New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 10:33 PM

Urdu Section ( 21 Oct 2013, NewAgeIslam.Com)

Downfall of Islamic World: Summary of a Book اسلامی دنیا کا انحطاط - ایک کتاب کا خلاصہ

 

ناستک درانی،  نیو ایج اسلام

22اکتوبر، 2013

مصری نژاد جرمن افسانہ نگار ومؤرخ ڈاکٹر حامد عبد الصمد کی کتاب سقوط العالم الاسلامی یعنی اسلامی دنیا کا انحطاط نظر سے گزری جس میں انہوں نے اگلے تیس سال میں اسلامی دنیا کو درپیش مسائل کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے، ان کے خیال میں اسلامی دنیا کے انحطاط کی کئی ساری وجوہات ہیں جن میں تیل کے کنؤوں کا خشک ہونا، خشک سالی کی وجہ سے جنگلات وزرعی اراضی میں کمی اور صحرائی اراضی میں اضافہ، فرقہ وارانہ، نسلی ومعاشی تنازعات میں اضافہ جو فی الوقت جاری وساری ہیں، اس کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کی ایک بڑی آبادی کی مغرب کی طرف نقل مکانی خاص کر یورپ۔

مصنف کہتے ہیں کہ اسلام نے انسانیت کو کوئی نئی چیز یا مفید ایجاد نہیں دی، مصنف کو توقع ہے کہ اگلی دو دہائیوں میں اسلامی دنیا انحطاط وپستی کے عروج پر ہوگی اور اس سے اگلی ایک دہائی میں یہ انحطاطی عمل تقریباً مکمل ہوجائے گا، اس حتمی انجام سے اسلامی دنیا کو کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے، اس انحطاط کے اہم اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں کہ اسلامی دنیا میں طاقتور اقتصاد، فعال تعلیمی نظام اور تعمیری فکری تخلیق کا فقدان ہے، مصنف کے خیال میں ان تباہ کن آفتوں کا حتمی نتیجہ انحطاط ہی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اسلامی عمارت کے ڈھانچہ کو پہلے ہی دراڑیں پڑ چکی ہیں اور یہ اپنے انحطاط کے آخری مراحل سے گزر رہا ہے، وہ مزید کہتے ہیں کہ مسلم قوموں نے قرونِ وسطی میں ترقی کی ایک شکل ضرور دیکھی ہے جب ان کا سامنا دوسری تہذیبوں سے ہوا اور وہ ان سے متاثر ہوئے اور اس طرح ایک فکری کشادگی کا ماحول پیدا ہوا اور اس کشادگی کی وجہ سے انہوں نے ان دوسری تہذیبوں کے کارناموں وعلوم سے استفادہ کیا۔۔ آگے چل کر مصنف بغیر کسی تحقیق کے لکھتے ہیں کہ ایک دور میں مسلمانوں نے کچھ عرصہ کے لے یونانی اور عیسائی رومن فکر کے تراجم کیے اور انہیں مغرب تک منتقل کیا تاہم وہ یہ بات بالکل نظر انداز کر گئے کہ یہ تراجم قطعی کوئی اسلامی کارنامہ نہیں تھا بلکہ یہ کارنامہ سریانیوں اور آشوریوں نے کیا تھا جو پہلے علمی وفکری طور پر کافی بلند مقام پر تھے جب اسلامی فتوحات ان کے دروازے پر پہنچیں، اسلام جس نے ان کے کارناموں کو خود سے منسوب کیا وہ انہیں اپنے نقطہء آغاز مکہ ومدینہ وباقی جزیرہ ہائے عرب تک منتقل کرنے تک میں ناکام رہا۔

مصنف کہتے ہیں کہ مسلمان اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ وہ ان تہذیبوں اور ان کی ترقی کہ حصہ نہیں تھے، مسلمان آج بھی یہی کہتے ہیں کہ یونانیوں اور رومنوں کی تہذیب کو مغرب تک منتقل کرنے میں انہی کا ہاتھ ہے مگر مصنف سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر وہ کسی تہذیب کے بانی تھے اور یہ کارنامہ انہوں نے ہی انجام دیا تھا تو وہ اس کی حفاظت کیوں نہ کر سکے اور اس سے فیض یاب کیوں نہ ہوسکے؟

وہ مزید کہتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے کہ آج تہذیبیں ایک دوسرے سے میل جول بڑھاتی ہیں اور ایک دوسرے کو دیتی اور لیتی ہیں اور مستفید ہوتی ہیں سوائے اسلامی تہذیب کے جو اپنے آپ میں ہی بند رہی اور آس پاس کی تہذیبوں کو کافر تہذیبیں کہہ کر ان سے بغض وعناد رکھتی رہی اس کے با وجود مسلمان کافر تہذیبوں کی ہر میدان میں ہوئی ترقی سے فیض یاب ضرور ہوتے ہیں یہ ادراک کیے بغیر کہ جس ٹرین نے کفار کو یہ ترقی دی وہ اب چھوٹ چکی ہے اور اب وہ مغرب اور انسانیت پر ایک بوجھ کے سوا کچھ بھی نہیں۔

مصنف کا خیال ہے کہ اسلام میں اب اصلاح کی کوئی گنجائش نہیں، ان کے خیال میں جب تک قرآن، اس کے مفاہیم وتعلیمات پر تنقید حرام رہے گی کسی بھی طرح کی ترقی ممکن نہیں ہوگی، وہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی قوم جو بے فائدہ و بے مقصد مُتون کی تقدیس کرتی ہو اور اسے ہر زمان ومان کے لیے کارآمد قرار دیتی، خود کو بہترین امت اور دوسروں کو جینے کا حق تک نہ دیتی ہو اس کی اصلاح نہیں کی جاسکتی۔

ڈاکٹر حامد عبد الصمد اپنی کتاب میں مسلمانوں کے لیے کسی جادوئی حل کے قائل نہیں ہیں، ان کی نظر میں جس امت کے دماغ شریعت سے ہٹ کر نہ سوچ سکتے ہوں، اور جو دنیا کو مسلمان اور کافر، دار الاسلام اور دار الحرب میں تقسیم کرتی ہو اس کا علاج کے لیے کوئی جادوئی نسخہ تشکیل نہیں دیا جاسکتا۔وہ مسلم امت کی ترقی کو تب تک نا ممکن خیال کرتے ہیں جب تک وہ خود اپنے مذہب کو روحانیت میں نہیں بدلتے جہاں انسان کا اپنے خالق سے براہ راست رابطہ ہوتا ہے اور کسی انسان، نبی مذہبی وغیر مذہبی ادارے اور مافیا کا اس کے ایمانیات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

مسلم دنیا انحطاط کا شکار ہے، اور متوقعہ طور پر تیل کے کنؤوں کے خشک ہوجانے کے بعد اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب یہ انحطاط اگلی چند دہائیوں میں متوقع ہے، یہی وہ نا خوشگوار پیش گوئی ہے جس کا اعلان ڈاکٹر حامد عبد الصمد اپنی کتاب مسلم دنیا کا انحطاط میں کرتے ہیں۔۔۔۔ اگر اسلامی دنیا نقشہ سے غائب ہوجائے تو دنیا کو کیا نقصان ہوگا؟ ڈاکٹر حامد عبد الصمد کہتے ہیں کہ تقریباً کچھ نہیں۔۔۔ ان کے خیال میں مسلمان ماضی کی طرف دیکھ رہے ہیں اور دورِ حاضر کے مشکل سوالات کے جوابات دینے کے اہل نہیں ہیں، نا ہی ان میں مستقبل کے مشکل سوالات وضع کرنی کی اہلیت ہے، اسی نا اہلی کی وجہ سے وہ ماضی سے چمٹے رہتے ہیں۔

جرمنی سے 2010 میں جب یہ کتاب شائع ہوئی تھی تو اس پر کافی لے دے ہوئی تھی، کسی نے ڈاکٹر حامد عبد الصمد کو سطحی اور سٹریو ٹائپ قرار دیا تو کسی نے انہیں ہمت والا مصنف قرار دیا جس نے رگِ مرض پر انگلی رکھ دی تھی تو کسی نے انہیں قتل کی دھمکی دی۔۔ مصنف اسلام کو اسلامی دنیا کے مسائل کا ایک اہم حصہ سمجھتے ہیں، جبکہ قرآن کو ان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔۔ اور شاید یہی حقیقت بھی ہے کہ جب سے مسلمانوں نے ابن رشد کی کتابیں جلائیں ہیں تب سے وہ عقل اور عقلیت پسندی کی راہ سے ایسے بھٹکے ہیں کہ اب ڈھونڈنے سے بھی انہیں کوئی راستہ نہیں مل رہا۔

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam-ناستک-درانی/downfall-of-islamic-world--summary-of-a-book---اسلامی-دنیا-کا-انحطاط---ایک-کتاب-کا-خلاصہ/d/14085

 

Loading..

Loading..