New Age Islam
Thu Apr 15 2021, 08:21 PM

Urdu Section ( 20 Dec 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Prejudicial and Fabricated Report, Facts and Propaganda Released by The Private NGO EU Disifo Lab پرائیویٹ این جی او EU DisifoLab کی طرف سے جاری کردہ متعصبانہ اور من گھڑت رپورٹ، اصل حقائق اور جاری پروپیگنڈہ


سردار ناصر عزیز خان

گزشتہ چند دنوں سے اخبارات اور الیکٹرونک میڈیا میں برسلز میں قائم ایک پرائیویٹ این جی او   EU Disinfo Lab کی رپورٹ پر بڑا چرچا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ دعوی کیا گیا ہے۔ کہ یو این  کی انسانی حقوق کی کونسل اور پورپین پارلیمنٹ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر ان جی اوز کے کردار کے حوالے سے بڑا اسکام Scam سامنے لایا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ انسانی حقوق کے حوالے سے اور پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے قوم پرست رہنماء خاص کر کے متحدہ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کی قیادت غیر ملکی ایجنٹ ہے اور غیر الاقوامی قوتوں کی ایماء پر پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر پاکستان کے مین سٹریم میڈیا میں متحدہ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کو خاص ہدف کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ صحافتی اقدار کا تقاضا تو یہ تھا۔ کہ تھوڑی بہت تحقیق کر لی جاتی یا کم از کم جن کو غدار اور غیر ملکی ایجنٹ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے  ہیں ان کا موقف بھی لیا جاتا۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا۔حتی کہ پاکستان کے وزیر خارجہ نے پریس کانفرنس کر ڈالی کہ یورپی یونین نے ایک بہت بڑے اسکام scam کو بےنقاب کیا ہے۔ جوکہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ 

 یہاں میں باور کراتا چلوں کہ یہ Disinfo Lab ایک پرائیویٹ NGO ہے جس کا نہ تو یورپی یونین سے کوئی لینا دینا ہے نہ یورپین پارلیمنٹ ، نہ ہی یورپین کمیشن سے کوئی تعلق ہے۔ اس رپورٹ کو اپنی ناکامیوں اور اصل حقائق سے توجہ ہٹانے کے لیے بڑی مہارت کے ساتھ انسانی حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کرنے والوں کے خلاف استعمال کرنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔ UKPNP نے فوری پریس کانفرنس کر کے یو این کے مکینزم پر مفصل روشنی ڈالی ہے اور اس من گھڑت پروپیگنڈے کا جواب دیا ہے۔ پریس کانفرنس کی مکمل ویڈیو کا لنک گو کہ رپورٹ میں شامل این جی اوز کا UKPNP کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اس کہ باوجود یوکے پی این کے رہنماؤں کی  UN کے اندر جنرل اسمبلی میں تقاریر مختلف سیمینارز اور کانفرنسوں کے دوران لی گئی تصاویر کو مختلف میڈیا گروپس سے اٹھا کر رپورٹ میں شامل کرکے کے یہ تاثر دینے کرنے کی کوشش کی گئی۔ کہ یو کے پی این پی غیر ملکی ایجنٹ ہے۔

رپورٹ میں شامل دس این جی اوز میں سے آٹھ کا مستقل ایڈریس امریکہ اور کینیڈا میں ہے۔ اور ان کے ایڈریس یو این کے ڈیٹا بیس میں موجود ہیں۔ جو کہ آن لائن بھی چیک کئے جا سکتے ہیں۔ اور اس رپورٹ میں بھی ان تمام این جی اوز کے ایڈریس شائع کئے گئے ہیں۔

 اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق میں میں صرف وہی NGOs کسی کو accreditation دی سکتی ہیں ۔ سیمینارز اور بریفنگ منعقد کر سکتی ہیں یا جنرل اسمبلی میں مختلف ایجنڈوں پر تقاریر کے لئے سماجی ، انسانی حقوق کے نمائندوں اور راہنماؤں کو موقع دی سکتی ہیں ۔ جو کو UN اقتصادی اور سماجی کونسل (ECOSOC) کے ساتھ خصوصی Status حاصل ہے۔ سپیشل اسٹیٹس حاصل کرنے کے لئے ایک این جی او کو 19 ممالک پر مشتمل کمیٹی کی حمایت حاصل ھونی چاہیے۔ اس کمیٹی کے ممبران اور سربراہان ایک مقررہ مدت کے بعد تبدیل ہوتے رہتے ہیں .لہذا کسی NGOs کو کسی ایک ملک کے ساتھ جھوڑنا ۔ UN کے سسٹم سے لاعلمی ' سراسر جھوٹ اور بد نیتی ہے۔

2019 سے کمیٹی کی سربراہی پاکستان کے پاس ہے جو کہ 2021 تک رہے گی ۔اور اس سے قبل بھی پاکستان سربراہ اور ممبر کی حیثیت سے کمیٹی میں شامل رہا ہے۔

UN accredited NGOs کا مینڈیٹ ھوتا کہ وہ  پوری دنیا سے انسانی حقوق کے سرگرم نمائندوں ، راہنماؤں اور سماجی کارکنوں کو یو این کے اندر بات کرنے کا موقع فراہم کر سکے۔ ان کو سمینارز اور کانفرنسیں منعقد کرنے کی اجازت دے سکے۔ اقوامِ متحدہ کا نظام انتہائی شفاف ہے اور ان کی ویب سائٹ پر تمام معلومات موجود ہیں۔ این جی اوز اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں اپنے کام اور سرگرمیوں کے بارے میں 19 ممالک کی کمیٹی کے سامنے جواب دہ ہیں۔ اس کے علاوہ ہر سیشن اور ہر سرگرمی کی مکمل رپورٹ UN میں جمع کروائی جاتی ہے۔ اور ہر 2 سے 3 سال بعد  19 ممالک کی کمیٹی جانچ پڑتال کرتی ہے۔ اور کسی قسم کی خلاف قانون سرگرمی پر NGOs کی رکنیت معطل یا بعض صورتوں میں مکمل ختم کر دی جاتی ہے۔

 این جی اوز پر لازم کہ اپنے عہدیداروں اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی مکمل تفصیلات اقوام متحدہ کو فراہم کریں ۔ اس میں کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہوتا۔ میڈیا پر جس پرائیویٹ این جی او کی رپورٹ کو بڑا اسکام scam یا سکینڈل سامنے لانے پر ملک کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ مبارک دے رہے ہیں ۔ اس این جی او کی اپنی حیثیت یہ ہے ۔ کہ خود اپنے نمائندوں کو UN میں داخلے کے لئے ۔ یو این کے ساتھ سپیشل سٹیٹس کی حامل این جی اوز کی منظور ی یعنی Accreditation چاہیئے ھوتی ہے۔ جن NGOs کو وہ جعلی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھی جیسی این جی اوز کی۔

 اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے اجلاسوں کی کارروائی ویب کاسٹ پر برائے راست نشر ہوتی ہے جسے آن لائن دنیا کے کسی بھی حصے میں بیٹھ کر دیکھا جاسکتا ہے ۔اور یہ اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں بھی موجود ہوتی ہے۔

Dusinfo Lab نے UN میں NGOs کو تو فراڈ اور جعلی ثابت کرنی کی کوشش تو کی مگر ان کیNGOs نے تقاریر میں کیا کہا گیا اس بارے میں کچھ شیئر نہیں کیا۔ ان این جی اوز نے UN میں کیا کہا ۔ یہ لوگوں کو بتانے کی زحمت گوارہ نہیں کی گئی۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے ۔ کہ آزادی پسند ، سیکولر قوم پرستوں اور بالخصوص یوکے پی این پی کے خلاف سا زش کی گئی ہے ۔ اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ کہ یوکے پی این پی کی قیادت ہندوستان کی ایجنٹ ہے۔ اس نام نہاد این جی او نے نام نہاد آزاد کشمیر کے وزراء اور مشیروں یا ان این جی اوز کا نام تک نہیں لیا جو وزراء حکومت میں شامل ہوتے ہیں۔ یو این میں آ کر سری نگر کی بات تو کرتے رہے لیکن ان کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ اپنے وسائل پر حق ملکیت کی بات کریں۔ اپنے حق حکمرانی کی بات کریں۔ جن کو چار لینٹ آفیسرز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ جن کو فیاض الحسن چوہان جیسا آدمی کہتا ہے ۔ کہ نام نہاد آزاد کے وزیراعظم کی اوقات دو ٹکے کی نہیں ۔ ان کو تو ایک حوالدار ڈیل کرتا  ہے۔ اور جن کو کبھی کبھی پہاڑی بکروں کے القابات سے بھی نوازا جاتا ہے۔

UNHRCکے اجلاسوں میں دنیا بھر کا پریس اور میڈیا جن کی UN میں accreditation ہوتی ہے ۔ وہ تمام تقاریر اور سمینارز اور کانفرنسیں ریکارڈ کر کے سوائے ان کے جو پرائیویٹ نہ ہوں اپنے اپنے ممالک میں بھیجتے ہیں۔ پاکستانی میڈیا، ہندوستان کا میڈیا اور دنیا کے ہر خطے کا میڈیا موجود ہوتا ہے۔

سب سے اہم بات یہ کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے تمام ممبر ممالک کے مستقل مندوب اور ان کا سٹاف کونسل کے اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں ۔اور NGOs کے نمائندوں کی تقاریر کو نہ صرف دیکھ اور سن رہے ہوتے ہیں ۔بلکہ اگر کسی بات پر اعتراض ہو تو فوری پوائنٹ آف آرڈر لے کر کونسل کے چیئرمین/صدر کو کہا جاتا ہے کہ سپیکر کی بات ایجنڈے کے مطابق نہیں یا زمینی حقائق کے خلاف ہے ۔ این جی او کو بولنے سے روکنے کے لئے کہتے ہیں۔ پھر کونسل کا سربراہ فیصلہ کرتا ہے کہ این جی او ایجنڈے کے مطابق بول رہی ہے یا نہیں ، وہ اپنی speech جاری رکھ سکتی ہے یا نہیں۔

ایک اور دلچسپ بات یہ کہ نام نہاد آزاد کے موجودہ صدر جو کہ جینواء میں چار سال پاکستان کے مستقل مندوب رہے ۔ ہماری اکثر تقاریر کے دوران کونسل میں موجود ہوتے تھے۔ ان کی طبیعت پر یقین کچھ باتیں ناگوار گزری ہوں گی ۔ کیونکہ سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے۔اور موجود مندوب اور ان کا سٹاف بھی موجود رہتا ہے۔ نام نہاد Disinfo Lab NGOs کی رپورٹ مظلوم و محکوم کشمیریوں کی حقیقی قیادت ، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور اپنے بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے لئے سرگرم پرامن جدوجہد کرنے والوں کو بد نام کر کی شازش ہے۔

اس رپورٹ پر شادیانے بجانے والے عام لوگوں کو خوش کرنے لئے بڑی کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں ۔ جیسے کہا گیا تھا کہ کراچی میں سمندری ساحل پر گیس کے اتنے بڑے ذخائر دریافت ہونے والے ہیں۔ جو آئندہ پچاس برسوں کے لئے پاکستان کی انرجی کی ضروریات کے لئے کافی ہیں۔ پھر کچھ دنوں میں کہا گیا۔ کہ بدقسمتی سے سمندر میں گیس لیک ہو گئی ہے۔ لگتا ہے ایک بار پھر وہی ہونے جا رہا ہے۔  یہ ایک حقیقت ہے۔ کہ ملک کے اندر پریس اور میڈیا پر قدغنیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ جو بھی آئین اور قانون کی بالادستی  کی بات کرتا ہے ۔ وہ غدار ، ملک دشمن اور غیر ملکی ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے۔ یوں تو غیر ملکی ایجنٹ قرار دینے کی روایت کافی پرانی ہے۔ بانی پاکستان محمد علی جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح سے لئے۔ بے نظیر بھٹو، نواز شریف، باچا خان، ولی خان ، سائیں جی ایم سید، نواب خیربخش مری، نواب اکبر بگٹی، بزنجو صاحب ، نواز شریف، ہر وہ صحافی ، تجزیہ نگار ، ادیب ، شاعر، کالم نویس، انیگر پرنس اور جو کوئی بھی آئین اور قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں۔ بلوچ ، سندھی، پشتون، کشمیری بالخصوص یو کے پی این پی کے چیئرمین سردار شوکت علی کشمیری اور ان کے کامریڈز، اب تو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے جج صاحبان بھی اس فہرست میں شامل کر لئے گئے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو جنھوں نے 1971ء کی جنگ میں ہندوستان کی قید سے نوے ہزار سے زائد قیدیوں کو رہائی دلائی، اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کروایا ان کو پھانسی دینے کے بعد بھی ڈاکٹرز سے چیک کروایا گیا کہ آیا وہ مسلمان تھے بھی یاکہ نہیں ۔  

یوکےپی این پی کی قیادت جو کے اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں بھرپور شرکت کرتے ہوتے۔ پاکستان کو یاد دہانی کرواتی ہے کہ آپ کا آئین کہتا ہے کہ نام نہاد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں بلکہ متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے۔

تو پھر کس قانون اور حثیت سے آپ نے لینٹ آفیسرز کشمیریوں پر مسلط کر رکھے ہیں۔

کس حیثیت اور قانون کے تحت متنازعہ علاقوں میں بڑے بڑے منصوبے اور دریاؤں کے قدرتی بھاؤ کو موڑ کر مظفرآباد میں لاکھوں انسانوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہو۔

ہمارے قدرتی وسائل پر حق ملکیت اور رائٹی دینا تو دور کی بات ۔ نئے تعمیر ہونے والے ڈیموں کا اضافی سرچارچ بجلی کے ماہانہ بل میں ڈال دیا گیا ہے۔

دریا اور پانی کشمیریوں کے اور اضافی سرچارچ بھی انہی پر ڈال دیا گیا ہے۔

قوم پرستوں کے الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی اور نامینیشن فارم جمع کروانے پر اپنا مادر وطن گروی رکھنا پڑتا ہے۔ کیا اس پر بات کرنا مجرم ہے۔

عارف شائد شہید جو کہ پرامن جدوجہد پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی شہادت پر آواز بلند کرنا کیا جرم ہے۔ پرامن جدوجہد کرنے اور اپنا حق مانگنے والوں بابا جان افتخار حسین اور ان کے ساتھیوں کو ناکردہ جرم میں دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت 40 سے لے کر 90 سالوں کی سزا سنائی گئی ۔ مسلسل احتجاج کے بعد 9 سال جیل کاٹنے کے بعد ضمانت پر رہا ھوئےہیں۔ اجتماعی طور پر آ پ نے ان بیگناہوں کو زندگیوں کے 130 سال اپنی فیملیوں اور بچوں سے دور رکھا۔  

صحافی تنویر احمد کو پرچم اتارنے پر جیل میں ڈال گیا۔ اس کی رہائی کی بات جرنا کیا جرم اور غداری ہے۔

 نام نہاد NGO کی رپورٹ ایک منصوبے کے تحت پھیلائی گئی ہے۔ چونکہ ملک کے اندر قانون کی حکمرانی کی بات کرنے والوں کی آواز کو تو بند کر دیا گیا ۔ تاکہ بین الاقوامی سطح پر پرامن طریقے سے اپنے بنیادی انسانی اور بنیادی حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والوں کو غیر ملکی ایجنٹ ثابت کر کے خاموش کرایا جا سکے ۔ جو اپنے قدرتی وسائل پر حق ملکیت ، حق حکمرانی ، مساوات ، قانون کی حکمرانی ، آزادی اظہار رائے اور پریس اور میڈیا کی آزادی کی بات کرتے ہیں ۔ جو دہشت گردی اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کی سرگرمیوں سے نالاں ہیں۔

 یوکے پی این پی نام نہاد آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے لوگوں  کے استحصال کو اجاگر کرتی رہے گی۔

 جموں و کشمیر سے متعلق یو این سی آئی پی کی قراردادیں ، ماورائے عدالت ہلاکتوں جبری گمشدگیوں پریس اینڈ میڈیا کی آزادی پر سخت پابندی کے خلاف ، خطے میں بڑھتی انتہا پسندی اور دہشت گردی ، قوم پرست رہنماؤں اور حقوق کارکنوں کے خلاف امتیازی سلوک اور سازشوں کے خلاف اپنی آواز بین الاقوامی برادری تک پہنچاتی رہے ہے ۔ اور آئندہ بھی پہنچاتی رہے گی۔

UKPNP خطے کی ایک سیکولر ، ترقی پسند اور جمہوری سیاسی تنظیم ہے۔ یوکے پی این پی پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کے معاشرتی ، سیاسی ، معاشی و اقتصادی اور انسانی حقوق کے حصول ، ہم آہنگی ، پر امن بقائے باہمی کے لئے پرامن جدوجہد کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ اپنے آغاز سے ہی یوکے پی این پی نے ریاست جموں و کشمیر کے اتحاد اور آزادی کے لئے تمام تر مصائب مشکلات اور ریاستی عتاب کے باوجود کسی خوف اور مصلحت پسندی کا شکار نہیں ہوئے بغیر اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قابض قوتیں اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہیں۔

دوستو ، محترم قارئین کرام۔

ہم ایجنٹ ہیں تو صرف اور صرف کشمیری قوم کے ہم ایجنٹ ہیں تو مادر وطن ریاست جموں و کشمیر کے۔ جس کا قیام 16 مارچ 1846ء کو عمل میں آیا تھا۔ ہم جبری تقسیم اور غلامی کے خلاف اور مادروطن کی وحدت کی بحالی کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔ دشمن اور قابض قوتوں کی سازشوں اور اوچھے ہتھکنڈوں کو ماضی کی طرح ہمیشہ بے نقاب کرتے رہیں گے۔

یو این نے بھی اس نام نہاد این جی او کے حوالے سے وضاحت دی ہے۔

 یو این ایچ آر سی کے ترجمان ، رولانڈو گومیز نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ NGOs کا مینڈیٹ ہے کہ وہ کسی بھی مسئلے پر جیسے چاہیں۔ کونسل میں بات کرنے کا موقع دے سکتے ہیں۔

 مسٹر گومیز نے کہا ، "اس میں کوئی قواعد موجود نہیں ہیں کہ کسی این جی او کو مخصوص امور پر ہی بات کرنی ہوگی۔ ایسا کرنے سے ان کی آزادی کی خلاف ورزی ہوگی۔

 یوکے پی این پی کے خلاف پروپیگنڈے اور ہتک آمیز مہم کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ اور ماضی کی طرح اب بھی انسان دشمن اور قابض قوتوں کے عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/nasir-aziz-khan/prejudicial-and-fabricated-report-facts-and-propaganda-released-by-the-private-ngo-eu-disifo-lab-پرائیویٹ-این-جی-او-eu-disifolab-کی-طرف-سے-جاری-کردہ-متعصبانہ-اور-من-گھڑت-رپورٹ،-اصل-حقائق-اور-جاری-پروپیگنڈہ/d/123821


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..