New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 04:10 PM

Urdu Section ( 21 Aug 2017, NewAgeIslam.Com)

Ulema Should not Twist the Truth (Part-4) (علماء حق کے ساتھ باطل کو ملا کر پیش نہ کریں: پیر سید نصیر الدین نصیر (رحمہ اللہ

 

نیو ایج اسلام، ایڈیٹ بیوریو

19 اگست 2017

سوال: برطانیہ اور یوروپ میں الحمد اللہ! مسلمان بہت بڑی تعداد میں ہیں۔ اور یہاں پر لوگ بڑے بڑے جلسے بھی کرتے ہیں۔ جلوس نکالتے ہیں اور نعت و منقبت کی محفلیں بھی سجائی جاتی ہیں۔ لیکن عملی طور پر مسلمانوں کا پڑوسیوں کے ساتھ جو تعلق ہے وہ ٹھیک نہیں ہے، یا یوں کہیں کہ یہاں اسوہ حسنہ پر عمل ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ اس کے بارے میں آپ کیا فرمائیں گے؟

پیر سید نصیر الدین نصیر (رحمہ اللہ): عظیم صاحب! میری باتیں لوگوں کو کڑوی بھی لگتی ہیں، لیکن آپ لوگ ایسا سوال پوچھ لیتے ہیں کہ میں زبان کھولنے پر مجبور ہوتا ہوں۔ اس تعلق سے میرے خطابات موجود ہیں اور یہ سارے لوگ ان خطابات کو سنتے بھی ہیں، لیکن کہتے ہیں کہ یہ بڑی کڑوی باتیں کرتا ہے۔ اور اس طرح میری باتیں نہ مشائخ سنتے ہیں اور نہ ہی علماء سنتے ہیں اس لئے کہ ان کا کہنا ہے کہ یہ بڑی کڑوی باتین کرتا ہے۔ لہٰذا، اس سلسلے میں میں یہ چاہتا ہوں کہ صرف میں ہی نہیں بلکہ اور بھی جو لوگ ہیں، وہ بھی ایسی ہی باتیں کریں۔ اس لئے کہ جب تک آپ نہیں بولیں گے اس وقت تک لوگوں کو باتیں سمجھ میں نہیں آئیں گیں کہ اصل بات کیا۔ اور وہ یونہی حیران و پریشان رہیں گے۔

 مشیخت ہو، پیری مریدی ہو، مولویت ہو یا نعت خوانی ہو، یہ جتنے بھی ہمارے مذہبی رسوم کی ادائیگی کا ماحول ہے اس میں اخلاص کا ہونا بنیاد اور شرط ہے۔ اگر خلوص اللہ کے لئے نہیں ہے اور اللہ کی ذات کےساتھ آپ کا تعلق نہیں ہے تو یہ سب کچھ بیکار ہے۔ یہ ایک بنیادی بات ہے۔ اور اس کے اظہار میں ہمارے صوفیائے کاملین کو دیکھ لیں۔ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب اور حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری، حضرت غریب نواز اجمیری اور حضرت غوث پاک رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حالات پڑھ لیں تو آپ کو ان کی زندگی میں ایک ایسا سچ نظر آئے گا کہ جو زبان سے نکلتا ہے اور دلوں میں اثر کرتا ہے۔

 لہٰذا، اگر صرف یہ نعتوں کی محفلیں سجائی جاتی رہیں لیکن حضور علیہ السلام کی سیرت طیبہ پر عمل نہ ہو اور آپ کی کسی سنت کو نہ اپنایا جائے، جس طرح آپ نے فرمایا کہ پڑوسیوں اور بیماروں کا خیال رکھنا۔ مثلاً، تیز آواز میں لاؤڈاسپیکر بجانا اور بغل میں کوئی بیمار بیچارا کراہ رہا ہو، اور مولوی صاحب اور نعت خواں حضرات اپنے انداز میں مگن ہوں اور دوسروں کا انہیں کوئی خیال نہیں ہے ۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے، بلکہ ایسے موقعوں پر بہت ساری باتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔

 صرف ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ میں ایک خانقاہ کا فرد ہوں اور جو خانقاہی رسوم ہیں وہ ہمارے لئے فرض اولین ہیں، اور ہمیں ان کو پورا کرنا ہی کرنا ہے۔ گو کہ وہ اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی آیت ہو۔ بلکہ ہمارے بزرگوں نے یہ جو چیزیں رائج کی ہیں ان کا مقصد فلاح اور بہبود ہے، تاکہ انسان کی خدمت ہو۔ لوگوں تک سچائی کا ایک پیغام پہنچے۔ اس لئے کہ دین کی اصل جو خدمت ہے وہ دعوت و تبلیغ ہے، صوفیاء کے پیغامات کو پھیلانا ہے، اور لوگوں کے عقیدے ٹھیک کرنا یہ مشائخ کے فرائض ہیں۔

 اور نئی نسل کو اسلام کی تبلیغ کرنا اور انہیں ایک دوسرے کو مارنے اور مرنے سے بچانا یہ علماء اور مشائخ کا کام ہے۔ چونکہ مشائخ کے ماننے والے لاکھوں کی تعداد میں ہوتے ہیں اور مخلوق کے دلوں پر ان کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ مولویوں کی باتیں تو لوگ پھر بھی نہیں مانتے لیکن مشائخ کی باتیں لوگ مانتے ہیں۔

 لہٰذا، سب سے پہلے میں مشائخ سے گزارش کروں گا کہ وہ جہاں جہاں بھی ہیں اور میری آواز سن رہے ہیں وہ اپنے مریدوں کی نئی نسل کو یہ تلقین کریں اور انہیں یہ حکم دیں کہ آپ سب پر امن رہیں اور کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے اقوام عالم آپ کو دہشت گرد قرار دیں۔ اور آپ سے محبت کرنے کے بجائے آپ سے ڈریں۔ آپ ایسا کوئی عمل نہ کریں ورنہ آپ کا صوفیاء سے اور پیر خانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارے صوفیاء نے تو یہی درس دیا ہے، بلکہ وہ تو دوسروں کو اپنے پاس بیٹھاتے تھے۔

 آپ مولانا جلال الدین رومی کے حالات پڑھ لیں۔ اس لئے کہ جب آپ کا جنازہ اٹھا تو آپ کے جنازے میں پانچ سے چھ لاکھ لوگ شامل تھے، آج سے 8 سو سال پہلے۔ اور ہر فرقہ اور ہر مذہب یہی کہتا تھا کہ یہ ہمارا پیر ہے۔ تمام جتنے مذاہب ہیں بشمول یہودی اور عیسائی کے سب یہی کہہ رہے تھے کہ یہ ہمارا پیر ہے۔ جبکہ مولانا جلال الدین رومی تو مسلمان تھے، وہ کیوں ان سے محبت کرتے تھے؟ اگرچہ مولانا جلال الدین رومی مسلمان تھے لیکن روشن خیالی اور وسیع النظری کا یہ عالم تھا کہ وہ تمام مذاہب کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے، انسان کو انسان سمجھتے تھے۔ اس لئے کہ اگر وہ آپ کا ہم مذہب نہیں ہے تو کیا ہوا؟ انسان تو ہے، اللہ کی مخلوق تو ہے۔

جاری......

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/new-age-islam,-edit-bureau/ulema-should-not-twist-up-the-truth-(part-4)--(علماء-حق-کے-ساتھ-باطل-کو-ملا-کر-پیش-نہ-کریں--پیر-سید-نصیر-الدین-نصیر-(رحمہ-اللہ/d/112277

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..