New Age Islam
Fri May 20 2022, 08:52 AM

Urdu Section ( 18 Jan 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Use of Loudspeakers Introduced By Saudi Government Should Serve As A Lesson سعودی حکومت کے متعارف کردہ لاؤڈ اسپیکر سے متعلق قوانین برصغیر کے مسلمانوں کے لئے سبق آموز

ہندوستانی مسلمانوں کو لاؤڈ اسپیکر کے استعمال میں سعودی پالیسی کو اپنانا چاہئے

اہم نکات:

1.      مساجد کو صرف اذان اور اقامت کے لئے ہی لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کا حکم دیا گیا ہے

2.      مساجد کو ہدایت دی گئی ہے وہ خارجی امپلیفائر کا استعمال چھوڑ دیں

3.      لاؤڈ اسپیکر کی آواز ایک تہائی تک کم کی جائے

---

خصوصی نمائندہ، نیو ایج اسلام

29 مئی 2021

Photo courtesy Op India: Use of loudspeakers restricted in Saudi Arabia mosques

----

مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال بحث کا ایک مسئلہ رہا ہے اور بعض اوقات ہندوستان میں اس کی وجہ سے تنازعہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ غیر مسلم اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ اذان کی تیز آواز سے ان کی نیند اور ذہنی سکون میں خلل پیدا ہوتا ہے جبکہ مسلمان لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو اپنا مذہبی حق سمجھتے ہیں۔ اذان دیتے وقت خارجی امپلیفائر کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اذان کی آواز علاقے کے ہر گھر تک پہنچے۔ ہندوستان کے بعض شہروں میں نماز تراویح یا نماز جمعہ بھی بیرونی لاؤڈ اسپیکر کی مدد سے ادا کی جاتی ہے۔ جو کہ کبھی کبھی فرقہ وارانہ تصادم کا سبب بھی بن جاتا ہے۔

دوسری طرف مسلمانوں کا لبرل طبقہ خاص طور پر رمضان المبارک کے دوران مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے محدود استعمال کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن مرکزی دھارے کے مسلمان اور مذہبی علماء کا طبقہ اس طرح کے آزاد خیالات کی مذمت کرتا ہے۔

لیکن مساجد میں خارجی امپلیفائر اور لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے حوالے سے سعودی حکومت کے پیش کردہ نئے قوانین سے خارجی امپلیفائر اور لاؤڈ اسپیکر کے بے لگام استعمال کی حمایت کرنے والوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئے۔

سعودی عرب کی وزارت برائے اسلامی امور نے مملکت کی تمام مساجد میں لاؤڈ اسپیکر اور خارجی امپلیفائر کے استعمال سے متعلق نئی ہدایات جاری کی ہے۔

وزارت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اب مساجد میں لاؤڈ اسپیکر صرف دو ہی کاموں کے لئے استعمال ہوں گے: ایک اذان پکارنے کے لئے اور دوسرا اقامت پکارنے کے لئے۔ مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کو اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

وزارت کی طرف سے جاری کردہ ایک اور ہدایت میں کہا گیا ہے کہ امام کی جانب سے ادا کی کی جانے والی نمازیں صرف مسجد کے اندر موجود مصلیان کے لئے ہی ہونی چاہئے، جنھیں گھر میں موجود لوگوں تک پہنچانے کی کوئی جائز ضرورت نہیں ہے۔

اس نوٹیفکیشن میں یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ خارجی امپلیفائر قرآن مجید کی تلاوت میں استعمال نہیں ہوں گے کیونکہ یہ قرآن کی بے حرمتی ہے کیوں کہ باہر کوئی بھی ان آیات پر غور و فکر نہیں کر رہا ہوتا ہے۔

اس سرکلر کو وزیر برائے اسلامی امور عبد اللطیف الشیخ نے جاری کیا ہے۔ یہ سرکلر اس حدیث پر مبنی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ "کوئی بھی کسی دوسروں کو تکلیف نہ پہنچانے اور کوئی بھی تلاوت یا نماز میں دوسرے کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرے۔"

یہ سرکلر سینئر اسلامی اسکالرز شیخ محمد بن صالح العثمین اور شیخ صالح الفوزان کے جاری کردہ فتووں پر مبنی ہے۔

وزارت نے ایک رپورٹ پر عمل کرتے ہوئے یہ قانون بنایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اذان کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے استعمال ہونے والے خارجی یمپلیفائر اور لاؤڈ اسپیکر سے مساجد کے آس پاس کے گھروں میں رہنے والے مریضوں، بزرگوں اور بچوں کو تکلیف ہوتی ہے۔

مزید یہ کہ وزارت نے مساجد کو اذان اور اقامت کے لئے لاؤڈ اسپیکروں میں آواز تیسرے نمبر پر رکھنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ وزارت نے متنبہ کیا ہے کہ ان قوانین کی کسی بھی خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

سعودی عرب جو کہ ہندوستانی مسلمانوں سمیت پوری دنیا کی مسلم برادریوں کے لئے ایک نمونہ عمل ہے، اس کی اس ہدایت سے ہندوستانی مسلمانوں کے مذہبی طرز عمل میں تبدیلی پیدا ہونا چاہئے جہاں لاؤڈ اسپیکر کو نہ صرف اذان اور اقامت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے بلکہ بعض قصبوں اور شہروں میں نماز جمعہ اور نماز تراویح کے لئے بھی بیرونی لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف غیر مسلموں بلکہ ان مسلمانوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے جو بیمار، بچے یا بزرگ ہیں۔

لاؤڈ اسپیکر تیز آواز میں بجائے جاتے ہیں جو غیر مسلموں کی جانب سے پرتشدد ردعمل کا سبب بھی بنتا ہے جیسا کہ گزشتہ سال رمضان کے مہینے میں ہندوستان کے بعض مقامات پر دیکھنے کو ملا تھا۔

ہندوستان کے کچھ قصبوں میں مساجد کے لاؤڈ اسپیکر صبح کی نماز اور نماز جمعہ کے بعد صلوٰۃ سلام پڑھنے کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں خارجی امپلیفائر استعمال ہوتے ہیں جس سے آس پاس کے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔

چونکہ ہندوستان ایک ہندو اکثریتی ملک ہے اور مساجد کے آس پاس ہندو بھی قیام پذیر ہیں، لہذا سعودی حکومت کی جاری کردہ ہدایات ہندوستان کے لئے بھی افادیت بخش ہیں اور ہندوستانی مسلمانوں کو بھی لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے متعلق اس سعودی پالیسی کو اپنانا چاہئے تاکہ ملک میں مختلف مذہبی جماعتوں کے ساتھ پرامن اور ہم آہنگ بقائے باہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

English Article: New Rules For The Use Of Loudspeakers Introduced By Saudi Government Should Serve As A Lesson For Muslims Of Indian Sub-Continent

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/loudspeaker-saudi-government-indian-muslim/d/126187

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..