New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 06:13 PM

Urdu Section ( 30 Oct 2016, NewAgeIslam.Com)

Who Are Those Who Will Believe And Those Who Will Not? کون ایمان لانے والے ہیں اور کون نہیں؟

 

 

 

 

 نصیر احمد، نیو ایج اسلام

25 اکتوبر 2016

قرآن مجید تین قسم کے افراد کا ذکر کرتا ہے:

1۔مومن؛اور مومن وہ ہے جو حق پر مبنی ایک زندگی بسر کرتا ہے اور ہر قسم کی اچھائی نیکی کو اختیار کرتا ہے اور اس کے اندر سچائی کی معرفت اور اسے تسلیم کرنے اور باطل کی شناخت اور اسے ترک کرنے کی صلاحیتموجود ہوتی ہے۔ وہ تکبر نہیں کرتا ہے اور اس وجہ سے وہ ہر اچھائی کو تسلیم کرتا ہےاور اس کی تائید و حمایت بھی کرتا ہے خواہ اس کا مصدر و منبع کچھ بھی ہو۔ وہ بندہ مومن ہی ہے جو سچائی کے راستے پر پوری دلجمعی اور سرگرمی کے ساتھ چلتا ہے۔ ایک مومن کی خصوصیات کا ذکر قرآن کی مندرجہ ذیل آیات میں اس طرح ہے:

(2:2) یہ) وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، (یہ) پرہیزگاروں کے لئے ہدایت ہے؛ (3)جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز کو (تمام حقوق کے ساتھ) قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے (ہماری راہ) میں خرچ کرتے ہیں؛ (4) اور وہ لوگ جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا (سب) پر ایمان لاتے ہیں، اور وہ آخرت پر بھی (کامل) یقین رکھتے ہیں۔ (5) وہی اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی حقیقی کامیابی پانے والے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ ایک عظیم ترین نیکی ہے اس لیے کہ اس میں جذبہ ہمدردی کے ساتھ  دوسروں کے لئے قربانی پیش کرنا اور ان کی دیکھ بھال کرنا شامل ہے اور یہ مختلف سنہرے اصولوں میں  سے ایک اولین ترین اصول ہے۔قرآن کی ان آیات میں مذکور  اخلاقی نظام زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا مبدا  کائنات کے خالق اور پالنہار کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا ہے۔لہٰذا اس غیر مرئی خدا پر ایمان لانا جو اس الہی اخلاقی نظام زندگی کا خالق ہے اور اس آخرت پر ایمان لانا جہاں خدا کا انصاف اپنے کمال پر ہوگا ایسے لوگوں کے لئے آسان ہے۔ان کے دلوں میں آخرت پر ایمان لانا اسلامی صحیفوں میں مذکور ایک اخلاقی نظام حیات کے مطابق زندگی بسر کرنا آسان بنا دیتا ہے اس لیے کہ ان کے اندر یہ امید ہوتی ہے کہ ان کے انعامات کا ایک بڑا حصہ اس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں ہے۔اور اسی بنیاد پر ان کے لیے  حق، انصاف اور اس روئے زمین پر تمام انسانوں کی فلاح بہبود کے لیے اس زندگی میں کسی اجر کی امید کیے بغیر اپنے ذاتی مفادات کو قربان کرنا آسان ہو جاتا ہے۔یہ وہی لوگ ہیں جو تنگی اور مصیبت کے حالات میں صبر سے کام لیتے ہیں اور پرہیزگاری کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ ہدایت کے راستے پر آگے بڑھتے ہیں۔

(16:30) اور پرہیزگار لوگوں سے کہا جائے کہ تمہارے رب نے کیا نازل فرمایا ہے؟ وہ کہتے ہیں: (دنیا و آخرت کی) بھلائی (اتاری ہے)، ان لوگوں کے لئے جو نیکی کرتے رہے اس دنیا میں (بھی) بھلائی ہے، اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی بہتر ہے، اور پرہیزگاروں کا گھر کیا ہی خوب ہے۔

وہ اپنی ساری امیدیں اللہ کے ساتھ وابستہ کر دیتے ہیں وہ اپنی  زندگی کے نشیب و فراز پر بہت کم توجہ دیتے ہیں۔قرآن مجید میں مومن ایمان کی ایک غیر جانبدار اصطلاح ہے اور اس میں پر وہ  شخص شامل ہے جو  ایک خدا اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور عمل صالح کرتا ہے۔

(2:62) بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور (جو) نصاریٰ اور صابی (تھے ان میں سے) جو (بھی) اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اس نے اچھے عمل کئے، تو ان کے لئے ان کے رب کے ہاں ان کا اجر ہے، ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔

2۔منافق: منافق وہ ہے جس کا ایمان کمزور ہو اورایمان اور کفر دونوں کے درمیان پھنسا ہوا ہو۔وہ زیادہ سے زیادہ  فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔وہ ہمشہ فاتح جماعت کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔ وہ متکبر نہیں ہے لہٰذا وہ حقیقت پر ایک سرسری نظر تو ڈالتا ہے لیکن چونکہ اس حقیقت سے اس کا ذاتی مفاد پورا نہیں ہوتا  اسی لیے  وہ فوری طور پر اس روشن حقیقت سے صرف نظر کر لیتا ہے اور منافقت کے اندھیروں میں اس طرح پڑا رہتا ہےگو کہ وہ اندھا ہو۔ منافق کی خصوصیات مندرجہ ذیل آیات میں بیان کی گئیں ہیں:

(2:8) اور لوگوں میں سے بعض وہ (بھی) ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر اور یومِ قیامت پر ایمان لائے حالانکہ وہ (ہرگز) مومن نہیں ہیں۔ (9) وہ اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں مگر (فی الحقیقت) وہ اپنے آپ کو ہی دھوکہ دے رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے، (10)ان کے دلوں میں بیماری ہے، پس اللہ نے ان کی بیماری کو اور بڑھا دیا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔ (11)اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد بپا نہ کرو، تو کہتے ہیں: ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں۔(12) آگاہ ہو جاؤ! یہی لوگ (حقیقت میں) فساد کرنے والے ہیں مگر انہیں (اس کا) احساس تک نہیں۔ (13) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (تم بھی) ایمان لاؤ جیسے(دوسرے) لوگ ایمان لے آئے ہیں، تو کہتے ہیں: کیا ہم بھی (اسی طرح) ایمان لے آئیں جس طرح (وہ) بیوقوف ایمان لے آئے، جان لو! بیوقوف (درحقیقت) وہ خود ہیں لیکن انہیں (اپنی بیوقوفی اور ہلکے پن کا) علم نہیں۔

یہ لوگ ایک لمحے کے لیے حقیقت کو دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود حقیقت کی پیروی نہیں کرتے اور اس وجہ سے خود کو فریب دیتے ہیں۔ہر بار وہ حقیقت کو دیکھتے ہیں اور ہر بار وہ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اور رفتہ رفتہ ان کا یہ رویہ مضبوط ہوتا جاتا ہے اور ان کا علمی اور فکری شعور کمزور ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اب انہیںسچائی سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی اور وہ حقیقت سے بہرے اور اندھے ہو جاتے ہیں۔ مندرجہ ذیل آیات میں اسی کی وضاحت کی گئی ہے:

(2:14) اور جب وہ (منافق) اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم (بھی) ایمان لے آئے ہیں، اور جب اپنے شیطانوں سے تنہائی میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم یقیناً تمہارے ساتھ ہیں، ہم (مسلمانوں کا تو) محض مذاق اڑاتے ہیں۔ (15) اللہ انہیں ان کے مذاق کی سزا دیتا ہے اور انہیں ڈھیل دیتا ہے (تاکہ وہ خود اپنے انجام تک جا پہنچیں) سو وہ خود اپنی سرکشی میں بھٹک رہے ہیں۔ (16) یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی لیکن ان کی تجارت فائدہ مند نہ ہوئی اور وہ (فائدہ مند اور نفع بخش سودے کی) راہ جانتے ہی نہ تھے۔ (17) ان کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جس نے (تاریک ماحول میں) آگ جلائی اور جب اس نے گرد و نواح کو روشن کر دیا تو اللہ نے ان کا نور سلب کر لیا اور انہیں تاریکیوں میں چھوڑ دیا اب وہ کچھ نہیں دیکھتے۔ (18) یہ بہرے، گونگے (اور) اندھے ہیں پس وہ (راہِ راست کی طرف) نہیں لوٹیں گے۔

3۔ایمان کا انکار کرنے والے کافر: کافر وہ خود غرض  اور مطلب پرست انسان ہے جو یہ مانتا ہے کہ اس دنیاوی زندگی کا حقیقی مقصد زیادہ سے زیادہ فائدہ اور لطف اندوزی کرنا ہے اور اس کے لیے جو بھی راستہ اچھا لگے اختیار کر لیا جائے۔ سچائی، انصاف اور رحم دلی سے حقیقی طور پر اسے کوئی مطلب نہیں ہوتا،بلکہ ان تمام باتوں سے اسے صرف اسی حد تک مطلب ہوتا ہےکہ جب تک اس کا مفاد پورا ہوتا رہے۔وہمتکبر ہوتا ہے اور دوسروں سے حسد بھی کرتا ہے۔وہ اس دنیاوی زندگی میں  طاقت، دولتاور تمام اچھی چیزیں حاصل کرنا چاہتا ہے۔اور اس کے لیے  وہ تمام  اخلاقی باتوں کی دعوت کو مسترد کر دیگا۔حسد اور تکبر کی بنیاد پر رسولوںکا انکار کرتا ہے اور ان کے  پیغامات کو اس لیے مسترد کرتا ہے  کہ وہ اس کی منشاء کے خلاف ہیں۔وہ پوری سرگرمی کے ساتھ اپنے عمل کے ذریعہ رسول اور ان کے  پیغام دونوں کی مزاحمت کرتا ہے اور وہ ان کی مخالفت اور مزاحمت میں اتنا جری ہو جاتا ہے کہ وہ ان کے ییغامات سے  مکمل طور پر بہرا اور اندھا بن جاتا ہے۔ مندرجہ ذیل آیات میں ان کی تفصیل پیش کی گئی ہے:

(17:94) اور (ان) لوگوں کو ایمان لانے سے اور کوئی چیز مانع نہ ہوئی جبکہ ان کے پاس ہدایت (بھی) آچکی تھی سوائے اس کے کہ وہ کہنے لگے: کیا اﷲ نے (ایک) بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔

سب سے پہلے لوگ دوسروں سے تکبر اور حسد کی بنیاد پر ہدایت کا انکار کرتے ہیں۔

(14: 3) وہ لوگ ہیں جو دنیوی زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں زیادہ پسند کرتے ہیں اور (لوگوں کو) اﷲ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس (دینِ حق) میں کجی تلاش کرتے ہیں۔ یہ لوگ دور کی گمراہی میں (پڑ چکے) ہیں۔

(16:22) تمہارا معبود، معبودِ یکتا ہے، پس جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منکر ہیں اور وہ سرکش و متکبّر ہیں۔

فوری طور پر احسان مندی کا خواہاں انسان اس دنیا کی زندگی سے محبت کرتا ہے اور اس طرح کے انسانکے لیے آخرت کے وعدے  بہت دور، غیر یقینی اور شاید باطل معلوم ہوتے ہیں۔یہ حقیقت کہ اس نے غیر اخلاقی ذرائع سے بہت کچھ حاصل کر لیا ہے اور یہ حقیقت کہ اسے یہ لگتا ہے کہ موجودہ طرز زندگی میں کوئی بھی تبدیلی اس کی طاقت اور اس کی دولت کے لیے فوری طور پر نقصان دہ ہوگی، اس کے لیے سچائی کے راستے میں ایک روکاوٹ بن جاتی ہے۔

سورہ 102

(1)تمہیں کثرتِ مال کی ہوس اور فخر نے (آخرت سے) غافل کر دیا۔

(2) یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے۔

(3)ہرگز نہیں! (مال و دولت تمہارے کام نہیں آئیں گے) تم عنقریب (اس حقیقت کو) جان لو گے۔

(4) پھر (آگاہ کیا جاتا ہے :) ہرگز نہیں! عنقریب تمہیں (اپنا انجام) معلوم ہو جائے گا!

(5) ہاں ہاں! کاش تم (مال و زَر کی ہوس اور اپنی غفلت کے انجام کو) یقینی علم کے ساتھ جانتے (تو دنیا میں کھو کر آخرت کو اس طرح نہ بھولتے)

(6) تم (اپنی حرص کے نتیجے میں) دوزخ کو ضرور دیکھ کر رہو گے!

(7)پھر تم اسے ضرور یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے!

(8) پھر اس دن تم سے (اﷲ کی) نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا ۔

(2:6) بیشک جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے ان کے لئے برابر ہے خواہ آپ انہیں ڈرائیںیا نہ ڈرائیں، وہ ایمان نہیں لائیں گے (7) اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مُہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑ گیا) ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے۔

جب اللہ یہ فرماتا ہے کہ اللہ گنہگاروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے تو اس سے  مراد اللہ کا قانون فطرت ہے جس کے مطابق وہ متکبر انسان جو تکبر اور غرور کی بنا پر دوسروں کو نظر انداز کرتا ہے  اور صرف فوری طور پر احسان مندی میں دلچسپی رکھتا ہے، جو خود غرض ہے، اور جو سچائی اور عقلمندی کی آواز کو دباتا ہے اس کے علاوہ ہر بات کو سمجھنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے جس سے فوری طور پر اس کی تعریف و توصیف ہوگویا کہ  اس کے دل پر ایک مہر لگ گئی ہو۔ "اور اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں" (3:117، 9:70)۔

6:12 جنہوں نے اپنی جانوں کو (دائمی) خسارے میں ڈال دیا ہے سو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

(6:108) اور (اے مسلمانو!) تم ان کو گالی مت دو جنہیںیہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں پھر وہ لوگ جہالت کے باعث ظلم کرتے ہوئے اللہ کی شان میں دشنام طرازی کرنے لگیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر فرقہ کے لئے ان کا عمل مرغوب کر رکھا ہے ، پھر سب کو اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ انہیں ان اعمال کے نتائج سے آگاہ فرما دے گا جو وہ انجام دیتے تھے۔

انہوں نے جان بوجھ کر خود اپنی مرضی سے برائی کی طرف مائل ہو کر اور نیکی کو مسترد کر کےاپنے اندر موجود نیکی کرنے کی تمام صلاحیتوں کو کھو دیا ہے۔ اس طرح کے لوگ کبھی ایمان نہیں لائیں گے اور اپنے کفر پر خوشی محسوس کریں گے اور مومنوں کو بیوقوف سمجھیں گے اور خود کو عقلمند۔

لفظ کافر قرآن مجید میں ایمان کی ایک غیر جانبدار اصطلاح ہے۔ کافر کوئی مسلمان، عیسائی، یہودی، مشرک یا کسی دوسرے مذہب کا ماننے والا شخص بھی ہو سکتا ہے۔ محمد پیکتھال کا کہنا ہے کہ: "میں نے قرآن میں (لفظ کافر کے) دو معانی پائے لیکن جیسے ہی ہم الہی نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ایک ہو جاتے ہیں۔سب سے پہلے کافر وہ ہے جو  کسی بھی مذہب کا پیروکار نہ ہو۔وہ اللہ کی خیر اندیش مرضی اور مدعا کے خلاف ہوتا ہے لہٰذا، وہ تمام مذاہب کی صداقت کا انکار کرنے والا ہے، وحی الہی کی حیثیت سے  تمام آسمانی صحائف کا منکر ہے اور اس کا کفر اس حد کو پہنچ جاتا ہے کہ وہ ان تمام انبیاء (علیہم السلام)  کی مخالفت پوری سرگرمی کے ساتھ کرتا ہے کہ بلا امتیاز جن کی عزت اور جن کا احترام کرنے کا حکم مسلمانوں کو دیا گیا ہے۔

انسانی اخلاق و کردار کے متعلق خدا کے قوانین کی تفہیم

علمی اور فکری نا ہم آہنگی کا کردار

فلسفی الفریڈ نارتھ وائٹ ہیڈ ان نے 1925 میں  اپنی کتاب"سائنس اور جدید دنیا" میں کہا ہے: " ایک [قائم بالذات] نظریہ تلاش کرنا کافی آسان ہے۔بشرطیکہ آپ اپنے نصف  شواہد کو نظرانداز کرنے پر قانع ہو جائیں۔ سچائی کے حصول کے لیے درکار اخلاقی مزاج میں تمام شواہد کو اپنے حساب میں رکھنے کا ایک غیر متزلزل عزم بھی شامل ہے۔ "

بہت سے ایسے لوگ ہیں جو متعلقہ شواہد میں سے نصف کو نظرانداز کرنے میں ایک غیر متزلزل عزم کا اظہار کرتے ہیں!

نفسیات کی اصطلاح میں اسے تجاہل عارفانہ کہا جاتا ہے جس میں ہم صرفانہیں حقائق پر توجہ دیتے ہیں جن سے ہمارا مفاد حاصل ہوتا ہے۔اور جو شواہد ہمارے نظریہ کے خلاف ہوتے ہیں اور اس میں کسی خلل کا سبب بنتے ہیں انہیں علمی اور فکری نا ہم آہنگی کہا جاتا ہے۔علمی اور فکری نا ہم آہنگی کے ساتھ نمٹنے کا ایک سب سے دیانتدارطریقہ مکمل حقائق کو نظر میں رکھتے ہوئے اپنی رائے اور اپنے نظریہ پر نظر ثانی کرنا ہے۔اور اس کا غیر  دیانتدار طریقہ شواہد کو نظرانداز کرنا اور انہیں غلط ثابت کرنا یا مکمل طور پر ان شواہد کو نظرانداز کرنا ہے جن سے ہمارا مفاد پورا نہیں ہوتا۔

ہر انسان ایک ہی سطح پرعلمی اور فکری نا ہم آہنگی محسوس نہیں کرتا ہے۔جن لوگوں کواپنی  زندگی میں مستقل مزاجی اور یقین کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے انہیں عام طور پر ان لوگوں کے مقابلے میں اسعلمی اور فکری نا ہم آہنگیکے اثرات زیادہ محسوس ہوتے ہیں اس طرح کی مستقل مزاجی کی ضرورت کم ہوتی ہے۔جن لوگوں کے پاس علمی اور فکری نا ہم آہنگی سے دیانت داری کے ساتھ نمٹنے کی تربیت نہیں ہوتی ہے وہ جھوٹ کے عادی ہو جاتے ہیں اور انہیں کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا ہے۔انہیں لوگوں کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ:

(2:16) یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی لیکن ان کی تجارت فائدہ مند نہ ہوئی اور وہ (فائدہ مند اور نفع بخش سودے کی) راہ جانتے ہی نہ تھے، (17) ان کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جس نے (تاریک ماحول میں) آگ جلائی اور جب اس نے گرد و نواح کو روشن کر دیا تو اللہ نے ان کا نور سلب کر لیا اور انہیں تاریکیوں میں چھوڑ دیا اب وہ کچھ نہیں دیکھتے۔ (18) یہ بہرے، گونگے (اور) اندھے ہیں پس وہ (راہِ راست کی طرف) نہیں لوٹیں گے۔

جنہیں  علمی اور فکری نا ہم آہنگی کو دبانے کا ہنر معلوم ہے وہ کسی بھی مسئلے پر اپنے موقف کو تبدیل کر لیں گے اس سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آگے چل کر وہ غلط ثابت ہو جائے۔اور ایسا اس لیے ہے کہ ان کا  موقف کسی معروضی تجزیہ پر مبنی نہیں ہے اور کسی بھی صورت میں ان لوگوں کے لیے حقیقت اہم نہیں ہے۔وہ صرف اپنے ذاتی مفاد کے بتکی عبادت کرتے ہیں۔ان کا فخر اور تکبر انہیں اپنے موقف کو تبدیل کرنے سے روکتا ہے اگر چہ وہ غلط ہی کیوں نہ ثابت ہو جائیں۔ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن کا فرمان ہے کہ:

(6:109) بڑے تاکیدی حلف کے ساتھ اللہ کی قَسم کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی (کھلی) نشانی آجائے تو وہ اس پر ضرور ایمان لے آئیں گے۔ (ان سے) کہہ دو کہ نشانیاں توصرف اﷲ ہی کے پاس ہیں، اور (اے مسلمانو!) تمہیں کیا خبر کہ جب وہ نشانی آجائے گی (تو) وہ (پھر بھی) ایمان نہیں لائیں گے۔

(110) اور ہم ان کے دلوں کو اور ان کی آنکھوں کو (ان کی اپنی بدنیتی کے باعث قبولِ حق) سے (اسی طرح) پھیر دیں گے جس طرح وہ اس (نبی) پر پہلی بار ایمان نہیں لائے (سو وہ نشانی دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے) اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں (ہی) چھوڑ دیں گے کہ وہ بھٹکتے پھریں۔

پہلی مثال میں جس چیز نے انہیں ایمان لانے سے روکا ہے اس کی سوچ پر اس کا مسلسل غلبہ رہے گا اور وہ ایمان نہیں لائیں گے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کے پاس کیا کیا  نشانیاں بھیجی جا رہی ہیں۔ایسا اس لئے ہے کہ گزشتہتمام مواقع پر جان بوجھ کر سچائی سے انکار نے ان کی سوچ و فکر کو آہستہ آہستہ اور مکمل طور پر گم گشتہ کر دیا ہے۔

(111) اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے اتار دیتے اور ان سے مُردے باتیں کرنے لگتے اور ہم ان پر ہر چیز (آنکھوں کے سامنے) گروہ در گروہ جمع کر دیتے وہ تب بھی ایمان نہ لاتے سوائے اس کے جو اﷲ چاہتا اور ان میں سے اکثر لوگ جہالت سے کام لیتے ہیں۔

(112) اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے انسانوں اور جِنّوں میں سے شیطانوں کو دشمن بنا دیا جو ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی ہوئی (چکنی چپڑی) باتیں (وسوسہ کے طور پر) دھوکہ دینے کے لئے ڈالتے رہتے ہیں، اور اگر آپ کا ربّ (انہیں جبراً روکنا) چاہتا (تو) وہ ایسا نہ کر پاتے، سو آپ انہیں (بھی) چھوڑ دیں اور جو کچھ وہ بہتان باندھ رہے ہیں۔

(113) اور (یہ) اس لئے کہ ان لوگوں کے دل اس (فریب) کی طرف مائل ہو جائیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور (یہ) کہ وہ اسے پسند کرنے لگیں اور (یہ بھی) کہ وہ (انہی اعمالِ بد کا) ارتکاب کرنے لگیں جن کے وہ خود (مرتکب) ہو رہے ہیں۔

(114) فرما دیجئے:) کیا میں اﷲ کے سوا کسی اور کو حاکم (و فیصل) تلاش کروں حالانکہ وہ (اﷲ) ہی ہے جس نے تمہاری طرف مفصّل (یعنی واضح لائحہ عمل پر مشتمل) کتاب نازل فرمائی ہے، اور وہ لوگ جن کو ہم نے (پہلے) کتاب دی تھی (دل سے) جانتے ہیں کہ یہ (قرآن) آپ کے رب کی طرف سے (مبنی) برحق اتارا ہوا ہے پس آپ (ان اہلِ کتاب کی نسبت) شک کرنے والوں میں نہ ہوں۔

(115) اور آپ کے رب کی بات سچائی اور عدل کی رُو سے پوری ہو چکی، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں، اور وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔

یہاں ان الفاظ سے مراد اللہ کے قوانین ہیں جنہیں کوئی تبدیل نہیں کر سکتا اور جس کے ذریعے اللہ انصاف کو یقینی بناتا ہے۔

(116) اور اگر تو زمین میں (موجود) لوگوں کی اکثریت کا کہنا مان لے تو وہ تجھے اﷲ کی راہ سے بھٹکا دیں گے۔ وہ (حق و یقین کی بجائے) صرف وہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں اور محض غلط قیاس آرائی (اور دروغ گوئی) کرتے رہتے ہیں۔

(117) بیشک آپ کا رب ہی اسے خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا ہے اور وہی ہدایتیافتہ لوگوں سے (بھی) خوب واقف ہے۔

ان آیت میں راہ حق سے  بھٹکےہوئےاور راہ ہدایت پر چلنے والے افراد کی خصلتوں کا بیان ہے ۔

تکبر اور ایمان کا انکار

(7:146) میں اپنی آیتوں (کے سمجھنے اور قبول کرنے) سے ان لوگوں کو باز رکھوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں اور اگر وہ تمام نشانیاں دیکھ لیں (تب بھی) اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور اگر وہ ہدایت کی راہ دیکھ لیں (پھر بھی) اسے (اپنا) راستہ نہیں بنائیں گے اور اگر وہ گمراہی کا راستہ دیکھ لیں (تو) اسے اپنی راہ کے طور پر اپنالیں گے، یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے غافل بنے رہے۔

کسی شخص کا اس حد تک تکبر کرنا کہ اسے حق  کی پرواہ ہی نہ رہے اللہ کی اعلانیہ نافرمانی ہے۔ ایسے لوگ نہ تو خدا پر ایمان لائیں گے اور نہ ہی کبھی سچ کا راستہ اختیار کریں گے۔

خدا کی ہدایت کس کے لیے  ہے؟

(8:23) اور اگر اللہ ان میں کچھ بھی خیر (کی طرف رغبت) جانتا تو انہیں (ضرور) سنا دیتا، اور (ان کی حالت یہ ہے کہ) اگر وہ انہیں (حق) سنا دے تو وہ (پھر بھی) روگردانی کر لیں اور وہ (حق سے) گریز ہی کرنے والے ہیں۔

یہ خدا کا ایک فطری قانون ہے کہ وہ  تمام لوگوں جنکے اندر کچھ بھی اچھائی ہے وہ اس کے  پیغام کی طرف مائل ہوں گے اور جنکے اندر کچھ بھی اچھائی نہیں ہے اگر خدا ان تک اپنا پیغام پہونچائے گا تب بھی وہ اپنے  کفر پر ہی لوٹ کر آئیں گے۔

(10:32) پس یہی (عظمت و قدرت والا) اللہ ہی تو تمہارا سچا رب ہے، پس (اس) حق کے بعد سوائے گمراہی کے اور کیا ہوسکتا ہے، سو تم کہاں پھرے جارہے ہو، (33) اسی طرح آپ کے رب کا حکم نافرمانوں پر ثابت ہوکر رہا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

حق اور باطل کے درمیان فرق واضح ہو چکا ہے اور اب جو کوئی بھی سچائی سے منہ پھیرے گا وہ واضح طور پر نافرمان شمار کیا جائے گا۔  اللہ کا قانون (اللہ کا کلام) یہ ہے کہ جو  شخص بغاوت میں سچائی سے منہ پھیر لے گا وہ ایمان نہیں لائے گا۔

کیا گمراہی میں پڑااور باطل پر زندگی گزارنے والا انسان خود اپنی زندگی بدل سکتاہے؟

ایسے شخص کو پہلے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ میں جس راستے پر ہوں وہ غلط ہے اور اس کے بعد اسے اپنے اندر تبدیلیپیدا کرنے اور اس کے لیے خدا کی مدد طلب کرنےکا اخلاقی فیصلہ بھی کرنا ضروری ہے۔اسے یہ  احساس ہونا چاہئے کہ بالکل بنیادی شکل میں دیانت داری کے ساتھ علمی اور فکری نا ہم آہنگی سے نمٹنےکا طریقہ جاننے سے انکار ایک جھوٹ اور خود فریبی ہے۔میٹزاور ان کے ساتھیوں کو (2008) میں یہ محسوس ہوا کہ بیروں بین افراد پر علمی اور فکری نا ہم آہنگی کے منفی اثرات مرتب ہونے کے امکانات کم ہیں اور ان کے لیے اپنے ذہن و فکر و بدلنے کے امکانات بھی کم ہیں۔جبکہ دوسری طرفدروں بین افراد علمی اور فکری نا ہم آہنگی کے ساتھ زیادہ دنیانت داری سے پیش آتے ہیں۔یہ کوئی مشکل ترین امر نہیں ہے اس لیے کہ دروں بین افرادخود اپنی شخصیت پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور خود سے جھوٹ بولنا زیادہ مشکل ہے اوربیروں بین افراد کی توجہ زیادہ اس بات پر ہوتی ہے کہ دوسرے لوگ ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔بیروں بین جو کچھ وہ کہتے ہیں یا کرتے ہیں ان کے ہم مجلس، ساتھیاور ان کے چاپلوساس پر ان کی تعریف کے پل باندھ دیتے ہیں۔اور اگر کچھ  لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ان کے جھوٹ کو ان کے سامنے رکھتے  ہیں اور ان کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں تو انہیں آسانی کے ساتھ دشمن مان لیا جاتا ہےاور ان پر جھوٹ اور بہتان کی بارش کر دی جاتی ہے۔اگر ان کے جھوٹ میں ان کی حمایت کرنے والے لوگ موجود ہیں تو یہ لوگ کبھی نہیں بدلیں گے۔

 شعور نفس  اور تبدیلی کی خواہش کاخود کو تبدیل کرنے میں کلیدی کردار  ہے۔جب آپ کسی معاملے میں اپنے موقف کے خلاف کسی معلومات کو نظر انداز کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کو اس کا علم ہوتا ہے۔ سقراط نے کہا تھا کہ  "ایکبے پرکھی ہوئیزندگی گزارنے کے قابل نہیں ہوتی۔" اپنے اند رشعور نفس کی بیداری پیدا کریں اس لیے کہ یہی تبدیلی کی طرف سب سے  پہلا قدم ہے۔

جب آپ کی خواہش اور آپ جسے حق سمجھتے ہیں ان  کے درمیان کوئی تضاد پیدا ہوتا ہے تب آپ پورے شعور و آگہی کے ساتھ صحیح راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔  ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہیں، ان کے لئے معذرت خواہ ہوتے ہیں اور اس کے بعد آگے بڑھنا سیکھتے ہیں۔ پیدائشی طور پر جھوٹے لوگوں کا سامنا جب ایسے شواہد کے ساتھ ہوتا ہے جو انہیںغلط ثابت کرتے ہیں تو وہ انہیں "گمراہ کن" قرار دیتے ہیں۔ ان کے لئے کڑوی سچائی ایک دھوکہ ہے اور آرام دہ جھوٹ ہی ان کے لیے سچائی ہے۔

جو لوگ اخلاقیات کے بارے میں بات کرتے ہیں اور  'ضمیر' یا دل کی آواز کی بات کرتے ہیں جو کہ علمی اور فکری نا ہم آہنگی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے اور جس کا تجربہ ہمیں اس وقت ہوتا ہے جب ہمارے اعمال سچائی کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوتے ہیں۔ ہم ان اقدار کے ساتھ پیدا نہیں ہوئے  ہیں بلکہ یہ وہ اقدار ہیں جنہیں ہم قبول کرتے ہیں۔ اس طرح کا شعور پیدا کرنے  کے لئے قرآن کا مطالعہ کیا جائے تاکہ غلط اور  صحیح کے درمیان خط امتیاز کھینچا جائے۔

کیا دعامعاون ہو سکتی ہے؟

دعاخود کی شخصیت کو تبدیل کرنے میں سب سے زیادہ مؤثر ہے۔ خدا پر ایمان لانااس میں معاون تو  ہے لیکن اگر دعا کو روز مرہ کی  قرارداد یا وعدہ میں تبدیل کر دیا جائے تو یہ اس قسم کے ایمان کے بغیر بھی معاون ہو سکتی ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعامیری ہر صبح کا معمول ہے:

اے اللہ! میرے دل کو نفاق سے پاک فرما دے،

میرے طرز عملسے ریاکاری کو دور فرما دے،

جھوٹ سے میری زبان کو پاک فرما دے،

اور میری آنکھوںکو خیانت سے  پاک فرما دے،

بے شک تیری نظروںمیں غداروں کی پہچان ہے

اور جو کچھ دلوں میں راز پوشیدہ ہے اس پر بھی تیری نظر ہے۔

قرآن انسانی رویے کے قوانین کو بیان کرتا ہے لیکن خدا ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی سنت بھی بیان فرماتا ہے۔ایسا اس لیے ہے کہ خدا کے یہ قوانین اٹل اور ناقابل تغیر ہیں جوسختی کے ساتھ مسلسل اور غیر متبدل انداز میں رواں دواں ہیں۔ لوگ اسے لغویانداز میں سمجھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اگر خدا لوگوں کو گمراہ ہونے کی اجازت دیتا ہے یا ان کے دلوں پر مہر لگاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ "بہرے، گونگے اور اندھے" ہو جاتے ہیں تو پھر اسے  کس طرح اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے ؟ یہ بھی نفس کا فریب ہے اور اس اخلاقی نظام زندگی کی ذمہ داری لینے کی ناقابلیت کی علامت ہے جس کا انتخاب انہوں نے خود  کیا ہے جبکہ خدا مسلسل انہیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ:

(4: 120) شیطان انہیں (غلط) وعدے دیتا ہے اور انہیں (جھوٹی) اُمیدیں دلاتا ہے اور شیطان فریب کے سوا ان سے کوئی وعدہ نہیں کرتا۔

(35: 5) اے لوگو! بیشک اﷲ کا وعدہ سچا ہے سو دنیا کی زندگی تمہیں ہرگز فریب نہ دے دے، اور نہ وہ دغا باز شیطان تمہیں اﷲ (کے نام) سے دھوکہ دے۔ (6) بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے سو تم بھی (اس کی مخالفت کی شکل میں) اسے دشمن ہی بنائے رکھو، وہ تو اپنے گروہ کو صرف اِس لئے بلاتا ہے کہ وہ دوزخیوں میں شامل ہو جائیں۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/naseer-ahmed,-new-age-islam/who-are-those-who-will-believe-and-those-who-will-not?/d/108910

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/naseer-ahmed,-new-age-islam/who-are-those-who-will-believe-and-those-who-will-not?--کون-ایمان-لانے-والے-ہیں-اور--کون-نہیں؟/d/108960

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..