New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 09:58 PM

Urdu Section ( 27 Dec 2013, NewAgeIslam.Com)

History of Namza in Islam (Part 11): Azaan (اسلام میں نماز کی تاریخ – اذان (11

 

 ناستک درانی، نیو ایج اسلام

28 دسمبر، 2013

نماز کے اوقات کے تعین میں آسانی اور لوگوں کو وقت پر اس کی ادائیگی کی دعوت دینے کے لیے مذاہب نے نماز کی دعوت کے مختلف طریقہ اپنائے تاکہ مؤمنین کو پتہ چل سکے کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے، ان میں ناقوس پھونکنا، بگل بجانا یا آگ وغیرہ جلانا شامل ہیں یا جو بھی اعلان وانتباہ کے مختلف وسائل ہوسکتے ہیں۔

اذان مکہ میں فرض نہیں ہوئی تھی کیونکہ مسلمان اقلیت میں تھے اور قریش کے ڈر سے چھپ کر رہتے تھے لہذا وہاں کسی بھی نماز کے وقت کے داخل ہوجانے کا بر سرِ عام اعلان نہیں کیا جا سکتا تھا، تاہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت کی، اور وہاں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو اذان کی ضرورت شدت سے محسوس کی جانے لگی تاکہ لوگوں کو نماز کے وقت کے بارے میں متنبہ کیا جاسکے کیونکہ انہیں اس کا علم نہیں ہو پاتا تھا، یا وہ کام کاج میں مصروف ہوجاتے تھے اور نماز کے وقت کے نکل جانے کا انہیں پتہ ہی نہیں چل پاتا تھا اور یوں وہ اپنے رب کے ایک اہم فرض سے کوتاہی کے مرتکب ہوجاتے تھے۔

صحیح مسلم میں آیا ہے کہ جب مسلمان (ہجرت کر کے) مدینہ پہنچے تو وقت مقرر کر کے نماز کے لیے آتے تھے۔ اس کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی۔ ایک دن اس بارے میں مشورہ ہوا۔ کسی نے کہا نصاریٰ کی طرح ایک گھنٹہ لے لیا جائے اور کسی نے کہا کہ یہودیوں کی طرح نرسنگا (بگل بنا لو، اس کو پھونک دیا کرو) لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کسی شخص کو کیوں نہ بھیج دیا جائے جو نماز کے لیے پکار دیا کرے۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (اسی رائے کو پسند فرمایا اور بلال سے) فرمایا کہ بلال! اٹھ اور نماز کے لیے اذان دے 1۔

ایک اور روایت میں ہے کہ جب اذان کی ضرورت محسوس کی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے اس مسئلہ پر مشورہ کیا تو انہیں کہا گیا کہ ”نماز كا وقت ہونے پر جھنڈا نصب كر ديا جائے جب وہ اسے ديكھيں گے تو ايك دوسرے كو بتا دينگے، ليكن رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ طريقہ پسند نہ آيا، چنانچہ یہودیوں کے بگل كا ذكر ہوا جسے الشبور یا القبع کہا جاتا تھا یہ ایک سینگ ہے جس سے وہ لوگوں کو اپنی نماز کی طرف بلاتے ہیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا يہ تو يہوديوں كا طريقہ ہے، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ كے سامنے ناقوس كا ذكر ہوا جس سے نصاری لوگوں کو اپنی نماز کی طرف بلاتے تھے، تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: يہ تو عيسائيوں كا طريقہ ہے، تو لوگوں نے کہا: اگر ہم آگ جلا لیں تو جب لوگ اسے دیکھیں گے نماز کے لیے آجائیں گے، تو آپ نے فرمایا: یہ تو مجوسیوں کا طریقہ ہے 2۔

”محمد بن سعد“ نے اذان کے آغاز کے قصہ کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ: اذان کا حکم ہونے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی لوگوں کو ندا دیتا تھا کہ ”الصلاۃ جامعۃ“ نماز جمع کرنے والی ہے، تو لوگ جمع ہوجاتے تھے، جب قبلہ کعبے کی طرف پھیر دیا گیا تو اذان کا حکم دیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذان کے معاملے کی بھی بڑی فکر تھی لوگوں نے آپ سے ان چند باتوں کا ذکر بھی کیا جن سے لوگ نماز کے لیے جمع ہوجائیں، بعض نے کہا کہ صور اور بعض نے کہا کہ ناقوس بجا دیا جائے، لوگ اسی حالت میں تھے کہ عبد اللہ بن زید الخزرجی کو نیند آگئی، انہیں خواب میں دکھایا گیا کہ ایک شخص اس کیفیت سے گزرا کہ اس کے بدن پر دو سبز چادریں ہیں، ہاتھ میں ناقوس ہے، عبد اللہ بن زید نے کہا کہ میں نے (اس شخص سے) کہا: کیا تم یہ ناقوس بیچتے ہو، اس نے جواب دیا: تم اسے کیا کروگے؟ میں نے کہا خریدنا چاہتا ہوں کہ نماز میں حاضری کے لیے اس کو بجاؤں، اس نے کہا: میں آپ لوگوں کے لیے اس سے بہتر بیان کرتا ہوں کہ: اللہ اکبر، اللہ اکبر، اشہد ان لا الہ الا اللہ، اشہد ان محمدا رسول اللہ، حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح، اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، عبد اللہ بن زید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی تو آپ نے فرمایا کہ تم بلال کے ساتھ کھڑے ہو اور جو کچھ تم سے کہا گیا ہے انہیں سکھا دو، وہ یہی اذان کہیں، انہوں نے ایسا ہی کیا، عمر رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے کہا کہ میں نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا ہے جیسا انہوں نے دیکھا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حمد اللہ ہی کے لیے ہے، اور یہی سب سے زیادہ درست ہے، اہلِ علم نے کہا کہ یہی اذان کہی جانے لگی اور ”الصلاۃ جامعۃ“ کی ندا محض کسی امرِ حادث کے لیے رہ گئی، اس کی وجہ سے لوگ حاضر ہوتے تھے اور انہیں اس امر کی خبر دی جاتی تھی، مثلاً فتح کی خبر پڑھ کر سنائی جاتی تھی یا اور کسی امر کا ان کو حکم دیا جاتا تھا تو ”الصلاۃ جامعۃ“ کی ندا دی جاتی تھی اگرچہ وہ نماز کے وقت میں نہ ہو 3۔

ابن سعد نے اذان کے آغاز کی روایت اور ذرائع سے بھی نقل کی ہیں جو مذکورہ خبر کے مضمون سے باہر نہیں جاتیں، یہ روایات بھی اذان کے خواب کو حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے منسوب کرتی ہیں اور حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے خواب کو تصدیق کے طور پر پیش کرتی ہیں یعنی حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے پہلے اپنا خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا اور پھر ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گزار کیا 4۔

ابن ہشام اور دیگر نے بھی اس قصہ کو نقل کیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اہلِ علم کے ہاں اس موضوع کی بابت یہی قصہ رائج ہے 5۔

اسلام میں اذان کا یہی قصہ ہے، اذان سے پہلے مسلمان نماز کی منادی ”الصلاۃ الصلاۃ“ 6 کا جملہ بول کر کیا کرتے تھے، ایک منادی یہ جملہ زور زور سے بولتا تاکہ دوسرے سن لیں اور نماز کے وقت کی طرف متوجہ ہوجائیں اور نماز کو وقت پر ادا کر سکیں، علماء نے ایک دوسرا جملہ بھی ذکر کیا ہے جو ”الصلاۃ جامعۃ“ ہے جسے نماز کے وقت پر منادی کے طور پر بولا جاتا تھا 7، کچھ دیگر جملے بھی مذکور ہیں جیسے ”الی الصلاۃ“ یا ”ہلم الی الصلاۃ“ 8۔

راویوں میں نماز کی تاریخ پر اختلاف ہے، بعض کا خیال ہے کہ اس کا حکم ہجرت کے پہلے سال میں دیا گیا تھا جبکہ کچھ دیگر کا خیال ہے کہ اس کا حکم ہجرت کے دوسرے سال میں دیا گیا تھا 9۔

مشہور ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اسلام کے پہلے مؤذن ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن بھی ہیں بلکہ وہ ”ابو المؤذنین“ یعنی مؤذنوں کے باپ ہیں، ایک اور مؤذن بھی ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اذان دیا کرتے تھے، یہ حضرت ”ابن ام مکتوم“ رضی اللہ عنہ ہیں اور یہ نابینا تھے 10، ان دونوں میں سے جو بھی پہلے موجود ہوتا اذان دیتا، یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ جب اذان دیتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر کھڑے ہوجاتے اور کہتے: نماز اے رسول اللہ، حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح 11۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذنین میں ابا محذورۃ سمرۃ بن معیر، اوس اور سعد القرظ کے نام بھی مذکور ہیں جو حضرت عمار بن یاسر کے مولی تھے اور قرظ 12 کی تجارت کیا کرتے تھے لہذا اسی نام سے مشہور ہوئے، وہ اہلِ قباء کے لیے اذان دیا کرتے تھے 13۔

حوالہ جات:

1- صحیح مسلم 2/2، کتاب الصلاۃ: باب بدء الاذان۔

2- السیرۃ الحلبیۃ 482/1۔

3- طبقات ابن سعد 246/1 اور اس سے آگے، ”صادر“، ابن سید الناس، عیون الاثر 203/1، مسند الامام ابی حنیفۃ صفحہ 49 اور اس سے آگے۔

4- طبقات ابن سعد 247/1 اور اس سے آگے ”صادر“۔

5- سیرۃ ابن ہشام 306/1 ”فی باب خبر الاذان“، السیرۃ الحلبیۃ 480/1، الروض الانف 19/2 اور اس سے آگے۔

6- کنز العمال 265/4، Mittwoch, S., 25۔

7- طبقات ابن سعد 246/1 اور اس سے آگے۔

8-  Mittwoch, C., 25.

9- المقریزی، امتاع الاسماع 50/1۔

10- صحیح مسلم 3/2 ”محمد علی صبیح“۔

11- الیعقوبی 32/2 ”نجف“۔

12-  کیکر کی طرح کا ایک درخت جس کے پتوں کو کھال کی دباغت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

13- ابن سید الناس، عیون الاثر 205/1۔

URL for Part 1:

http://www.newageislam.com/urdu-section/history-of-namaz-in-islam--part-1-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---نماز-(1/d/14330

URL for Part 2:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam-ناستک-درانی/history-of-namaz-in-islam--part-2-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---نماز-(2/d/34490

URL for Part 3:

http://www.newageislam.com/urdu-section/history-of-namaz-in-islam-part-3--(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ-–-نماز-کی-شکل-اور-با-جماعت-نماز-(3/d/34528

URL for Part 4:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam--ناستک-درانی/history-of-namaz-in-islam--part-4--(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---نماز-کے-اوقات-اور-ان-کی-تعداد-(4/d/34567

URL for Part 5:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namaz-in-islam--part-5-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---اسلام-میں-نماز-(5/d/34616

URL for Part 6:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam-ناستک-درانی/history-of-namaz-in-islam--part-6-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---اسلام-میں-نماز--(6/d/34778

URL for Part 7:

http://newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namaz-in-islam-part-7--performing-tahajjud-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---رات-كا-قيام-(7/d/34836

URL for Part 8:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namza-in-islam-(part-8)--namaz-of-two-reka-ats-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---دو-رکعت-کی-نماز-(8/d/34896

URL for Part 9:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam--ناستک-درانی/history-of-namza-in-islam-(part-9)--first-ever-offered-namaz--(اسلام-مں--نماز-کی-تاریخ---پہلی-نماز۔-حصہ-(9/d/34960

URL for Part 10:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namza-in-islam-(part-10)--namaz-of-a-traveller-and-that-of--a-settled-person-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---مقیم-اور-مسافر-کی-نماز-(10/d/35015

 URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namza-in-islam-(part-11)--azaan-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ-–-اذان-(11/d/35032

 

Loading..

Loading..