New Age Islam
Wed Oct 20 2021, 03:06 PM

Urdu Section ( 29 Sept 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Imposition of Beard by Militant Islamic Organization عسکریت پسند اسلامی تنظیموں کی طرف سے جبرا داڑھی رکھوانے کے معاملے نے مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں میں پوگونوفوبیا کو فروغ دیا ہے

افغانستان میں لوگ بغیر داڑھی سے زیادہ داڑھی والے امریکی فوجیوں سے ڈرتے ہیں

اہم نکات:

1. تاجکستان میں پولیس اہلکاروں نے مسلمان باشندوں کو داڑھی منڈوانے پر مجبور کیا

2. صومالیہ میں عسکریت پسندوں نے مسلمانوں کو داڑھی رکھنے کا حکم دیا

3. داعش نے موصل کے مسلمانوں کو داڑھی بڑھانے اور مونچھیں تراشنے کا حکم دیا تھا

 -----

نیو ایج اسلام نامہ نگار

 28 ستمبر 2021

آہستہ آہستہ افغانستان میں طالبان اپنے پرانے طرز حکومت کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے نقاب نہ پہننے پر ایک خاتون کو سر عام گولی ماری تھی۔ مزید یہ کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات میں آئی پی ایل میچوں کے ٹیلی کاسٹ پر پابندی عائد کر دی ہے کیونکہ اس سے اسٹیڈیم میں خواتین کے کپڑے اور ننگے بال دکھائے دیں گے۔ اب باری داڑھی کی ہے۔

طالبان نے داڑھی منڈوانے اور تراشنے پر پابندی عائد کر دی ہے کیونکہ ان کی شریعت کی تشریح کے مطابق داڑھی منڈوانا اور تراشنا ایک گناہ اور قابل سزا جرم ہے۔ ہلمند، کابل اور دیگر صوبوں میں حجاموں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ داڑھی نہ مونڈیں اور نہ تراشیں اور نہ ہی امریکی طرز کا بال کاٹیں۔

 تقریبا دس سال قبل 2010 میں موغادیشو کی دہشت گرد تنظیم حزب الاسلام نے ملک کے مسلمانوں کو اسی طرح کا حکم جاری کیا تھا کہ، "اپنی داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں کاٹو"۔ لوگوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر انہوں نے ’قانون‘ کی خلاف ورزی کی تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

2015 میں داعش نے ایک حکم جاری کیا جس میں کہ مردوں کو داڑھی بڑھانے کے لیے کہا گیا تھا۔

تو داڑھی کے مسئلے پر موغادیشو کی دہشت گرد تنظیموں اور اسلامی تنظیم کے زیر انتظام حکومت کی تشریح یکساں ہے۔ طالبان، پارلیمنٹ سے منظور شدہ قانون سازی یا شوریٰ کے مشورے سے چلنے والی حکومت کی طرح برتاؤ نہیں کر رہے ہیں۔ وہ ایک جدید اسلامی ریاست کی حکومت کی طرح نہیں بلکہ ایک قبائلی گروہ کی طرح کام کر رہے ہیں۔

طالبان کا حکم دو حدیثوں پر مبنی ہے:

عمر بن ہارون نے اسامہ بن زید سے انہوں نے عمرو بن شعیب انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی داڑھی شریف کو اس کے اطراف سے تراشتے تھے۔ "(سنن الترمذی 5 جلدیں۔ قاہرہ۔ طباعت ثانیہ۔ بیروت: دار احیاء الترات العربی، 5.94:2762)۔

ایک اور حدیث میں ہے:

مونچھیں تراشو اور داڑھی چھوڑ دو۔ "(صحیح بخاری)

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک داڑھی پکڑی اور اسے تراش دیا۔ لہٰذا شریعت کے مطابق داڑھی رکھنا سنت ہے، فرض نہیں، کیونکہ قرآن میں اس کا حکم نہیں ہے۔ اردن، ترکی، مصر اور دیگر اسلامی ممالک میں بہت سے مسلم علماء آج داڑھی نہیں رکھتے۔ یہ جدیدیت کی علامت بن گیا ہے۔ یہ قانون کے ذریعہ نافذ نہیں ہے یا داڑھی منڈوانا یا کاٹنا اسلامی ممالک کے اندر قانون کی نظر میں جرم نہیں ہے۔ سنت رسول ﷺ کے طور پر اس کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اسلام داڑھی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کیونکہ یہ مردانگی کی علامت ہے۔ تاہم کسی بھی مسلم ملک نے قانون کے زور سے مسلمانوں پر داڑھی مسلط نہیں کیا ہے۔

اس لیے اگرچہ داڑھی رکھنا ایک مذہبی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے لیکن یہ کسی بھی مہذب اسلامی معاشرے میں از روئے قانون نافذ نہیں ہے۔ ہندوستان کے علامہ اقبال جیسے بے شمار بڑے بڑے اسلامی اسکالرز نے داڑھی نہیں رکھی لیکن پھر بھی مسلمان ان کو بطور اسلامی شخصیت کے عزت دیتے ہیں۔

صرف دہشت گرد اسلامی تنظیموں نے ہی ہمیشہ مسلمانوں کو داڑھی رکھنے پر مجبور کیا ہے۔ اس سے دنیا کے غیر مسلم اقوام میں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ داڑھی انتہا پسندی کی علامت ہے یا جو داڑھی رکھتے ہیں وہ انتہا پسند ہوتے ہیں۔

طالبان نے نہ صرف داڑھی منڈوانے پر پابندی عائد کی ہے بلکہ داڑھی کاٹنے پر بھی پابندی عائد کی ہے۔ وہ ایک سنت کو زبردستی مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

انتہا پسند اسلام پسند تنظیموں کی جانب سے داڑھی کے جبری نفاذ نے پوگونو فوبیا (داڑھیوں کا خوف) کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے کیونکہ داڑھی بنیاد پرستی یا انتہا پسندی کی علامت بن چکی ہے۔ اپریل 2015 میں تاجکستان میں دو پولیس عہدیداروں کی سرکاری طور پر سرزنش کی گئی کیوں کہ وہ مسلمانوں کو داڑھی منڈوانے پر مجبور کرتے تھے کیونکہ وہ داڑھی کو بنیاد پرستی یا انتہا پسندی کی علامت سمجھتے تھے۔

انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے داڑھی کے جبری نفاذ سے نہ صرف غیر مسلم بلکہ مسلمانوں میں بھی پوگونوفوبیا پیدا ہوا ہے۔ 2009 میں فارن پالیسی نے رپورٹ کیا کہ افغان نہ صرف داڑھی والے طالبان کو بدتمیز اور سنگدل سمجھتے ہیں بلکہ وہ داڑھی والے امریکی فوجیوں کو بھی برا سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ داڑھی والے امریکی فوجیوں نے بدتمیزی کی جبکہ مونڈنے والے امریکی فوجیوں کا سلوک اتنا برا نہیں تھا۔

طالبان جس طرح سے افغانستان میں قوانین نافذ کر رہے ہیں اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ خواتین کا ختنہ بھی مسلط کر دیں گے جو کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اب بھی مسلط ہے۔

اگرچہ طالبان رہنما ملا ترابی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ وقت کے ساتھ بدل گئے ہیں لیکن حقیقت میں وہ نہیں بدلے۔ درحقیقت، قرآن و سنت کی بنیاد پرست تشریح جس کی وہ پیروی کرتے ہیں وہ انہیں خود کو تبدیل کرنے یا اپنی اصلاح کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وہ جمہوری قوت نہیں ہیں اور نہ ہی جمہوری طریقے سے اقتدار میں آئے ہیں۔ اس لیے ان سے جمہوری طرز حکومت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

English Article: Imposition of Beard by Militant Islamic Organization Has Caused Pogonophobia Not Only Among the Non-Muslims but Also Among the Muslims

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/pognophobia-militant-islamic-organisation/d/125472

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..