New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 03:46 AM

Urdu Section ( 31 March 2013, NewAgeIslam.Com)

Is Islam a Solution or is It in Need of One? اسلام حل ہے یا اسلام کو حل کی ضرورت ہے؟

 

حروف کو چھوٹا یا بڑا کرنے کیلئے او پر  A A A پر کلک کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ناستک درانی، نیو ایج اسلام

2 اپریل، 2013

بنیادی طور پر دو نظریاتی اسلامی گروہ پائے جاتے ہیں، ایک کا خیال ہے کہ ہمارے تمام مسائل کا حل اسلامی حکومت میں مضمر ہے، جبکہ دوسرے گروہ کا خیال ہے کہ اگر سارا (یا بیشتر) معاشرہ اسلامی تعلیمات پر عمل شروع کردے تو مسائل خود بخود حل ہوتے چلے جائیں گے، یعنی اسلامی حکومت اس قدر ضروری نہیں ہے جس قدر معاشرے کا مذہبی تعلیمات پر عمل درآمد ضروری ہے جس سے اصلاحِ احوال نہ صرف ممکن ہے بلکہ یقینی ہے۔
جب سے معاویہ نے اسلامی خلافت کو بادشاہت میں تبدیل کیا ہے تب سے مسلمانوں کو ایسے کئی مسائل کا سامنا رہا ہے جو اب تک ختم نہیں ہوئے، سب سے پہلا مسئلہ وراثتِ اقتدار ہے جس سے مسلمانوں کے حاکم کی اصلاح تقدیر کی مرہونِ منت ہوگئی، یا تو (اتفاق سے) کوئی نیک وعادل حاکم آئے اور اپنے دورِ اقتدار کے مختصر عرصے میں حالات کو بہتری کی جانب گامژن کرے، یا پھر کرپٹ (زیادہ تر) حاکم آئے اور حالات کو بد تر کردے اور لوگ اس کے مرنے کے انتظار کے سوا کچھ نہ کر سکیں، اس صورتِ حال نے اسلامی فقہ کی توجہ ایسے مسائل کی طرف موِڑ دی جن سے حکومتِ وقت کو کوئی خطرہ یا پریشانی درپیش نہ ہو، جیسے عقائد کے مسائل، حاکم کی مخالفت کے مسائل، داڑھی کے مسائل وغیرہ وغیرہ۔

اسلام کے آغاز کے دور میں ایسی صورتِ حال اسلامی خلافت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ثابت نہیں ہوئی، اسلامی خلافت ایک عالمی طاقت تھی اور اسے چیلنج کرنے والا کوئی نہ تھا، خلفاء مضبوط اقتصاد اور دولت کی فراوانی کے سبب سائنس دانوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے کیونکہ اس سے ان کے تخت وتاج کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔

مگر یہ صورتِ حال زیادہ طویل عرصہ تک قائم نہیں رہ سکی، پانچ صدیاں قبل یورپ نے جاگنا شروع کردیا، سائنس دان کلیسا کی قید سے آزاد ہوگئے، تاجروں نے جاگیردارانہ نظام کا قلع قمع کردیا اور یورپ کی سیاست پر قابض ہوکر جاگیردار طبقے کی بجائے تاجر طبقے کے مفادات کا تحفظ شروع کردیا، نئی دنیا کی نعمتوں کا رخ یورپ کی طرف مڑ گیا، سیاسی، ثقافتی اور معاشرتی بیداری کی وجہ سے یورپیوں اور مسلمانوں کے درمیان تہذیبی خلاء بڑھنا شروع ہوگیا حتی کہ یہ صورتِ حال بالآخر دو صدیاں قبل تصادم پر منتج ہوئی۔

مسلسل دو صدیوں سے مغرب تیسری دنیا بشمول مسلمانوں کی تقدیر کا کرتا دھرتا بنا بیٹھا ہے جس میں عسکری، اقتصادی اور سیاسی استعمار کی تمام صورتیں شامل ہیں، سب سے خطرناک صورتِ حال ‘‘ تہذیبی شکست’’ ہے، اس تہذیبی شکست کے سبب مسلمانوں کا خود پر سے بھروسہ اٹھ گیا اور وہ شدید احساسِ کمتری کا شکار ہوکر اپنے اسلامی ورثے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے اور مغرب سے آئی ہر چیز کو مثالی اور قابلِ اتباع سمجھنے لگے یہاں تک کہ کچھ لوگوں کو یہ تک لگنے لگا کہ اہلِ مغرب ہم سے جینیاتی طور پر برتر ہیں چنانچہ ہم کبھی بھی کسی بھی میدان میں ان کی برابری نہیں کر پائیں گے۔

مسلمانوں کے مسائل کا خلاصہ دو بنیادی نکات میں کیا جاسکتا ہے:

مغرب کا اسلامی ممالک اور اقتدار پر تسلط: سارے مسلمان جانتے ہیں کہ ان کا اگلا حاکم مغرب کے آشرواد سے ہی آئے گا، یا کم از کم انہیں اعتراض نہیں ہوگا، اس کے علاوہ اقتصاد اور ثقافت پر ان کا تسلط اور روز مرہ زندگی کے معاملات میں مغرب سے درآمد شدہ اشیاء پر مسلمانوں کا انحصار، مزید برآں وہ مغرب کے سامنے نفسیاتی طور پر شکست خوردہ ہیں جس سے صورتِ حال اور بھی خراب ہوجاتی ہے۔

اسلامی فقہ کا مسئلہ: ابھی تک اقتدار کے مسئلے کا کوئی اسلامی حل موجود نہیں ہے، نظامِ حکومت کیسا ہونا چاہیے؟ حاکم کیسے تبدیل ہوگا؟ کیا اقتدار کی وراثت جائز ہے؟ حاکم کی مخالفت کب گناہ ہے اور کب واجب ہے؟ وغیرہ۔۔ یہ اور ایسے کئی سوالات ہیں جن کا اسلامی فقہ کے اندر کوئی جواب نہیں ہے کیونکہ چودہ صدیوں تک ان مسائل پر بات کرنا ہی منع تھا لہذا اب اسلامی فقہ یہ مسائل حل کرنے پر قادر نہیں ہے۔
تو کیا سیاسی اسلام ایک حل ہوسکتا ہے؟

ایسی صورتِ حال میں جہاں مسلمان ممالک مغرب کے زیرِ تسلط ہیں اسلام پسندوں کا اقتدار تک پہنچ پانا ممکن نہیں، لیکن اگر کسی استثنائی صورتِ حال میں وہ اقتدار تک پہنچ گئے تو؟ ایسی عالمی صورتِ حال میں وہ اتنے عرصہ تک بر سرِ اقتدار نہیں رہ سکیں گے کہ اپنے اسلامی ایجنڈے کو پایہء تکمیل تک پہنچا سکیں، لیکن اگر وہ اس میں بھی کامیاب ہوگئے تو؟ کیا اسلامی ایجنڈا لوگوں کے مسائل حل کر سکے گا؟

جی ہاں، اسلام پسند کرپشن کا مسئلہ حل کرسکتے ہیں جیسا کہ دوسرے بھی اسے حل کر سکتے ہیں، شاید وہ تعلیم کا مسئلہ بھی حل کر لیں جیسا کہ دوسرے بھی یہ کام کر سکتے ہیں۔۔ الغرض کہ وہ سارے مسائل حل کر سکتے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح کوئی دوسرا بھی انہیں حل کر سکتا ہے، تاہم ایسے مسائل کے بیشتر حل قرآن اور سنت سے نہیں آئیں گے بلکہ یہ عین عقلی اور منطقی حل ہوں گے جس کے لیے ضرورت صرف مناسب لوگوں کو مناسب جگہوں پر تعینات کرنے کی ہے، مثلاً تعلیم کے مسئلے کا حل اساتذہ کی تنخواہوں اور تعلیم کے لیے مختص بجٹ میں اضافے اور نصاب کی تجدید کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔۔ اس سب کا قرآن اور سنت سے کیا تعلق ہے؟ یہ خالصتاً انتظامی مسائل ہیں جنہیں کوئی بھی مناسب ماہرِ تعلیم اور مناسب انتظامیہ حل کر سکتی ہے چاہے یہ مسلمان ہوں یا ہندو، ضرورت صرف اخلاص کی ہے۔

کیا معاشرتی اسلام حل ہے؟

کیا اگر تمام مسلمان تقوی اور پرہیز گاری اختیار کر لیں تو امت کی حالت بہتر ہوسکتی ہے؟ اگر سارے مسلمان تقوی اور پرہیز گاری اختیار کر لیں تو وہ جنت میں تو جاسکتے ہیں لیکن اس سے مغرب کے تسلط سے آزادی ممکن نہیں، اگر مسلمان جہاد کا راستہ بھی اپنائیں تو بھی وہ ترقی یافتہ مغرب کے اعلی اور جدید ترین ہتھاروں کے آگے نہیں ٹک پائیں گے اور ان کا صفایا کردیا جائے گا، اس سے اقتدار کا مسئلہ بھی حل نہیں ہوگا جب تک کہ اسلامی فقہ اس مسئلے کا کوئی حل نہ ڈھونڈ لے، معاشی، علمی اور تعلیمی تنزلی اور بیروزگاری جیسے مسائل بھی تقوی سے حل کرنا ممکن نہیں۔

اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان حالات میں کیا مسلمان متقی بن سکتے ہیں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ تہذیبی اور نفسیاتی شکست کے باوجود تقوی اختیار کیا جائے؟ کیا دنیا کی غریب ترین اور پسماندہ ترین قوم متقی بن سکتی ہے؟ کیا ایسے میں مسلمان متقی بن سکتے ہیں جبکہ وہ کرپٹ حکومتوں کے محکوم ہیں جنہیں دین کی ذرا بھی پرواہ نہیں بلکہ جب بھی مزاحمت کی کوئی صورت بنتی ہے الٹا یہ حکومتیں دین کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہیں؟

شاید اسلام مسلمانوں کے کچھ مسائل حل کر سکتا ہو مگر بنیادی طور پر اسلام سیاست کے مسائل حل کرنے کے لیے نہیں آیا، اسلام سیاست کی کوئی خدمت نہیں کرتا بلکہ سیاست مسلمانوں کی خدمت کرتی ہے، اسلام انسان کے اخلاقی مسائل حل کرنے کے لیے نازل ہوا ہے جسے شاید سیاست حل نہیں کر سکتی یا اس کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔

اسلام کو سنجیدہ مسائل کا سامنا ہے، سیاسی حقائق اور اس سے متعلقہ معاشی وعلمی صورتِ حال سے اسلام کو شدید خطرات لاحق ہیں اور یہ ممکن ہی نہیں کہ اس صورتِ حال کے تناظر میں مسلمان ایک مثالی مسلمان بن سکیں۔

اسلام کو ہی حل کی ضرورت ہے، ضرورت ہے کہ مسلمان اٹھیں اور حقیقتِ حال کو سمجھتے ہوئے اپنی تقدیر کے فیصلے اپنے ہاتھوں میں لیں، ضرورت ہے کہ اسلامی فقہ مسائلِِ حُکم کے حوالے سے اپنی خاموشی توڑے اور کوئی قابلِ قبول منطقی حل پیش کرے۔۔ ورنہ شاید یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ: تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam--ناستک-درانی/is-islam-a-solution-or-is-it-in-need-of-one?--اسلام-حل-ہے-یا-اسلام-کو-حل-کی-ضرورت-ہے؟/d/10969

 

Loading..

Loading..