New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 03:51 AM

Urdu Section ( 10 Oct 2013, NewAgeIslam.Com)

An Imaginary Battle against Secularism سیکولر ازم کے خلاف موہوم جنگ

 

ناستک درّانی، نیو ایج اسلام

11اکتوبر، 2013

کسی مذہبی فکر کے تحت زندگی گزارنا - چاہے وہ کوئی بھی مذہب ہو - زندگی کو غیبی دنیا کی ایک نظریاتی میٹافیزیکل دھیان میں بدل دیتا ہے جو کسی چیز کی پیش گوئی نہیں کرتا بلکہ یہ ایک سفید سکرین کی طرح ہے جس پر کوئی بھی اپنی تصورات ڈال سکتا ہے اور جو چاہے دیکھ سکتا ہے، جیسے چاند کو دیکھنے والے شخص کو اس میں خرگوش بھی نظر آجاتا ہے اور اپنے محبوب کا چہرہ بھی، یہ طرزِ زندگی سستی کی طرف مائل ہے، یہ لوگوں کو سست بنا کر انہیں کچھ بھی نیا نہیں کرنے دیتا کیونکہ ساری چیزیں پہلے ہی مشیتِ الہی نے طے کر رکھی ہیں لہذا کچھ بھی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، ایک ایسے دور میں جہاں علمی ترقی غیبیات سے کہیں آگے نکل چکی ہے لوگوں کو سیکولر بننا سیکھنا ہوگا، یعنی انہیں یہ جاننا ہوگا کہ زمینی زندگی کو ایسے سوالوں کی ضرورت ہے جو اس سے راست متناسب ہیں اور اس کے لیے جوابات بھی زمینی زندگی سے ہی حاصل کیے جائیں گے جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ مذہب کے جوابات اسی خاص مذہب سے ہی وابستہ ہیں، اس کی دلچسپی کا تعلق ایک ایسی غیبی دنیا سے ہے جسے ہر کوئی اپنے طریقہ سے جانتا ہے، مگر جب ہم دنیاوی ترقی کی بات کرتے ہیں تو تمام لوگوں کے راستے وہیں آکر ملتے ہیں۔

 مذہبی شخص ان لوگوں کے دماغ سے سوچتا ہے جو صدیوں پہلے مر چکے ہیں، جبکہ سیکولر شخص اپنی انسانی عقل سے سوچتا ہے، اسی لیے اسے حاکم امیر نظر نہیں آتا جس کے خلاف جانا کفر ہے، بلکہ وہ غلطی کرنے پر حاکم کو آزاد میڈیا کے ذریعہ بے نقاب کر دیتا ہے اور سیکولر قانون اسے اقتدار سے الگ کردیتا ہے، سیکولر ازم کی مذہب کی طرح کوئی مرکزی تنظیم نہیں ہوتی جو لوگوں کے دکھوں کی تجارت کرتے ہیں بلکہ سیکولر ازم کے اندر معاشرے کا ہر فرد چاہے اس کا فکری پس منظر جو بھی ہو برابر ہوتے ہیں، اگرچہ سیکولر ازم کے اندر بھی ضمیر فروشوں کی نفی نہیں کی جاسکتی تاہم ایسے لوگ جلد ہی بے نقاب ہوجاتے ہیں کیونکہ سیکولر ازم کسی کو بھی کسی دوسروں کے حق پر ڈاکہ چالنے کا کوئی مقدس جواز فراہم نہیں کرتا۔

معلوم ہوتا ہے کہ مذہب کی تجارت کرنے والوں کے لیے سیکولر ازم ایک دردِ سر سے کم نہیں، لہذا انہوں نے سیکولروں پر کفر کے فتوے لگانے شروع کردیے کیونکہ سیکولر ازم مذہبی رہنماؤوں اور کسی بھی دوسرے شہری میں برابری کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلام کے ٹھیکہ دار سیکولر ممالک کے عیب تلاش کرتے رہتے ہیں، ان کی محروم نظریں ان میں صرف عریانیت، شراب اور اخلاقی بے راہ روی ہی دیکھ پاتی ہیں ترقی نہیں، حالانکہ انہیں سب سے پہلے اپنے عیب تلاش کرنے چاہئیں اور ان سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہیے، وہ اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ سیکولروں پر کفر والحاد کا الزام بھی لگاتے ہیں جبکہ سیکولر ازم نا ہی کسی مذہب کا انکار کرتا ہے اور نا ہی کسی مذہب کے پیروکاروں کا، شہریوں کو خدا پر ایمان رکھنے کا پورا پورا حق حاصل ہے جس نے ہمیں وہ عقل دی ہے تاکہ ہم طبعی قوانین کو سمجھ کر انہیں اپنے فائدہ کے لیے مسخر کر سکیں، اگر مختصر انداز میں بات کی جائے تو دنیا سیکولر ازم کا موضوع ہے اور علم اس کا وسیلہ، اس کا مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں کیونکہ یہ غیب ہے جو تحقیق ومعرفت کے قابل نہیں، وہ قوانین جو سیکولر ازم نے دریافت کیے ہیں وہ خدا کی ہی تخلیق ہیں شیطان کی نہیں، مذہب کے تئیں سیکولر ازم کا موقف مذہب کو حکومت اور حاکم دونوں کے تسلط سے آزاد کردیتا ہے، سیکولر ازم ایک ایسے یقین کا حامل ہے جس پر سب اتفاق کرتے ہیں کہ کوئی بھی طبیعات، ریاضی اور کیمیاء کے قوانین سے اختلاف نہیں کر سکتا مگر مذاہب ایک دوسرے سے بر سرِ پیکار یقینیات ہیں حتی کہ ایک ہی مذہب کے اندر کے مختلف فرقوں میں جنگ جاری رہتی ہے جبکہ سیکولر ازم ایک ایسا نقطہ وضع کرتا ہے جس پر سب اتفاق کر سکتے ہیں، یہ ایک مصالحتی پیغام ہے اور کسی بھی مذہب کا کوئی ایک بھی مقدس متن نہیں ہے جو اسے غلط قرار دیتا ہو یا اس کی تکفیر کرتا ہو۔

سیکولر ازم تمام مؤمنوں کے درمیان مساوات کا اعلان کرتا ہے اور کسی کو بھی کسے دوسرے کے حق میں مذہب یا مسلک کی بنیاد پر کوئی فوقیت نہیں دیتا، یہ عام لوگوں کو پیروں کے برابر کردیتا ہے اور ان پر نہ صرف تنقید کے دروازے کھولتا ہے بلکہ لوگوں کی عقل کو ان کی مٹھی سے آزاد کردیتا ہے، ایک سیکولر شخص کے طور پر مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کس طرح مذہبی رہنما ہر چیز کے ساتھ لچکدار رویہ اپناتے تھے، جب حاکم اجتماعی انصاف کی خواہش ظاہر کرتا تھا تو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اولین کمیونسٹ بنا دیتے تھے، اور اگر وہ طبقاتی معاشیات کی بات کرتا تو کہتے کہ اللہ نے ہمیں درجوں پر پیدا کیا ہے، اگر وہ جنگ کی بات کرتا تو یہ خدا کو فرشتوں کی فوج کا سربراہ بنا دیتے، اور اگر وہ امن چاہتا تو یہ امن کی آیات نکال لے آتے، میں نے انہیں ہر معاملہ پر گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے دیکھا ہے سوائے لوگوں کی آزادی اور حقوق کے معاملات پر جو سیکولر ازم کی اولین ترجیح ہے۔

اور اگر سیکولر ازم کی تکفیر واقعی مذہب سے ہی آتی ہے مولوی کی خواہش سے نہیں تو وہ سیکولر ازم کی تکفیر کے لیے کوئی مذہبی متن پیش کیوں نہیں کیا جاتا؟ ایک مسلمان سیکولر شخص جانتا ہے کہ اس کا خدا یقیناً سیکولر ازم کے بارے میں پہلے سے ہی علم رکھتا تھا اور یہ کہ یہ ایک دن اس کی زمین پر لوگوں کی زندگی آسان کرنے کے لیے آ موجود ہوگا، مگر اس کے با وجود خدا نے اسے مسترد کرنے کے لیے ایک لفظ بھی نہیں کہا بلکہ الٹا ہمیں انتخاب کا موقع فراہم کیا، سیکولر ازم کی تکفیر کے با وجود جب ان مُکفرین کی جان پر بن آتی ہے تو یہ ارضِ اسلام کو چھوڑ کر کافر سیکولر ممالک میں جا پناہ ڈھونڈتے ہیں، سیکولر ازم جہاں بھی لاگو ہوا اس نے کبھی کسی بھی مذہب کے خلاف جنگ کا اعلان نہیں کیا، ان ممالک میں آج بھی سارے مذاہب اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ موجود ہیں اور ان کی عبادت گاہیں اسلامی ممالک سے زیادہ محفوظ ہیں، کیا سیکولر ازم کو مسترد کرنے والوں کو اسلام ان مذاہب سے زیادہ کمزور نظر آتا ہے کہ سیکولر ازم اسے فنا کردے گا؟ یا مسئلہ مولوی کے معاشرتی رتبہ اور آمدنی کا ہے؟ کیا مولوی سیکولر ازم سے اس لیے نفرت کرتا ہے کیونکہ وہ سیکولر ازم کے سائے میں مذہب کے نام پر لوگوں کا استحصال نہیں کر سکے گا؟

مذہبی رہنما سیکولر ازم کو کفر وزندقہ اور الحاد اس لیے قرار دیتے ہیں کیونکہ ان میں اس کے جیسی صلاحیتیں نہیں ہیں، وہ تو اس کے اصولوں پر بحث ہی نہیں کر سکتے ورنہ وہ انسانی اخلاقیات سے محروم قرار پا جائیں گے، سیکولر ازم نے اپنا کام بھرپور طریقے سے انجام دیتے ہوئے مختلف بیماریوں اور وباؤوں کے خلاف ویکسینیں تیار کیں جو ہر موسم میں آتیں اور لاکھوں انسان کو نگل جاتیں مگر کوئی ایک بھی مذہب ان وباؤوں کا راستہ روکنے پر قادر نہیں تھا، جب سیکولر ازم انسانیت کی بھلائی کے لیے یہ کام کر رہا تھا اس وقت مولوی مذہب کے ذریعہ اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف تھا اس لیے اس کی اخلاقیات تباہ ہوگئی اور ضمیر مردہ ہوگیا چنانچہ نا وہ انسانی حقوق میں سے کوئی حق وضع کر سکا اور نا ہی انسانیت کو فائدہ پہنچانے والی کوئی چیز ایجاد کر سکا اور اب وہ سیکولر ازم کی کامیابی کو آگے بڑھنے نہیں دے رہا ہے، مذہب کے ان بیوپاریوں نے سیکولر ازم کے خلاف ایک موہوم جنگ چھیڑ رکھی ہے جس کے انجام پر کوئی ذی عقل دو رائے نہیں رکھتا۔

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/an-imaginary-battle-against-secularism-سیکولر-ازم-کے-خلاف-موہوم-جنگ/d/13934

 

Loading..

Loading..