New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 09:39 PM

Urdu Section ( 24 Aug 2017, NewAgeIslam.Com)

Ulema Should not Twist the Truth (Part-6) (علماء حق کے ساتھ باطل کو ملا کر پیش نہ کریں: پیر سید نصیر الدین نصیر (رحمہ اللہ

 

نیو ایج اسلام، ایڈیٹ بیوریو

23 اگست 2017

سوال: جہاں حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی کتب کا تذکرہ ہوا، حق اور حقانیت کی بات ہوئی ، وہیں ہم یہ بھی پوچھنا چاہیں گے کہ یہ پیری مریدی اور خانقاہی سلسلہ آخر ہے کیا؟ کیا یہ پیران عظام کا سلسلہ دم، تعویذ، جھاڑ پھونک اور حاجت روائی کے لئے ہے یا قرآن و حدیث اور حقانیت کی تبلیغ و ترویج کے لئے ہے؟

پیر سید نصیر الدین نصیر (رحمہ اللہ): شکریہ! آپ نے بڑا حساس سوال فرمایا ہے۔ اور میں اس کا جواب دینے کی کوشش کروں گا۔ لیکن اس سے پہلے میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ اس سے کچھ لوگوں کی دل آزاری بھی ہو گی، حالآنکہ اس کا مجھے کوئی خوف نہیں ہے۔ ہم تو صوفیاء کو ماننے اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنے والے ہیں۔ اور انہیں بھی بلکہ سب کو یہی کرنا بھی چاہیے۔ آپ نے جو یہ فرمایا کہ یہ خانقاہی نظام ہے کیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ محبت کا ایک پیغام ہے۔ آپ تصوف کی ساری تعلیمات کا مطالعہ کر لیں۔ اللہ کی مخلوق کے ساتھ محبت کرنا، اللہ کی رضا کے لئے لوگوں کے ساتھ اچھا معاملہ کرنا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "الخلق عیال اللہ"، کہ بلا تفریق رنگ، مذہب، نسل اور زبان سے قطع نظر تمام مذہب سمیت تمام مخلوق اللہ کی عیال ہے۔ لہٰذا، اللہ کی اس عیال کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا چاہئے۔ صوفیاء کی تعلیمات اللہ کی مخلوق کے ساتھ محبت کا ایک درس ہے۔ خواہ وہ تعلیم کے لحاظ سے ہو ، تربیت کے لحاظ سے ہو ، میل ملاپ کے لحاظ سے ہو ۔ یہ ان کے دکھ درد میں شریک ہونے کا پیغام ہے۔ ان کی آرزوئیں اور ان کی تمنائیں پوری کرنے کی  کوشش کرنا ہے۔ اور یہی صوفیا کا عمل ہے۔

 اور جہاں تک آپ نے فرمایا کہ یہ دم پھونک کیا ہے۔ اب تو یہ زیادہ تر کارو بار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ لیکن جب میں دیکھتا ہوں، صوفیاء کے ادوار میں ان کے متعلقین کے ساتھ جو ان کا برتاؤ تھا اس میں یہ نہیں تھا کہ ایک مخصوص انداز میں دم کیا اور کہاکہ جاؤ اب تم ٹھیک ہو گئے، ان کی زندگیوں میں آپ کو اس قسم کی باتیں بالکل نہیں ملیں گی۔ انکسار، تواضع اور اللہ کی بارگاہ میں انابت ان کی زندگی کا مقصد تھا۔ جب کوئی پریشان حال ان کی بارگاہ میں آتا تو وہ اللہ کی بارگاہ میں دعا کر دیتے، تو اللہ اس کی پریشانی دور فرما دیتا۔ اور اس طرح جو دعا تعویذ اور دم جو آج کل ایک منظم طریقے سے چل رہا ہے یہ ان کی زندگی میں نہیں تھا۔

 یہ درست ہے کہ قرآن مجید کی آیات کے اثرات بھی ہیں۔ اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن جب ہم حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں یہ نہیں ملتا جو آج کل ہو رہا ہے کہ یہ پڑھو تو ایسا ہو جائے گا اور وہ پڑھو تو ویسا ہو جائے گا۔ میرے والد بابو جی رحمۃ اللہ علیہ بڑے سادہ اور عام زبان میں فرمایا کرتے تھے کہ ان وظیفوں اور ان چیزوں سے اللہ قابو میں نہیں آئے گا، اللہ کو قابو میں کرنے کی کوشش نہ کرو۔ وہ ایسا جملہ فرمایا کرتے تھے۔ اور اتنا زمانہ گزر گیا اور میری عمر اتنی ہو گئی لیکن میں اس بات کو اب بھی نہیں بھولا ہوں۔

لہٰذا، اکثر پیر صاحبان لوگوں کو وظیفہ دیتے ہیں کہ یہ دعا اور یہ وظیفہ اتنی ہزار مرتبہ پڑھو اور وہ بیچارہ پاگل ہو جاتا ہے، اس لیے کہ ان وظیفوں کو پڑھ پڑھ کر اس کا دماغ خراب ہو جاتا ہے۔ وہ دنیا سے بھی گیا اور آخرت سے بھی گیا، ختم ہو گیا۔ اس لئے کہ وہ ایسا کر کے یہ چاہتے ہیں کہ اللہ ہماری مرضی اور منشاء کے مطابق چلے۔ جب آپ کا کوئی سربراہ اور کوئی تھانے دار آپ کی مرضی سے نہیں چلتا تو وہ تو مالک کل ہے۔ تو آپ اس کو معاذ اللہ اپنے ماتحت کس طرح چلانا چاہتے ہیں؟ وہ تو "فعال لما یرید" ہے، جو وہ چاہتا ہے کرتا ہے۔ میرے دادا صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ایسی باتیں کبھی نہ کرو۔ بلکہ قرآن پڑھو اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرو۔

سوال: آج کل تو لوگوں نے یہ بزنس بنا لیا ہے کہ وہ پھونک مارتے ہیں اور دور سے بیٹھ کر دم مارتے ہیں۔ اور اب تو ٹیلی ویژن پر بھی یہ سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ لہٰذا، آپ یہ فرمائیں کہ قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی کوئی گنجائش ہے؟

پیر سید نصیر الدین نصیر (رحمہ اللہ): جہاں تک میرا علم ہے قرآن و سنت میں تو ایسی کوئی بات نہیں ملتی۔ حالآنکہ علماء کے پاس بھی بیٹھا ہوں اور کتابیں بھی تھوڑی بہت پڑھی ہیں میں نے۔اور میری ساری زندگی اسی میں گزری ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ دم کرنے کے لئے عامل نہیں بلکہ کامل ہونا ضروری ہے۔ اور کامل جو ہے وہ عامل نہیں ہے اور عامل کامل نہیں ہے۔ اب کامل کون ہے؟ تو کامل وہ ہے جو رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ کا کامل متبع ہو۔ اور جب وہ کامل بنتا ہے تو اللہ اپنے فضل سے اسے اکمل بھی بنا دیتا ہے۔ اور اس کے لئے یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ وہ کوئی ایک خاص دعا پڑھے یا وظیفہ پڑھے جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے۔ اس لئے کہ قرآن کی آتیوں کی افادیت سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر آپ کسی خاص کام یا اپنا کاروبار چمکانے کے لئے اسے پڑھیں تو اس کی افادیت کھو جائے گی۔ کیوں کہ اللہ نے قرآن کاروبار چلانے کے لئے نہیں اتارا ہے۔ بلکہ اللہ نے قرآن پڑھنے کے لئے، تدبر کے لئے تفکر کے لئے اور اس پر عمل کرنے کے لئے اتارا ہے۔

لہٰذا، جب انسان کامل ہوتا ہے تو پھر جو بات اس کی زبان سے نکلتی ہے اللہ اسے قبول فرماتا ہے۔ مثلاً، میں پیر مہر علی شاہ صاحب کا ایک واقعہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ملتان کے قریب ایک جگہ ان کے مرید شاہ صاحب تھےتو ان کی دانت میں بہت تیز درد اٹھا تو وہ دوڑتے ہوئے آئے اور علاقائی سرائےکی زبان میں پیر مہر علی صاحب سے کہنے لگے "ہائے سائیں ڈاڑی پیڑے" یعنی دانت میں بہت درد ہے۔ اب چاہئے تو یہ تھا کہ پیر صاحب قرآن کی کوئی آیت پڑھتے ، کوئی حدیث پڑھتے جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے۔ لیکن چونکہ آپ ان سے محبت فرمایا کرتے تھے اور وہ آپ کے مرید اور ساتھ ہی ساتھ بہت بڑے عالم دین بھی تھے، تو پیر مہر علی شاہ صاحب نے فرمایا "اچھا سائیں ڈاڑی پیڑے"، اور یہی جملہ تین مرتبہ دہرا کر ان سے کہا اپنا منھ کھولو اور آپ نے ان کے منھ کے اندر دم کیا اور اللہ نے انہیں شفا دے دی۔

 اب وہ ذرا عقل مند تھے انہوں نے کہا کہ حضور انہیں الفاظ کی اجازت آپ مجھے عطا فرمائیں تاکہ کوئی آئے تو میں بھی یہی الفاظ کہہ کر دم کر دیا کروں، تو آپ نے فرمایا ٹھیک ہے آپ یہی الفاظ کہہ کر دم کر دیا کریں۔ اس کے بعد جب تک وہ زندہ رہے تب تک کوئی بھی ان کا مرید پریشان حال آتا تو وہ یہی الفاظ یعنی "ہائے سائیں ڈاڑی پیڑے" پکار کر دم کر دیتے اور اللہ اس کو شفا دیتا۔ تو یہ کاملوں کی کا طریقہ ہے ۔ اس سے نکتہ کیا سمجھ میں آیا؛ کہ یہ جو شفاء آپ کو ملی ہے یہ پیر مہر علی شاہ صاحب نے آپ کو نہیں دی ہے اور شافی پیر مہر علی شاہ یا اور کوئی صاحب نہیں ہیں بلکہ شافی در حقیقت اللہ ہے ، لیکن پیر مہر علی شاہ صاحب نے رسول اللہ ﷺ کی اتباع اور قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرنے میں اس قدر اعلیٰ مقام ، اللہ کا قرب ، توجہ الی اللہ ، انابت الی اللہ ، رجوع الی اللہ حاصل کر لیا تھا کہ جب ان کی زبان سے کوئی بات نکل جاتی تھی تو اللہ اسے قبول فرما لیا کرتا تھا۔

یہ کامل کا دم کرنا ہے۔ اور عامل جو آج کر کرتے ہیں وہ صرف منتر ہے۔ ایک صاحب کہنے لگے کہ ایک صاحب ٹی وی پر دم ڈالتے ہیں تو مریض ٹھیک ہو جاتا ہے۔ تو میں نے کہا کہ اگر ٹی وی خراب ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ دم کریں تو اللہ ٹی وی ٹھیک کر دے اس لئے کہ وہ دم تو ٹی وی میں جا رہا ہے۔ لیکن وہ دم اس ٹی وی سے نکل کر اس شخص تک کیسے جا رہا ہے یہ مجھے سمجھ میں نہیں آتا۔

 آپ ذرا غور کریں کہ یہ ہمارے ساتھ کتنا عظیم سانحہ ہے۔ کہ ہماری خانقاہوں اور ہمارے صوفیائے کرام کے ساتھ کس طرح مذق کیا جا رہا ہے۔ اور ہم اگر چہ کامل نہیں بلکہ گنہگار ہیں اور ہمارے آبا و اجداد اچھے لوگ تھے، مگر اچھے لوگوں کے ساتھ جو نسبت رکھنے والے ہیں اور ہم جیسے ہزاروں لوگ ہیں ان سب کے ساتھ یہ کتنا بڑا استہزاء ہے۔ کس طرح ان کا مذاق اڑیا جا رہا ہے۔ ایک صاحب ٹی وی پر میرا انٹرویو لے رہے تھے تو میری درگاہ کے ایک مرید مجھے فون کر کے کہنے لگے کہ حضور میرے گھٹنوں میں درد ہے اور بڑی تکلیف ہے ذرا دعا کر دیں۔ تو میں نے کہا کہ میرے گھٹنے میں بھی بڑی تکلیف ہے تم میرے لیے دعا کرو میں تمہارے لئے دعا کرتا ہوں۔ اور میں پاکستان اور انگلینڈ کے بھی سارے پیروں سے کہتا ہوں کہ خدا را ٹی وی پر آ کر مجھے ایسا دم ڈالیں اور مجھے ایک وقت دیں کہ 3 یا 5 منٹ کے اندر تمہیں شفائے کلی ہو جائے گی، تاکہ دنیا دیکھے۔ اور اگر ایسا ہو جاتا ہے تو میں اس کے ہاتھ پر بیعت کروں گا اور اس کا مرید بن جاؤں گا۔

جاری....

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/new-age-islam,-edit-bureau/ulema-should-not-twist-up-the-truth-(part-6)--(علماء-حق-کے-ساتھ-باطل-کو-ملا-کر-پیش-نہ-کریں--پیر-سید-نصیر-الدین-نصیر-(رحمہ-اللہ/d/112320

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..