New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 05:55 AM

Urdu Section ( 17 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Is Al-Quds Really Quibla Awwal? کیا القدس واقعی قبلہ اول ہے؟

 

ناستک درانی،  نیو ایج اسلام

19اگست، 2013

 آغاز میں یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ فلسطین اور قدس دونوں کا قرآنِ مجید میں ذکر نہیں ہے بلکہ صرف بیت المقدس کا آیا ہے وہ بھی صراحتاً نہیں ہے بلکہ تفاسیر وتاریخ کی کتابوں میں نماز کے لیے قبلہ بدلنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کے واقعہ کے سیاق میں آیا ہے، تو کیا واقعی القدس قبلہ اول ہے؟

آج کے دور کی عرب اور اسلامی تحریروں میں یہ قول بہت رائج ہے کہ قدس قبلہ اول تھا یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اولین مسلمانوں نے اسلام کے ظہور کے ابتدائی دور میں اپنی نمازیں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے ادا کیں تو کیا واقعی ایسا ہی تھا؟

ان سوالوں کے جوابات کے لیے آئیے دیکھتے ہیں کہ سلف نے اس مسئلہ پر کیا کچھ نقل کیا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کیا کرتے تھے (صحیح مسلم جلد 1 صفحہ 375، سنن ابی داود جلد 1 صفحہ 340، مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 325) اور طبری کی روایت میں ہجرت سے پہلے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے وہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھا کرتے تھے، ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کی طرف سولہ ماہ تک منہ کر کے نماز ادا کی (تفسیر الطبری جلد 1 صفحہ 548، تاریخ الطبری جلد 2 صفحہ 18 اور دیکھیے سیوطی کی الدر المنثور جلد 1 صفحہ 343 اور الصالحی الشامی کی سبل الہدی والرشاد صفحہ 370) یعنی بیت المقدس ان روایات کے مطابق رسول اللہ اور مسلمانوں کا اولین قبلہ تھا۔

تاہم اگر ہم اپنی تلاش جاری رکھیں تو معلوم پڑے گا کہ اس نقطہ پر اجماع نہیں ہے، بلکہ پہلے قبلہ کے معاملہ پر دو رائے پائی جاتی ہیں، بہت سوں کے خیال میں پہلا قبلہ کعبہ تھا اور رسول اللہ مکہ میں کعبہ کی طرف نماز پڑھا کرتے تھے اور ہجرت کے بعد بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا (زمخشری کی الکشاف جلد 1 صفحہ 100، تفسیر البیضاوی جلد 1 صفحہ 416، تفسیر النیسابوری جلد 1 صفحہ 355، شوکانی کی فتح القدیر جلد 1 صفحہ 234) قرطبی اس اختلاف کا خلاصہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس بات پر اختلاف ہے کہ جب مکہ میں ان پر پہلی بار نماز فرض کی گئی تو کیا وہ بیت المقدس کی طرف تھی یا مکہ کی طرف، اور اس پر دو قول ہیں، ایک گروہ کہتا ہے کہ بیت المقدس کی طرف اور مدینہ میں سترہ مہینہ پھر اس کے بعد اللہ تعالی نے انہیں کعبہ کی طرف پھیر دیا، ابن عباس اور دیگر نے کہا: سب سے پہلے ان پر نماز کعبہ کی طرف فرض کی گئی اور مکہ کے پورے دور میں وہ اسی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے اور جب مدینہ آئے تو بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی پھر اللہ نے انہیں کعبہ کی طرف پھیر دیا، ابو عمر نے کہا کہ: میرے ہاں یہ دونوں قول درست ترین ہیں (تفسیر القرطبی جلد 2 صفحہ 150) دوسرے لفظوں میں کچھ لوگ اس قول کو ترجیح دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کعبہ ہی پہلا قبلہ تھا نا کہ بیت المقدس، ابن عباس کی روایت سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ شروع میں نماز کعبہ کی طرف تھی پھر بیت المقدس کی طرف ہوگئی اور پھر دوبارہ سے اسے کعبہ کی طرف کردیا گیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی تیاری کی تو بیت المقدس کی طرف منہ کیا اور بیتِ عتیق (کعبہ) کو چھوڑ دیا، پھر اللہ نے انہیں بیتِ عتیق کی طرف پھیر دیا اور اسے (بیت المقدس کو) منسوخ کردیا (تفسیر ابن کثیر جلد 1 صفحہ 218) یعنی سب سے پہلے نماز بیتِ عتیق کی طرف منہ کر کے ادا کی گئی، پھر اسے چھوڑ کر بیت المقدس کی طرف نماز ادا کی جانے لگی اور پھر دوبارہ بیتِ عتیق کی طرف رخ پھیر دیا گیا، بلکہ بعض مفسرین تو کعبہ کو صراحتاً اقدم القبلتین یعنی دونوں قبلوں میں سے سب سے پرانا لکھا ہے (تفسیر البیضاوی جلد 1 صفحہ 420، تفسیر ابن عجیبۃ جلد 1 صفحہ 115)۔

چنانچہ اوپر سلف کی منقولات سے جو کچھ نقل کیا گیا ہے اس کی رو سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ بیت المقدس کے قبلہ اول ہونے پر کوئی اجماع نہیں پایا جاتا اگرچہ فی زمانہ یہ قول بڑا رائج ہے یا سادہ لوح مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کے لیے رائج کردیا گیا ہے۔

اور جس طرح قبلہ اول کے معاملہ پر کوئی اجماع نہیں ہے اسی طرح اس بات پر بھی کوئی اجماع نہیں ہے کہ بیت المقدس کا انتخاب اللہ کا حکم تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا انتخاب تھا، کچھ لوگوں کے نزدیک بیت المقدس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا انتخاب تھا جیسا کہ طبری ذکر فرماتے ہیں: ربیع نے کہا کہ ابو العالیہ نے کہا: اللہ کے نبی کو یہ انتخاب دیا گیا تھا کہ وہ جس طرف چاہیں رخ کر لیں تو انہوں نے بیت المقدس کا انتخاب کیا (تفسیر الطبری جلد 2 صفحہ 3) تاہم بیک وقت کچھ دیگر روایات بھی ہیں جو کہتی ہیں کہ بیت المقدس کی طرف رخ خدائی حکم تھا جیسا کہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ ہجرت کر گئے تو اللہ تعالی نے انہیں بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا (تفسیر ابن کثیر جلد 1 صفحہ 458، سیوطی کی الدر المنثور جلد 1 صفحہ 343، سیوطی کی ہی لُباب النقول فی اسباب النزول جلد 1 صفحہ 16) اس مسئلہ نے ایک نا ختم ہونے والی طویل بحث کو جنم دیا کیونکہ اس کا تعلق عقائد سے تھا تاہم یہاں اس بحث میں پڑنا بے محل ہے۔

اور صرف یہی نہیں، اگر معاملہ کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نماز کا رخ عام طور پر بیت المقدس کی طرف نہیں تھا بلکہ در حقیقت ایک خاص نقطہ کی طرف تھا اور یہ نقطہ صخرہ ہے (مسجدِ اقصی کے گنبد کے نیچے موجود ایک چٹان) جیسا کہ طبری بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کے صخرہ کی طرف رخ کیا کرتے تھے (تفسیر الطبری جلد 2 صفحہ 3، سیوطی کی الدر المنثور جلد 1 صفحہ 343، اور دیکھیے ثعلبی کی الکشف والبیان جلد 1 صفحہ 259) ایک اور روایت یوں ہے: کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کیا کرتے تھے پھر انہیں ہجرت کے بعد بیت المقدس کے صخرہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے کا حکم دیا گیا (زمخشری کی الکشاف جلد 1 صفحہ 100، تفسیر البیضاوی جلد 1 صفحہ 416، تفسیر النیسابوری جلد 1 صفحہ 355، اور شوکانی کی فتح القدیر جلد 1 صفحہ 234) آسان لفظوں میں نماز کا رخ بیت المقدس میں موجود ایک خاص نقطہ کی طرف تھا اور وہ نقطہ تھا صخرہ۔

کچھ بھی ہو اس بات میں شک نہیں کہ اسلامی ادبیات میں اس بات پر اجماع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ ہجرت کے بعد قبلہ سولہ یا سترہ ماہ بعد کعبہ کی طرف بدل دیا گیا، اور اسلامی روایات کے مطابق یہ تبدیلی اسلام کے ابتدائی دور کے احکامات کی منسوخی تھی اور یہ اسلام میں وقوع پذیر ہونے والی پہلی منسوخیت (یا نسخ) تھی (سیرۃ ابن کثیر جلد 2 صفحہ 372، تفسیر ابن کثیر جلد 1 صفحہ 218) اور ایک اور روایت کے مطابق قرآن میں سب سے پہلے قبلہ منسوخ کیا گیا (تفسیر الطبری جلد 2 صفحہ 3، سیوطی کی الدر المنثور جلد 1 صفحہ 343، الصالحی الشامی کی سبل الہدی والرشاد صفحہ 370)۔

قبلہ کا رخ کچھ بھی ہو، مذکورہ بالا روایات کے تناظر میں کم سے کم یہ بات تو ضرور واضح ہوجاتی ہے کہ یہ ساری روایات ایک دوسرے سے متصادم ہیں اور وہ بھی ایک ایسے مسئلہ پر جو کہ انتہائی بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور نماز کے رخ کا تعین کرتا ہے۔

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam-ناستک-درانی/is-al-quds-really-quibla-awwal?-کیا-القدس-واقعی-قبلہ-اول-ہے؟/d/13080 

 

Loading..

Loading..