New Age Islam
Sun Jun 14 2026, 05:27 PM

Urdu Section ( 29 May 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Saudi King Forces Jailed Convicts to Join Jihad in Syria سعودی شاہ قیدیوں کو شام میں جہاد میں شامل ہونے پر مجبور کر رہے ہیں


 

نیو ایج اسلام ایڈٹ ڈیسک

16 مئی، 2013

( انگریزی سے ترجمہ۔ نیو ایج اسلام)

 ایک خفیہ دستاویز سے جو  کہ گزشتہ سال لیک کیا  گیا تھا پتہ چلتا ہے کہ کس طرح سعودیوں نے  نہ صرف اسلامی اصولوں کی بلکہ جنیوا کنونشن کے معاہدوں کی بھی خلاف ورزی کی ہے ۔

 ایک بار پھر اسلامی اصولوں کے خود ساختہ علم برداروں  یعنی سعودی عرب کا چہرہ  بے نقاب ہوگیا ہے۔ایک خفیہ دستاویز سے جو  کہ گزشتہ سال لیک کیا  گیا تھا پتہ چلتا ہے کہ کس طرح سعودیوں نے  شام کے شیعہ حکمران بشار الاسد، کو ہٹانے کے جنون میں  نہ صرف اسلامی اصولوں کی بلکہ جنیوا کنونشن کے معاہدوں کی بھی خلاف ورزی کی  ہے۔

حال ہی میں ریاست کے مفتی محمد العارفی نے نماز جمعہ کے دوران شام کی‘ مرتد’ حکومت کے خلاف جہاد کا  حکم دیا تھا  اور نوجوانوں، ریٹائرڈ فوجی افسران اور سعودی عرب کے عوام کو شام میں بشار الاسد کے خلاف 'جہاد' میں شامل ہونے کی حوصلہ افزائی کی  تھی ۔

ان کے  خطاب کے بعد، سعودی نوجوانوں میں شام میں جہاد میں شریک ہونے کا  جوش دیکھنے میں آ یا  ۔ بہت سے امیر سعودی ان کی روانگی میں مالی امداد فراہم کر رہے ہیں  اور سعودی عرب کی حکومت اس طرح کے نوجوانوں کو شام جانے  اور شام کے مردوں، عورتوں اور بچوں کے قتل، شام کے مسلمان اور عیسائی خواتین کی عصمت دری اور ان کی املاک کی تباہی میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے  ۔

 تاہم، سعودی عرب کی حکومت در اصل ایک قدم مزید آگے بڑھ گئی ہے۔ انہوں  ریاست کے مختلف جیلوں میں بند  موت کی سزا پانے والے مجرموں کو شام میں جنگ میں شامل ہونے پر متفق ہونے پر  معافی کی پیشکش کی ہے۔ اور ان میں سے اکثر نے  پہلے ہی اس پیشکش کو قبول کر لیا ہے۔ لیک دستاویز سے پتہ چلتا ہے کہ شام میں جہاد میں شامل ہونے پر راضی ہونے والے مجرموں کے درمیان 105 یمنی، 21فلسطینی ، 212 سعودی، 96 سوڈانی،  254 شامی، 82 اردنی، 68 صومالی، 32 افغانی،194 مصر ی، 203 پاکستانی، 23 عراقی اور 44 کویتی ہیں ۔

ان میں سے ہر ایک  ایسا مجرم ہے  جنہیں قتل، عصمت دری، چوری وغیرہ جیسے سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے پر سعودی عدالتوں کے ذریعہ  موت کی سزا سنائی گئی ہے ۔

دستاویز ظاہر کرتے ہیں کہ  حکام نے اس طرح کے سخت مجرموں کی رہائی کا حکم اس شرط پر دیا ہے کہ وہ شام میں تخریبی سرگرمیوں میں شامل ہوں گے ۔ یہ عمل  جنگ کے زمانے میں  عام شہری اور قیدیوں کے حقوق کے متعلق  جنیوا کنونشن کی مجموعی خلاف ورزی بھی ہے۔ یہ ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت میں سعودی حکومت کے خلاف مقدمہ چلانے کی راہ ہموار کر سکتا ہے ۔

یہ توقع کی جارہی ہے  کہ شام جانے سے پہلےیہ  مجرم تربیتی کیمپ میں شرکت کریں گے  جہاں وہ اسلحہ اور گولہ بارود کی تربیت حاصل کریں گے ۔ اطلاعات کے مطابق، جب تک وہ آپریشن میں رہیں گے ، ان کے  خاندان حکومت کی تحویل میں رہیں گے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ وہ میدان جنگ سے نہ بھاگیں  ۔ اس مدت کے دوران ان کے خاندانوں کو ماہانہ وظیفہ  ملے گا اورانہیں  ریاست چھوڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اطلاعات کے مطابق، چونکہ شام کے ساتھ سعودی عرب کی سرحدیں ملی ہوئی  نہیں ہیں اسی لئے وہ مجرم ترکی اور اردن کے ذریعے شام میں داخل ہوں گے ۔

ان 'مجرموں' میں  وہ سعودی نوجوان بھی ہیں جو سعودی حکومت کے خلاف احتجاج اور مظاہروں میں حصہ لینے کے لئے گرفتار کئے گئے ہیں ۔ ایسے ہی ایک معاملے  میں ایک جج نے ریاست کے خلاف جنگ چھیڑنے کے الزامات کا سامنا کرنے والے  19 نوجوانوں کو اپنے  چیمبر میں بلایا اور ان کے اصلی دشمن یعنی شیعہ سے لڑنے کی ضرورت کے بارے میں ایک طویل درس دیا اور ان سے کہا کہ انہیں  ملک کے اندر نہیں لڑنا چاہئے ۔ اس کے بعد اکثر  نوجوانوں کو  شام میں باغیوں میں  شامل ہونے کے لئے چھوڑ دیا گیا ۔جن میں سے ایک نوجوان محمد التلق سمبر 2012 ء میں شام میں ہلاک ہو گیا  جس کے بعد ان کے والد نے  جج کے خلاف ایک شکایت درج کرائی لیکن حکومت نے ان کی شکایت کا کوئی جواب نہیں دیا ۔

اس سے پہلے 2010 ء میں ایک عراقی خبر رساں ادارے کے ذریعہ  ایک خفیہ دستاویز لیک کی گئی  جس نے  القاعدہ دہشت گردی کے ساتھ  سعودی ریاست کے تعلق کو بے نقاب کیا ۔ The Buratha نیوز سروس نے  ایک دستاویز شائع کی جس نے یہ  انکشاف کیا کہ مملکت نے  عراق میں القاعدہ کو کتنی رقم دی تھی  ۔ دستاویز سے یہ ظاہر ہوا کہ سعودی حکومت عراق میں النصرہ فرنٹ  کی مدد اور حمایت کر رہی تھی  ۔ حیرت کی بات ہے، سعودی حکومت نے اس الزام سے انکار نہیں  کیا۔مجموعی طور پر 37 انٹیلی جنس حکام کو گرفتار کیا گیا۔

حال ہی میں، طالبان کے انگریزی ترجمان  اذان کے پہلے شمارے میں، اس بات  کا دعوی کیا گیا کہ  ہے طالبان نے اس کے دشمن (شام، امریکہ، پاکستان آرمی اور ہندوستانی  فوج وغیرہ) پر تباہ کن حملہ کرنے کے لئے  تمام 'وسائل' حاصل کر لئے ہیں  ۔ یہ تیل پیدا کرنے والے  خلیج کے ممالک سے انہیں حاصل شدہ  مالی مددکی طرف ایک واضح اشارہ ہے۔

سعودی عرب یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے لیکن بہت سارے واقعات نے اس کے بر عکس ثابت کیا ہے  ۔ 11/9 کے حملہ آوروں میں سے 19 سعودی تھے۔ سعودی سلطنت کے دو شہزادے القاعدہ کی جنگ لڑ تے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں۔

حال ہی میں،جبہۃ النصرہ  کے لئے جو کہ عراق میں القاعدہ کی ایک شاخ ہے ، سعودی عرب کی مالی حمایت، کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، سعودی سلطنت کی پوری سیکورٹی انٹیلی جنس آلات کے ذریعہ  سربراہ بندر بن سلطان کے تحت  شام میں بم دھماکے  قتل عام اور عصمت دری کرنے  میں النصرہ فرنٹ کی اعانت کی گئی ہے ۔ قطر کے ساتھ مل کر سعودی عرب نے  ترکی سمیت ہمسایہ ممالک کے تعاون سے شام میں  دھماکہ خیز مواد کی  اسمگلنگ اور دہشت گرد ارسال کرتا رہا ہے۔ انہوں نے ترکی میں کمانڈ سینٹر بھی قائم کیا ہے تاکہ  وہ وہاں سے شام میں آپریشن کو  کنٹرول کر سکیں ۔ شام اور ترکی کے درمیان تعلقات میں ترشی کے پیچھے یہی وجہ ہے۔ سعودی عرب، قطر اور ترکی نے شام کے دارالحکومت دمشق پر، اسد کو گرانے کے لئے ایک طاقتور حملہ کا منصوبہ تیار کیا ہے، اس کے لئے وہ دو محاذوں سے باغیوں کو بھیجنے کی  کوشش کر رہے ہیں - شمال میں ترکی اور جنوب میں اردن کی طرف سے ۔ اور اس مقصد کے لئے سعودی عرب کی سلطنت مجرموں کو ان کے خود ساختہ جہاد میں شامل ہونے پر مجبور کرنے میں تردد  بھی  نہیں کرتی جو کہ نہ صرف جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے بلکہ ان اسلامی تعلیمات کی بھی خلاف ورزی ہے جس کے  وہ واحد علم بردار ہونے  کا دعوی کرتے ہیں ۔

URL for English article:

https://newageislam.com/islam-human-rights/saudi-king-forces-jailed-convicts/d/11597

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/saudi-king-forces-jailed-convicts/d/11785

 

Loading..

Loading..