New Age Islam
Fri Apr 16 2021, 10:22 PM

Urdu Section ( 27 Aug 2017, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Ulema Should not Twist the Truth (Part-7) (علماء حق کے ساتھ باطل کو ملا کر پیش نہ کریں: پیر سید نصیر الدین نصیر (رحمہ اللہ

 

نیو ایج اسلام، ایڈیٹ بیوریو

25 اگست 2017

سوال : یہ بات آپ کی بڑی اہم ہے۔ کئی لوگ تو اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ فلاں جگہ پر اپنا ہاتھ رکھیں اور فوراً درد ٹھیک ہو جائے گا۔ اور کئی لوگ نذر اور منت منواتے ہیں۔ تو آپ دیکھیں کہ یہ کہنا کہ سورہ فاتحہ کو شفا کہا گیا آپ سورہ فاتح تین مرتبہ پڑھ لیں اور پھر اللہ سے شفا مانگیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ پانچوں وقت کی نماز کا بھی پڑھنا ضروری ہے۔ ایک آدمی اللہ سے تو مانگ رہا ہے لیکن اللہ کی نمازنہیں پڑھ رہا ہے۔ ایسی صورت میں تو یہ چیزیں شفا نہیں ہوتی ہیں۔ اس کے بارے میں آپ فرمائیں کہ یہ جو ہاتھ رکھ کر دم کر دیتے ہیں ، آپ ہزاروں میل کی دوری پر بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ ہاتھ رکھ کر دم کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب آپ ٹھیک ہو گئے یہ کیا ہے؟

پیر سید نصیر الدین نصیر (رحمہ اللہ): مجھے امیر مینائی کا ایک شعر یاد آ گیا، وہ کہتے ہیں :

ایک درد دل کا ہوتا ہے جسے عشق کہتے ہیں اور ایک ایسے ہی دل کا درد ہوتا ہے، جس سے ہارٹ اٹیک ہوتا ہے وہ اور چیز ہے؛ تو امیر مینائی کہتے ہیں ؛

ناوک ناز سے مشکل ہے بچانا دل کا

درد اٹھ اٹھ کے بتاتا ہے ٹھکانا دل کا

ایک یہ دل کا درد یہ اللہ ہم سب کو عطا کرے؛ لیکن ایک درد اور ہے جو بے ٹھکانا ہوتا ہے، جس کا ٹھکانا کوئی نہیں بتا سکتا، تو اس کا کیا ہو گا؟

اب میں نذر پر آتا ہوں، آج کل کیا ہو رہا ہے آپ کو معلوم ہے۔ نذر صرف اللہ کے لئے ہے، اور یہ سوائے اللہ کے کسی کے لئے ہو تو حرام ہے، اس لئے نذر عبادت ہے اور یہ کسی بھی غیر اللہ کے لئے حرام۔ اس پر پیر مہر علی شاہ صاحب نے اعلاء کلمۃ اللہ کے باب "ما احل بہ لغیر اللہ" میں بڑی فاضلانہ گفتگو فرمائی ہے۔ اس میں آپ فرماتے ہیں کہ ایک نذر شرعی ہے اور ایک نذر عرفی ہے۔ نذر شرعی اللہ کے لئے خاص ہوتی ہے، جبکہ نذر عرفی یہ ہے کہ مثلاً آپ یہ کہتے ہیں کہ "اگر میرا یہ کام ہو گیا تو 2 لاکھ یا 10 لاکھ، جتنا بھی اس کا نفع ہو گا اس میں سے 50 ہزار داتا صاحب کے دربار میں لنگر پر خرچ کروں گا"، اس لئے کہ وہاں مہمان آتے ہیں اور اس رقم سے ان مہمانوں کے لئے کھانے پینے کا انتظام کیا جائے گا۔

 پیر مہر علی صاحب فرماتے ہیں کہ جو نذر آپ نے اللہ کی مانگی ہے وہ کام اللہ کرے گا، داتا صاحب نہیں کریں گے، لیکن آپ یہ کریں کہ اس کا جو مصرف یعنی جو اس کے خرچ کرنے کی جگہ ہے وہ آپ کسی مدرسہ کو بنا لیں ، کسی خانقاہ کو بنا لیں یا کسی پیر صاحب کو بنا لیں کہ ان کو دیں گے؛ یہ جائز ہے۔ لیکن پیر صاحب سے یا کسی مزار والے سے جا کر یہ کہیں کہ ائے پیر یا ائے فلاں قبر والے میری یہ حاجت پوری کر دے؛ اس کو حضرت پیر مہر علی شاہ فرماتے ہیں کہ یہ تشبہ بعبدۃ الاوصان ہے، یعنی یہ بت پرستوں کی مشابہت ہے اور شریعت میں اس کی اجازت نہیں ہوتی۔ ہاں! آپ قبر پر جا کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ "ائے اللہ! ہم اپنی سمجھ اور حسن ظن کے مطابق تیرے مقبول بندے کی بارگاہ میں کھڑے ہیں ہماری فلاں حاجت کو اپنے اس مقبول بندے اور یہاں حاضری کے توسط سے پوری فرما دے"۔

سوال: یہ پیران عظام سے خانقاہی نظام میں بیعت کا جو سلسلہ ہے اور سجادہ نشینی ہے اور ہر کوئی یہ کہتا ہے کہ بیعت کر کو۔ بیعت کا ایک مروجہ طریقہ ہے۔ نبی ﷺ کے طریق پر صحابہ کبار نے بھی بیعت لی ہے اور اولیاء عظام نے بھی لی ہے۔ لیکن آج کل بیعت کایہ عجیب طریقہ رائج ہے۔ کوئی ٹی وہ پر بیٹھ کر کہتا ہے کہ بیعت کی اجازت دے دو؛ اور دوسرا کہتا ہے ہاں اجازت ہے۔ یہ بڑی عجیب سی صورت حال ہے۔ اس کا کیا تصور ہے؟ اور اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟

پیر سید نصیر الدین نصیر (رحمہ اللہ): آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ بیعت ایک معاہدہ ہے۔ اور آج کل وہ لوگ بیعت کر رہے ہیں جنہیں بیعت لفظ کا معنیٰ نہیں آتا، کہ لغت میں اس کا استعمال کس مفہوم میں ہے اور شریعت میں اس کا کیا مطلب ہے۔ قرآن مجید میں جو بیعت رضوان کا ذکر ہے اور اس کے متعلق آیت بھی ہے کہ "إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۚ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا" (الفتح :10)۔

ترجمہ:

"اے حبیب!) بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اﷲ ہی سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر (آپ کے ہاتھ کی صورت میں) اﷲ کا ہاتھ ہے۔ پھر جس شخص نے بیعت کو توڑا تو اس کے توڑنے کا وبال اس کی اپنی جان پر ہوگا اور جس نے (اس) بات کو پورا کیا جس (کے پورا کرنے) پر اس نے اﷲ سے عہد کیا تھا تو وہ عنقریب اسے بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا۔"

رسول اللہ ﷺ نے جو بیعت لی اس کی وضاحت قرآن میں یہ ہے کہ بیعت ہاتھ میں ہاتھ دیکر ایک معاہدہ ہے ۔ جس طرح آپ ایک معاہدہ کرتے ہیں پنچایت میں بیٹھ کر کہ ہم سب اس بات پر ہاتھ ملاتے ہیں کہ ایسا کریں گے۔ بیعت کا اصل مفہوم یہ ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضور ﷺ نے صحابہ کرام سے بہت ساری باتوں پر بیعت لی تھی۔ آپ ﷺ نے عورتوں سے بھی بیعت لی تھی کہ وہ چوری اور دیگر غلط کام نہیں کریں گی، قرآن میں تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر ہے۔

 تو یہ نیکیوں پر قائم رہنے اور اس پر چلنے کے لئے معاہدہ کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ لیکن پیر بننے کے شوق میں اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ بیعت ضروری ہے اور جو پیر جس خانقاہ میں پیدا ہوا ضروری ہےکہ وہ بیعت کرے، لوگ غلط باتیں کرتے ہیں۔ اس پر پیر مہر علی شاہ صاب نے اپنی کتاب میں آداب شیخ بھی لکھے ہیں کہ جو بیعت کر سکتا ہے اس کے لئے عالم دین ہونا اور گناہوں سے بچا ہوا ہونا ضروری ہے۔ جس کو دین کی کچھ سمجھ ہو، جو دین کو بیان کر سکتا ہو وہ بیعت کر سکتا ہے۔ اس لیے کہ جو تقویٰ کا معیار ہے اس پر تو صرف ابنیاء ہی کھرے اتر سکتے ہیں ہم نہیں اس پر کھرے اتر سکتے۔ لیکن پیر کے لئے کم از کم اتنا ضروری ہے کہ وہ دین جانتا ہو، لوگوں کو دین سمجھا سکتا ہے۔ لیکن ایک ان پڑھ انسان جس کو دین کے بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں ہے وہ کس بات پر بیعت کرے گا؟ یہ بیعت تو پیسے بٹورنے کے لئے نہیں ہوتی جس طرح عام طور پر آج کل ہو رہا ہے۔

 پیران طریقت جو ہیں وہ لوگوں پر اپنے چیلے چھوڑ دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ جو دس آدمی لے آئے گا اس کو خلافت مل جائے گی۔ اب ظاہر ہے کہ جو ان پڑھ لوگ ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے ان کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہے ہم تو ان پڑھ ہیں۔ لیکن ان کو یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ پیر صاحب کو کچھ آتا جاتا ہے کہ نہیں ، دین جانتے ہے یا نہیں اور ان کے پاس کچھ علم ہے یا نہیں۔ اور وہ پھر پیر صاحب کو نذرانہ دیتے اور پیسے دیتے ہیں ۔ آج کل پیسے بٹورنے کے لیے زیادہ مرید بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔تاکہ جتنے زیادہ مرید ہوں گے اتنا زیادہ نذرانہ اور پیسہ ملے گا۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جو تصوف کی اصل روح ہے وہ ختم ہو رہی ہے۔

بلکہ اب یہ پیشہ بٹورنے کا ایک طریقہ ہے؛ الا ما شاء اللہ! کوئی دنیا میں ہو تو میں نہیں کہہ سکتا، اس لئے کہ دنیا میں اچھے لوگ بھی ہیں۔ بلکہ یہ چیز ہی کامل مشائخینِ تصوف کی ہیں۔ ہم تو بس ایسے ہی ہیں، اصل میں یہ ورثہ اور یہ منصب تو ان کا ہے۔ اس لئے کہ جس نہج ہر انہوں نے بیعت کا طریقہ اختیار کیا تھا  ان پر بڑے اعتراضات بھی ہیں ۔ ایک طبقہ یہ کہتا ہے کہ بیعت بہت ضروری ہے اس لئے کہ جس کا کوئی پیر نہیں ہوتا اس کا پیر شیطان ہوتا ہے۔ جبکہ یہ بالکل غلط بات ہے۔ اس کا کوئی وجود نہیں ہے اسلامی تعلیمات میں اور نہ ہی یہ کوئی حدیث ہے۔ معلوم نہیں یہ کس کا قول ہے اور انہوں نے اسے حدیث بنا دیا۔

جاری................

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/new-age-islam,-edit-bureau/ulema-should-not-twist-up-the-truth-(part-7)-(علماء-حق-کے-ساتھ-باطل-کو-ملا-کر-پیش-نہ-کریں--پیر-سید-نصیر-الدین-نصیر-(رحمہ-اللہ/d/112348

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..