New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 11:32 AM

Urdu Section ( 24 Jul 2013, NewAgeIslam.Com)

How to Face Terrorism- Part-2 دہشت گردی کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ قسط ۔ دوم

 

ناستک درانی، نیو ایج اسلام

25 جولائی، 2013

الجزائر، مصر، عراق، لبنان، تیونس، سعودی عرب، یمن، کینیا، انڈونیشیا، پاکستان، افغانستان، سپین، امریکہ، برطانیہ، انڈیا۔۔ ان سارے ممالک میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں بے قصور انسانوں کا قتل عام کیا گیا اور مختلف قومیتوں اور مذاہب کے ماننے والے لاکھوں انسان اس دہشت گردی کا شکار ہوئے، مزید برآں ان ممالک نے کروڑوں ڈالر کا نقصان بھی برداشت کیا جو دوسری صورت میں انسانی فلاح وبہبود کے لیے وقف کی جاسکتی تھی، ان ساری دہشت گردانہ کاروائیوں پر عمل درآمد اور پلاننگ انتہا پسند سیاسی اسلامی تنظیموں نے کی، ان کاروائیوں کو عملی جامہ پہنانے والے بھی مسلمان تھے، چاہے یہ مجرمانہ کاروائیاں کرتے ہوئے مارے گئے ہوں، یا پکڑے گئے ہوں یا کاروائی کرتے ہوئے پولیس کے ہاتھوں مارے گئے ہوں، ان دہشت گردانہ کاروائیوں کو انجام تک پہنچانے والے صرف مسلمان مرد ہی نہیں تھے، بلکہ ان میں عورتیں، بچے، پاگل ونیم پاگل اور کچھ ایسے بھی جو یہ کاروائیاں کرتے وقت نشہ کی حالت میں تھے، مگر یہ سب مسلمان تھے، اس سے قطع نظر کہ اسلام کے بارے میں ان کی جانکاری کتنی تھی، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایسے مجرموں کے لیے اسلام ہمیشہ سے ایک پناہ گاہ کی حیثیت رہا ہے اور اب بھی ہے، القاعدہ اور اس کی ذیلی تنظیمیں انسانوں کے جملہ قتلِ عام میں ملوث ہیں، اسامہ بن لادن کے نائب ایمن الظواہری کے فتاوی مسلمانوں کو اس قتلِ عام کا جواز فراہم کرتے ہیں، یہ فتاوی ایمن الظواہری کی ‘‘التبرئۃ’’ نامی کتاب میں بیان کیے گئے ہیں کہ کسے مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہونا چاہیے، اس کی تفصیل العربیۃ چینل کے پروگرام ‘‘صناعۃ الموت’’ میں دی گئی تھی جو 2/12/2008 کو نشر کیا گیا تھا، ذیل کی تحریر اسی پروگرام سے اخذ کی گئی ہے:

‘‘ایمن الظواہری نے قتلِ عام کو جواز دینے کے لیے تنظیم کے لیے دس قاعدے تشکیل دیے اور اپنی کاروائیوں میں حائل تمام شرعی رکاوٹیں دور کیں، ان دس قاعدوں کی تفصیل ایمن الظواہری نے 2008 میں اپنی برقی کتاب (ای بُک) التبرئۃ میں بیان کی ہیں، یہ دس قاعدے جو القاعدہ تنظیم کے اندر باقاعدہ سے عملی طور پر لاگو ہیں ان میں: بعید دشمن سے لڑائی قریب دشمن سے زیادہ اہم ہے، اس کی مثال 9/11 کا حملہ ہے، شہریت کی بنیاد پر قتل اور تکفیر کیونکہ یہ کافر ممالک کی طرف وفاداری اور فرماں برداری کا ثبوت ہے یہی وجہ ہے کہ عام لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کافروں کو ٹیکس ادا کرنے والوں کے قتل کی اجازت کیونکہ وہ اپنے مال سے اسلام کے خلاف جنگ کرتے ہیں لہذا اس سے بھی مغربی ممالک کے شہریوں کے قتل کا جواز ملتا ہے جیسے جولائی 2005 کے لندن حملے یا مارچ 2004 میں میڈریڈ کے ریلوے حملے، کافروں سے گھلنے ملنے والے مسلمان بھی واجب القتل ہیں سعودی عرب کے بعض شہروں پر حملوں کی یہی وجہ تھی، امریکہ سے جنگ دفاع کے لیے ہے لہذا جنگ کے لیے باپ کی اجازت لیے بغیر امریکہ کا سفر جائز ہے، 9/11 کے حملوں میں شریک حملہ آور اسی فتوے پر عمل کر رہے تھے، مسلمان جو کافروں کے ملک میں داخل ہونے کے لیے ویزا حاصل کرتے ہیں وہ امن کا معاہدہ نہیں ہے لہذا مسلمان کے لیے جائز ہے کہ وہ انہیں قتل کرے، اور اگر یہ ویزا معاہدہ امن ہے تو اس معاہدے کو توڑنا جائز ہے، سیاحوں کا بھی مسلمان ممالک میں داخلے کے لیے ویزے کا حصول بھی ان کے لیے کوئی امن کی دستاویز نہیں ہے، لہذا انہیں اغوا یا قتل کرنا جائز ہے، اس کی مثال مصر کی جزیرہ سیناء پر قاعدہ کے حملے تھے۔’’

اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ القاعدہ اور اس جیسی دیگر تنظیموں کا سیاسی لائحہ عمل کس قدر گھناؤنا، خطرناک اور انسانیت سوز ہے۔

اسلامی دنیا کی حالتِ زار کافی پیچیدہ ہے، ہمیں یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ اسلامی دنیا ایک مریض دنیا ہے اور کئی سیاسی، معاشرتی اور مذہبی بیماریوں کا شکار ہے جن کا علاج از حد ضروری ہے، ان بیماریوں میں سب سے نمایاں بیماری اسلامی ممالک میں قائم حکومتوں کی نیچر ہے، آزادی اور جمہوریت کے تئیں ان ممالک کی سیاست، آئینی اداروں کا فقدان اور ان کا معاشرے کے ساتھ منفی تعلق، یہ خرابی اسلامی معاشروں میں فکری، سیاسی، معاشرتی اور ثقافتی پسماندگی کا سبب بنتی ہے، یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ زیادہ تر مذہبی ادارے بنیاد اور قدامت پرست ہیں اور ہر طرح کی تبدیلی سے انکاری ہیں اور اسلامی معاشروں کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیلنے پر مُصر ہیں، دیگر سیاسی پارٹیوں کی نیچر بھی حکومتی نیچر سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے جو مایوس کن بات ہے۔

کوئی بھی ایسا تیار نسخہ نہیں ہے جس پر عمل کر کے اسلامی دنیا سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کی فوری روک تھام کی جاسکے تاہم ہم سب کے کاندھوں پر ان قوتوں کو ناکام بنانے اور انہیں لوگوں سے الگ تھلگ کرنے کے حوالے سے غور وفکر کی ذمہ داری ضرور بنتی ہے۔

جدید اسلامی دہشت گردی کی عمر کوئی چوتھائی صدی ہے، یہ سوویت یونین کی افغانستان پر قبضے سے شروع ہوتی ہے جس میں امریکہ، پاکستان اور سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ریاستیں پوری طرح ملوث تھیں، ایران میں خمینی کا انقلاب اس دہشت گردی کو تقویت بخشتا ہے، 9/11 کے واقعے کے ساتھ یہ دہشت گردی عالمی برداری کو برآمد کردی گئی اور اب یہ دہشت گردی کوئی مقامی یا علاقائی مظہر نہیں رہی بلکہ ایک بین الاقوامی مسئلہ بن چکی ہے لہذا یہ ضروری ہے کہ اس دہشت گردی کا مقابلہ مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ہر طرح سے کیا جائے۔

جارج ڈبلیو بُش کی سیاست نے اس حوالے سے منفی کردار ادا کیا اور فکری، معاشرتی اور سیاسی حوالوں سے معاملات کو مزید پیچیدہ کیا کیونکہ زیادہ زور عسکری طاقت کے استعمال پر دیا گیا جس سے ادھر ادھر کچھ تھوڑی بہت کامیابیاں تو ضرور ملیں مگر مجموعی طور پر یہ پالیسی ایک ناکام پالیسی تھی، اوباما کے دور میں بھی بنیادی طور پر عسکری پالیسی کو ہی پروان چڑھایا گیا اگرچہ اوباما کو زیادہ محاذ کھولنے کا موقع نہیں ملا اور ان کے دور میں بھی اسلامی دہشت گردی کے خلاف فکری، سیاسی اور معاشرتی محاذوں کو نظر انداز کیا گیا، اس ضمن میں کچھ تجاویز درج ذیل ہیں:

1- کسی بھی صورت میں کوئی بھی ملک جسے دہشت گردی کا سامنا ہو وہ اکیلے اس سے نہیں نمٹ سکتا کیونکہ یہ دہشت گرد بہت زیادہ منظم ہوگئے ہیں، اس کے لیے عالمی تعاون ضروری ہے جس کی نگرانی اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کرے ایک ایسے پروگرام کے تحت جس پر اکثریتی اتفاق رائے پایا جاتا ہو، اس پروگرام میں ان پانچ پہلوؤں کو مد نظرِ رکھنا چاہیے:

1.1- دہشت گردی کی ذمہ دار قوتوں کی فکر کا مقابلہ کرنے کے لیے فکری اور سیاسی کام کیا جائے، اس کے تحت مختلف ممالک کے سرکاری اور دینی مدارس کے نصاب پر نظر رکھی جائے، ممالک کے درمیان لٹکے ہوئے مسائل کا حل نکالا جائے جو مختلف خطوں میں فساد کی وجہ بنتے ہیں جیسے فلسطین اور کشمیر وغیرہ، ان ممالک کو بھی گھیرے میں لیا جائے جن کی سیاست غیر جمہوری بنیادوں پر استوار ہے اور جو معاشرے کے افراد اور انسانی حقوق کا احترام نہیں کرتے، ایسے ممالک کی پالیسیوں کی تبدیلی کے لیے ان پر دباؤ ڈالا جائے۔

1.2- ثقافتی شعور اجاگر کرنے کے لیے رسائل، جرائد، کتابچے، ڈاکومینٹریاں اور فلمیں بنائی جائیں اور ان کی ان ممالک میں دستیابی آسان بنائی جائے جو فکری پسماندگی اور غربت کا شکار ہیں تاکہ بین الاقوامی دہشت گردی کی ذمہ دار قوتوں کے فکری پس منظر کو بے نقاب کیا جاسکے۔

1.3- ترقی پذیر ممالک میں غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے اقتصادی امداد وضع کی جائے اور ان ممالک کی ایسی پالیسیوں کی تبدیلی پر زور دیا جائے جو غربت کا سبب بنتے ہیں خاص کر کرپشن کا خاتمہ۔

1.4- دہشت گردی کے خاتمے اور برداشت کے رویوں کو فروغ دینے والے مقامی اداروں کی مدد کی جائے، ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلے اور کھیلوں کو فروغ دیا جائے تاکہ مختلف قومیں ایک دوسرے کو بہتر طور پر جان اور سمجھ سکیں، خواتین کے حقوق کے لیے کام کیا جائے جو زیادہ تر اسلامی ممالک میں پسی ہوئی ہے۔

1.5- دہشت گردی کا سامنا کرنے کے لیے عسکری قوت کا استعمال جو احتیاطی تدبیر کے طور پر آخری آپشن ہو، اس ضمن میں متعلقہ ممالک کا معلومات کے تبادلے کے حوالے سے آپس میں تعاون بڑھایا جائے، اس کے لیے ایک مرکزی ادارہ بھی تشکیل دیا جاسکتا ہے جہاں ساری معلومات جمع کی جائیں۔

2- متعلقہ ممالک کو ان تمام شعبوں میں مدد فراہم کی جائے، ممالک پر جمہوری اور شہری آزادیاں بڑھانے پر زور دیا جائے اور انکار کرنے والے ممالک کو عالمی برادری سے الگ کردیا جائے کیونکہ ظالمانہ پالیسیاں اور حکومتی مظالم خانہ جنگیوں اور نقل مکانی کا سبب بنتے ہیں اور احساسِ محرومی میں اضافہ کرتے ہیں جس سے نہ صرف اس ملک کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ مجموعی طور پر ساری دنیا اس سے متاثر ہوتی ہے۔

3- مذہب کو ریاست سے الگ کر کے ‘‘دین اللہ کے لیے اور وطن سب کے لیے’’ کے اصول کو اپنانے سے ممالک مذہب کی بنیاد پر شہریوں میں تفریق نہیں کریں گے بلکہ مرد وزن کے درمیان شہریت، آزادی اور مساوات کو بنیاد بنائیں گے۔

4- ایسے ممالک جہاں بہت ساری قومیں ایک ساتھ رہتی ہوں وہاں پر نسلی بنیادوں پر تفریق کی حوصلہ شکنی کی جائے اور انہیں قومی حقوق کی پالیسی اپنانے پر مجبور کیا جائے۔

5- دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قوموں کو اعتماد میں لیا جائے اور انہیں اس کام میں شریک کیا جائے کیونکہ اس کے بغیر کسی بھی طرح کے مثبت نتائج کا حصول مشکل ہوجائے گا، اس کے لیے حکومتوں اور عوام کے درمیان حائل خلاء کو کم کرنا بے حد ضروری ہے۔

URL for Part-1:

http://www.newageislam.com/urdu-section/the-causes-of-rise-in-muslim-terrorism-part-1-مسلمانوں-میں-دہشت-گردی-کے-ظہور-کے-اسباب۔-قسط۔-اوّل/d/12699

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam--ناستک-درانی/how-to-face-terrorism--part-2--دہشت-گردی-کا-مقابلہ-کیسے-کیا-جائے؟قسط-۔-دوم/d/12743

 

Loading..

Loading..