New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 05:13 AM

Urdu Section ( 6 Jul 2013, NewAgeIslam.Com)

Unity of Democratic Forces in Egypt Is Imperative مصر کی جمہوری قوتوں کا اتحاد ضروری ہے

 

ناستک درانی ،  نیو ایج اسلام

7جولائی، 2013

مذہب کسی ملک نا کبھی نظام تھا اور نا ہی کبھی ہوسکتا ہے، اگر ایسا ہوجائے تو یہ مذہب اور ملک دونوں کے لیے تباہ کن ہوگا، اسلامی اکثریت کے بعض ممالک میں یہی صورتِ حال ہے، یہ قاعدہ صرف اسلام کے لیے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ اس کا اطلاق تمام مذاہب پر ہوتا ہے چاہے یہ آسمانی  ہوں یا  زمینی ، مذہب کا فرد اور اس کے ایمان کے درمیان تعلق ہوسکتا ہے چاہے یہ خدا ہوں یا کچھ اور، یہی وجہ ہے کہ معروف عراقی صحافی وشاعر انور شاؤل نے گزشتہ صدی کی بیسویں دہائی میں یہ نعرہ بلند کیا تھا کہ: دین اللہ کے لیے اور وطن سب کے لیے اس کا صاف مطلب مذہب کو وطن سے الگ کرنا ہے، وطن ایک معنوی شخصیت ہے جس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا جبکہ مذہب پر کوئی شخص ایمان رکھ سکتا ہے اور کوئی نہیں بھی۔

دین کے قاعدے عام طور پر مستقر اور جامد ہوتے ہیں، جبکہ حکم کے قاعدے قابلِ تبدیلی اور زمان ومکان اور لوگوں کے حساب سے ترقی کرتے ہیں کہ لوگ کون سا نظامِ حکومت پسند کرتے ہیں جس کا انحصار کسی معاشرے کی انفرادی اور اجتماعی سوچ پر ہوتا ہے۔

مذہب ایک روحانی تعلق ہے مادی نہیں، اگر اسے مادی بنانے کی کوشش کی جائے گی تو یہ فاسد ہوجائے گا، مذاہب اور ممالک کی تاریخ اس بات کی بین دلیل ہے، یورپ میں عیسائیت جب اقتدار میں مدغم ہوئی تو مملکت ایک خوفناک جابرانہ شکل اختیار کر گئی جو مذہب کی بنیاد پر لوگوں میں تفریق کرتی تھی، نتیجتاً ظلم وقتل وغارت گری عام ہوئی، اور جب امورِ مملکت سے اسے الگ کردیا گیا تو مملکت ایک سول سیکولر روپ میں ابھری اور بلا تفریق انصاف ممکن ہوسکا، مذہب کو سیاست کی قید سے آزاد ہونا چاہیے اور سیاست کو مذہب کی قید سے آزاد ہونا چاہیے کیونکہ اس کا تعلق امورِ مملکت سے نہیں بلکہ انسان کی ذاتی انفرادی زندگی سے ہے۔

دہائیوں سے اخوان المسلمین اور اس جیسی دیگر جماعتوں نے اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے یا اسے پیشِ نظر نہ رکھتے ہوئے کہ اس خطے میں دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی موجود ہیں ایسے مذہبی نعروں کی ایک بوچھاڑ کر رکھی تھی جن کا لوگوں کی زندگی، ان کے مسائل، ان کی ضروریات اور تمناؤوں سے کوئی تعلق نہیں تھا، یہ نعرے گزشتہ صدیوں کا وہ ترکہ تھا جنہیں وقت نے غلط ثابت کردیا تھا جیسے حاکمیت صرف اللہ کے لیے ہے اور اسلام ہی حل ہے وغیرہ۔۔ ان اسلامی سیاسی قوتوں نے صرف ان نعروں پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ تشدد کا راستہ بھی اپنایا جسے وہ جہاد کہتے ہیں، اسلام کو پھیلانے کے لیے یہ جہاد مسلمان اکثریتی ممالک سمیت مسلمان اقلیتی ممالک میں بھی کیا گیا جیسے امریکہ میں 9/11 کا واقعہ، ان اسلامی سیاسی قوتوں نے یہ جہاد اس وقت بھی بڑی شد ومد سے جاری رکھا جب انہیں بعض ممالک میں اقتدار نصیب ہوا جیسے افغانستان، ایران، سودان اور اس سے قبل سعودی عرب، مگر پھر تیونس سے عرب بہار شروع ہوتی ہے اور مصر، یمن، لیبیا اور شام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے جو اب بھی جل رہا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ عراق بھی اس عرب بہاری لہر سے بچنے والا نہیں ہے۔

عرب بہار کے کچھ ممالک میں اسلامی سیاسی قوتیں اقتدار کو پانچ اہم اندرونی وبیرونی عوامل کی وجہ سے اغواء کرنے میں کامیاب ہوئیں:

1- اخوان المسلمین کی ان ممالک میں بہترین تنظیم سازی اور کثیر مالی مدد جو انہیں کچھ ممالک، تنظیموں اور کمپنیوں سے حاصل ہوتی ہے۔

2- ان قوتوں کی عملی سیاست کے بارے میں لوگوں کی لا علمی جب وہ اقتدار سے باہر ہوتے ہیں اور مذہب اور مذہبی رہنماؤوں کا لوگوں کی سوچ اور سلوک پر اثر انداز ہونا۔

3- ان ممالک میں لوگوں کے مجموعی شعور کی کمی، خاص طور پر جبکہ زیادہ تر لوگوں کو بے روزگاری اور غربت کا سامنا ہے۔

4- مخالف جمہوری قوتوں کی کمزوری اور ان کی آپس کی نا اتفاقی، ہر کوئی اپنے طور پر اور تنہا مسندِ اقتدار پر بیٹھنا چاہتا ہے۔

5- مغربی ممالک کی ان قوتوں کو سپورٹ، وہ سمجھتے ہیں (یا ایسا دکھاوا کرتے ہیں) کہ یہ قوتیں اپنے ممالک کی مسلمان اکثریت کی نمائندگی کرتے ہیں اور اپنے ممالک میں مغربی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور مغرب کا ان ممالک میں جمہوری اشتراکی قوتوں سے خائف ہونا۔

آج ہم اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ جیسے ہی اخوان المسلمین نے مصر میں اقتدار کی باگ دوڑ سنبھالی ویسے ہی ان کے قاتلانہ عیب اور کمزوریاں ساری دنیا کے سامنے کھل کر آںے لگیں، فکری مشق نے مصر کی حقیقتِ حال کی جگہ لے لی جسے اپنے قائم مسائل کے حل کے لیے فوری اور عملی اقدامات کی ضرورت تھی، مگر ڈاکٹر محمد مرسی اور ان کی جماعت اخوان المسلمین کا فکری غرور ان کی سیاست اور سلوک پر حاوی ہوگیا، انہوں نے تمام سرکاری اداروں اور مقامی انتظامیہ پر اپنا تسلط قائم کرنے کی کوششیں شروع کردیں اور غربت اور بے روزگاری کے مسائل سرے سے بھول گئے، بلکہ پہلے جو وہ لوگوں کی تایید حاصل کرنے کے لیے جو ان میں خوراک کی تقسیم کرتے تھے وہ بھی انہوں نے ختم کردی اور اپنی ساری توجہ صحافت، عدلیہ اور جمہوری قوتوں کی آزادی کی طرف مرکوز کردی، درجنوں صحافیوں پر ایسے مقدمات بنائے گئے جن کا کوئی مطلب نہیں تھا، نتیجتاً لوگوں میں بے اطمینانی پھیلنے لگی اور لوگ پہلے تو دبے لفظوں احتجاج کرنے لگے اور پھر 30 جون 2013 کو یہ عوامی احتجاج کھل کر سامنے آگیا اور قوم نے مرسی اور اس کی جماعت کو اقتدار سے الگ کرنے کا مطالبہ کردیا، انتہائی مختصر عرصہ میں التمرد تحریک مرسی اور اس کی جماعت کے خلاف 22 ملین دستخط جمع کرنے میں کامیاب ہوگئی، مزید برآں اخوان المسلمین کی حمایت کرنے والی ایک بڑی عوامی اکثریت نے بھی اپنی حمایت واپس لے لی۔

تیس جون کو کروڑوں لوگ دار الحکومت ہی نہیں بلکہ پورے مصر میں مظاہرے کرنے لگے جو مرسی اور اس کی پارٹی کے خلاف سول نافرنامی کی شکل اختیار کرنے والا تھا جس سے ملک ایک بہت بڑے بحران کا شکار ہوجاتا، اس حقیقتِ حال کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مسلح افواج نے مداخلت کی اور عوام کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے مرسی کو ہٹا کر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو تب تک کے لیے نگران صدر بنا دیا جب تک کہ آئیں میں اخوان کی تھوپی ہوئی شقوں کی ترمیم نہ کر لی جائے جو انہوں نے کسی کی رائے کا احترام کیے بغیر آئین میں شامل کردی تھیں اور نئے آئیں کے تحت انتخابات کے ذریعے نیا صدر نہ منتخب کر لیا جائے۔۔ اخوان المسلمین کو مصر پر حکومت کرنے کا بھرپور موقع ملا مگر انہوں نے ثابت کردیا کہ وہ اس کے اہل نہیں اور جو فکر اور نعرے انہوں نے اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں وہ مصر کی حقیقتِ حال کی نمائندگی نہیں کرتے۔

مصر کی صورتِ حال کا تقاضہ ہے کہ جمہوری قوتیں ہوشیار ہوجائیں کہ اس بات کے بہت زیادہ امکانات ہیں کہ آنے والے دنوں میں اخوان المسلمین کی جانب سے انارکی اور سیاسی افراتفری پھیلانے کی کوششیں ہوسکتی ہیں کیونکہ انہیں اب بھی حماس جیسی سیاسی اسلام کی قوتوں کی حمایت حاصل ہے، آنے والے دنوں میں انقلاب برپا کرنے والی جمہوری قوتوں کا آپس میں متحد ہونا انتہائی ضروری ہے، اگر ایسا ہوگیا تو اس کے مثبت اثرات خطے کے دیگر ممالک پر بھی پڑیں گے۔

عرب ممالک کی بہار اب بھی اپنے شروعاتی مراحل میں ہے اور ابھی ختم نہیں ہوئی، قوموں کی بہار ان کے جائز مطالبات اور تمناؤوں کی خزاں تک جاری رہے گی۔۔ یہ بہار دائمی ہے۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/the-war-within-islam/nastik-durrani,-new-age-islam/unity-of-democratic-forces-in-egypt-is-imperative/d/12477

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam-ناستک-درانی/unity-of-democratic-forces-in-egypt-is-imperative-مصر-کی-جمہوری-قوتوں-کا-اتحاد-ضروری-ہے/d/12478

 

Loading..

Loading..