New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 12:42 AM

Urdu Section ( 29 May 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Burmese Muslims: Nowhere to go برما میں مسلمانوں کی خونریزی

 

نصیر الدین سید

27 مئی، 2013

یہ ان لوگوں کی کہانی ہے جو اپنے ہی وطن میں اجنبی اور غیر ملکی ہیں۔ یہ برما کے وہ مسلمان ہیں جنہیں تین سوسال اپنے ہی وطن میں رہنے کے باوجود شہریت سے محروم کر دیا گیا۔ روہنگیا مسلمان.... جن پر برما کی زمین تنگ کر دی گئی۔ جن کی بستیوں پر بودھسٹ لاماں اور سکیورٹی فورسز نے مل کر حملہ کیا، گھروں کو آگ لگائی، گھروں سے بھاگ کر جان بچانے والوں پر گولیاں برسائیں، خواتین بچوں اور بوڑھوں کو بیدردی سے قتل کیا۔ خواتین کو انتہائی درندگی کا نشانہ بنایا گیا اور لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو نقل مکانی کرنے پر مجبور کیا گیا۔ جس پر دنیائے انسانیت کی بے حسی ایک سوالیہ نشان ہے۔ حال ہی میں2 اپریل کو برما کے ینگون شہر میں مسلمانوں کے ایک مدرسے کو رات تین بجے آگ لگا دی گئی۔ اس مدرسے میں 70یتیم طلبہ قرآن پاک حفظ و ناظرہ کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ عمارت کے فلور پر مٹی کے تیل اور ڈیزل سے ایسے آگ لگائی گئی تاکہ کوئی طالب علم بھاگ نہ سکے اور آگ بجھانے کےلئے فائر بریگیڈ کے عملہ کو بھی روک د یا گیا۔ اس حملے میں قرآن پاک حفظ کرنےوالے 13 طالب علم شہید ہوئے جن کی عمریں13 سے 14 سال کے درمیان تھیں۔ جن کے نماز جنازہ میں ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔

اس سے پہلے بھی بودھ انتہا پسند سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر حملے کرتے رہے ہیں۔ 3 جون 2012ءکو سینکڑوں بدھسٹ انتہا پسندوں نے ایک بس پر حملہ کیا، جس میں 10 مسلمان علمائے دین سوار تھے۔ ان علمائے دین کو بس سے اتار کر بیدردی سے قتل کیا گیا اور بس کو آگ لگا دی۔ دوسرے دن جمعة المبارک کو مسلمانوں نے احتجاج کرنا چاہا تو سکیورٹی فورسز نے ان پر گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ شہید اور زخمی ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق Rakhino صوبے کی تمام مسلمان آبادیوں پر بدھ انتہا پسندوں نے سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر حملے کئے۔ یہ ظلم اکثر شہروں اور قصبوں میں مسلمان آبادیوں پر کیا گیا۔ ان علاقوں میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تعلیمی درسگاہHEMARATUL ISLAM MADRASA کو آگ لگا دی گئی۔ مدرسہ کے پرنسپل مفتی واجد صاحب، چار سینئر اساتذہ کرام اور اٹھائیس طلبہ کے ساتھ شہید ہوئے جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں طلبہ زخمی بھی ہوئے۔ جون 2012ء سے اکتوبر2012 تک ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ تقریباً تین لاکھ مسلمانوں کو بنگلہ دیش، 24 ہزار مسلمانوں کو ملائشیا اور اتنی ہی تعداد میں لوگوں کو تھائی لینڈ نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔ تقریباً ایک لاکھ دس ہزار مسلمان تھائی، برما بارڈر پر بے یارومددگار پڑے ہیں اور اسی طرح ایک لاکھ سے زیادہ لوگ برما، بنگلہ دیش بارڈر پر موجود ہیں۔ یہ لوگ ان ممالک کی طرف سے داخلے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے بارڈر پر ہی مقیم ہیں۔ بارڈر پر ان مسلمانوں پر برما کی فوج اور بدھ انتہا پسندوں کے حملے جاری رہتے ہیں۔ جن سے بچنے کےلئے مسلمان کشتیوں کے ذریعے سمندر میں چلتے جاتے ہیں یا کود جاتے ہیں۔ جن کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملتی کہ وہ کہاں گئے؟

ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر میں قبضے کے بعد برما تک اپنی حکمرانی کا دائرہ بڑھایا اور اپنی حکمرانی کو قائم رکھنے کےلئے برصغیر سے ہنرمند لوگ اپنے ساتھ لے گئے۔ برصغیر اور برما کے درمیان کوئی بارڈر نہیں تھا اور لوگ آزادانہ آیا جایا کرتے تھے۔ حکومت برطانیہ نے اپنی ضرورت کے تحت برصغیر کے لوگوں کو برما میں سہولتیں دیں اور انہیں فوج، پولیس اور دیگر سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر میں ملازمتیں بھی دلائیں اور یوں برما میں لوگ آباد ہوتے گئے۔ ان میں مسلمان بھی شامل تھے۔ دوسرے عالمی جنگ میں برصغیر اور برما کے لوگوں نے برطانیہ کا ساتھ دیا۔ دوسرے عالمی جنگ کے آغاز میں ہی جاپان نے برما پر قبضہ کیا ور جاپانی فوج نے برما کے قوم پرستوں اور بدھ متوں کے ساتھ مل کر 28 مارچ 1942 کو مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ ہزاروں کی تعاد میں لوگوں کو قتل کیا اور (50000) پچاس ہزار سے زائد لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا۔

1959ءکو Col. Tin Oo کے حکم پر مسلمانوں کے 34 دیہاتوں کو خالی کروا کر ظلم و زیادتی کا بازار گرم کیا۔ اس وقت کے پاکستان کے صدر جناب ایوب خان نے شدید احتجاج کیا اور نتیجتاً برما کے فوجی جرنل U Ne Win کو اپنا فیصلہ بدلنا پڑا اور مسلمانوں کو دوبارہ اپنے گھروں میں جانے کی اجازت دی گئی۔ 1978ءمیں U Ne Win کے حکم پر تین لاکھ روہنگیا مسلمانوںکو بے گھر کیا گیا۔ انٹرنیشنل کمیونٹی کے دباو¿ کی وجہ سے جنرل U Ne Win کی حکومت کو ان بے گھر مسلمانوں کو واپس لینا پڑا لیکن U ne Win حکومت نے مختلف استحصالی اقدامات کے ذریعے برما میں مسلمانوں کو مشکلات میں اضافہ کردیا۔ جس کی نمایاں مثال 1982ءمیں شہریت ایکٹ کے ذریعے مسلمانوں کی شہریت کو ختم کرنا ہے۔انہیں غیر ملکی قرار دیا گیا اور قانونی طور پر ان کو زیر عتاب لانے کیلئے مختلف اقدامات کئے گئے۔ جن میں مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینا، قومی شناختی کارڈ نہ دینا، شادی پر پابندی لگانا، مسلمان آبادیوں میں بدھ مت لوگوں کو Settle کرنا، آزادانہ نقل و حمل پر پابندی لگانا اعلیٰ تعلیم کا دروازہ بند کرنا، سرکاری ملازمتوں سے محروم رکھنا، فوج، سرکاری اور غیر سرکاری اداروں سے مسلمانوں کو نکال دینا ، مسلمانوں کی جائیدادوں پر زبردستی قبضہ کرنا اور بدھسٹو ں کو وہ جائیدادیں الاٹ کرنا، مساجد کو تباہ کرنا، عبادت پر پابندی لگانا اور نسل کشی کرنا شامل ہے۔

 1991-92 میں بھی مسلمانوں کے خلاف ایک مرتبہ پھر انتقامی کارروائی کی گئی اور مسلمانوں کو پڑوسی ملکوں میں بھاگ کر جان بچانا پڑی۔اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ برما کی فوج بدھ انتہا پسندوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کی نسل کشی میں براہ راست ملوث ہے۔ ایشیا واچ کے مطابق برما کی فوج مسلمانوں کو ختم کرنے کےلئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے کیونکہ ان کے مطابق مسلمان برما میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر ہیں۔ 1982ءکے قانون کی رو سے برما کے مسلمانوں کو شہریت کے حق سے محروم کر دیا گیا۔ اسی لئے مسلمانوں کے خلاف ہر اقدام کو وہ قانونی طور پر حق بجانب سمجھتے ہیں۔ 19 جولائی 2012 کو برما کے سابق فوجی جنرل اور صدر Thein Sein نے کہا کہ مسلمانوں کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ ان سب کو یو این او کی نگران میں کسی دوسرے ملک میں آباد کیا جائے یا برما سے باہر کسی مہاجر کیمپ میں رکھا جائے۔ برما کے قوم پرست بودھ قوم یہ سمجھتی ہیں کہ برما صرف ان لوگوں کے لئے ہے لیکن جو مسلمان 300 سال سے زائد عرصے سے برما کے رہائشی ہیں وہ کہاں جائیں؟برما میں تقریباً دس لاکھ سے زائد مسلمان آباد ہیں۔ برما کے بارڈرز بنگلہ دیش، انڈیا، تھائی لینڈ، ویت نام، کمبوڈیا سے ملتے ہیں۔ خلیج بنگال اور انڈیمان ا سی سے لگتا ہے۔ ب

نگلہ دیش واحد مسلمان ملک ہے جس کا بارڈر برما کے ساتھ ہے مگر وہ اپنی مجبوری کی وجہ سے زیادہ تعداد میں ان مسلمانوں کو خوش آمدید کہنے لئے تیار نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلائے جس میں برما میں جاری مسلمانوں کی خونریزی بند کرنے کا مطالبہ کیا جائے اور ان کو شہریت کا حق دلائے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے برما کی حکومت اور پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ 1982ءکے شہریت ایکٹ کو ختم کر کے مسلمانوں کو برما کی شہریت دی جائے اور ان کو بنیادی حقوق دیئے جائیں۔ بیس ممالک کے سفیروں نے ایک ٹیلی فون کانفرنس کے ذریعے ان مسلمانوں کو صورتحال کا جائزہ لیا اور تعاون کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا۔ ان ممالک میں آسٹریا، بیلجیئم، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا، امریکہ، نیوزی لینڈ اور یورپی یونین کے ممالک شامل ہیں۔

 مسلم دنیا بھی برما کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کےلئے آگے آئے اور ان کو سیاسی اور سفارتی کوششوں سے برما میں انہیں بنیادی حقوق دلانے میں مدد کرے۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم  نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے خطاب کرکے فرمایا: میری امت پر وہ وقت آنے والا ہے جب دوسری امتیں اس پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی کہ جس طرح کھانے والے دسترخوان پر ٹوٹتے ہیں۔ کسی کہنے والے نے کہا کہ جس زمانے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم  حال بیان کررہے ہیں اس زمانے میں کیا ہم مسلمان اتنی کم تعداد میں ہوں گے کہ ہمیں نگل لینے کیلئے قومیں متحد ہو کر ٹوٹ پڑیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، اس زمانے میں تمہاری تعداد کم نہ ہوگی بلکہ تم بہت بڑی تعداد میں ہوگے، لیکن تم سیلاب کے جھاگ کی طرح ہوجاؤ گے اور تمہارے دشمنوں کے سینوں سے تمہاری ہیبت نکل جائے گی اور تمہارے دلوں میں پست ہمتی گھر کرلے گی۔

27 مئی، 2013  بشکریہ : نوائے وقت ، پاکستان

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nasiruddin-syed---نصیر-الدین-سید/burmese-muslims--nowhere-to-go-برما-میں-مسلمانوں-کی-خونریزی/d/11808

 

Loading..

Loading..