New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 11:04 PM

Urdu Section ( 4 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Another Face of Terrorism تشدد کا دوسرا چہرہ

 

ناستک درانی، نیو ایج اسلام

5 اگست، 2013

جب ہم تشدد کی بات کرتے ہیں تو ہمیں فوراً ہی اس سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ: تشدد کیا ہے؟ ہم تشدد کو کچھ خوفناک مفاہیم کے ذریعہ سمجھتے ہیں جیسے: جنگ، موت، جرم، دہشت گردی، قتل، آبرو ریزی، جلانا، جسمانی ضرر، جبر، تسلط، ظلم، غلامی وغیرہ۔۔۔

تشدد کو تین زمروں یا درجوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

1- ہلکا تشدد: لفظی تشدد جیسے گالیاں، مجروح کرنا، علامتی تشدد جیسے تکفیر، الزام تراشی، استہزاء، معاشرتی تشدد جیسے غربت دینا، بھوک دینا، بے روزگار کرنا وغیرہ۔

2- سخت تشدد: جیسے آبرو ریزی، ظلم، قیدی بنانا، جائیداد پر قبضہ کرنا وغیرہ۔

3- مطلق تشدد: اس میں قتل کی تمام اقسام آتی ہیں جیسے اختلافِ رائے، مذہب، قومیت کی وجہ سے قتل، اس میں سیاسی قتل بھی شامل ہے۔

تاہم ایک تشدد وہ ہے جو معاشرتی ظلم واستبداد کے خلاف مظلوم کی طرف سے ردِ عمل کے طور پر سامنے آتا ہے، وطن کے دفاع میں کیا جانے والا تشدد وہ تشدد ہے جو قومیں آزادی کے لیے انجام دیتی ہیں، ایک انقلابی تشدد بھی ہے جسے لوٹ مار کا شکار غریب طبقہ بروئے کار لاتا ہے جو مارکس کے نزدیک جائز ہے تاکہ حقوق واپس حاصل کیے جاسکیں اور معاشرتی اور اقتصادی استحصال کا خاتمہ کیا جاسکے، مگر کیا تشدد کا کوئی مقصد بھی ہے؟ اور کیا تشدد زندگی کی بقاء کے لیے کیا جاتا ہے یا یہ ایک برا سلوک ہے جسے انسان کسی وجہ یا بغیر کسی وجہ کے انجام دیتا ہے؟ یعنی کیا پُر تشدد سلوک کوئی داخلی جذبہ ہے جو کسی پر غالب آکر اسے تخریب تباہی اور دوسروں کو قتل کرنے پر اکساتا ہے؟ کیا تشدد کو مذہبی وجوہات کی بنا پر جواز دیا جاسکتا ہے؟

ہم ہمیشہ دوسرے کے تشدد کو اسی طرح سمجھتے ہیں، امریکہ میں یورپی آباد کاروں کا ریڈ انڈین پر تشدد کو ہم نے اسی طرح سمجھا، منگولوں کے جرائم کو ہم نے اسی نظر سے دیکھا، اور اسی نظر سے ہم نے نپولین اور صلیبی جنگوں کو دیکھا، اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ بھی ہم اسی فہم میں لیتے ہیں، صدام کا کویت پر اور امریکہ کا افغانستان اور عراق پر حملے کو بھی ہم اسی طرح سمجھتے ہیں، الغرض جو بھی دور سے اپنے اسلحہ کے ساتھ آتا ہے ہم اسے اسی نظر سے دیکھتے ہیں۔

مگر ہمارے اپنے تشدد کا کیا جو ہم نے تاریخ میں دوسروں پر کیا؟ ہم اہلِ مشرق اسلامی جنگوں کو کس طرح سمجھتے ہیں؟ ان غزوات میں اور کسی قوم کو لوٹنے، انہیں اپنے زندگی کے طور طریقے بدلنے اور دوسرا مذہب تھوپنے کی غرض سے باہر سے آنے والے کسی بھی قبضے میں کیا فرق ہے؟

تاریخ میں تشدد دوسروں کی دولت پر قبضہ کرنے کی غرض سے شروع ہوا، سونے کی چمک نے امریکہ میں ریڈ انڈین پر تشدد کے پہاڑ توڑے، صلیبی جنگوں کے پیچھے مشرق کے وسائل تھے جنہیں مذہبی جواز حاصل تھا، نئی کالونیوں پر قبضہ کے لیے دو عالمی جنگیں ہوئیں، اسرائیل کا بیج ایک ایسے خطے میں بویا گیا جہاں مغرب کے مفادات تھے نتیجتاً ایک پوری قوم اپنی زمین سے بے دخل کردی گئی، بیسوی صدی کے خاتمے پر تیل کی کشش کا عراق پر قبضے میں بڑا اہم کردار تھا جس کے لیے ایسے بہانے گھڑے گئے جو وقت نے غلط ثابت کردیے۔

تشدد ایسے ہی نہیں آتا، یہ انسان کی سلوکی سطح پر اس وقت نمودار ہوتا ہے جب شوفیانی (CHAUVINISTIC) مفاہیم ایک نسل کو دوسری نسل سے برتر قرار دیتے ہیں، فتاوی اور مذہبی متون کا افراد کی فکری واعتقادی بنیاد ہونا بھی تشدد پر اکسانے اور اسے جواز فراہم کرنے کی ایک اہم وجہ ہے۔

تشدد انسان کو انسان کھانے والا بھیڑیا بنا دیتا ہے، انسان اپنے ہی انسان بھائی کے ہاتھوں مارا جاتا ہے، عسکری آلات اور اسلحہ کا استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں ہزاروں انسان فناء ہوجاتے ہیں، ملک وشہر نیست ونابود کردیے جاتے ہیں، ہیروشیما اور ناگاساکی میں جو کچھ ہوا اور اسرائیل نے جو کچھ غزہ میں کیا اس کے گواہ ہیں۔

اسی سیاق میں یہودی عالمِ دین اسحاق شابیرا کا فتوی سامنے آیا ہے جو یہودی شریعت سے مردوں، عورتوں اور بچوں کے قتل کے فقہی جواز فراہم کرتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے مذہبی فتوے کس طرح سے تشدد پر اکساتے ہیں اور اسے جواز فراہم کرتے ہیں اور لوگوں کو مزید مذہبی اور سیاسی انتہاء پسندی کی طرف لے جاتے ہیں۔

تشدد کی مشرقی تاریخ مذہب کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھی، جو لوگ حضرت موسی علیہ السلام کے بعد آئے وہ مذہبی جواز کے تحت فلسطین میں داخل ہوئے کہ یہی وہ ارض المیعاد ہے جسے اللہ نے یہودیوں کو ان کے دعوے کے مطابق عطا کردی ہے، آج بھی یہودی علماء کے فتاوی فلسطینوں کے قتل عام کا مذہبی جواز فراہم کرتے ہیں۔

اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ پڑوس کی قوموں پر اسلام کے غزوات کا محرک مذہب تھا، یہ جنگیں اپنے آپ میں مذہب کے لبادے میں لپٹا ہوا تشدد تھا جہاں فاتحین کے جمگٹھے یعنی اسلامی فوجوں نے آس پاس کی قوموں پر دھاوا بولا اور ان کے وسائل پر قبضہ کیا اور ان کی معاشرتی اور سیاسی زندگی کو زبردستی تبدیل کیا، جزیرہ نما عرب سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی والیوں کو ان کا حکمران مقرر کیا تاکہ ان مقبوضہ ممالک میں اسلام کا اقتدار مضبوط رہے، یہ اسلامی فتوحات مراکش اور سپین سے ہوتے ہوئے جنوبی فرانس تک پہنچیں جہاں واٹرلو کے معرکے کے بعد رک گئیں۔ یورپ میں اسلامی فتوحات کی فوجوں نے جن ممالک پر قبضہ کیا وہ صحراء سے آنے والے عرب بدوؤں سے زیادہ ترقی یافتہ تھے۔

اسلامی خلافت کے دور میں تشدد نے ایک ہی قوم اور ایک ہی مذہب کے ماننے والوں میں کئی خونین شکلیں اختیار کیں، تین خلفاء تلواروں اور خنجروں سے کاٹ کر قتل کر دیے گئے، علی اور معاویہ کے دونوں دھڑوں میں بھی تشدد نے کئی رنگ اختیار کیے اور جب حالات معاویہ کے لیے سازگار ہوگئے تو اس نے خلافت کو وراثت بناتے ہوئے اپنے بیٹے یزید کو خلافت کا وارث بنا دیا تاکہ خلافت بنی امیہ کے ہاتھ سے نہ نکل سکے۔

تشدد کی بد ترین شکل اموی خلیفہ یزید بن معاویہ بن ابی سفیان کے دور میں دیکھنے کو ملی جو وقعہ الحرۃ کے نام سے جانی جاتی ہے جس میں یزید کی فوج نے مسلم بن عقبہ کی قیادت میں مدینہ میں تین دن تک قتل وغارت گری کا بازار گرم رکھا، کوئی گیارہ ہزار انسان قتل ہوئے، شہر کو لوٹا گیا اور ایک ہزار کنواری لڑکیوں کو آبرو ریزی کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد شہریوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ یزید کی بیعت کریں یا اس کے غلام بن جائیں، اس زمانے میں جب کوئی شخص اپنی بیٹی کی شادی کرتا تھا تو کہتا تھا کہ: میں اس کے کنوارے ہونے کی ضمانت نہیں دے سکتا، شاید حرہ کے واقعے میں اس کی عزت لوٹ لی گئی ہو!!؟؟

عباسی جن کا نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک چچا عباس سے جا ملتا ہے، ان کے دور میں عباسی خلافت کے بانی ابو العباس جن کو السفاح یعنی خونخوار کے لقب سے جانا جاتا ہے نے بے شمار اموی قتل کروائے اور ان کا مراکش تک پیچھا کیا، امویوں میں صرف ایک عبد الرحمن الداخل ہی بچ سکا جو اندلس بھاگ گیا اور وہاں پر ایک اموی خلافت قائم کی، اس کا ایک مشہور قول ہے کہ: اللہ کا شکر ہے جس نے میرے اور میرے دشمن (عباسیوں) کے درمیان سمندر قائم کیا۔

وسطی زمانوں میں جادوگرنیوں کے خلاف تشدد کو کتابِ مقدس سے جواز دیا گیا جو کہتی ہے: جادوگرنیوں کو زندہ مت رہنے دو لہذا عورتوں کو جادوگری کے الزام میں جوق در جوق زندہ جلایا گیا، جادوگرنیوں کا ہتھوڑا (Malleus Maleficarum) نامی کتاب کو انسانی تاریخ کی سب سے خوفناک دستاویز قرار دیا گیا جسے جادوگرنیوں کے قتل کی بنیاد بنایا گیا اور جسے پوپ کی آشرواد بھی حاصل تھی۔

یہاں سوال جو اپنا آپ خود اٹھاتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم مذاہب اور مقدس مُتون کو اتنی طاقت ہی کیوں دیتے ہیں کہ وہ تشدد کو جواز دیں، انسانوں میں اختلاف کے بیج بوئیں اور انسانی تعلقات کو مسخ کریں؟ ایک ہی مذہب میں تفاسیر میں اختلاف ہی لوگوں میں تفرقہ ڈالنے اور انہیں تشدد پر اکسانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

پرتگال کے نوبل انعام یافتہ ادیب جوز ساراماگو (José de Sousa Saramago) مذاہب کو تاریخ میں لڑائیوں کا اہم منبع قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ: بغیر کسی استثناء کے کبھی بھی کوئی بھی مذہب لوگوں کو جمع کرنے اور انہیں صلح جوئی پر قائل نہیں کر سکا، اس کے برعکس یہ پہلے بھی اور اب بھی قتلِ عام، جسمانی اور روحانی وحشیانہ تشدد کی اہم وجہ ہے جنہیں الفاظ میں بیان ہی نہیں کیا جاسکتا، یہ مایوس انسانی تاریخ کا سب سے اندھیرا پہلو ہے، معلوم ہوتا ہے کہ مذہب ایک ایسا قاتل ہے جس کا کوئی ٹھکانہ نہیں، یہ شاید دوسروں سے زیادہ خود اپنے ماننے والوں کا خون زیادہ بہاتا ہے۔

اطالوی ادیب امبرٹو ایکو (Umberto Eco) کہتے ہیں: مذہب پرست انسان ایک ایسا جانور ہے جو ہمیشہ نشہ میں رہتا ہے ظاہر ہے کہ مذہب پرست انسان جب تشدد پر اترتا ہے تو ایک ایسے جانور کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اپنے شکار کے پیچھے بھاگ رہا ہو، وہی اس کا ہدف اور شکار ہوتا ہے جسے ختم کرنے کے لیے اسے کسی اخلاقیات یا انسانیت کی پرواہ نہیں ہوتی، بلیز پاسکال (Blaise Pascal) نے کہا تھا کہ: انسان خوشی سے کوئی برا کام تب تک نہیں کر سکتا جب تک وہ اسے مذہبی قناعت سے نہ کرے۔

اکیسویں صدی کے آغاز پر معلوم ہوا کہ مشرق میں مذہبی رجحان اس قدر بڑھ رہا تھا کہ گویا یہ قومیں مذہبی جنون کا شکار ہوگئی ہوں، اکیسویں صدی کے دوسرے نصف میں ہم دیکھ لیں گے کہ یہی قومیں جو آج مذہبی جنون کا شکار ہیں کل مذہبی انتشار کا شکار ہوں گی اور یہ مذہبی انتشار انہیں انسانی ترقی کے راستے سے الگ کردے گا اور یہ فکری وتنظیمی پسماندگی کے ایسے دور میں پہنچ جائیں گی جو عثمانی خلافت سے ملتا جلتا ہوگا جس نے مشرق اور مغربِ عربی پر قبضہ کر کے ان خطوں کو علمی اور فکری ترقی سے الگ کردیا۔۔ مشرق کی قومیں اس مذہبی انتشار اور فکری پسماندگی سے شاید صدیوں بعد ہی جاگ سکیں گی۔

تشدد کے تئیں ہمارا موقف صاف ہونا چاہیے، اگر تشدد اپنے دفاع میں کیا جائے، اگر قومیں آزادی کے لیے تشدد کا راستہ اپنائیں اور عام طور پر اگر جارحیت کو روکنے کے لیے تشدد اختیار کیا جائے تو ایسا تشدد جائز ہونا چاہیے لیکن اگر تشدد کا مقصد دوسروں کے مال اور ملک پر قبضہ کرنا ہو اور انہیں زبردستی اپنی زندگی کے طور طریقے اور مذہب بدلنے پر مجبور کرنا ہو تو ایسا تشدد جائز نہیں، تصور کریں کہ اگر ہر شخص اور قوم مذہبی بنیادوں پر دوسروں پر تشدد شروع کردے تو اس کا انسانیت پر کیا اثر ہوگا؟

کبھی کبھی طاقت تشدد کا باعث بنتی ہے، طاقت کا احساس اور مادی قوت کے وسائل کی موجودگی کے ساتھ دوسرے کی کمزوری کا احساس اجاگر ہوتا ہے اور کمزور کی طرف بڑھنے اور اسے کچلنے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے، جب ہٹلر کی طاقت بڑھ گئی تو اس کے ساتھ ہی وہ تمام معاہدے جو جرمنی کو پابند کرتے تھے تحلیل ہوگئے اور جرمنی طاقت کی نمائش کرنے نکل کھڑا ہوا، صدام نے بھی یہی کیا، جب ماحول سازگار ہوا اور اسے اپنی طاقت کا احساس ہوا تو اس نے کویت پر چڑھائی کردی کیونکہ وہ کمزور تھا۔

تشدد کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس نے شکست خوردہ انسانوں کو فاتحوں کا غلام بنا دیا، انہیں جزیہ ادا کرنے پر مجبور کیا اور اپنی جائیدادوں کو چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور کیا، عورتوں کو کنیزیں اور خرید وفروخت کی چیزیں بنا دیا، یہاں سے تشدد کا ایک دوسرا چہرہ ابھر سامنے آتا ہے، یہ مقدس میراث کے مذہبی مُتون ہیں جو انسانی تعلقات کو بگاڑتے اور انسانوں میں تفرقہ ڈال کر انہیں ایسی مسلسل دشمنی کی طرف دھکیل دیتے ہیں جس کا ماحاصل لاکھوں انسانی جانیں ہوتی ہیں۔

تشدد کا سب سے بڑا دشمن انسانی ترقی اور شعور ہے، اس کے خاتمہ کے لیے ضروری ہے کہ انفرادی اور معاشرتی سطح پر انفرادی اختلافات کے خاتمہ کے لیے شعور اجاگر کیا جائے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر یہ لازم ہے کہ قوموں کو اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے دیا جائے اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، استعمار کی باقیات کا خاتمہ کیا جائے اور انسان کو اپنے ہی بھائی انسان کے استحصال سے روکا جائے۔URL:  http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam-ناستک-درانی/another-face-of-terrorism--تشدد-کا-دوسرا-چہرہ/d/12892

 

Loading..

Loading..