New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 12:58 PM

Urdu Section ( 19 Nov 2013, NewAgeIslam.Com)

History of Namaz in Islam- Part 2 (اسلام میں نماز کی تاریخ - نماز (2

 

ناستک درانی، نیو ایج اسلام

20نومبر، 2013

قرآنِ مجید میں اہلِ مکہ کے ہاں نماز کی موجودگی کا اشارہ موجود ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِندَ الْبَيْتِ إِلَّا مُكَاءً وَتَصْدِيَةً (ترجمہ: اور ان لوگوں کی نماز خانہ کعبہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی – الانفال 35)، مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ قریش عریاں حالت میں کعبے کا طواف سیٹیاں اور تالیاں بجا کر کیا کرتے تھے، صلاتہم کا مطلب ان کی دعاء ہے، یعنی دعاء اور تسبیح کی جگہ وہ سیٹیاں اور تالیاں بجایا کرتے تھے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی نا ہی کوئی صلاۃ ہے اور نا ہی کوئی عبادت، بلکہ ان سے جو حاصل ہوتا ہے وہ ما سوائے لہو ولعب کے کچھ نہیں ہے 1، یہ بھی کہا گیا ہے جس صلاۃ کے وہ دعوے دار ہیں کہ اس سے ان کی بخشش ہوجائے گی ما سوائے سیٹیوں اور تالیوں کے کچھ نہیں ہے، یہ چیز اللہ کو راضی نہیں کر سکتی، نا ہی اللہ کو پسند ہے اور نا ہی ان پر فرض کی گئی ہے اور نا ہی انہیں اس کا حکم دیا گیا ہے 2، یہ بھی کہا گیا ہے کہ: ”اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ان مشرکین کے لیے کون سی وجہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ دے جبکہ وہ مسجدِ حرام میں انہیں نماز پڑھنے سے روکتے ہیں جو اللہ کے لیے اس میں نماز پڑھتے اور عبادت کرتے ہیں اور یہ اللہ کے دوست کبھی نہ تھے بلکہ اللہ کے دوست وہ لوگ تھے جنہیں یہ لوگ مسجدِ حرام سے روکتے تھے اور وہ ان لوگوں کی وجہ سے مسجدِ حرام میں نماز نہیں پڑھ پاتے تھے، اور اللہ کے گھر کے پاس ان کی نماز سوائے تالیوں اور سیٹیوں کے سوا کچھ نہ تھی“ ”اور تصدیۃ تالیاں بجانا ہے“ 3۔

بعض راویوں نے اس آیت کے نزول کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طواف میں یا گھر میں ان کی نماز کی مخالفت کرتے اور ان کا مذاق اڑایا کرتے اور سیٹیاں اور تالیاں بجایا کرتے تھے چنانچہ یہ آیت ان پر نازل ہوئی، اور کہا گیا ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مسجدِ حرام میں نماز پڑھتے تو بنی عبد الدار کے دو آدمی ان کے دائیں طرف کھڑے ہوکر سیٹیاں بجاتے اور دو آدمی ان کے بائیں طرف کھڑے ہوکر اپنے ہاتھوں سے تالیاں بجاتے اور ان کی نماز کو خلط ملط کرنے کی کوشش کرتے چنانچہ اللہ تعالی نے بدر کے دن ان سب کو قتل کردیا 4۔

ایک روایت میں آیا ہے کہ: ”وہ لوگ کعبہ کا طواف عریاں ہوکر اور ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنسا کر سیٹیاں بجاتے اور تالیاں بجا کر کیا کرتے تھے، اس طرح سیٹیاں اور تالیاں ان کے لیے عبادت کی ایک قسم ہوا کرتی تھی، اسی لیے انہوں نے نماز کی جگہ اپنے عقیدے کے مطابق وضع کی تھی، اس میں مزید یہ بھی ہے کہ جس کی سیٹیاں اور تالیاں نماز ہو اس کی کوئی نماز نہیں“ 5، اور عطیۃ نے ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا فرمایا: وہ کعبہ کا طواف کرتے اور تالیاں بجاتے، اور اپنے ہاتھ سے تالی کو بیان کیا، اور سیٹیاں بجاتے، اور ان کی سیٹی بیان کی، اور اپنے گال زمین پر لگاتے،  تو یہ آیت نازل ہوئی 6، چنانچہ ان کی یہ نماز مخصوص حرکات پر مشتمل ایک خاص نماز ہے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے مطابق اس میں سجدہ بھی ہے۔

یہ کہنا کہ آیت بنی عبد الدار کے مذکورہ لوگوں کی وجہ سے نازل ہوئی آیت سے میل نہیں کھاتی کیونکہ آیت مشرکین کی نماز کی طرف اشارہ کر رہی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرف نہیں، اس کی دلیل لفظ ”صلاتہم“ کا استعمال ہے جو ضمیر جمع ہے اور قریش کی طرف عائد ہوتا ہے، رہے وہ لوگ تو وہ مذاق اڑا رہے تھے نماز نہیں پڑھ رہے تھے، مزید برآں یہ بات کثیر ذرائع سے کتبِ تفاسیر میں نہیں آئی ہے، بلکہ ایسی روایات کی کثرت ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ قریش مکاء اور تصدیۃ کی نماز پڑھا کرتے تھے یعنی سیٹیوں اور تالیوں کی نماز جو لہو ولعب کے سوا کچھ نہیں، اس لیے مذکورہ تفسیر درست معلوم نہیں ہوتی، یعنی آیت کے ظاہری معنی سے مذکورین کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا مذاق اڑانا، یوں ہمارے پاس آیت کا ظاہری معنی اور اس کی تفسیر میں آنے والی بات کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ قریش قبل از آمدِ اسلام نماز پڑھا کرتے تھے مگر ان کی نماز احترام وحشمت کی نماز نہیں تھی بلکہ سیٹیوں وتالیوں اور لہو ولعب  پر مشتمل تھی جو انسان کی طرف سے اپنے خالق کی تعظیم کے طور پر نا زیبا ہے، ایسی نماز نماز کہلانے کے قابل نہیں کیونکہ یہ ادب، حشمت اور وقار سے عاری ہے۔

قریش کی نماز اگر لہو ولعب اور عبث لگتی ہے تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں، بہت سارے مذاہب اپنی نمازیں گانے، موسیقی اور رقص کے ذریعہ ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ خداؤوں کے دلوں میں مسرت ڈال کر انہیں راضی کرتے ہیں چنانچہ ان کی نماز اسی طرز کی ادائیگی میں ہونی چاہیے، آج بھی کچھ مذاہب میں مذہبی رقص نظر آتا ہے لہذا قریش کی نماز اسی طرز کی ایک نماز تھی۔

خبروں میں یہ بھی آیا ہے کہ نماز جاہلیوں کے ہاں معروف تھی، وہ مردے پر اس طرح نماز پڑھتے تھے کہ اس کی قبر پر کھڑے ہوکر اس کے اعمال اور اچھائیوں کا ذکر کرتے اور اس پر دکھ کر اظہار کرتے، اس عمل کو وہ ”صلاۃ“ کہتے تھے، یہ اور اس جیسی دیگر نمازوں کو اسلام نے ”دعوی الجاہلیۃ“ 7 قرار دیا ہے، یہ نماز گویا ان کی ان نمازوں میں سے ایک ہے جو وہ مردے کی قبر پر ادا کرتے تھے، یہ نماز ہی ہے اگرچہ یہ میت کی نماز یا اسلام کی نمازِ جنازہ سے مختلف ہے، اور کون جانتا ہے؟ شاید وہ کوئی اور طرح کی نمازیں بھی پڑھتے ہوں جن کی خبر ہم تک نہ پہنچ سکی ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی ایک اور خبر بھی ہے جو اہلِ سیرت نے ذکر کی ہے، وہ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”دن کے آغاز پر کعبہ کی طرف جاتے اور صلاۃ الضحی پڑھتے، یہ ایسی نماز تھی جس کا قریش انکار نہیں کرتے تھے، وہ یہ نماز سارا دن پڑھتے اور حضرت علی اور حضرت زید رضی اللہ عنہما انہیں بیٹھ کر دیکھتے رہتے“ 8 اگرچہ یہ خبر یہ نہیں بتاتی کہ جاہلیوں کے ہاں ”صلاۃ الضحی“ موجود تھی تاہم یہ ضرور بتاتی ہے کہ قریش کو صلاۃ الضحی کی خبر تھی اسی لیے انہوں نے اس کا انکار نہیں کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نماز پڑھنے دی، تاہم میں یہ کہتا ہوں کہ وہ اس نماز کو جانتے تھے نا کہ پڑھتے تھے کیونکہ میں جلد بازی میں ایک مبہم خبر کی بنیاد پر جسے مزید وضاحت کی ضرورت ہو کوئی قطعی فیصلہ نہیں کر سکتا۔

دعاء جو اسلام میں نماز کے معنوں میں آتی ہے اللہ کی طرف عاجزی اور اس کے خیر میں سے سوال کی رغبت ہے، عبرانی زبان میں اس لفظ کا مقابل ”تحنونیم“ ہے جس کا معنی التجائیں اور دعائیں کرنا ہے! جبکہ رکوع وسجود والی صلاۃ کا مقابل لفظ ”تفیلہ“ Tephillah اور قدیم عبرانی میں ”تفلوت“ ہے جس کا مطلب صلاۃ اور صلوات ہے، تاہم یہ تورات کے آخری زمانوں کے دور میں نماز کو آرامی لفظ ”صلوتہ“ سے بدلنے سے پہلے کی بات ہے 9۔

علمائے مذاہب نے نوٹ کیا ہے کہ قدیم قومیں بشمول بربریوں کے ایسے مذہبی فراض انجام دیا کرتے تھے جن پر لفظ ”صلاۃ“ کا اطلاق کرنا درست ہے 10 کھدائی کرنے والوں کو بعض ایسی قدیم تحریریں ملی ہیں جنہیں آشوری اور بابلی اپنی نمازوں میں پڑھا کرتے تھے 11 قدیم مذاہب کا خیال تھا کہ جب آدمی نماز کو احسن طریقہ سے ادا کرتا ہے، لکھے یا یاد کیے ہوئے ضروری مُتون کو پڑھتا ہے، نماز کے تمام ارکان ادا کرتا ہے اور خداؤوں کے صحیح نام لے کر مناجات کرتا ہے تو خدا نمازی کی طلب بجا لاتے ہیں اور جواب دینے پر لازماً مجبور ہوجاتے ہیں 12، وہ نماز اپنی منفعت اور مطلوب ومقصود کو حاصل کرنے کے لیے پڑھتا ہے۔

انسان سمجھتا تھا کہ اگر اس نے نماز پڑھی اور اپنی نماز میں مقدس کلمات کو دہرایا تو اس کی یہ نماز نہ صرف خبیث روحوں اور بری مخلوقات کو بھگانے کے کام آسکتی ہے بلکہ اس سے تمام بیماریاں اور خباثتیں دور ہوجائیں گی، نہ صرف یہ بلکہ اس کا خیال یہ بھی تھا کہ نمازی اگر نماز کو احسن طریقہ سے ادا کرے تو وہ بُلند روحوں کو اپنے مقاصد کے لیے بھی استعمال کر سکتا ہے، دینِ ”زرتشت“ کی ”یسنا“ میں آیا ہے: ”اپنی اس نماز کے ذریعہ اے مزدا میں تم سے بری روحوں اور خبائث کو بھگانے کی التجاء کرتا ہوں“ 13۔

چنانچہ قدیم انسان نے محض بتوں، خدا یا خداؤوں کی عظمت کے اعتراف میں ہی نمازیں نہیں پڑھیں بلکہ اپنے اندر موجود خود غرضی کے لیے بھی پڑھیں، کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ اس کی یہ نماز اسے فائدہ اور نفع پہنچائے گی اور اسے مال ودولت سے لبریز کردے گی، یہی وجہ تھی کہ جب اس پر کوئی مصیبت نازل ہوتی تو وہ اس کی ادائیگی کثرت سے کرتا تاکہ خدا اس سے راضی ہوجائیں اور اس پر رحمت برساتے ہوئے اس کی مدد کریں اور نمازوں میں طلب کی گئیں اس کی مرادیں بر لائیں۔

زیادہ تر مذاہب میں نمازیں دو طرح کی ہوتی ہیں: فرض نماز جو انسان کو اپنے خالق کے لیے ادا کرنی ہوتی ہے کیونکہ رب نے اسے اس پر فرض کردی ہے، اور ایک غیر مفروضہ نماز جس کی ادائیگی مستحب ہے اور بندہ اس کے چھوڑنے پر زیرِ عتاب نہیں آتا، اسے وہ ادا کرتا ہے جو اپنے رب سے زیادہ قربت حاصل کرنا چاہتا ہو۔

یہود ونصاری نے کچھ ایسی نمازوں کو نظر انداز کیا جو ماضی میں ان کے آباء واجداد ادا کیا کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ ماضی کے مقابلے میں آج ان نمازوں کی تعداد خاصی کم ہوگئی ہے، مزید برآں انہوں نے ان کے اوقاتِ ادائیگی میں بھی تساہل سے کام لیا 14۔

اسلام میں بھی نمازیں دو طرح کی ہیں، پہلی نماز فرض نماز ہے، یہ وہ پانچ فرض نمازیں ہیں جنہیں انسان کو اپنے وقت پر ادا کرنی ہوتی ہیں، اور دوم غیر مفروضہ نماز جو سنت، مستحب اور تطوع میں منقسم ہے 15۔

حوالہ جات:

1- تفسیر الطبری، مجمع البیان فی تفسیر القرآن 540/4 اور اس سے آگے، تفسیر ابن کثیر 306/2۔

2- تفسیر الطبری، جامع البیان فی تفسیر القرآن 157/9 اور اس سے آگے۔

3- تفسیر الطبری 157/9۔

4- تفسیر الطبري 158/9, تفسیر الطبرسی 540/4۔

5- تفسیر النیسابوری 157/91 تفسیر الطبری پر حاشیہ۔

6- واحدی کی اسباب النزول ص 176۔

7- ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری للقسطلانی 406/2۔

8- المقریزی، امتاع الاسماع 17/1، البلاذری، انساب الاشراف 113/1۔

9- Mittwoch, S., 6, Hastings, P., 744.

10- Encyclopedia Britanica, art Prayer.

11- The Religions of the East, P., 14.

12- The Old Persian Religion, 1920, P,. 22.

13- The Old Persian Religion, P., 23.

14- قاموس الکتاب المقدس 13/2 اور اس سے آگے۔

15- احیاء علوم الدین 174/1 قاہرہ 1302۔

URL for Part 1:

http://www.newageislam.com/urdu-section/history-of-namaz-in-islam--part-1-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---نماز-(1/d/14330

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam-ناستک-درانی/history-of-namaz-in-islam--part-2-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---نماز-(2/d/34490

 

Loading..

Loading..