیفہ در اصل امریکہ کی پیداوار ہے اور اسے اتنا مظبوط بنانے میں امریکہ کی طرف سے مہیا کی گئی فوجی امداد کو بڑا دخل ہے۔ موصل میں جنگ کے دوران عراقی فوج میں موجود سنی عناصر نے نوری المالکی کی شیعہ نواز پالیسی سے بدظن ہوکر امریکہ کے اشارے پر ہتھیار ڈال دئیے اور جو بھی امریکی اسلحے ، بکتر بند گاڑیاں اور اینٹی ٹینک راکٹ ان کے پاس تھے وہ بھی امریکہ کی ایما پر انہوں نے داعش کے سپرد کردئیے۔اس طرح شام میں امریکہ نے اپنے سیاسی اور فوجی مفادات کی تکمیل کے لئے شیعہ۔سنی خانہ جنگی کو مزید بھڑکایا اور اس مقصد کے تحت اس نے داعش کو استعمال کیا۔رپورٹوں کے مطابق امریکہ نے داعش کو مزید ٹینک شکن میزائیل اور راکٹ دیئے ہیں کیونکہ روس نے عراق کی نوری المالکی حکومت کو اپنے سخوئی جہاز فراہم کئے ہیں۔اس کے علاوہ اوبامہ نے شام کے باغیوں جن میں دہشت گرد تنظیمیں بھی ہیں کے لئے پارلیامنٹ سے مزید 500 ملین ڈالر کی امدادی رقم کا مطالبہ کیاہے جو کہ اس کی دوغلی پالیسی کا غماز ہے۔

ظاہر ہے امریکہ داعش اور ان جیسے دیگر دہشت گرد تنظیموں کی اتنی مدد اسلامی خلافت کے قیام کے لئے نہیں کررہاہے بلکہ اس خطے کو پارہ پارہ کرنے کے لئے کررہاہے۔مگر مسلمانوں کا ایک طبقہ اس سارے سیاسی پس منظر سے غافل صرف داعش کے ’’اسلامی خلافت ‘ ‘کے پرفریب نعرے کے بہلاوے میں آکر یہ یقین کرنے لگاہے کہ ابوبکر کی یہ خلافت صحیح معنوں میں خلفائے راشدہ کے اسلامی خلافت کی طرز پر اسلامی حکومت ہے ۔ہمارے چند صحافی بھی اس خلافت کی حمایت میں رطب اللسان ہیں اورداعشیوں کی درندگی اورمسلکی اختلافات کی بنیاد پر مسلمانوں پر ان کے تشدد اور بربریت کو نظر انداز کرکے انہیں مثبت روشنی میں پیش کرنے کی بھر پور کوشش کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ داعش کے ذریعہ ہندوستان کی 46نرسوں کی باعزت رہائی کے معاملے کو پیش کرتے ہیں۔وہ نرسیں تکریت کے ایک ہسپتال میں دونوں طرف سے ہونے والی بمباری میں پھنس گئی تھیں۔ان کو کسی بھی طرح کا پہنچنے والا نقصان داعشکے لئے ایک بین الاقوامی مصیبت بن جاتا کیونکہ ہندوستان ایک طاقتور ملک ہے اور اس کے سعودی عربیہ اور امریکہ سے اچھے تعلقات ہیں اور داعش سعودی عرب اور امریکہ کے رحم و کرم پر ہے۔ لہذا، سعودی عربیہ اور امریکہ کے دباؤ میں انہوں نے نرسوں کوتحفظ عطا کیا اور عراق سے ان کے بہ عافیت ا خراج کی ر اہ ہموار کی۔ اس واقعے کو ہندوستان میں داعش کے حامی صحافی اور کالم نگار لے اڑے اور صرف اس ایک واقعے کی مدد سے داعش کو ایک انسانیت نواز اور خالص اسلامی تعلیمات پر چلنے والا گروہ ثابت کرنے میں جٹ گئے۔انہوں نے اس حقیقت کو بھی نظر انداز کردیا کہ داعش نے گذشتہ مہینے پنجا ب اور شمالی ہند سے تعلق رکھنے والے 39 تعمیراتی مزدوروں کا اغوا کرلیاجن کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملاہے۔ انہوں اس حقیقت کو بھی نظر انداز کردیا کہ عالم اسلام کے سرکردہ علماء نے داعش کو اسلام مخالف اور ابوبکر کی خلافت کو خلاف شریعت قرار دیاہے اور اسے ایک دہشت گرد تنظیم تسلیم کیاہے۔

ابھی ایک سال قبل تک داعش کو القاعدہ ان عراق کہا جاتاتھا اور یہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی عراقی شاخ تھا۔ابوبکر القاعدہ کا ہی ایک سرگرم رکن تھا۔ اس نے القاعدہ سے الگ ہوکر اپنی ایک الگ تنظیم بنائی جس کا مقصد عراق میں سنی حکومت کا قیام تھا جہاں شیعوں اور اس کے نظرئییکے مخالف سنیوں کو بھی زندہ رہنے کا بھی حق نہیں ہوگا۔ ابوبکر ایک انتہا پسند سنی نظریہ کا حامی شخص ہے جس کی نظر میں اس کی رائے سے اختلاف کرنے والا قابل گردن زدنی ہے۔افریقہ ، جنوبی ایشیا اور عرب میں چند دیگر دہشت گرد تنظیمیں بھی اسی کے نظریہ کی حامی ہیں اور مذہب اور مسلک کے نام پر تشدد اور مسلمانوں کے قتل کو عین دین اسلام سمجھتی ہیں۔ ان میں پاکستان میں جیش محمد، لشکر جھنگوی، لشکر طیبہ ، تحریک خلافت (جو القاعدہ ہی ایک شاخ ہے )اور طالبان، عراق میں جبہتہ النصرہ (القاعدہ کی ایک شاخ) اور نائجیریا میں بوکو حرام اور اشباب قابل ذکر ہیں۔ بوکو حرام مغربی تعلیم اور کلچر کے خلاف ہے اور وہ مغربی تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کو اغوا کرنے کی وجہ سے بدنام ہے۔ اس نے حال ہی میں ایک اسکول سے سو سے زیادہ طالبات کا اغوا کرلیا ہے۔

لہذا، یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ ابوبکر کی خلافت کو تسلیم کرنے میں پہل کرنے والی تنظیموں میں یہی دہشت گرد تنظیمیں ہیں ، اسلامی ممالک نہیں۔بوکو حرام جیسی دہشت گرد تنطیم نے ابوبکر کی خلافت کو تسلیم کرکے خود اسے دہشت گرد وں کا امیر ثابت کردیاہے۔ پاکستان میں القاعدہ کی شاخ ’’تحریک خلافت ‘‘ نے القاعدہ سے رشتہ توڑ کر ابوبکر کی خلافت کو تسلیم کرلیا ہے ۔ سیریاکے دہشت گرد گروہ نے بھی ابوبکر کو اپنا خلیفہ تسلیم کرلیاہے۔ یعنی اب تکتین دہشت گرد تنظیموں نے ابوبکر کو اپنا خلیفہ تسلیم کرلیاہے۔ اس لحاظ سے ابوبکردہشت گردوں کے خلیفہ تسلیم کئے جاچکے ہیں اور ان کی خلافت کو دہشت گردوں کی خلافت کا درجہ مل چکاہے۔دہشت گردوں کی یہ خلافت جب تک اس خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کی تکمیل میں تعاون کرتی رہے گی تب تک اسے آکسیجن مہیا کی جاتی رہے گی اور جس دن اس نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کام کرنا شروع کردیا ، ابوبکر کا بھی انجام اسامہ بن لادین جیسا ہوگا۔ان کی خلافت دھری دہ جائیگی۔

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/new-age-islam-edit-desk/caliphate-of-terrorists-دہشت-گردوں-کی-خلافت/d/98141

 

Loading..

Loading..