New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 10:10 PM

Urdu Section ( 26 Sept 2017, NewAgeIslam.Com)

What Is Kufr And Who Is A Kafir In The Quran? قرآن مجید کے مطابق کفر کیا ہے اور کافر کون ہیں؟

 

 

 

نصیر احمد، نیو ایج اسلام

5 اگست 2015

[قرآن مجید کی روشنی میں کافر اور کفر کے عنوان پر 2015 کے اوائل میں نیو ایج اسلام پر شائع شدہ مضامین کی سیریز کی مکمل اور نظر ثانی شدہ تحریر]

فہرست

3 قرآن مجید کی روشنی میں کافر کون ہے؟

خلاصہ: 3

1۔ کافر، مشرک اور بت پرست ایک جیسے نہیں ہیں 4

1.1 کن لوگوں کو قرآن مجید میں کافر کہا گیا ہے؟ 5

1.1.1 موسی (علیہ السلام) کو فرعون نے کافر کہا! 5

1.1.2 مسلمانوں کے بعض اعمال یا رویوں کو قرآن میں کافروں کا رویہ قرار دیکر ایسے عادات و اطوار اور رویوں کو اپنانے کے خلاف انہیں خبردار کیا گیا ہے 6

1.1.3 مسلمانوں کے درمیان موجود منافقین کا بیان 7

1.1.4 اہل کتاب یعنی یہودیوں کا بیان 8

1.1.5 ابلیس یا شیطان کا بیان 9

1.1.6 غیر مسلموں کے درمیان موجود کافروں کے رویے 9

1.1.6.1 سرکشی اور گستاخی میں اللہ کی آیتوں کو مسترد کرنے والوں، ان کا تمسخر کرنے اور مذاق اڑانے والوں کا بیان 9

1.1.6.2 جو مومنوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں 10

1.1.6.3 مومنوں کے ساتھ جنگ ​​چھیڑنے والے لوگ 10

1.2 ان کا بیان جو کافر نہیں ہیں 11

1.3 مشرکین 12

1.4 بت پرستی 12

1.5 خلاصہ 13

2۔ مسلم اور غیر مسلموں کے تعلقات 15

2.1 مسلم اور کافر کے تعلقات 15

2.2 مسلم غیر مسلم کے تعلقات 16

2.2.1 مشرکین کے ساتھ شادی 16

2.2.2 اہل کتاب کے ساتھ شادی 16

2.2.3 ان غیر مسلموں کے ساتھ رشتہ جو کافر نہیں ہیں 17

2.3 ان آیتوں کا ذکر جن میں مسلمانوں کو لڑنے کے لیے کہا گیا ہے 17

سورہ نمبر 9 کی آیتیں 19

2.4 سیکشن 2 کا خلاصہ 21

3 کیوں کفر ایک اضافی تصور ہے اور شرک، بت پرستی وغیرہ کے معانی متعین اور مختص ہیں 22۔

3.1 کفر ایک اضافی تصور 22

3.2 مشرکین مکہ کے لئے کفر کیا تھا؟ 23

3.3 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پیغامات کا انکار کرنا کب کفر ہوتا ہے؟ 24

3.4 اللہ ان پہلی نسلوں کا انصاف کسے کرے گا جن کے پاس کوئی رسول نہیں بھیجا گیا تھا؟ 25

4۔ قرآن مجید کی روشنی میں کافر کون ہے؟ کفر کی تعریف۔ 26

4.1 کفر کی جہتیں اور اس کے اقسام 26

دنیاوی معاملات سے متعلق کفر 26

خدائی احکام یا روحانی معاملات سے متعلق کفر 26

4.2 کفر کی سزا 27

4.3 انسانی حقوق 27

4.3.1 مذہب اور ضمیر کی آزادی کا حق 27

4.3.2 عدل، انصاف اور غیر جارحیت پسندی 28

4.4 تبلیغ کے اصول و قواعد29

4.5 سنی فقہی مذہب میں کفر یا کافر کے تصور کا تاریخی پس منظر 29

4.5.1 مسلمان یا کافر: ایک حتمی سوال؟ 29

4.6 سنی فقہی مذہب کا مسئلہ 32

4.7سنی فقہی مذہب کے سنگین مضمرات 34

....................................................

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 ‘‘(39:32) سو اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور سچ کو جھٹلائے جبکہ وہ اس کے پاس آچکا ہو، کیا کافروں کا ٹھکانا دوزخ میں نہیں ہے؟’’۔

(33) اور جو شخص سچ لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ ہی تو متقی ہیں۔

(34) اُن کے لئے وہ (سب نعمتیں) ان کے رب کے پاس (موجود) ہیں جن کی وہ خواہش کریں گے، یہی محسنوں کی جزا ہے۔

(35) تاکہ اللہ اُن کی خطاؤں کو جو انہوں نے کیں اُن سے دور کر دے اور انہیں ان کا ثواب اُن نیکیوں کے بدلہ میں عطا فرمائے جو وہ کیا کرتے تھے۔

اللہ ہماری رہنمائی فرمائے اور ہمیں سچائی کو اجاگر کرنے اور اس کی حمایت کرنے کی طاقت عطا فرمائے۔ اللہ جل شانہ اپنے وعدے کے مطابق ہمیں ہماری کوششوں کے لیے اپنی رحمتوں اور نعمتوں سے نوازے اور ان باتوں کو اللہ کی جانب منسوب کر کے ہمیں کلام اللہ کی توہین سےمحفوظ رکھے جو اس کا کلام نہیں ہے۔

خلاصہ: یہ مضمون اسلامی انتہا پسندی کے فروغ کے تناظر میں اہمیت و افادیت کا حامل ہے۔ لفظ ‘‘کافر’’ کی تعریف سے باہر کی دنیا کے ساتھ ایک مسلمان کا رشتہ متعین ہوتا ہے۔ سنی مکتبہ فکر میں اس لفظ کی تعریف متعین ہے اور اس کا استعمال عام طور پر ان تمام لوگوں کے لیے کیا جاتا ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار نہیں ہیں۔ قرآن میں کافروں کے ساتھ دوستی کرنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے لیکن قرآن میں ایسی بھی دیگر آیات ہیں جن میں مسلمانوں کو ان کافروں کے ساتھ احسان اور انصاف کا معاملہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو ان کے دشمن نہیں ہیں۔ لہٰذا، یہ ایک مسلمان کے اوپر ہے کہ وہ غیر مسلموں کے ساتھ کافروں جیسا سلوک کرے اور انہیں اپنا 'دشمن' سمجھے یا انہیں اپنا دشمن نہ سمجھے، یہیں سے ایک اعتدال پسند اور ایک انتہا پسند کے درمیان ایک خط فاصل پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ایک اعتدال پسند مسلمان کے لیے انتہا پسند نظریہ کی تردید کرنا مشکل ہے۔

قرآن اس بات کو سمجھنے کے لیے معلومات کا ایک خزانہ ہے کہ لفظ کافر اور کفر کا استعمال کس طرح کیا گیا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سنی مکتبہ فکر نے تمام غیر مسلموں کو کافر قرار دیکر ایک شدید غلطی کی ہے، اس لیے کہ یہ قرآن کا رویہ نہیں ہے۔ جن آیات کا تعلق دنیاوی معاملات سے ہے ان میں اس لفظ کا استعمال ایک فطری عقیدے کے طور پر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر بخل کفر کی ایک شکل ہے جو کہ واضح طور پر کسی کے عقیدے سے آزاد ایک رویہ اور عادت ہے۔ ایسے بہت سارے "مسلمان" ہیں جو بخل کرتے ہیں اور ایسے بہت سارے غیر مسلم بھی ہیں جو کھل کر صدقہ و خیرات کرتے ہیں۔

قرآن کی جن آیتوں میں لفظ کفرو کا استعمال کیا گیا ہے، ان میں کافر انہیں لوگوں کو سمجھا جانا چاہیے جن کے رویوں کا ذکر ان آیتوں میں ہے، یونہی کسی بنیاد کے بغیر کسی شخص اور کسی بھی قوم کو کافر نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ جن آیتوں کا تعلق ایمانیات اور عقائد سے ہے ان میں اس اصطلاح کا استعمال اضافی حالت میں کیا گیا ہے۔ایک یہودی کے لئے سبت کی خلاف ورزی کرنا کفر تھا جس کے لئے اللہ نے یہودیوں کو سزا دی لیکن یہ غیر یہودیوں کے لئے کفر نہیں ہے۔ ان حالات کی درست تفہیم جن میں لفظ کفر اور اس سے متعلق دوسرے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے دوسرے افراد کے عقیدے یا مذہب کی بنیاد پر اس لفظ کو ناقابل نفاذ بنا دے گی۔ اس کا تاثر مسلمانوں کے علاوہ باقی پوری دنیا کو ‘‘غیر دشمن’’ ثابت کرنا ہے جب تک کہ اس کا برخلاف ثابت نہ ہو جائے۔ یہاں تک کہ قرآن دشمنوں کے تئیں بھی حتی المقدور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اس مضمون میں 'غیر مسلموں' کے ساتھ کافر یا دشمنوں جیسا سلوک کیے جانے کے خلاف ضروری مذہبی دلیل فراہم کی گئی ہے ، جس کی بنیاد پر انتہا پسندی کے لیے مذہبی حمایت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

کافر، مشرک اور بت پرست ایک جیسے نہیں ہیں

یہ قرآن کی عظمت ہے کہ اس وقت زیر بحث موضوع کی دلیل ایک مختصر سورت میں موجود ہے، جو ہم میں سے بیشتر لوگوں کو یاد ہو گی! اور اس کے باوجود مسلمانوں کو یہ لگتا ہے کہ کافر، مشرک اور بت پرست جیسے الفاظ ایک ہی ہیں!

سورہ 109 الکافرون:

(109:1)  آپ فرما دیجئے: اے کافرو!،

2  میں ان (بتوں) کی عبادت نہیں کرتا جنہیں تم پوجتے ہو،

3  اور نہ تم اس (رب) کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں،

4  اور نہ (ہی) میں (آئندہ کبھی) ان کی عبادت کرنے والا ہوں جن (بتوں) کی تم پرستش کرتے ہو،

5  اور نہ (ہی) تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس (رب) کی میں عبادت کرتا ہوں،

6  (سو) تمہارا دین تمہارے لئے اور میرا دین میرے لئے ہے،

یہ ابتدائی مکی سورت ہے جس کا نزول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت مدینہ سے 8 یا 9 سال قبل ہوا تھا۔ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے مشن کے خلاف دشمنی پر مبنی اس مخالفت سے اچھی طرح واقف ہیں جس کا آغاز ابو جہل، ابو لہب، ولید بن مغیرہ جیسے لوگوں نے کیا تھا۔ اس سورت میں بالعموم مشرکین مکہ سے نہیں بلکہ ان کفار سے خطاب ہے جنہوں نے کھلے عام اسلام کا انکار کیا تھا اور جسمانی طور پر اس کی مخالفت بھی کی تھی۔ اب کافروں کی جگہ مشرکوں کو رکھ کرفرق کا اندازہ لگائیں! صرف انہیں کفار کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ ان کی عبادت نہیں کریں گے جن کی عبادت مسلمان کرتے ہیں، کہ جن کا کفر ثابت ہو چکا ہو۔ اور یہ بات ان مشرکوں کے بارے میں بھی نہیں کہی جا سکتی جن میں سے اکثر نے بعد میں اسلام قبول کر لیا ہو۔ لہٰذا، یہ کہہ دینے کے بعد کہ (تمہارا دین تمہارے لئے اور میرا دین میرے لئے ہے) ہجر سے پہلے باقی 8 یا 9 سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشرکین کو تبلیغ کرنے کے لیے اور کیا بچ گیا تھا؟اگر اللہ کے اس بیان میں کہ (تمہارا دین تمہارے لئے اور میرا دین میرے لئے ہے) مشرکین کے درمیان صرف کافر ہی نہیں بلکہ تمام مشرکین کو شامل سمجھا جاتا تو دشمنان اسلام ضرور اس ظاہری جھوٹ کی طرف اشارہ کرتے۔

یہ سورت اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ اسلام میں"حق" کے پرامن منکروں کے خلاف جنگ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کا پیغام واضح ہے کہ : "تمہارا دین تمہارے لئے اور میرا دین میرے لئے ہے" اور اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ ایک مکی سورت ہے۔ قرآن مجید کی کسی بھی دو آیات کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔

اب اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ قرآن نے کس انداز میں اس لفظ کا استعمال کیا ہے، اس مضمون میں ہر اس آیت کا جائزہ لیا جائے گا جس میں لفظ کافر کا ذکر ہے۔ قرآن میں مشرک، بت پرست اور اس معنیٰ میں استعمال ہونے والے دوسرے الفاظ۔

1.1 قرآن مجید میں جن لوگوں کو کافر کہا گیا ہے؟

1.1.1 موسی (علیہ السلام) کو فرعون نے کافر کہا!

فرعون نے موسی (علیہ السلام) کے لیے لفظ کافر کا استعمال کیا۔

قَالَ أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدًا وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ۔ وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِي فَعَلْتَ وَأَنتَ مِنَ الْكَافِرِينَ

"(26:18) فرعون نے) کہا: کیا ہم نے تمہیں اپنے یہاں بچپن کی حالت میں پالا نہیں تھا اور تم نے اپنی عمر کے کتنے ہی سال ہمارے اندر بسر کئے تھے، اور (پھر) تم نے اپنا وہ کام کر ڈالا جو تم نے کیا تھا (یعنی ایک قبطی کو قتل کر دیا) اور تم ناشکر گزاروں میں سے ہو (ہماری پرورش اور احسانات کو بھول گئے ہو)"

اس آیت میں لفظ کافرین کا مقصد ناشکری، بغاوت، اور زبر دست مخالفت کی خاصیت ظاہر کرنا ہے اور اس کا ایمان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

1.1.2 مسلمانوں کے بعض اعمال کو عمل کفر قرار دیا گیا اور انہیں اس طرح کے رویے کو اپنانے کے خلاف تنبیہ کی گئی ہے۔

لك الرسل فضلنا بعضهم على بعض منهم من كلم الله ورفع بعضهم درجات وآتينا عيسى ابن مريم البينات وأيدناه بروح القدس ولو شاء الله ما اقتتل الذين من بعدهم من بعد ما جاءتهم البينات ولكن اختلفوا فمنهم من آمن ومنهم من كفر ولو شاء الله ما اقتتلوا ولكن الله يفعل ما يريد

(2:253) یہ سب رسول (جو ہم نے مبعوث فرمائے) ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، ان میں سے کسی سے اﷲ نے (براہِ راست) کلام فرمایا اور کسی کو درجات میں (سب پر) فوقیّت دی (یعنی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جملہ درجات میں سب پر بلندی عطا فرمائی)، اور ہم نے مریم کے فرزند عیسٰی (علیہ السلام) کو واضح نشانیاں عطا کیں اور ہم نے پاکیزہ روح کے ذریعے اس کی مدد فرمائی، اور اگر اﷲ چاہتا تو ان رسولوں کے پیچھے آنے والے لوگ اپنے پاس کھلی نشانیاں آجانے کے بعد آپس میں کبھی بھی نہ لڑتے جھگڑتے مگر انہوں نے اختلاف کیا پس ان میں سے کچھ ایمان لائے اور ان میں سے کچھ نے کفر اختیار کیا، (اور یہ بات یاد رکھو کہ) اگر اﷲ چاہتا تو وہ کبھی بھی باہم نہ لڑتے، لیکن اﷲ جو چاہتا ہے کرتا ہے

ا أيها الذين آمنوا أنفقوا مما رزقناكم من قبل أن يأتي يوم لا بيع فيه ولا خلة ولا شفاعة والكافرون هم الظالمون

 (2:254) اے ایمان والو! جو کچھ ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے (اﷲ کی راہ میں) خرچ کرو قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہوگی اور (کافروں کے لئے) نہ کوئی دوستی (کار آمد) ہوگی اور نہ (کوئی) سفارش، اور یہ کفار ہی ظالم ہیں۔

يا أيها الذين آمنوا لا تبطلوا صدقاتكم بالمن والأذى كالذي ينفق ماله رئاء الناس ولا يؤمن بالله واليوم الآخر فمثله كمثل صفوان عليه تراب فأصابه وابل فتركه صلدا لا يقدرون على شيء مما كسبوا والله لا يهدي القوم الكافرين

 (2:264) اے ایمان والو! اپنے صدقات (بعد ازاں) احسان جتا کر اور دُکھ دے کر اس شخص کی طرح برباد نہ کر لیا کرو جو مال لوگوں کے دکھانے کے لئے خرچ کرتا ہے اور نہ اﷲ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ روزِ قیامت پر، اس کی مثال ایک ایسے چکنے پتھر کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو پھر اس پر زوردار بارش ہو تو وہ اسے (پھر وہی) سخت اور صاف (پتھر) کر کے ہی چھوڑ دے، سو اپنی کمائی میں سے ان (ریاکاروں) کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آئے گا، اور اﷲ کافر قوم کو ہدایت نہیں فرماتا۔

الذين يبخلون ويأمرون الناس بالبخل ويكتمون ما آتاهم الله من فضله وأعتدنا للكافرين عذابا مهينا

(4:37) جو لوگ (خود بھی) بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو (بھی) بخل کا حکم دیتے ہیں اور اس (نعمت) کو چھپاتے ہیں جواللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کی ہے، اور ہم نے کافروں کے لئے ذلت انگیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔

يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا الربا أضعافا مضاعفة واتقوا الله لعلكم تفلحون

واتقوا النار التي أعدت للكافرين

(3:130) اے ایمان والو! دو گنا اور چوگنا کر کے سود مت کھایا کرو، اور اللہ سے ڈرا کرو تاکہ تم فلاح پاؤ، (131) اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔

قل أطيعوا الله والرسول فإن تولوا فإن الله لا يحب الكافرين

 (3:32) آپ فرما دیں کہ اﷲ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو پھر اگر وہ روگردانی کریں تو اﷲ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔

رویے کی نفسیاتی رو سے ہم یہ جانتے ہیں کہ سب سے آسان کام ہمارا اپنے طرز عمل کو تبدیل کرنا ہے۔ ایک مدت کے دوران رویوں میں تبدیلی سے ذہنیت میں تبدیلی پیدا ہوتی ہےاور ذہنیت میں یہ تبدیلی عقیدہ یا مذہب کی تبدیلی کا باعث بنتی ہے۔ لہٰذا، ایمان محض اقرار ایمان کا نام نہیں ہے، جیسا کہ قرآن کا فرمان ہے:

(49:14) دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، آپ فرما دیجئے: تم ایمان نہیں لائے، ہاں یہ کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا، اور اگر تم اﷲ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو تو وہ تمہارے اعمال (کے ثواب میں) سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا، بیشک اﷲ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔

لہٰذا، اس بات سے قطع نظر کہ وہ اپنے منہ سے کس مذہب کا اقرار کرتے ہیں ایسے بھی کچھ معمولات اور رویے ہیں کہ جن سے ایمان میں نقص یا کفر کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ یہ معمولات اور رویے فطری ہیں اس لیے کہ یہ ان لوگوں کے درمیان پایا جاتا ہے جو خود کو "مسلمان" کہتے ہیں اور ان لوگوں کے درمیان بھی پایا جاتا ہے جو خود کو "مسلمان" نہیں کہتے۔ مومنوں کو ان معمولات اور رویوں کے خلاف خبردار کیا گیا ہے جن کی وجہ سے انہیں وہ عذاب دئے جائیں گے جو کافروں کے لیے تیار کیے گئے ہیں ، یہ اسی طرح ہے کہ اگر چہ وہ اپنے منہ سے ایمان کا اقرار کرتے ہیں لیکن اپنے معمولات اور رویوں کے ذریعہ ایمان کے فقدان کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔

 1.1.3 مسلمانوں کے درمیان موجود منافقین کا بیان

وإذا لقوا الذين آمنوا قالوا آمنا وإذا خلوا إلى شياطينهم قالوا إنا معكم إنما نحن مستهزؤون

الله يستهزىء بهم ويمدهم في طغيانهم يعمهون

أولئك الذين اشتروا الضلالة بالهدى فما ربحت تجارتهم وما كانوا مهتدين

مثلهم كمثل الذي استوقد نارا فلما أضاءت ما حوله ذهب الله بنورهم وتركهم في ظلمات لا يبصرون

صم بكم عمي فهم لا يرجعون

أو كصيب من السماء فيه ظلمات ورعد وبرق يجعلون أصابعهم في آذانهم من الصواعق حذر الموت والله محيط بالكافرين

(2:14)،اور جب وہ (منافق) اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم (بھی) ایمان لے آئے ہیں، اور جب اپنے شیطانوں سے تنہائی میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم یقیناً تمہارے ساتھ ہیں، ہم (مسلمانوں کا تو) محض مذاق اڑاتے ہیں،

 15     اللہ انہیں ان کے مذاق کی سزا دیتا ہے اور انہیں ڈھیل دیتا ہے (تاکہ وہ خود اپنے انجام تک جا پہنچیں) سو وہ خود اپنی سرکشی میں بھٹک رہے ہیں،

 16     یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی لیکن ان کی تجارت فائدہ مند نہ ہوئی اور وہ (فائدہ مند اور نفع بخش سودے کی) راہ جانتے ہی نہ تھے،

 17     ان کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جس نے (تاریک ماحول میں) آگ جلائی اور جب اس نے گرد و نواح کو روشن کر دیا تو اللہ نے ان کا نور سلب کر لیا اور انہیں تاریکیوں میں چھوڑ دیا اب وہ کچھ نہیں دیکھتے،

 18     یہ بہرے، گونگے (اور) اندھے ہیں پس وہ (راہِ راست کی طرف) نہیں لوٹیں گے،

 19     یا ان کی مثال اس بارش کی سی ہے جو آسمان سے برس رہی ہے جس میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک (بھی) ہے تو وہ کڑک کے باعث موت کے ڈر سے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں، اور اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے

1.1.4 یہودیوں / اہل کتاب کا بیان

ولما جاءهم كتاب من عند الله مصدق لما معهم وكانوا من قبل يستفتحون على الذين كفروا فلما جاءهم ما عرفوا كفروا به فلعنة الله على الكافرين

(2:89) اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے وہ کتاب (قرآن) آئی جو اس کتاب (تورات) کی (اصلاً) تصدیق کرنے والی ہے جو ان کے پاس موجود تھی، حالانکہ اس سے پہلے وہ خود (نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان پر اترنے والی کتاب قرآن کے وسیلے سے) کافروں پر فتح یابی (کی دعا) مانگتے تھے، سو جب ان کے پاس وہی نبی (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اوپر نازل ہونے والی کتاب قرآن کے ساتھ) تشریف لے آیا جسے وہ (پہلے ہی سے) پہچانتے تھے تو اسی کے منکر ہو گئے، پس (ایسے دانستہ) انکار کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہے۔

إن الذين يكفرون بالله ورسله ويريدون أن يفرقوا بين الله ورسله ويقولون نؤمن ببعض ونكفر ببعض ويريدون أن يتخذوا بين ذلك سبيلا

أولئك هم الكافرون حقا وأعتدنا للكافرين عذابا مهينا

 (4:150) اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے وہ کتاب (قرآن) آئی جو اس کتاب (تورات) کی (اصلاً) تصدیق کرنے والی ہے جو ان کے پاس موجود تھی، حالانکہ اس سے پہلے وہ خود (نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان پر اترنے والی کتاب قرآن کے وسیلے سے) کافروں پر فتح یابی (کی دعا) مانگتے تھے، سو جب ان کے پاس وہی نبی (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اوپر نازل ہونے والی کتاب قرآن کے ساتھ) تشریف لے آیا جسے وہ (پہلے ہی سے) پہچانتے تھے تو اسی کے منکر ہو گئے، پس (ایسے دانستہ) انکار کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہے

(151) ایسے ہی لوگ درحقیقت کافر ہیں، اور ہم نے کافروں کے لئے رُسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔

وأخذهم الربا وقد نهوا عنه وأكلهم أموال الناس بالباطل وأعتدنا للكافرين منهم عذابا أليما

 (4:161)اور ان کے سود لینے کے سبب سے، حالانکہ وہ اس سے روکے گئے تھے، اور ان کے لوگوں کا ناحق مال کھانے کی وجہ سے (بھی انہیں سزا ملی) اور ہم نے ان میں سے کافروں کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

إنا أنزلنا التوراة فيها هدى ونور يحكم بها النبيون الذين أسلموا للذين هادوا والربانيون والأحبار بما استحفظوا من كتاب الله وكانوا عليه شهداء فلا تخشوا الناس واخشون ولا تشتروا بآياتي ثمنا قليلا ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون

(5:44) بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور نور تھا، اس کے مطابق انبیاء جو (اﷲ کے) فرمانبردار (بندے) تھے یہودیوں کو حکم دیتے رہے اور اﷲ والے (یعنی ان کے اولیاء) اور علماء (بھی اسی کے مطابق فیصلے کرتے رہے)، اس وجہ سے کہ وہ اﷲ کی کتاب کے محافظ بنائے گئے تھے اور وہ اس پر نگہبان (و گواہ) تھے۔ پس تم (اقامتِ دین اور احکامِ الٰہی کے نفاذ کے معاملے میں) لوگوں سے مت ڈرو اور (صرف) مجھ سے ڈرا کرو اور میری آیات (یعنی احکام) کے بدلے (دنیا کی) حقیر قیمت نہ لیا کرو، اور جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ (و حکومت) نہ کرے سو وہی لوگ کافر ہیں۔

1۔1۔5 ابلیس یا شیطان کا بیان

وإذ قلنا للملائكة اسجدوا لآدم فسجدوا إلا إبليس أبى واستكبر وكان من الكافرين

 (2:34) اور (وہ وقت بھی یاد کریں) جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے انکار اور تکبر کیا اور (نتیجۃً) کافروں میں سے ہو گیا۔

غیر مسلموں کے درمیان موجود کافروں کی خصوصیات

1.1.6.1 سرکشی اور گستاخی میں اللہ کی آیتوں کو مسترد کرنے، ان کا تمسخر کرنے اورمذاق اڑانے والوں کا بیان

وإن كنتم في ريب مما نزلنا على عبدنا فأتوا بسورة من مثله وادعوا شهداءكم من دون الله إن كنتم صادقين

فإن لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التي وقودها الناس والحجارة أعدت للكافرين

(2:23) اور اگر تم اس (کلام) کے بارے میں شک میں مبتلا ہو جو ہم نے اپنے (برگزیدہ) بندے پر نازل کیا ہے تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا لاؤ، اور (اس کام کے لئے بیشک) اللہ کے سوا اپنے (سب) حمائتیوں کو بلا لو اگر تم (اپنے شک اور انکار میں) سچے ہو۔

(2:24) پھر اگر تم ایسا نہ کر سکو اور ہرگز نہ کر سکو گے تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن آدمی (یعنی کافر) اور پتھر (یعنی ان کے بت) ہیں، جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے،

وقد نزل عليكم في الكتاب أن إذا سمعتم آيات الله يكفر بها ويستهزأ بها فلا تقعدوا معهم حتى يخوضوا في حديث غيره إنكم إذا مثلهم إن الله جامع المنافقين والكافرين في جهنم جميعا

(4:140) اور بیشک (اللہ نے) تم پر کتاب میں یہ (حکم) نازل فرمایا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیتوں کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے تو تم ان لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو یہاں تک کہ وہ (انکار اور تمسخر کو چھوڑ کر) کسی دوسری بات میں مشغول ہو جائیں۔ ورنہ تم بھی انہی جیسے ہو جاؤ گے۔ بیشک اللہ منافقوں اور کافروں سب کو دوزخ میں جمع کرنے والا ہے۔

فمن أظلم ممن افترى على الله كذبا أو كذب بآياته أولئك ينالهم نصيبهم من الكتاب حتى إذا جاءتهم رسلنا يتوفونهم قالوا أين ما كنتم تدعون من دون الله قالوا ضلوا عنا وشهدوا على أنفسهم أنهم كانوا كافرين

(7:37) پھر اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جو اﷲ پر جھوٹا بہتان باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے؟ ان لوگوں کو ان کا (وہ) حصہ پہنچ جائے گا (جو) نوشۃٔ کتاب ہے، یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) آئیں گے کہ ان کی روحیں قبض کر لیں (تو ان سے) کہیں گے: اب وہ (جھوٹے معبود) کہاں ہیں جن کی تم اﷲ کے سوا عبادت کرتے تھے؟ وہ (جواباً) کہیں گے کہ وہ ہم سے گم ہوگئے (یعنی اب کہاں نظر آتے ہیں) اور وہ اپنی جانوں کے خلاف (خود یہ) گواہی دیں گے کہ بیشک وہ کافر تھے۔

1.1.6.2 جو مومنوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں

الذين يصدون عن سبيل الله ويبغونها عوجا وهم بالآخرة كافرون

(7:45) "یہ وہی ہیں) جو (لوگوں کو) اﷲ کی راہ سے روکتے تھے اور اس میں کجی تلاش کرتے تھے اور وہ آخرت کا انکار کرنے والے تھے"۔

1۔1۔6۔3 مومنوں کے ساتھ جنگ ​​چھیڑنے والے لوگ

واقتلوهم حيث ثقفتموهم وأخرجوهم من حيث أخرجوكم والفتنة أشد من القتل ولا تقاتلوهم عند المسجد الحرام حتى يقاتلوكم فيه فإن قاتلوكم فاقتلوهم كذلك جزاء الكافرين

(2:191) اور (دورانِ جنگ) ان (کافروں) کو جہاں بھی پاؤ مار ڈالو اور انہیں وہاں سے باہر نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا اور فتنہ انگیزی تو قتل سے بھی زیادہ سخت (جرم) ہے اور ان سے مسجدِ حرام (خانہ کعبہ) کے پاس جنگ نہ کرو جب تک وہ خود تم سے وہاں جنگ نہ کریں، پھر اگر وہ تم سے قتال کریں تو انہیں قتل کر ڈالو، (ایسے) کافروں کی یہی سزا ہے۔

ولما برزوا لجالوت وجنوده قالوا ربنا أفرغ علينا صبرا وثبت أقدامنا وانصرنا على القوم الكافرين

(2:250)‘‘اور جب وہ جالوت اور اس کی فوجوں کے مقابل ہوئے تو عرض کرنے لگے: اے ہمارے پروردگار! ہم پر صبر میں وسعت ارزانی فرما اور ہمیں ثابت قدم رکھ اور ہمیں کافروں پر غلبہ عطا فرما’’۔

أنت مولانا فانصرنا على القوم الكافرين

2:286 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو ہی ہمارا کارساز ہے پس ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔

وما كان قولهم إلا أن قالوا ربنا اغفر لنا ذنوبنا وإسرافنا في أمرنا وثبت أقدامنا وانصرنا على القوم الكافرين

(3:147) "اور ان کا کہنا کچھ نہ تھا سوائے اس التجا کے کہ اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے کام میں ہم سے ہونے والی زیادتیوں سے درگزر فرما اور ہمیں (اپنی راہ میں) ثابت قدم رکھ اور ہمیں کافروں پر غلبہ عطا فرما۔"

إن يمسسكم قرح فقد مس القوم قرح مثله وتلك الأيام نداولها بين الناس وليعلم الله الذين آمنوا ويتخذ منكم شهداء والله لا يحب الظالمين

وليمحص الله الذين آمنوا ويمحق الكافرين

 (3:140) اگر تمہیں (اب) کوئی زخم لگا ہے تو (یاد رکھو کہ) ان لوگوں کو بھی اسی طرح کا زخم لگ چکا ہے، اور یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں، اور یہ (گردشِ ا یّام) اس لئے ہے کہ اللہ اہلِ ایمان کی پہچان کرا دے اور تم میں سے بعض کو شہادت کا رتبہ عطا کرے، اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ (141) اور یہ اس لئے (بھی) ہے کہ اللہ ایمان والوں کو (مزید) نکھار دے (یعنی پاک و صاف کر دے) اور کافروں کو مٹا دے۔

یہاں یہ نقطہ قابل غور ہے کہ ان میں سے کسی بھی آیت میں مشرکوں، عیسائیوں یا یہودیوں کے ساتھ جنگ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے، بلکہ جنگ کا ذکر صرف کافروں کے ساتھ ہے۔

1.2 وہ لوگ جو کافر نہیں ہیں

(3:113) یہ سب برابر نہیں ہیں، اہلِ کتاب میں سے کچھ لوگ حق پر (بھی) قائم ہیں وہ رات کی ساعتوں میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور سر بسجود رہتے ہیں۔ (114) وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نیک کاموں میں تیزی سے بڑھتے ہیں، اور یہی لوگ نیکوکاروں میں سے ہیں۔ (115) اور یہ لوگ جو نیک کام بھی کریں اس کی ناقدری نہیں کی جائے گے اور اللہ پرہیزگاروں کو خوب جاننے والا ہے۔

(3:199) اور بیشک کچھ اہلِ کتاب ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کتاب پر بھی (ایمان لاتے ہیں) جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور جو ان کی طرف نازل کی گئی اور ان کے دل اللہ کے حضور جھکے رہتے ہیں اور اللہ کی آیتوں کے عوض قلیل دام وصول نہیں کرتے، یہ وہ لوگ ہیں جن کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، بیشک اللہ حساب میں جلدی فرمانے والا ہے۔

(4:162) لیکن ان میں سے پختہ علم والے اور مومن لوگ اس (وحی) پر جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے اور اس (وحی) پر جو آپ سے پہلے نازل کی گئی (برابر) ایمان لاتے ہیں، اور وہ (کتنے اچھے ہیں کہ) نماز قائم کرنے والے (ہیں) اور زکوٰۃ دینے والے (ہیں) اور اﷲ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے (ہیں)۔ ایسے ہی لوگوں کو ہم عنقریب بڑا اجر عطا فرمائیں گے۔

(5:69) بیشک (خود کو) مسلمان (کہنے والے) اور یہودی اور صابی (یعنی ستارہ پرست) اور نصرانی جو بھی (سچے دل سے تعلیماتِ محمدی کے مطابق) اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

ومنهم من يؤمن به ومنهم من لا يؤمن به وربك أعلم بالمفسدين

(10:40) ان میں سے کوئی تو اس پر ایمان لائے گا اور انہی میں سے کوئی اس پر ایمان نہ لائے گا، اور آپ کا رب فساد انگیزی کرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔

1.3 مشرکین

قرآن مجید کی آیت 4:48 اور 4:116 میں شرک کو ایک ناقابل معافی گناہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ قرآن میں بہت ہی ایسی آیتیں موجود ہیں جن میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انبیاء اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں میں سے نہیں تھے، قرآن میں یہودیوں، عیسائیوں اور مشرکوں سمیت کسی بھی مذہب کے لوگوں کے خلاف براہ راست ایک بھی آیت ایسی نہیں ہے، جب تک کہ وہ کافر نہ ہوں یا عمل کفر میں ملوث نہ ہوں۔ کفر کے اعمال کو واضح طور پر بیان کر دیا گیا ہے۔ اہل علم کا ایک طبقہ حسد، نفرت اور واضح نشانیوں کے انکار کے کفر کا مجرم بن گیا ہے جبکہ اس سے قبل وہ ایک نبی کی آمد کا انتظار بے تابی کے ساتھ کرتے تھے۔

ما يود الذين كفروا من أهل الكتاب ولا المشركين أن ينزل عليكم من خير من ربكم والله يختص برحمته من يشاء والله ذو الفضل العظيم

(2:105) نہ وہ لوگ جو اہلِ کتاب میں سے کافر ہو گئے اور نہ ہی مشرکین اسے پسند کرتے ہیں کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی بھلائی اترے، اور اللہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر لیتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

لم يكن الذين كفروا من أهل الكتاب والمشركين منفكين حتى تأتيهم البينة

(98:1) اہلِ کتاب میں سے جو لوگ کافر ہو گئے اور مشرکین اس قت تک (کفر سے) الگ ہونے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس روشن دلیل (نہ) آجاتی۔

إن الذين كفروا من أهل الكتاب والمشركين في نار جهنم خالدين فيها أولئك هم شر البرية

(98:6) بیشک جو لوگ اہلِ کتاب میں سے کافر ہوگئے اور مشرکین (سب) دوزخ کی آگ میں (پڑے) ہوں گے وہ ہمیشہ اسی میں رہنے والے ہیں، یہی لوگ بد ترین مخلوق ہیں۔

یہ بات اب بالکل واضح ہو گئی کہ قرآن کی رو سے تمام مشرکین، یہودی یا عیسائی یا غیر مسلم کافر نہیں ہیں اسی لیے ان آیات میں خاص طور پر ان لوگوں کے درمیان صرف کافروں کا حوالہ موجود ہے۔ بقیہ لوگ بھی ہو سکتا ہے کہ مومن نہ ہوں لیکن وہ صرف اسلام کی زبر دست مخالفت کے ذریعہ یا ان پر حق کے ظاہر ہو جانے کے بعد سچائی کا انکار کر کے کافر ہو گئے ہوں۔ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ایک زمانے کے بعد تقریبا تمام مشرکین مسلمان ہو چکے تھے۔

1.4 بت پرستی

قرآن میں بت پرستی کے تعلق سے آیتیں بہت کم ہیں۔ صرف ایک واحد آیت کے علاوہ بت پرستی کے حوالے سے تمام دوسری آیتیں تبھی وارد ہوئی ہیں جب کہ موضوع خاص طور پر صرف بتوں کا ہو، مثلاً ابراہیم علیہ السلام کے والد کے گھر میں بت۔

قرآن مجید میں ایک بھی آیت ایسی نہیں ہے جس میں کعبہ میں بتوں کی بات کی گئی ہو یا مشرکین مکہ کو بت پرست کہا گیا ہو۔ کعبہ میں 360 بت تھے اور مکہ کے لوگ بت پرست تھے یہ تمام باتیں ہمیں ثانوی ذرائع یعنی احادیث سے معلوم ہوئی ہیں۔

قرآن مجید میں بتوں اور بت پرستی کا حوالہ:

1۔ ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے والد کے گھر میں بتوں کے سلسلے میں (5 حوالہ جات) اور ابراہیم علیہ السلام کی ایک دعا میں 14:35 "اور (یاد کیجئے) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے میرے رب! اس شہر (مکہ) کو جائے امن بنا دے اور مجھے اور میرے بچوں کو اس (بات) سے بچا لے کہ ہم بتوں کی پرستش کریں"۔

2۔ حضرت موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کا قصہ (7:138) اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر (یعنی بحرِ قلزم) کے پار اتارا تو وہ ایک ایسی قوم کے پاس جا پہنچے جو اپنے بتوں کے گرد (پرستش کے لئے) آسن مارے بیٹھے تھے، (بنی اسرائیل کے لوگ) کہنے لگے: اے موسٰی! ہمارے لئے بھی ایسا (ہی) معبود بنا دیں جیسے ان کے معبود ہیں، موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: تم یقیناً بڑے جاہل لوگ ہو۔

3۔ سورہ طٰہٰ (20) میں بنی اسرائیل کا ایک سونے کا گائے بنانا اور حضرت موسی علیہ السلام کی غیر موجودگی میں سامری کے زیر اثر اس کی عبادت کرنا

4۔ قرآن کی وہ واحد آیت جس میں بت پرستی کا ذکر ہے(22:30) ‘‘یہی (حکم) ہے، اور جو شخص اﷲ (کی بارگاہ) سے عزت یافتہ چیزوں کی تعظیم کرتا ہے تو وہ اس کے رب کے ہاں اس کے لئے بہتر ہے، اور تمہارے لئے (سب) مویشی (چوپائے) حلال کر دیئے گئے ہیں سوائے ان کے جن کی ممانعت تمہیں پڑھ کر سنائی گئی ہے سو تم بتوں کی پلیدی سے بچا کرو اور جھوٹی بات سے پرہیز کیا کرو۔’’

اگر چہ قرآن مجید میں بت پرستی کا حوالہ بہت کم ہے، لیکن یوسف علی جیسے مترجمین نے آزادانہ طور پر عربی لفظ مشرکین کا ترجمہ بت پرست کیا ہے۔

1.5 خلاصہ

مختصر یہ کہ قرآن کسی فرد کا تعین اس کے عقیدے یا مذہب کی بنیاد پر نہیں کرتا بلکہ کفر پر مبنی ہر جماعت کے بعض مخصوص معمولات اور رویوں کی بنیاد پر ان کا تعین کرتا ہے۔

مسلمانوں کے لئے کفریہ اعمال وہ ہیں جو ایک مسلمان کے لیے نامناسب اور نا موزوں ہوں، مثلاً: کنجوسی اور بخیلی، سود خوری، بداخلاقی یا دوسروں کی تذلیل ، اللہ جل شانہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی یا منافقت۔

اہل کتاب کے لیے کفر ان کے صحیفوں میں مذکورہ عہد و پیمان کو برقرار نہ رکھنا، سود خوری کرنا، جان بوجھ کر اور ناحق رسولوں کا انکار کرنا، اللہ کے رسولوں کے درمیان امتیاز برتنا، اپنے صحیفوں کے مطابق فیصلہ نہ کرنا اور اپنے صحیفوں کے احکامات کی خلاف ورزی کرنا۔

اور مشرکین کے لیے کفر سرکشی پر مبنی تنازعات، اللہ کے پیغام کو مسترد کرنااور ان کی تضحیک کرنا، پوری سرگرمی کے ساتھ لوگوں کو االله کی راہ سے روکنا یا مومنوں کے خلاف جنگ چھیڑنا ہے۔ اور جو غیر مسلم حقانیت کے باب میں سرکشی کے ساتھ تنازعات نہیں کرتے، اللہ کے پیغام کو مسترد نہیں کرتے ان کی تضحیک نہیں کرتے، پوری سرگرمی کے ساتھ لوگوں کو االله کی راہ سے نہیں روکتے یا مومنوں کے خلاف جنگ نہیں چھیڑتے وہ کفر کے مجرم نہیں ہیں۔

اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ کفر ایک اضافی اصطلاح ہے اور لوگوں کا ان کی کتاب کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔ جن لوگوں کو کوئی کتاب نہیں ملی اور جن تک اس سے پہلے کوئی رسول نہیں پہنچا ان کا فیصلہ ان کے معاشرے کے معیار کی بنیاد پر یا معاشرے کے واضح اخلاقی اور معنوی معیار کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

مسلمانوں اور غیر مسلموں کے تعلقات

اس مضمون کے سیکشن 1 میں ہم نے یہ دیکھا کہ لفظ کافر ایک ایسی اصطلاح ہے جسے قرآن مجید کسی بھی مذہب یا کسی عقیدے کے ساتھ منسلک نہیں کرتا، بلکہ قرآن اس لفظ کا استعمال صرف ان لوگوں کے لیے کرتا ہے جو اعمال کفر میں پوری سرگرمی کے ساتھ ملوث ہیں۔ ان کفریہ اعمال کو پوری شرح و بسط کے ساتھ گزشتہ حصے میں بیان کر دیا گیا ہے۔

2.1 مسلم کافر تعلقات

مسلمانوں کو کافروں سے دوستی نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

لا يتخذ المؤمنون الكافرين أولياء من دون المؤمنين ومن يفعل ذلك فليس من الله في شيء إلا أن تتقوا منهم تقاة ويحذركم الله نفسه وإلى الله المصير

(3:28) مسلمانوں کو چاہئے کہ اہلِ ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو کوئی ایسا کرے گا اس کے لئے اﷲ (کی دوستی میں) سے کچھ نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ تم ان (کے شر) سے بچنا چاہو، اور اﷲ تمہیں اپنی ذات (کے غضب) سے ڈراتا ہے، اور اﷲ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

الذين يتخذون الكافرين أولياء من دون المؤمنين أيبتغون عندهم العزة فإن العزة لله جميعا

(4: 139) یہ) ایسے لوگ (ہیں) جو مسلمانوں کی بجائے کافروں کو دوست بناتے ہیں، کیا یہ ان کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں؟ پس عزت تو ساری اللہ (تعالٰی) کے لئے ہے۔

يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا الكافرين أولياء من دون المؤمنين أتريدون أن تجعلوا لله عليكم سلطانا مبينا

(4: 144) اے ایمان والو! مسلمانوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ، کیا تم چاہتے ہو کہ (نافرمانوں کی دوستی کے ذریعے) اپنے خلاف اللہ کی صریح حجت قائم کر لو؟

يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا الذين اتخذوا دينكم هزوا ولعبا من الذين أوتوا الكتاب من قبلكم والكفار أولياء واتقوا الله إن كنتم مؤمنين

(5:57) اے ایمان والو! ایسے لوگوں میں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی، ان کو جو تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنائے ہوئے ہیں اور کافروں کو دوست مت بناؤ، اور اﷲ سے ڈرتے رہو بشرطیکہ تم (واقعی) صاحبِ ایمان ہو۔

لتجدن أشد الناس عداوة للذين آمنوا اليهود والذين أشركوا ولتجدن أقربهم مودة للذين آمنوا الذين قالوا إنا نصارى ذلك بأن منهم قسيسين ورهبانا وأنهم لا يستكبرون

(5:82) آپ یقیناً ایمان والوں کے حق میں بلحاظِ عداوت سب لوگوں سے زیادہ سخت یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے، اور آپ یقیناً ایمان والوں کے حق میں بلحاظِ محبت سب سے قریب تر ان لوگوں کو پائیں گے جو کہتے ہیں: بیشک ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس لئے کہ ان میں علماءِ (شریعت بھی) ہیں اور (عبادت گزار) گوشہ نشین بھی ہیں اور (نیز) وہ تکبر نہیں کرتے۔

آیت 5:82 میں انتباہ کے علاوہ اور کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس میں مشرکین کے ساتھ دوستی کی ممانعت وارد ہوئی ہو۔ صرف کافروں کودوست بنانے کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔ چونکہ آیات 3:28، 4:139 ، 4:144 میں کوئی رعایت نہیں کی گئی ہے، لہٰذا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک کافر وہ ہے جو مسلمانوں اور اسلام کا صریح دشمن ہے اور اس میں وہ مشرکین، یہودی اور عیسائی شامل نہیں ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ نہیں لڑتے اور جو اپنے معاہدوں کو برقرار رکھتے ہیں ۔ ان لوگوں کے ساتھ آیت 60:8 اور 9 کے مطابق سلوک کیا جائے گا، جس کی بحث اگلے حصے میں آئے گی۔

2.2 مسلموں اور غیر مسلموں کے تعلقات

2.2.1 مشرکین کے ساتھ شادی

چونکہ قرآن نے کافروں کے ساتھ دوستی کو ممنوع قرار دیا ہے، اسی لیے آیت 2:221 میں مشرکوں کے ساتھ نکاح کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ایک کافر سے شادی کا حکم ہو گا اس لیے کہ ایک مسلمان کفر کا مجرم ہو سکتا ہے لیکن تمام مشرکین کافر نہیں ہیں۔

ولا تنكحوا المشركات حتى يؤمن ولأمة مؤمنة خير من مشركة ولو أعجبتكم ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا ولعبد مؤمن خير من مشرك ولو أعجبكم أولئك يدعون إلى النار والله يدعو إلى الجنة والمغفرة بإذنه ويبين آياته للناس لعلهم يتذكرون

(2:221) اور تم مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح مت کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، اور بیشک مسلمان لونڈی (آزاد) مشرک عورت سے بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بھلی ہی لگے، اور (مسلمان عورتوں کا) مشرک مردوں سے بھی نکاح نہ کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، اور یقیناً مشرک مرد سے مؤمن غلام بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بھلا ہی لگے، وہ (کافر اور مشرک) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں، اور اﷲ اپنے حکم سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

2.2.2 اہل کتاب کے ساتھ شادی

اہل کتاب کا کھانا حلال اور ان کی عورتوں کے ساتھ نکاح جائز ہے۔

اليوم أحل لكم الطيبات وطعام الذين أوتوا الكتاب حل لكم وطعامكم حل لهم والمحصنات من المؤمنات والمحصنات من الذين أوتوا الكتاب من قبلكم إذا آتيتموهن أجورهن محصنين غير مسافحين ولا متخذي أخدان ومن يكفر بالإيمان فقد حبط عمله وهو في الآخرة من الخاسرين

(5:5) آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں، اور ان لوگوں کا ذبیحہ (بھی) جنہیں (اِلہامی) کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے، اور (اسی طرح) پاک دامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں میں سے پاک دامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی (تمہارے لئے حلال ہیں) جب کہ تم انہیں ان کے مَہر ادا کر دو، (مگر شرط) یہ کہ تم (انہیں) قیدِ نکاح میں لانے والے (عفت شعار) بنو نہ کہ (محض ہوس رانی کی خاطر) اِعلانیہ بدکاری کرنے والے اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والے، اور جو شخص (اَحکامِ الٰہی پر) ایمان (لانے) سے انکار کرے تو اس کا سارا عمل برباد ہوگیا اور وہ آخرت میں (بھی) نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔

2.2.3 ان غیر مسلموں کے ساتھ رشتہ جو کافر نہیں ہیں

مندرجہ ذیل آیت میں واضح طور پر غیر مسلموں یعنی (یہودیوں، عیسائیوں، مشرکوں) کے درمیان غیر کافر کے ساتھ احسان اور انصاف کا معاملہ کرنے کا حکم وارد ہوا ہے۔

لا ينهاكم الله عن الذين لم يقاتلوكم في الدين ولم يخرجوكم من دياركم أن تبروهم وتقسطوا إليهم إن الله يحب المقسطين

إنما ينهاكم الله عن الذين قاتلوكم في الدين وأخرجوكم من دياركم وظاهروا على إخراجكم أن تولوهم ومن يتولهم فأولئك هم الظالمون

(60:8) اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں فرماتا کہ جن لوگوں نے تم سے دین (کے بارے) میں جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے (یعنی وطن سے) نکالا ہے کہ تم ان سے بھلائی کا سلوک کرو اور اُن سے عدل و انصاف کا برتاؤ کرو، بیشک اللہ عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (9) اللہ تو محض تمہیں ایسے لوگوں سے دوستی کرنے سے منع فرماتا ہے جنہوں نے تم سے دین (کے بارے) میں جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں (یعنی وطن) سے نکالا اور تمہارے باہر نکالے جانے پر (تمہارے دشمنوں کی) مدد کی۔ اور جو شخص اُن سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔

یہ امر اب بالکل واضح ہے کہ صرف انہیں لوگو کو مشرکین کے درمیان کافر مانا جائے گا اور صرف انہیں کے ساتھ دوستی کا سلسلہ ختم کیا جائے گا اور ان کے ساتھ آیات 3:28, 4:139 اور 44 کے مطابق سلوک کیا جائے گا جنہوں نے ‘‘دین کے لیے مسلمانوں سے جنگ کی ، انہیں ان کے گھروں سے نکالا اور انہیں ان کے گھروں سے نکالنے میں دوسروں کی مدد کی’’۔

ان غیر مسلموں کے ساتھ جو دشمنی میں مسلمانوں کے ساتھ برسر پیکار نہیں ہیں عدل و انصاف کا مطالبہ ایک شاندار سنہرا اصول ہے۔ قرآنی آیت میں واضح طور پر اس بات کا ذکر ہے کہ مسلمانوں اور ان غیر مسلموں کے درمیان تعلق جو امن کا اعلان کرتے ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ نہیں کرتے، بہترین اخلاق اور انصاف پر مبنی ہونا چاہئے۔

قرآن مجید میں لفظ "بر" کا استعمال کیا گیا ہے، جسے عام طور پر والدین کے ساتھ اعلی ترین رشتہ کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید لفظ "بر" کا استعمال تعلقات کی اس قسم کی وضاحت کرنے کے لیے بھی کرتا جو ہمیں غیر مسلموں کے ساتھ رکھنا چاہئے۔ لفظ "بر" میں وہ تمام اچھی چیزیں شامل ہیں جو ایک رشتے میں ہونی چاہئے، اور یہ لفظ رشتے کے تمام برے پہلوؤں کو بھی خارج کر دیتا ہے۔ اسی وجہ سے، مسلم علما کا یہ کہنا ہے کہ لفظ "بر" مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان رشتے کی بنیاد ہے۔

2.3 وہ آیتیں جن میں مسلمانوں کو لڑنے کے لیے کہا گیا ہے

2.3.1 عام طور پر قابل اطلاق آیتیں

سورت 9 کے علاوہ جس پر الگ سے گفتگو کی جائے گی، جنگ کے تعلق سے کسی بھی آیت میں دشمنوں کا ذکر ان کے مذہب کے حوالے سے نہیں کیا گیا ہے بلکہ ان کا ذکر ان کے عمل کے حوالے سے کیاگیا ہے یا لفظ کفر کے ساتھ ان کا ذکر کیا گیا ہے۔

وقاتلوا في سبيل الله الذين يقاتلونكم ولا تعتدوا إن الله لا يحب المعتدين

واقتلوهم حيث ثقفتموهم وأخرجوهم من حيث أخرجوكم والفتنة أشد من القتل ولا تقاتلوهم عند المسجد الحرام حتى يقاتلوكم فيه فإن قاتلوكم فاقتلوهم كذلك جزاء الكافرين

 (2:190) اور اﷲ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں (ہاں) مگر حد سے نہ بڑھو، بیشک اﷲ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔

(191) اور (دورانِ جنگ) ان (کافروں) کو جہاں بھی پاؤ مار ڈالو اور انہیں وہاں سے باہر نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا اور فتنہ انگیزی تو قتل سے بھی زیادہ سخت (جرم) ہے اور ان سے مسجدِ حرام (خانہ کعبہ) کے پاس جنگ نہ کرو جب تک وہ خود تم سے وہاں جنگ نہ کریں، پھر اگر وہ تم سے قتال کریں تو انہیں قتل کر ڈالو، (ایسے) کافروں کی یہی سزا ہے۔

أنت مولانا فانصرنا على القوم الكافرين

2: 286 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو ہی ہمارا کارساز ہے پس ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔

ولن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلا

(4: 141) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اللہ کافروں کو مسلمانوں پر (غلبہ پانے کی) ہرگز کوئی راہ نہ دے گا۔

لہٰذا، کئی لشکروں ان لوگوں کی فوج پر فتح حاصل کی جو خود کو مسلمان کہتے تھے۔ لہٰذا، ہمیں یہ قبول کرنا ہی ہو گا کہ "مشرکوں" سمیت ان "غیر مسلموں' کا لشکر ‘‘کافروں’’ کا لشکر نہیں تھا۔ اور وہ مسلم ‘‘مومن’’ نہیں تھے، ورنہ معاذ اللہ ، یہ آیت سچی نہیں ہے۔

قد كان لكم آية في فئتين التقتا فئة تقاتل في سبيل الله وأخرى كافرة يرونهم مثليهم رأي العين والله يؤيد بنصره من يشاء إن في ذلك لعبرة لأولي الأبصار

 (3:13) "بیشک تمہارے لئے ان دو جماعتوں میں ایک نشانی ہے (جو میدانِ بدر میں) آپس میں مقابل ہوئیں، ایک جماعت نے اﷲ کی راہ میں جنگ کی اور دوسری کافر تھی وہ انہیں (اپنی) آنکھوں سے اپنے سے دوگنا دیکھ رہے تھے، اور اﷲ اپنی مدد کے ذریعے جسے چاہتا ہے تقویت دیتا ہے، یقینا اس واقعہ میں آنکھ والوں کے لئے (بڑی) عبرت ہے۔"

قل للذين كفروا إن ينتهوا يغفر لهم ما قد سلف وإن يعودوا فقد مضت سنة الأولين

وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله فإن انتهوا فإن الله بما يعملون بصير

 (8:38) آپ کفر کرنے والوں سے فرما دیں: اگر وہ (اپنے کافرانہ اَفعال سے) باز آجائیں تو ان کے وہ (گناہ) بخش دیئے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں، اور اگر وہ پھر وہی کچھ کریں گے تو یقیناً اگلوں (کے عذاب در عذاب) کا طریقہ گزر چکا ہے (ان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا۔ (39) اور (اے اہلِ حق!) تم ان (کفر و طاغوت کے سرغنوں) کے ساتھ جنگ کرتے رہو، یہاں تک کہ (دین دشمنی کا) کوئی فتنہ (باقی) نہ رہ جائے اور سب دین (یعنی نظامِ بندگی و زندگی) اللہ ہی کا ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اللہ اس (عمل) کو جو وہ انجام دے رہے ہیں، خوب دیکھ رہا ہے۔

آیت 8:38 اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ (بدر) کا مقصد مسلمانوں پر ظلم و ستم اور جبر و اکراہ کے کفر کو ختم کرنا تھا نہ کہ اسلام قبول کرنے پر مکہ والوں مجبور کر کے عقیدہ کفر کو ختم کرنا تھا۔ اگر کفار مکہ محتاط ہو جاتے اور اسلام قبول کرنے والوں کے خلاف جبر کا راستہ چھوڑ دیتے اور مسلمانوں کو مسجد حرام میں عبادت کرنے سے نہیں روکتے تو اس آیت کے نازل ہونے کے بعد مزید کوئی لڑائی نہیں ہوتی اور اسلام کی پر امن کی تبلیغ و اشاعت کا حکم دیا جاتا۔

آنے والی آیتوں میں مزید اس بات کا ثبوت ہے کسی بھی لڑائی کا مقصد دین یا عقیدے کا کفر نہیں ہے، کہ جس کا علم صرف اللہ کو ہی ہے، بلکہ لڑائی کا حکم قسموں اور معاہدوں کی خلاف ورزی کرنے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہر بدر کرنے کے منصوبےاور سب سے پہلے مسلمانوں کو ستانے کے کفر کے لئے دیا گیا ہے۔

وإن نكثوا أيمانهم من بعد عهدهم وطعنوا في دينكم فقاتلوا أئمة الكفر إنهم لا أيمان لهم لعلهم ينتهون

ألا تقاتلون قوما نكثوا أيمانهم وهموا بإخراج الرسول وهم بدؤوكم أول مرة أتخشونهم فالله أحق أن تخشوه إن كنتم مؤمنين

 (9:12) اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قََسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی کریں تو تم (ان) کفر کے سرغنوں سے جنگ کرو بیشک ان کی قَسموں کا کوئی اعتبار نہیں تاکہ وہ (اپنی فتنہ پروری سے) باز آجائیں۔ (13) کیا تم ایسی قوم سے جنگ نہیں کرو گے جنہوں نے اپنی قََسمیں توڑ ڈالیں اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جلاوطن کرنے کا ارادہ کیا حالانکہ پہلی مرتبہ انہوں نے تم سے (عہد شکنی اور جنگ کی) ابتداء کی، کیا تم ان سے ڈرتے ہو جبکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو بشرطیکہ تم مومن ہو؟

سورت 9 (سورہ توبہ) کی آیتیں

2.3.1 فتح مکہ کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے براہ راست مخاطبین کے لیے

تاہم، جب مسلمانوں نے مکہ فتح کر لیا تو سورہ توبہ کی آیات 9:1 سے 9:15تک میں شکست خوردہ مکہ والوں کے لیے ایک فیصلہ بیان کیا گیا ہے اور وہ اس فیصلے کا محض ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔ یہ آیتیں جنگ یا لڑائی سے متعلق نہیں ہیں بلکہ ان میں صرف فیصلوں کو بیان کیا گیا ہے۔ ان آیات سے ظالموں کو مغلوب کرنے کے بعد اسی طرح کے فیصلے سنانے کے لئے ایک رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

 براءة من الله ورسوله إلى الذين عاهدتم من المشركين

فسيحوا في الأرض أربعة أشهر واعلموا أنكم غير معجزي الله وأن الله مخزي الكافرين

آیت 9:1 اور 9:2 میں تمام مشرکوں کے لیے معافی کے اعلان عام کا فیصلہ بیان کیا گیا ہے لیکن اس انتباہ کے ساتھ کے ان کے درمیان کفار (نہ کہ مشرکین) مدت کے اختتام پر شرم و ندامت میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔

وأذان من الله ورسوله إلى الناس يوم الحج الأكبر أن الله بريء من المشركين ورسوله فإن تبتم فهو خير لكم وإن توليتم فاعلموا أنكم غير معجزي الله وبشر الذين كفروا بعذاب أليم

إلا الذين عاهدتم من المشركين ثم لم ينقصوكم شيئا ولم يظاهروا عليكم أحدا فأتموا إليهم عهدهم إلى مدتهم إن الله يحب المتقين

آیت 9:3 اور 9:4 میں ان مشرکوں کے علاوہ جنہوں نے اپنے عہد کو کبھی نہیں توڑا، مشرکین کے ساتھ کیے گئے تمام معاہدوں کو تحلیل کر دینے کا فیصلہ بیان کیا گیا ہے، اور کافروں کے لیے (نہ کہ مشرکین کے لیے) سخت عذاب کی وعید بیان کی گئی ہے۔

فإذا انسلخ الأشهر الحرم فاقتلوا المشركين حيث وجدتموهم وخذوهم واحصروهم واقعدوا لهم كل مرصد فإن تابوا وأقاموا الصلاة وآتوا الزكاة فخلوا سبيلهم إن الله غفور رحيم

وإن أحد من المشركين استجارك فأجره حتى يسمع كلام الله ثم أبلغه مأمنه ذلك بأنهم قوم لا يعلمون

آیت 9:5 میں چار ماہ کی مدت کے اختتام پر تمام مشرکوں کو حسب ذیل استثناء کے ساتھ قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے:

1۔ جنہوں نے اپنے عہد کو کبھی نہیں توڑا یا جو لوگ مسلمانوں سے کبھی نہیں لڑے (9:4)

2۔ جنہوں نے اسلام قبول کیا، نماز ادا کرتے ہیں اور زکوة بھی ادا کرتے ہیں (9:5)

3۔ اور وہ لوگ جو پناہ چاہتے ہیں (9:6)

اگر حکم صرف کافروں کو قتل کرنے کا ہوتا تو مسئلہ یہ پیدا ہوتا کہ ان کی شناخت کس طرح کی جائے اس لیے کہ اب جنگ میں ان کے سامنے کوئی بھی دشمن نہیں بچا تھا۔ مذکورہ بالا آیت میں مستثنیات کے ذریعے مشرکوں کے درمیان غیر کافر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جب آیت 9:5 کو آیت 9:4 اور 9:6 کے ساتھ ملا کر مطالعہ کیا جائے تو مشرکوں کے درمیان صرف کافروں کو ہی قتل کرنے کا حکم ثابت ہوتا ہے۔

2.4 حصہ دو کا خلاصہ

یہ امر اب واضح ہو گیا کہ اسلام کو ختم کرنے کے لیے نو سال کے طویل عرصے پر پھیلے مشکل ترین جنگی صورت حال کے تحت بھی، قرآن غیر مسلموں کے اور دوسروں اور ‘کافروں’ کے درمیان ایک واضح فرق بیان کرتا ہے۔

پورے قرآن میں ایک بھی آیت ایسی نہیں ہے جس میں مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ احسان اور انصاف کے علاوہ کوئی اور سلوک پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہو۔ جنگ صرف ان کے درمیان خصوصی کفر کی بنا پر ان کافروں کے خلاف ہے، مثلاً:

جو دین کے لیے مسلمانوں سے لڑتے ہیں اور انہیں اپنے گھروں سے باہر نکالتے ہیں۔

جو اپنے معاہدوں کو توڑتے ہیں اور وہ لوگ جو مسلمانوں سے جنگ کرتے ہیں یا مسلمانوں کے دوسرے دشمنوں کی امداد کرتے ہیں۔

قرآن مجید میں کوئی بھی آیت ایسی نہیں ہے جس میں مسلمانوں کو مندرجہ بالا کے علاوہ کفر کی کسی اور شکل کے لیے کافروں کے ساتھ جنگ کا حکم دیا گیا ہو، مثلاً: توہین رسالت، اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تضحیک کرنا یا مذہب اسلام کا انکار کرناوغیرہ۔ سورت نمبر 109 (الکافرون) میں پرامن کافروں کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کے ساتھ رہنے کا حکم واضح ہے، جس کی آخری آیت یہ ہے: (109:6) ‘‘تمہارا دین تمہارے لئے اور میرا دین میرے لئے ہے’’۔

کیوں کفر ایک اضافی تصور ہے اور کیوں شرک اور بت پرستی وغیرہ کے معانی متعین ہیں

آج مسلمان ان لوگوں کے بارے میں جو قرآن کے پیروکار نہیں ہیں اس پیمانے کے مطابق فیصلہ کر کے کہ جن کا اطلاق صرف مسلمانوں پر ہی جائز ہے، قرآن کی تفہیم میں خطائے فاحش کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ قرآن کے پیغام سے براہ راست متصادم ہے۔ اس حصے میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کس طرح قرآن کسی بھی ابہام کے بغیر یہ واضح کرتا ہے کہ کفر ایک اضافی تصور ہے، اگر چہ یہ مذہب اور عقیدے سے متعلق ہو، اور ایک ایسا نظام پیش کرتا ہے جو ہو سکتا ہے کہ مسلمانو ں کو کافر ثابت کر دے، اور مشرک کی تو بات ہی چھور دیں اہل کتاب (یہودی یا عیسائی) کو بھی کافر ثابت نہ ہونے دے۔

3۔1 کفر ایک اضافی تصور

 (33:72) بیشک ہم نے (اِطاعت کی) امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو انہوں نے اس (بوجھ) کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا، بیشک وہ (اپنی جان پر) بڑی زیادتی کرنے والا (ادائیگئ امانت میں کوتاہی کے انجام سے) بڑا بے خبر و نادان ہے۔

 (73) یہ) اس لئے کہ اللہ منافق مَردوں اورمنافق عورتوں اور مشرِک مَردوں اور مشرِک عورتوں کو عذاب دے اور اللہ مومِن مَردوں اور مومِن عورتوں کی توبہ قبول فرمائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے۔

آیت 33:73 کا مطلب یہ ہے کہ ایک مرتبہ جب اللہ جل شانہ نے اپنے پیغمبروں کو بھیج دیا اور اپنی آیتوں کو نازل کر دیا تو اپنی نازل کردہ آیتوں کے ذریعے فراہم کردہ رہنمائی کی روشنی میں لوگوں کے اعمال کی بنیاد پر فیصلہ کر کے انہیں جزا یا سزا دینا اللہ کی ذمہ داری ہو جاتی ہے۔ وحی کے بغیر کوئی مومن، کافر، یا منافق نہیں ہے اور کفر، شرک اور نفاق وغیرہ کے گناہوں کے لئے کوئی عذاب بھی نہیں ہے۔

اب یہ سمجھنا آسان ہے کہ کفر موصول پیغام الٰہی سے متعلق ہے۔ مثال کے طور پر، سبت کی پابندی کرنا موسی علیہ السلام کے پیروکاروں کے لیے مشروع تھا اور دوسرے قوموں کے لیے نہیں۔ اور چونکہ مسلمانوں کے لئے سبت مشروع نہیں ہے اسی لیے سبت کی خلاف ورزی کی صورت میں مسلمانوں کے لیے نہ تو کفر ثابت ہو سکتا ہے اور نہ ہی انہیں اس کے لیے سزا دی جا سکتی ہے۔ ہمیں قرآن کے ذریعہ یہ علم ہے کہ یہودیوں کو ان کے سبت کی خلاف ورزی کرنے کے لئے اس دنیا میں ہی ایک انتہائی عبرت ناک سزا دی گئی تھی۔

ایک عیسائی کے لیے حضرت عیسی علیہ السلام نے انہیں جو تعلیم دی تھی یا بائبل میں جو نازل کیا گیا تھا ان کی خلاف ورزی میں بعد کی نسلوں کے بعض عقائد کفر بن گئے۔ قرآن کا فرمان ہے کہ ان کے تثلیث کے عقیدے یا یسوع مسیح کو خدا ماننے کے ان کے عقیدے کی کوئی بنیاد ان کی کتابوں میں یا حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیمات میں نہیں ہے۔ لہٰذا، اس طرح کے جو بھی عقائد حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیمات سے متصادم ہیں وہ کفر ہیں۔ یہ صرف ایک اتفاق ہے کہ اس طرح کے عقائد توحید کو کمزور کرتے ہیں اور شرک کی ایک شکل ہیں۔ مثال کے طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ شرک تمام لوگوں کے لئے کفر ہے جیسا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ سبت کی خلاف ورزی تمام لوگوں کے لئے کفر ہے۔ اگرچہ اس طرح کے عقائد رکھنا عیسائیوں کے لئے شرک اور کفر ہے، ان کا فیصلہ اس معیار کے مطابق نہیں کیا جا سکتا جو صرف مسلمانوں کے لئے مختص ہے۔ بے شک، مسیح کو خود خدا سمجھنے کے علاوہ، جو کہ عیسائی نہیں سمجھتے ہیں، قرآن آخرت میں ان کے لیے سزا کے ذکر سے گریز کرتے ہوئے شرک کی دیگر اقسام کو نسبتا خفیف مانتا ہے۔ تاہم قرآن شرک کا ارتکاب کرنے پر ان لوگوں کے خلاف وعیدیں پیش کرنے میں کوئی نرمی نہیں برتتا ہے۔

ایک مسلمان کے لئے شراب کے استعمال کو حرام قرار دیا گیا ہے جس کی خلاف ورزی مسلمان کے لیے کفر ہے، لیکن یہ یہودی یا عیسائی یا ان جیسے لوگوں کے لیے کفر نہیں ہے۔ انبیاء کے عہد کے مطابق، عیسائیوں اور یہودیوں کو قرآن سے راہنمائی حاصل ہونے کی امید ہے، اور اسی لیے یہ مکمل طور پر سچ نہیں ہے کہ جو ایک مسلمان کے لئے کفر ہے اس کا ان کے لیے بھی کفر ہونا ضروری نہیں ہے۔ (3:81) "۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور (اے محبوب! وہ وقت یاد کریں) جب اﷲ نے انبیاءسے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں پھر تمہارے پاس وہ (سب پر عظمت والا) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور بالضرور ان کی مدد کرو گے، فرمایا: کیا تم نے اِقرار کیا اور اس (شرط) پر میرا بھاری عہد مضبوطی سے تھام لیا؟ سب نے عرض کیا: ہم نے اِقرار کر لیا، فرمایا کہ تم گواہ ہو جاؤ اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں"۔ جو لوگ آیت 3:81 اور اس کے مضمرات کو حق تسلیم کرنے کے بعد اس سے انکار کرتے ہیں وہ کافر ہو جاتے ہیں۔

3.2 مشرکین مکہ کے لیے کفر کیا تھا؟

قرآن سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ کی طرف اس سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا گیا تھا اور نہ ہی عیسائیوں یا یہودیوں کی طرح ان کے پاس کوئی آسمانی کتاب تھی۔ قرآن مجید انہیں ایک امی قوم اور ان کے دور کو دور جاہلیت قرار دیتا ہے۔ قانون سے ناواقف ہونا کوئی عذر نہیں ہے لیکن ان کے پاس بالکل ہی کوئی الہی قانون نازل نہیں کیا گیا تھا۔ لہذا ان لوگوں کے لیے شرک، بت پرستی اور زنا کفر نہیں تھا۔

 (36:6) تاکہ آپ اس قوم کو ڈر سنائیں جن کے باپ دادا کو (بھی) نہیں ڈرایا گیا سو وہ غافل ہیں۔

مذکورہ آیت میں نہ صرف اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ مشرکین مکہ کے باپ داداؤں کو ڈر نہیں سنایا گیا بلکہ اس آیت میں اس امر کو ان کے غافل رہنے کی ایک وجہ بھی بتایا گیا ہے۔

 (20:134) "اور اگر ہم ان لوگوں کو اس سے پہلے (ہی) کسی عذاب کے ذریعہ ہلاک کرڈالتے تو یہ کہتے: اے ہمارے رب! تو نے ہمارے پاس کسی رسول کو کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرلیتے اس سے قبل کہ ہم ذلیل اور رسوا ہوتے۔"

مندرجہ بالا آیت میں یہ نقطہ بالکل واضح کر دیا گیا ہے کہ جب ان کے آباؤ اجداد کو اس دنیا میں کفر اور شرک کی وجہ سے کوئی عذاب نہیں دیا گیا تو پھر آخرت میں انہیں کیونکر عذاب دیا جا سکتا ہے ؟

لہٰذا، ان کے لیے کفر محض واضح سچائی کی خلاف ورزی کرنا یا ان چیزوں کا ارتکاب کرنا ہے جنہیں خود ان کا معاشرہ ایک سنگین جرم تسلیم کرتا ہے۔ صرف یہی وہ اعمال ہیں جن کی وجہ سے مندرجہ وجوہات کی بنا پر قرآن مجید مشرکین مکہ کو کافر شمار کرتا ہے:

1۔ مسلمانوں کو صرف ان کے مذہب کی وجہ سے ظلم و ستم کا نشانہ بنانا۔

2۔ مسلمانوں سے ان کے دین کے لئے جنگ کرنا اور انہیں ان کے گھروں سے باہر نکالنا۔ امن معاہدوں کو توڑنا اور دشمن کی اعانت کرنا۔

مشرکین مکہ کو یکساں طور پر مشرک کہا گیا ہے، سوائے ان لوگوں کے جو میدان جنگ میں مسلمانوں کے خلاف کھڑے تھے، جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ ظلم و ستم کو روا رکھا یا جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ اپنے معاہدوں کو توڑا۔ اس نئے مذہب اسلام کے دشمنوں کے لیے یہ مستثنیات جنہیں مشرکوں درمیان کافر کہا گیا ہے واضح طور پر اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ تمام مشرک کافر نہیں ہیں۔

ہر گناہ اللہ کی ہدایت و رہنمائی کی خلاف ورزی اور کفر ہے۔ کفر کے عمل کا ارتکاب کرنے سے انسان کا کافر ہو جانا ضروری نہیں ہے۔ ورنہ اس استدلال کی بنا پر ہر مسلمان اور دنیا کا ہر شخص کافر بن جائے گا! اور بے شک قرآن مجید یہودیوں اورر عیسائیوں کوان کے عقیدے کی بنیاد پر کافر نہیں کہتا، اگرچہ قرآن صحیفوں سے متصادم ان کے عقائد کو کفر کہتا ہے۔ قرآن مجید میں صرف انہیں عیسائیوں کو کافر کہا گیا ہے جو مخصوص کفریہ جرائم کے مرتکب تھے ، جنہیں اس مضمون کے پہلے حصے میں ذکر کر دیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ تمام لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے لوگ ہیں، اور عیسائی، یہودی یا مشرکوں کے درمیان موجود کافروں کے حوالے سے قرآن کریم کی بھی آیت کا اطلاق عصر حاضر کے لوگوں پر اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک کہ وہ اسی کفر کے مجرم نہ بن جائیں۔

3.3 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پیغامات کا انکار کرنا کب کفر ہوتا ہے؟ 24

اس طرح نوح، موسی، لوط، شعیب، صالح اور ہود جیسے پہلے کے نبیوں نے بھی اپنے زمانے کے مشرکوں کو حق کی دعوت دی۔ ان کے دعوتی مشن کے اختتام پر، اللہ کے حکم سے کافروں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ جو لوگ "حقیقت" کو مسترد کرنے کی وجہ سے کافر بن گئے تھے ان کا علم انبیاء کو بھی نہیں تھا حتی کہ اللہ نے ان لوگوں کے بارے میں انہیں مطلع کیا۔ مثال کے طور پر یونس علیہ السلام (37:139 تا 142) کو یہ لگا کہ ایمان کا کفر ان کی قوم کے خلاف ثابت کیا گیا تھا جس کی طرف وہ بھیجے گئے تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنے قوم کو چھوڑ دیا اور ان کے اس عمل کو الزام کے لائق بیان کیا گیا۔ انہیں مچھلی نے نگل لیا، پھر انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کی اور اپنے قوم کی طرف واپس چلے گئے جس کے بعد ان کی قوم ایمان لے آئی۔

ایک اور مثال حضرت نوح علکیہ السلام کی ہے جنہیں آیت 11:36 میں اللہ نے مطلع کیا کہ: "ہرگز تمہاری قوم میں سے (مزید) کوئی ایمان نہیں لائے گا سوائے ان کے جو (اس وقت تک) ایمان لا چکے ہیں!۔۔۔۔۔۔"۔ یہ آیت باقی تمام لوگوں پر ایمان کے کفر کے جرم کی تصدیق کرتی ہے۔ نوح علیہ السلام کو ایک کشتی تعمیر کرنے اور اس میں تمام ایمان والوں کو لے جانے کا حکم دیا گیا اور باقی تمام لوگوں کو ایک سیلاب میں ڈوبا دیا گیا۔

آیت 9:5 میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوی مشن کے اختتام بعض مستثنیات کے ساتھ چار مہینے کی عام مدت معافی کے بعد تمام مشرکوں مارنے کا حکم دیا گیا۔ اس حکم کے بعد لڑائی کے قوانین میں تبدیلی ہو گئی، اور حجاز کے مشرکوں کے حوالے سے مرد، عورت اور بچوں کے درمیان اور کوئی امتیاز نہیں برتا گیا ہے، جو آیت 36:6کے مطابق وہی لوگ تھے"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جن کے باپ دادا کو (بھی) نہیں ڈرایا گیا سو وہ غافل ہیں،" اور جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے براہ راست مخاطبین تھے۔ اللہ کا یہ حکم، نوح، موسی، صالح، شعیب، ہود اور لوط (علیہم السلام) کے معاملے میں نبوی مشن کے اختتام کے بعد عذاب الٰہی کے ذریعہ کافروں کی تباہی کی طرح ہے۔ دوسری قوموں کے معاملے میں ان کی تباہی عذاب الٰہی کے ذریعے ہوئی، لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں یہ کام مومنوں کے ذریعے انجام دیا گیا تھا۔ حجاز کے مشرکوں کی تباہی مسلمانوں کے خلاف جنگ چھیڑنے کے واضح کفر اور انکار کے کفر یا "حقیقت" کو مسترد کرنے کے پوشیدہ کفر دونوں طرح کے جرم کی وجہ سے ہوئی۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ، چونکہ دوسرے تمام انبیاء کی قوموں کو براہ راست عذاب الٰہی کے ذریعہ تباہ کیا تھا اسی لیے ہمیں یہ معلوم نہیں کہ ان لوگوں کو ایمان کے کفر کے لئے یا مومنوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانے کے کفر کے لئے یا دونوں کے لیے تباہ کیا گیا۔ تاہم، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں صرف انہیں لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا جنہوں نے ظلم و ستم کے کفر کا ارتکاب کیا تھا، جنہوں نے ان سے جنگ کی تھی یا جنہوں نے اپنے عہد کو توڑا تھا اور جو عام معافی کے 4 مہینے کی مدت گزر جانے کے بعد بھی اپنے کفر پر جمے رہے۔ ان کے علاوہ باقی تمام لوگ بچ گئے اور ان لوگوں نے بلآخر اسلام قبول کر ہی لیا جیسا کہ آیت 8:23 میں خود اللہ کا فرمان ہے اللہ ‘‘اور اگر اللہ ان میں کچھ بھی خیر (کی طرف رغبت) جانتا تو انہیں (ضرور) سنا دیتا۔’’

مندرجہ ذیل آیات میں اس نقطے کی مزید وضاحت کی گئی ہے، جس سے اوپر اٹھ کر ایک مشرک اسلام قبول نہ کرنے کی وجہ سے کافر ہو جاتا ہے۔

 (41:53) ہم عنقریب انہیں اپنی نشانیاں اَطرافِ عالم میں اور خود اُن کی ذاتوں میں دِکھا دیں گے یہاں تک کہ اُن پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہی حق ہے۔ کیا آپ کا رب (آپ کی حقانیت کی تصدیق کے لئے) کافی نہیں ہے کہ وہی ہر چیز پر گواہ (بھی) ہے؟

اس کے علاوہ:

27:14‘‘اور انہوں نے ظلم اور تکبّر کے طور پر ان کا سراسر انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل ان (نشانیوں کے حق ہونے) کا یقین کر چکے تھے۔ پس آپ دیکھئے کہ فساد بپا کرنے والوں کا کیسا (بُرا) انجام ہوا!’’

ا ن کے دلوں میں سچائی ظاہر ہوئی یا نہیں یہ صرف اللہ جل شانہ ہی بیان فرما سکتا ہے۔ پیغام کے مسترد کرنے کی وجہ سے مشرک اس وقت تک کافر نہیں ہوتا جب تک سچائی اس کے قلب پر رشن نہ ہو جائے۔

مشرکین مکہ کے حوالے سے فتح مکہ کے بعد قرآن کا فرمان:

 (9:6)۔ ‘‘اور اگر مشرکوں میں سے کوئی بھی آپ سے پناہ کا خواست گار ہو تو اسے پناہ دے دیں تاآنکہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر آپ اسے اس کی جائے امن تک پہنچا دیں، یہ اس لئے کہ وہ لوگ (حق کا) علم نہیں رکھتے’’۔

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ 13 سال تک مکہ اور 8 سال تک مدینہ میں نبی صلی اللہ علیہ کی تبلیغ کے باوجود جن مکہ والوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، ان کے ساتھ کافروں جیسا نہیں بلکہ ایسا سلوک کیا جائے جن تک "علم نہیں پہنچا"، اگر چہ اس سے قبل انہوں نے مسلمانوں سے جنگ کی تھی۔ صرف پناہ طلب کرنے کے عمل کو غیر سرکشی کی یا غیر کفر کی ایک علامت قرار دیا گیا۔

3.4 اللہ جل شانہ پہلے کی ان نسلوں کا انصاف کیسے کرے گا جن تک کوئی رسول نہیں بھیجا گیا تھا؟

اس بحث کے ایک ماحصل کے طور پر اب تک یہ امر واضح ہو جانا چاہئے کہ اللہ جل شانہ پہلے کی ان نسلوں کا انصاف کیسے کرے گا جن تک کوئی رسول نہیں بھیجا گیا تھا۔ ان کا فیصلہ ان کے اپنے معاشرے کے معیار کے مطابق کیا جائے گا۔ عام طور پر، اگر کسی مشرک کی موت اس سے قبل ہو گئی کہ اس تک ہدایت پہونچتی، حقانیت اس کے اوپر واضح ہو جاتی، اور اس کا دل و دماغ اسے تسلیم کرتا، تو اس کی موت حالت کفر پر نہیں ہوگی، اس کا فیصلہ اس معیار کے مطابق کیا جائے گا جو اس کے لیے مناسب ہو گا۔ ایک مشرک صرف اسی وقت کافر ہو گا جب اس کا دل اس کے خلاف گواہی دے کہ تم نے ‘‘حقانیت’’ کا انکار کیا ہے، یا وہ کسی بھی وجہ سے ("حقیقت" جانتے ہوئے یا جانے بغیر) اللہ کا انکار کرتا ہے اور خدا کے رستے سے لوگوں کو روکتا ہے اور اسی حالت میں اس کی موت ہو جاتی ہے۔

 (47:34) بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اﷲ کی راہ سے روکا پھر اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر تھے تو اﷲ انہیں کبھی نہ بخشے گا۔

قرآن مجید میں کافر کون ہے؟ کفر کی تعریف

اب ہم اس مضمون کے گزشتہ 3 حصوں میں کی گئی گفتگو کی بنیاد پر قرآن مجید میں مستعمل لفظ کفر کی وضاحت کریں گے۔ یہ تعریف سنی فقہ کی تعریف سے مختلف ہے، جس پر بھی ہم نے گفتگو کی ہے۔

4۔1 کفر کی جہتیں

اب تک کی گفتگو سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ کفر کی دو جہتیں:

انسان، سماج، دنیا یا دنیاوی معاملات سے متعلق کفر

خدائی یا روحانی پہلو سے متعلق کفر

دنیاوی پہلو سے متعلق کفر

قرآن مجید بعض انسانی حقوق کو تسلیم کرتا ہے:

حق کی راہ میں کسی رکاوٹ یا ظلم بغیر اپنا پسندیدہ مذہب اختیاک کرنے کا حق

جان و مال کی حرمت

سول سوسائٹی کے عام طور پر مروج اقدار، معاہدوے، جس سماج میں وہ انسان رہتا ہے اس کے قوانین سے پیدا ہونے والی ذمہ داریاں اور باہمی حقوق۔

انسان کے حقوق کی خلاف ورزی کفر ہے

خدا یا روحانی پہلو سے متعلق کفر

قرآن مجید "خدا کے حقوق" کو بھی تسلیم کرتا ہے

روحانی پہلو کا احاطہ صحیفوں میں کیا گیا ہے جو مومن کو خدا کے ساتھ ان کے عہد کے بارے میں اور ان سے پیدا ہونے والے فرائض اور ذمہ داریوں سے مطلع کرتے ہیں۔

ایک مومن ایک غیر مومن کو ایمان لانے، ان عہد و پیمان کو قبول کرنے، اللہ کی رحمتوں اور ہدایتوں کو قبول کرنے، خدا کی نعمتوں کے لئے شکریہ ادا کرنے، صحیفوں میں فراہم کی گئی رہنمائی کے مطابق امور زندگی کو انجام دیکر اپنے عہد و پیمان کو پورا کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

اس کے علاوہ اللہ جل شانہ کی رحمت و برکت تمام لوگوں کے لیے عام ہے، اللہ شاکر (شکریہ ادا کرنے والا) ہے جو کہ وہ اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے گئے انسانوں کے اعمال کے لیے ادا کرتا۔ اور انسان کو عبادت اور خدا کو خوش کرنے والے اعمال مثلاً صدقہ پر خرچ کرنے کے ذریعہ اللہ کا شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے خدا کے خلاف انسانوں کے گناہوں کا حساب و کتاب صرف اللہ کا ذمہ ہے جو اسے آخرت میں اس کی سزا دے گا۔

خدا کے حوالے سے ایک غیر مومن کفر کا مجرم ہے اگر وہ دلائل اور اتقان کی کمی کے بجائے حسد، سرکشی، تکبر کی بنیاد پر "حقیقت" کا انکار کرتا ہے۔

جب اس پر حق ظاہرہو جائے اور اس کا دل و دماغ "حقیقت" کر لےتسلیم کر لے اور اس کے باوجود وہ اس کا انکار کرے تےوہ کافر ہو جاتا ہے ۔

اور ایک مسلمان جب مقدس صحیفے میں مذکور اوامر و نواہی کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ کسی کفر کا مجرم بن جاتا ہے۔

لہٰذا، کفر انسان یا اللہ جل شانہ کے حقوق کی خلاف ورزی ہے اور ایک کافر وہ ہے جو خود پر واضح ہونے والی کسی نئی حقیقت کا انکار کیے بغیر عمدا اور جان بوجھ کر اس کا انکار کرتا جس کے حق ہونے کا اسے علم ہے۔

4.2 کفر کے لئے سزا

انسان یا خدا کے حقوق کی خلاف ورزی کفر ہے۔

قرآن صرف دنیاوی معاملات میں کفر کے لیے سزا کا حکم دیتا ہے۔ دنیاوی معاملات میں کفر روحانی معاملات میں بھی کفر ہے اور اس کا عکس نہیں۔

جو دشمن بن جاتا ہے اور ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتا ہے جو معاشرے یا ریاست کے ایک طبقے کے لئے نقصان دہ ہے تو اسے اس نقصان کے لئے سزا دی جا سکتی ہے جو معاشرے کو اس سے پہنچا ہے یا ممکنہ طور پر پہنچ سکتا ہے، لیکن ارتداد کے لئے اسے سزا نہیں دی جا سکتی۔ دنیاوی معاملات میں ارتداد محض ایک اتفاقی اور غیر متعلقہ امر ہے ، کفر نہیں۔

سود صرف روحانی پہلو سے کفر ہو گا ، اگر اس سے زمین کے قوانین کی خلاف ورزی لازم نہیں آتی ہو تو۔ قانون سازی کے ذریعے سود خوری کو ایک قابل سزا جرم قرار دیا جا سکتا اس لیے کہ یہ معاشرے کے لئے نقصان دہ ہے لیکن یہ حد نہیں ہوگی ۔ صرف روحانی پہلو سے متعلق کفر کے لئے سزا کا قانون بنانا اس مذہب اور ضمیر کی آزادی کی خلاف ورزی ہے جو اللہ نے انسانوں کو عطا کیا ہے، اللہ نے جو آزادی انسان کو عطا کیا ہے اس میں اس طرح کی مداخلت کفر ہے۔

قل للذين آمنوا يغفروا للذين لا يرجون أيام الله ليجزي قوما بما كانوا يكسبون

(45:14) آپ ایمان والوں سے فرما دیجئے کہ وہ اُن لوگوں کو نظر انداز کر دیں جو اللہ کے دنوں کی (آمد کی) امید اور خوف نہیں رکھتے تاکہ وہ اُن لوگوں کو اُن (کے اعمال) کا پورا بدلہ دے دے جو وہ کمایا کرتے تھے۔

فرقوں کے خلاف تکفیری بھی قرآن کے خلاف ہے۔

(6:159) بیشک جن لوگوں نے (جدا جدا راہیں نکال کر) اپنے دین کو پارہ پارہ کر دیا اور وہ (مختلف) فرقوں میں بٹ گئے، آپ کسی چیز میں ان کے (تعلق دار اور ذمہ دار) نہیں ہیں، بس ان کا معاملہ اﷲ ہی کے حوالے ہے پھر وہ انہیں ان کاموں سے آگاہ فرما دے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔

(23:53) پس انہوں نے اپنے (دین کے) امر کو آپس میں اختلاف کر کے فرقہ فرقہ کر ڈالا، ہر فرقہ والے اسی قدر (دین کے حصہ) سے جو ان کے پاس ہے خوش ہیں، (54) پس آپ ان کو ایک عرصہ تک ان کے نشۂ جہالت و ضلالت میں چھوڑے رکھئے۔

4.3 انسانی حقوق

درج ذیل سمیت قرآن مجید کی آیتیں ابدی اور ہر زمانے کے لیے قابل نفاذ ہیں:

4.3.1 مذہب اور ضمیر کی آزادی کا حق

دین میں کوئی زبردستی نہیں (2:256)

(50:45) ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ وہ کہتے ہیں اور آپ اُن پر جبر کرنے والے نہیں ہیں، پس قرآن کے ذریعے اس شخص کو نصیحت فرمائیے جو میرے وعدۂ عذاب سے ڈرتا ہے!

(2:272) ان کو ہدایت دینا آپ کے ذمہ نہیں بلکہ اﷲ ہی جسے چاہتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے۔

(28:56) حقیقت یہ ہے کہ جسے آپ (راہِ ہدایت پر لانا) چاہتے ہیں اسے راہِ ہدایت پر آپ خود نہیں لاتے بلکہ جسے اللہ چاہتا ہے (آپ کے ذریعے) راہِ ہدایت پر چلا دیتا ہے، اور وہ راہِ ہدایت پانے والوں سے خوب واقف ہے۔

(29:18) اور اگر تم نے (میری باتوں کو) جھٹلایا تو یقیناً تم سے پہلے (بھی) کئی امتیں (حق کو) جھٹلا چکی ہیں، اور رسول پر واضح طریق سے (احکام) پہنچا دینے کے سوا (کچھ لازم) نہیں ہے۔

(10:19) اور سارے لوگ (ابتداء) میں ایک ہی جماعت تھے پھر(باہم اختلاف کر کے) جدا جدا ہو گئے، اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی (کہ عذاب میں جلد بازی نہیں ہوگی) تو ان کے درمیان ان باتوں کے بارے میں فیصلہ کیا جا چکا ہوتا جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔

(11:118) اور اگر آپ کا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا، اور (اب) یہ لوگ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے؛

(109:1) آپ فرما دیجئے: اے کافرو!،

2  میں ان (بتوں) کی عبادت نہیں کرتا جنہیں تم پوجتے ہو،

3  اور نہ تم اس (رب) کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں،

4  اور نہ (ہی) میں (آئندہ کبھی) ان کی عبادت کرنے والا ہوں جن (بتوں) کی تم پرستش کرتے ہو،

5  اور نہ (ہی) تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس (رب) کی میں عبادت کرتا ہوں،

6  (سو) تمہارا دین تمہارے لئے اور میرا دین میرے لئے ہے،

4.3.2 عدل، انصاف اور عدم جارحیت

(2:190) اور اﷲ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں (ہاں) مگر حد سے نہ بڑھو، بیشک اﷲ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا

 (60:8) اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں فرماتا کہ جن لوگوں نے تم سے دین (کے بارے) میں جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے (یعنی وطن سے) نکالا ہے کہ تم ان سے بھلائی کا سلوک کرو اور اُن سے عدل و انصاف کا برتاؤ کرو، بیشک اللہ عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (9) اللہ تو محض تمہیں ایسے لوگوں سے دوستی کرنے سے منع فرماتا ہے جنہوں نے تم سے دین (کے بارے) میں جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں (یعنی وطن) سے نکالا اور تمہارے باہر نکالے جانے پر (تمہارے دشمنوں کی) مدد کی۔ اور جو شخص اُن سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔

(5:2) ........................اور تمہیں کسی قوم کی (یہ) دشمنی کہ انہوں نے تم کو مسجدِ حرام (یعنی خانہ کعبہ کی حاضری) سے روکا تھا اس بات پر ہرگز نہ ابھارے کہ تم (ان کے ساتھ) زیادتی کرو، اور نیکی اور پرہیزگاری (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو اور اﷲ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اﷲ (نافرمانی کرنے والوں کو) سخت سزا دینے والا ہے۔

(5:8) اے ایمان والو! اﷲ کے لئے مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے انصاف پر مبنی گواہی دینے والے ہو جاؤ اور کسی قوم کی سخت دشمنی (بھی) تمہیں اس بات پر برانگیختہ نہ کرے کہ تم (اس سے) عدل نہ کرو۔ عدل کیا کرو (کہ) وہ پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے، اور اﷲ سے ڈرا کرو، بیشک اﷲ تمہارے کاموں سے خوب آگاہ ہے۔

(16:126) اور اگر تم سزا دینا چاہو تو اتنی ہی سزا دو جس قدر تکلیف تمہیں دی گئی تھی، اور اگر تم صبر کرو تو یقیناً وہ صبر کرنے والوں کے لئے بہتر ہے۔

(42:40) اور برائی کا بدلہ اسی برائی کی مِثل ہوتا ہے، پھر جِس نے معاف کر دیا اور (معافی کے ذریعہ) اصلاح کی تو اُس کا اجر اللہ کے ذمّہ ہے۔ بیشک وہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔

(42:41) اور یقیناً جو شخص اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد بدلہ لے تو ایسے لوگوں پر (ملامت و گرفت) کی کوئی راہ نہیں ہے۔

(42:42) بس (ملامت و گرفت کی) راہ صرف اُن کے خلاف ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی و فساد پھیلاتے ہیں، ایسے ہی لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے۔

(42:43) اور یقیناً جو شخص صبر کرے اور معاف کر دے تو بیشک یہ بلند ہمت کاموں میں سے ہے۔

4.4 مذہب تبدیل کروانے کے قواعد

(16:125) اے رسولِ معظّم!) آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بحث (بھی) ایسے انداز سے کیجئے جو نہایت حسین ہو، بیشک آپ کا رب اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو (بھی) خوب جانتا ہے۔

(29:46) اور (اے مومنو!) اہلِ کتاب سے نہ جھگڑا کرو مگر ایسے طریقہ سے جو بہتر ہو سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا، اور (ان سے) کہہ دو کہ ہم اس (کتاب) پر ایمان لائے (ہیں) جو ہماری طرف اتاری گئی (ہے) اور جو تمہاری طرف اتاری گئی تھی، اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود ایک ہی ہے، اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔

4.5 سنی فقہ میں میں کفر یا کافر کے تصور کا تاریخی پس منظر

ذیل میں بربرا ایچ ای زولنر (Barbara H. E. Zollner) کی کتاب [The Muslim Brotherhood: Hasan al-Hudaybi and ideology (Routledge Studies in Political Islam)] سے ایک اقتباس پیش ہے۔

4.5.1 مسلمان یا کافر: ایک حتمی سوال؟

ایک بنیادی مسٔلہ مسلم اور کافر کی تعریف ہے۔ اس مسٔلہ کے استدلال کو اچھی طرح سے سمجھنے کے لیے اس تصور کی ایک عام سمجھ بوجھ ضروری ہے۔

اگر ہم ایک پل کے لیے اس بات پر اتفاق کر بھی لیں کہ ایمان کی تعریف اس کے خلاف سے ہی کی جا سکتی ہے، تو کفر سے متعلق اصطلاحات کی وضاحت ضروری ہے۔ کسی بھی روحانی بحث و مباحثہ میں مشغول ہوئے بغیر، صرف سنی فقہ کے دائرے میں ہی رہ کر، کفر کی ایک سادہ تعریف بے اعتقادی یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی سے انکار کو توحید کے تصور میں شامل کر لیتی ہے جس سے اسلام میں حتمی اصول کی تشکیل ہوتی ہے۔ لہٰذا، کافر وہ ہے جو "یہ مانے کے کوئی خدا نہیں ہے، جدا ایک نہیں ہے، یا یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی نہیں تھے"، یہ اور اسی طرح کی مختلف وسیع تعریف سے مزید تحقیقات کے لئے ایک افادیت بخش بنیاد فراہم ہوتی ہے، اس لیے کہ اسے تمام مسلم مذہبی روایت میں وسیع پیمانے پر قبولیت حاصل ہے۔

 تاہم یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ یہ تعریف ایک وسیع ترین فریم ورک پیش کرتی ہے جس میں اس بات کے امکانات باقی رہ جاتے ہیں کہ انفرادی طور پر کفر کا تعین کس طرح ہوتا ہے۔ اس سے فوری طور کسی کو یہ علم ہو سکتا ہےکہ یہ تعریف ابہام اور عدم تعین کی گنجائش پیدا کرتی ہے،مثلاً، کیا وہ شخص خدا کو تسلیم نہیں کرتا جیسا کہ ملحد کرتے ہیں، یا بہت سے معبودوں میں یقین رکھتا ہے جیسا کہ مشرک کرتے ہیں۔ کفر کا یہ تصور اس بات کو بھی واضح نہیں کرتا کہ وہ شخص واقعی ایک واحد خدا پر یقین رکھتا ہے لیکن قرآن مجید کے نزول کا انکار کرتا ہے یا اس بات کا ان کار کرتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی اور اس کے رسول تھےجن پر اللہ کی جانب سے حی نازل ہوتی تھی۔ لہٰذا، کفر کی مروجہ تعریف چند بنیادی عناصر یعنی توحید اور رسالت کا ایک مجموعہ ہے۔ اس کے علاوہ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کفر ایک ایسا تصور ہے جو ایک متعین تعریف کے بجائے ایک اضافی تصور پیش کرتا ہے۔ معنی کی اضافیت کو مختلف مراحل میں سمجھایا جا سکتا ہے؛ پہلا ایک متن کے طور پر قرآن کی تاریخ میں پنہاں ہے اور دوسرا فقہ اسلامی سے متعلق ہے۔

جہاں تک قرآن کی بات ہے جس میں یہ اصطلاح کثرت کے ساتھ استعمال ہوا ہے اور در حقیقت یہ قرآن کے بنیادی پیغام کا ایک حصہ بھی ہے، والڈمین اور ایزتسو کا کہنا ہے کہ وحی کے عمل کے دوران اس اصطلاح کا معنی واضح طور پر تبدیل ہو گیا ہے۔ دونوں کا یہ کہنا ہےکہ ابتدائی طور پر اس لفظ کا مطلب 'خدا کی ناشکری کرنا' تھا۔ تاہم، بعد کی قرآنی آیات میں اس کا استعمال ایمان کے تصور کی نفی کرنے کے لیے کیا جانے لگا۔ قرآن کی ترتیب اور اس کے سیاق و سباق کے مطابق اس لفظ کے معانی بھی مختلف ہیں ، جبکہ اس تبدیلی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کے گزشتہ معانی کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ لہٰذا، والڈمین نے اسے 'معانی کا اجتماع' اور ایزتسو نے اسے مختلف لسانی اختلافات 'متعلقہ معانی' کہا ہے۔

اس گفتگو کا مقصد اس بات کی نشاندہی کرنا ہے کہ قرآن مجید میں اکثر لفظ کفر کا استعمال کیا گیا ہے لیکن اس سے مراد کیا ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، اس لفظ کے اصل مفہوم میں اس حد تک تبدیلی ہوئی ہے کہ اس سے قرآن کے معنی میں التباس پیدا ہو جاتا ہے۔ اور یہ التباس مذہبی اور فقہی بحث میں عیاں ہے، اور جیسا کہ سعید کا کہنا ہے کہ آج یہ التباس بہت الجھن کا سبب ہے۔

جیسا کہ مندرجہ بالا گفتگو سے یہ بات واضح ہو گئی کہ کافر اور مسلم کے تصورات کا مکمل طور پر تعین قرآن نے نہیں کیا ہے۔ لہذا ہمیں اسلامی تاریخ سے رجوع کرنا ضروری ہے جہاں ان تصورات کی مزید تشکیل ہوئی تھی۔ 'اسلام کیا ہے؟' اور 'مسلمان کون ہے؟ جیسے سوالات کے پیش نظر جو کہ ابتدائی مسلم قوم کے لیے سب سے اہم مسائل تھے، کفر کے متعلق تنازعہ مسلم فقہی نظریہ کی ابتدائی پہل تھی۔

تلوار سے کفر کا تعین اور اس کی تعریف کرنے والی قدیم ترین تحریک خوارج کی تھی۔ یہ تحریک اپنے مذہبی تعصب اور مساوات کے ذریعے نمایاں ہوئی۔ خوارج ایسی پہلی تحریک تھی جس نے کفر کا رخ مسلمانوں ہی کی طرف موڑ دیا، اور اس طرح انہوں نے اس کے اطلاق کا دائرہ وسیع کر دیا۔ خوارج کا عقیدہ یہ تھا کہ عمل میں ایمان کا اظہار ضروری ہے۔ اس تحریک کا موقف یہ تھا کہ مسلمان سمجھے جانے کے لیے انسان کو ایمان داروں کی کمیونٹی میں مشغول ہونا ضروری ہے۔ جو مسلمان ہے اس کی مثبت طور پر تصدیق کرنے کے بجائے اس تحریک نے مسٔلہ کو الٹ دیا اور ہر اس شخص کو کافر قرار دیا جس کا تعلق ان کی خاص کمیونٹی نہیں تھا اور جو ان کے انتہاپسند نظریات کو نہیں اپناتے تھے۔ ایک دیانتدار اور صالح مسلم کمیونٹی قائم کرنے کی ایک جنونی خواہش کے ساتھ اس تحریک نے تکفیریت کا راستہ اپنایا اور یہ کہا: ‘‘کون ہیں وہ لوگ جنہیں اس موجودہ برادری سے نکال دیا جانا چاہیے جو کہ فاسد اور نجس ہو چکی ہے؟ اور اس طرح کفر کے معنی میں ایک تبدیلی پیدا ہوئی جس میں بائیکاٹ کے تصور کو بھی شامل کر لیا گیا۔

ایمان اور کفر پر خوارج کے موقف کے خلاف رد عمل نے سنی فقہ کی بنیاد رکھی۔ تکفیری نظریہ کو مسترد کرنے والی پہلی مذہبی تحریک مرجعہ کی تھی۔ ا گر چہ ان کی فقہ خوارج کی انتہاپسندی کے خلاف تھی، لیکن اس نے 'اموی خلافت' کے سیاسی نظام کو جائز بھی قرار دیا، جس نے پھر اس عمل کو تحریک دی۔ مرجعہ کا مصدر فعل رجع ہے جس کا مطلب فیصلے کو معطل یا ملتوی کرنا ہے۔ تکفیرییت کےسوال پر مرجعہ نے خوارج کی زبردست مخالفت کی۔ اگر چہ مرجعہ نے کفر اور گناہ کے تصور پر غور و خوص کی، لیکن انہوں نے یہ بھی موقف پیش کیا کہ جو کوئی بھی خود کو مسلمان کہے اسے مسلمان ہی تسلیم کیا جانا ضروری ہے، اور آخری فیصلہ خدا ہی کرے گا۔ اس اصول کے مطابق، گناہ ایمان کو متاثر نہیں کرتا ہے۔ ایک انسان جو بظاہر قرآن و سنت کے قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے اور گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے، اسے مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔ لہٰذا، اس فرقے نے زور اندرونی ایمان پر دیا ، اور ایک مسلمان کی ایک اہم خصوصیت کے طور پر عمل کے نظریہ کو مسترد کر دیا ہے۔ مرجعہ نظریات کے غلبے کے دوران، ان مذہبی اصولوں کی مزید وضاحت کی گئی جس کے نتیجے میں سنی اسلام پر ایمان کا پہلا اصول تیار کیا گیا۔ جب اموی خاندان کی حکومت ختم ہوئی تو اس کی حمایت یافتہ اس فقہی تحریک نے بعد میں مذہبی بحث و مباحثے کی بنیاد رکھی۔

مکمل طور پر گنہگار کے جرم کی توثیق نہ کرتے ہوئے معتزلہ نے ایک بیچ کا راستہ اختیار کیا اور کہا کہ ایسا شخص نہ تو مسلمان ہو گا اور نہ ہی کافر۔ معتزلی فقہ کا ایک اہم حصہ یہ ہے کہ فرد اپنے اعمال کا ذمہ دار خود ہے۔ چونکہ معتزلہ کے اس موقف نے آخرت کی زندگی میں گنہگاروں کے انجام کی کوئی وضاحت نہیں کی، اسی لیے اس نے فقہ کے دائرہ اختیار کی ترقی کے لیے ایک مزید پختہ ماحول پیدا کیا۔ بالآخر معتزلہ کو ایک قدامت پسند نظریہ نے شکست دی۔

اشعریہ اور ماتوریدیہ کے قدامت پسند روایت نے کفر اور ایمان کے درمیان فرق پر سنی بحث و مباحثے میں حتمی اور پائدار مذہبی موقف قائم کیا۔ مجموعی طور پر اپنے نقطہ نظر میں کافی مشابہ ان دونوں کے نقطہ نظر سنی عقیدہ پر اکثر کام کے لیے بنیاد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ دونوں مکتبہ فکر کس قدر بااثر ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہےکہ بنیادی معمولات اور معتقدات پر ان کی تشریحات کو اصول تصور کیا جاتا ہے۔ اس میں ان کے اسلام کے نام نہاد پانچ ستون اور ایمان کے چھ دفعات بھی شامل ہیں جنہیں اشعریہ اور ماتوریدیہ نے مضبوطی کے ساتھ ایک فریم ورک کے طور پر وضع کیا تھا۔ واضح طور پر ان کی فقہ کے اثرات برے بڑے فقہی مذاہب کے دلائل پر مرتب ہوئے۔

ماضی میں ابتدائی سنی اسلام کے مختلف مذہبی رجحانات کے پیش نظر یہ کہنا مناسب ہو گا کہ کفر اور ایمان کی تعریف کو سنی فقہی افکار و نظریات کے اہم دور سے ہی مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی تھی۔ مذکورہ سروے کے مطابق یہ امر بھی واضح ہے کہ ایمان اور کفر ایسے اصطلاحات ہیں جن کی کوئی ایک تعریف متعین نہیں کیا جا سکتی۔ اگرچہ واضح طور پر وہ ایک دوسرے سے متضاد ہیں، لیکن یہ دونوں مختلف الجہات تصورات ہیں جن پر ان کے معنی کے مواد کے لحاظ سے مختلف انداز میں تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

جن باتوں سے کفر ثابت ہوتا ہے ان کے دلائل کا مرجع فقہ ہے۔ عقائد کے باب میں اشعریہ اور ماتوریدیہ کے اصول و ضوابط کا قانونی افکار و نظریات پر براہ راست اثر مرتب ہوا۔ لہٰذا، گناہ کے نظریاتی اعتبار میں نہ صرف یہ کہ کفر پر تبادلہ خیال کیا گیا بلکہ مختلف فقہی مذاہب میں اسے قابل سزا قانون کی خلاف ورزی بھی قرار دیا گیا۔ فقہ میں کفر ایک کثیر الجہات تصور ہے جو بے شمار مختلف مخصوص جرائم پر مشتمل ہے۔ اس کے تحت، ارتداد (ردّہ)، شرک، توہین، (سب اللہ یا سب الرسول)، الحاد (زندقہ) اور منافقت (نفاق) جیسے تصورات موجود ہیں۔

ان تصورات میں سے ہر ایک میں ایک مخصوص کفر پایا جاتا ہے جن میں سے ہر ایک قابل سزا ہے۔ ان جرائم کو گناہ کبیرہ قرار دیتے ہوئے اکثر فقہاء نے اس پر سخت فیصلے دیے ہیں۔ لہٰذا، ان جرائم پر فقہا نے بالعموم سزائے موت کا جواز پیش کیا ہے۔ کلاسیکی فقہاء اپنے اس استدلال کا جواز اس طرح پیش کرتے ہیں کہ منافقوں، کافروں، بدعتیوں، اور مرتدوں نے خدا کے خلاف جانے کا فیصلہ کیا ہے اور اسی لیے انہوں نے صرف ایمان ہی نہیں بلکہ امت مسلمہ سے روگردانی کا فیصلہ کر لیا۔ قانون سے باہر ہونے جانے کی وجہ سے، ان گنہگاروں کی زندگیوں کو قانوناً محفوظ تصور نہیں کیا جاتا۔ اس استدلال سے نہ صرف یہ کہ سزائے موت کا بالعموم جواز پیش کیا گیا ہے، بلکہ امت کے کسی بھی رکن کو مفروضہ مجرم کو قتل کرنے کے لیے قانون کے دائرہ کار کے اندر اقدامات کرنے کا حق بھی دیا گیا ہے۔

گناہ اور جرم کے درمیان تعلقات کا ایک مکمل تجزیہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہےکہ تمام فقہاء اس بات پر متفق نہیں ہیں کہ کبیرہ گناہ ایسے جرائم ہیں جن سے مجرم کے لیے سزا واجب ہو جاتی ہے اس لیے کہ ان کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کفر کی تمام ذیلی اقسام میں صرف ارتداد (ردّا) ہی قابل سزا جرم ہے۔ لہٰذا، یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں مسلمان فقہا نے یہ فیصلہ دیا کہ الحاد، توہین اور نفاق جیسی کفر کی دوسری صورتیں قابل سزا نہیں ہیں۔ اس حقیقت کے پیش نظر یہ مسئلہ اور بھی زیادہ پیچیدہ ہے کہ خود کفر کی ضروری طور پر سرزنش نہیں کی گئی ہے، جیسا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کی مثال سے وضاحت ہوتی ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے انکار سے وہ کفار بن گئے ہیں، اگر چہ ان کا کفر خود اپنے آپ میں ایک قابل سزا جرم نہیں ہے۔ اس کی بنیاد پر یہودیوں اور عیسائیوں کا کفر ان مسلمانوں کے کفر سے مختلف ہے جو ردّا ، ذندقہ یا نفاق کا ارتکاب کرتے ہیں۔

جیسا کہ ابھی ہم نے دیکھا کہ ایمان کے مختلف تصورات کے بارے میں بحث اور ان کے بارے تنازعات کا تعلق ماضی میں اسلامی فقہی اور قانونی استدلال کے تعمیری دور سے ہے۔ خوارج نے اپنا موقف بائیکاٹ کے ذریعے ثابت کیا، اور اس کے خلاف مرجعہ اس کے بعد معتزلہ اور آخر میں اشعریہ اور ماتوریدیہ نے سنی فقہ کی بنیاد رکھی۔

4.6 سنی فقہ کی خامیاں

جیسا کہ یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ سنی فقہ میں کفر اور کافر کی تعریف قرآن مجید سے ماخوذ نہیں ہے۔ ان کی تعریف کا نقطہ اغاز کفر کو ایمان کا متضاد اور کافر کو مسلمان کا متضاد ماننے کے لیے ہے۔ اسے ایک واضح حقیقت یا ایک کلیہ مانا جاتا ہے۔

قرآن میں ان مفروضات کی گنجائش بہت کم ہے جو سنی فقہ میں بنائے گئے ہیں، مثلاً:

1۔ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق نہیں کرتے وہ کافر ہیں۔

(قرآن عیسائیوں، یہودیوں اور مشرکوں کو اس وقت تک کافر نہیں گردانتا جب تک کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار نہیں کرتے۔ علم یا اتقان میں کمی کی وجہ سے عدم قبولیت کو انکار نہیں سمجھا گیا ہے)۔

2۔ آج اسلام صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں کا مذہب ہے۔

(قرآن کے مطابق، اسلام ان تمام افراد کا مذہب ہے جو ان چیزوں کی پیروی کرتے ہوئے جنہیں وہ سچ جانتے اور مانتے ہیں، اللہ کی اطاعت تسلیم کرتے ہیں )۔

 سنی فقہ کے افکار و نظریات نہ صرف یہ کہ قرآن کے لیے زبردست انداز میں مضرت رساں ہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ قرآن کی توہین ہیں۔ یہ قرآن کو تضادات اور تنازعات سے بھری ایک کتاب ثابت کرتے ہیں جبکہ قرآن کا فرمان ہے کہ ‘‘اور اگر یہ (قرآن) غیرِ خدا کی طرف سے (آیا) ہوتا تو یہ لوگ اس میں بہت سا اختلاف پاتے’’۔ قرآن کسی بھی تنازعات یا تضادات کے بغیر اللہ کی ایک کتاب لیکن اس کی انسانی تفہیم نے اسے تضادات و تناقضات کی ایک کتاب بنا دیا ہے۔ اللہ لوح محفوظ میں اس کی کیا حفاظت کر رہا ہے جبکہ لوگوں نے اس کے معانی و مطالب کو فاسد کر دیا ہے؟

جو بھی اسلام کی حقیقت سے انکار کرتا ہے وہ کافر ہے، لیکن یہ سمجھنا کہ وہ تمام لوگ جو یہ تسلیم نہیں کرتے ہیں کافر ہیں، بالکل ناجائز ہے، اور قرآن ایسے نتائج اخذ کرنے کی بالکل کوئی گنجائش فراہم نہیں کرتا ہے۔

 سنی فقہ میں صرف محمد صلی اللہ علیہ کے پیروکاروں کو ہی مسلمان مانا گیا ہے۔ ہمیں قرآن سے یہ معلو م ہوتا ہے کہ ماضی میں یہودیوں اور عیسائیوں نے ایسا ہی کیا ہے جس کے لیے ان کی سرزنش کی گئی ہے۔ اس سے کچھ سبق حاصل کرنے کے بجائے مسلمانوں نے خود ان کے نقش قدم پر چلانا شروع کر دیا ہے!

اس کے پیش نظر اور خاص طور پر ایک مسلمان کے لئے یہ سچ ہے اس لیے یہ بات کسی کے لیے عجیب نہیں ہے کہ کفر اور ایمان متضاد نہیں ہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ایمان کو ایک بہت ہی تنگ معنوں میں سمجھا جاتا ہے اور صرف انہیں ہی مسلمان مانا جاتا ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کرتے ہیں۔ اگر ایمان کو اس کے وسیع ترین معنوں میں سمجھا گیا ہوتا تو پھر کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ کیا کوئی بھی عالم پورے وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہے کہ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار نہیں ہیں وہ ایمان کے بغیر ہیں؟ اگر بخیلی کفر کی علامت ہے، تو آزادانہ طور پر صدقہ میں مال خرچ کرنا بھی ایمان کی علامت ہے اور یہ خاصیت اس ایمان سے آزاد ہے جس کا کوئی شخص اپنے منہ سے اقرار کرتا ہے۔ لہٰذا، کس طرح تمام غیر مسلموں کو کافر کہا جا سکتا ہے؟ قرآن صرف دنیاوی معاملات میں واضح کفر کا ارتکاب کرنے والوں کو ہی کاسفر کہتا ہے۔ اللہ کے رسولوں نے مشرکوں کے ساتھ کافروں جیسا سلوک نہیں کیا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو پھر کسی بھی تبلیغ کی گنجائش کہاں رہ جاتی؟ اگر ہم غیر مسلموں کے ساتھ کافروں جیسا سلوک کرتے ہیں تو پھر کسی بھی تبلیغی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے؟ ہمیں ان سب کو آیات 3:28، 4:139 اور 4:144 کے مطابق ختم کر دینا چاہیے۔

اگر ہم ان کے ساتھ کافروں جیسا سلوک کرنے لگے تو پھر آیات 9-60:8، کا کیا مطلب رہ جاتا ہے جن میں مسلمانوں کو ان لوگوں کے ساتھ رحم دلی (تبروہم) اور انصاف (تقسطو) کا معاملہ کرنے کا حکم دیا گیاہے؟ یا تو یہ آیتیں 3:28, 4:139 اور 144 سے متصادم ہیں یا تمام مشرکین کافر نہیں ہیں۔ لہٰذا اس کا نتیجہ واضح ہے کہ صرف وہی لوگ کافر ہیں جو مسلمانوں کے اور اسلام کے کھلے دشمن ہیں۔

اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے کہ کفر کی تعریف میں ایک نقص نے کتنے تضادات و تناقضات کو جنم دیا ہے جیسا کہ یہ بربرا کی کتاب کے اقتباسات سے واضح ہے۔ الفاظ کفر اور کافر کے الفاظ گناہ اور گنہگار یا جرم اور مجرم کی طرح ہیں۔ جب تک گناہ یا جرم بیان نہیں کر دیا جاتا یا جب تک انہیں جان نہیں لیا جاتا تب تک گنہگار یا گناہ کا مکمل طور پر تعین نہیں ہوتا ہے۔

قرآن مجید کی آیات میں ہمیشہ کافر کے کفر کی وضاحت کی گئی ہے اور اس تعلق سے ہر ایک آیت دوسری آیت سے مختلف ہے اس لیے کہ کفر کی اقسام میں کثیر تنوعات ہیں۔ کافر کے لئے ایک مخصوص معنی کا تعین کرنا اور ‘‘دین کا انکار’’ کرنے والے تمام لوگوں کو کافر کہنا غلط ہے کیونکہ کفر کی بہت سی ایسی اقسام ہیں جن پر تمام مذاہب کے لوگ عمل پیرا ہیں مثلاً بخل، ظلم و جبر اور ناانصافی وغیرہ۔

اگر کفر سچائی کے واضح ہو جانے کے بعد سچائی کا انکار کرنا ہے تو اس میں تمام قسم کی سچائی شامل ہونی چاہئے۔ بہت سے مسلمان ایسے ہیں جو سچائی کا انکار کرتے ہیں یا باطل کا ساتھ دیتے ہیں۔ جب عنوان صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرنے یا قرآن کی اس آیت کا انکار کرنے کا ہو جس کا تعلق ایمان سے ہے، تب بھی اس میں حقیقت کے واضح ہو جانے کے بعد انکار شامل ہوگا۔ اس میں علم یا اتقان کے فقدان کے باعث عدم قبولیت شامل نہیں ہوتی۔ ہمیں اس بات کا علم کیسے ہو سکتا ہے کہ کس نے حق کے ظاہر ہونے کے بعد اسلام کی حقانیت کو مسترد کیا ہے؟ لوگوں کے ایمان کی بنیاد پر ایک جماعت پر کفر کا اطلاق کرنے کے لیے ہمارے پاس کوئی پیمانہ نہیں ہے خواہ وہ عیسائی، یہودی، مشرک یا لامذہب ہی کیوں نہ ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ سنی فقہ قرآن کے پیغام سے بہت دور ہو چکی ہے۔

4.7 سنی فقہ کے سنگین مضمرات

اب یہ سمجھنا آسان ہے کہ یہ کہنا کیوں مشکل ہے کہ انتہا پسندوں کے نظریات اسلامی نہیں ہیں۔

سنی فقہ میں کافر مسلمان کا متضاد ہے اور مشرک، کافر اور بت پرست جیسے تمام الفاظ مترادفات ہیں۔ عیسائی اور یہودی بھی مشرک ہیں اور اس وجہ سے کفر پر عمل پیرا ہیں۔

خوارج کی کافر کی تعریف میں مزید مسلمانوں کے فرقے شامل ہو گئے ہیں۔ ہر وہ فرقہ جو دوسرے فرقوں کی تکفیر کرتا ہے وہ کچھ حد تک خارجی ہے۔

آیات 3:28, 4:139 اور 144 کے مطابق ایک مسلمان کافر سے دوستی نہیں کر سکتا۔ لہٰذا، باقی پوری دنیا تکفیری مسلمان کا دشمن ہے، سوائے ان لوگوں کے جو اس کے فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہذا، وہ باقی پوری دنیا کے ساتھ برسر پیکار ہے اور جنگ میں "ہر چیز جائز ہے" (قرآن کے مطابق نہیں بلکہ عامرویہ کے مطابق)۔

ایک اعتدال پسند مسلمان کے عقائد مختلف نہیں ہیں سوائے اس کے کہ وہ آیات 3:28, 4:139 اور 144 کو نظر انداز کرتے ہیں اور آیت 60:8 اور 9 پر توجہ دیتے ہیں جن میں مسلمانوں کو ان لوگوں کے ساتھ عدل و احسان کا معاملہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو ان کے ساتھ جنگ نہیں کرتے، اور اسی نوعیت کی دیگر آیات کو بھی مانتے ہیں جن میں پر امن بقائے باہمی کا حکم دیا گیا ہے۔

تاہم اب واضح یہ ہوتا ہے کہ سنی فقہ میں کفر کا معنی آیات 3:28, 4:139 اور 144 کو آیات 60:8 اور 9 سے متصاد بنا دیتا ہے اور کافروں سے متعلق جنگی آیتیں غیر مسلموں سے متعلق پرامن بقائے باہمی کی تعلیم دینے والی آیات کے ساتھ متصادم ہیں۔ لہٰذا، کوئی بھی کسی بھی وثوق کے ساتھ کیسے کہہ سکتا ہے کہ سنی کا کون سا انتخاب صحیح ہے؟

قرآنی شواہد کی بنیاد پر اس تحریر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ :

کافر، مشرک، اور بت پرست جیسے اصطلاحات مترادف نہیں ہیں۔ کافر ایک ایسی اصطلاح نہیں ہے جسے قرآن لوگوں کے مذہب کی بنیاد پر ان سے منسوب کرتا ہے، اور اس اصطلاح کو بہت سی آیتوں میں فطری مذہب کے طور پر استعمال کیا گیا ہے اور بہت سی دیگر آیات میں اضافی عقیدے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

جنگ صرف عیسائیوں، یہودیوں اور مشرکوں کے درمیان موجود کافروں کے خلاف تھی اور کبھی بھی عیسائیوں، یہودیوں اور مشرکوں کے خلاف نہیں تھی۔

قرآن مجید کی کسی بھی آیات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔

قرآن روحانی پہلو سے متعلق کفر کے لیے کسی بھی سزا کی تجویز پیش نہیں کرتا، اور قرآن دین اور ضمیر کے حق کی واضح آزادی عطا کرتا ہے۔

اس تحریر میں کفر کی تعریف قرآن مجید میں مختلف اصطلاحات کے استعمال سے ماخوذ ہے اور اس میں ہر اس آیت کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے، لہٰذا، یہ تحریر منطقی طور پر درست ہونے کے علاوہ قرآن کی ہر آیت سے مطابقت رکھتی ہے۔

سنی تعریف نہ تو منطقی طور پر درست ہے اور نہ ہی یہ قرآنی آیت سے مطابقت رکھتی ہے اور اگر کفر کی ان کی تعریف کا اطلاق کیا جائے تو قرآن کی بہت سے دیگر آیتیں ایک دوسرے سے متصادم ہو جاتی ہیں ۔

جب تک سنی فقہ کی اصلاح نہ کی جائے اور اس تحریر میں پیش کی گئی کفر کی تعریف کو قبول نہ کیا جائے انتہا پسند نظریہ کو شکست نہیں دیا جا سکتا اس لیے کہ یہ ہر سنی کے نظریے پر مبنی ہے اور ایک اعتدال پسند اور انتہاپسند کے درمیان فرق صرف ان کی ذاتی پسند ہے، کیونکہ سنی فقہ میں کفر کی غیر جامع اور مانع تعریف کی بنیاد ہت دونوں کے انتخاب یکساں طور پر قابل جواز ہیں ۔

URL for English article: https://newageislam.com/islamic-ideology/naseer-ahmed,-new-age-islam/what-is-Kufr-and-who-is-a-kafir-in-the-quran?-(full-and-revised-text-of-the-new-age-islam-series-on-the-subject)/d/104163

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/naseer-ahmed,-new-age-islam/what-is-kufr-and-who-is-a-kafir-in-the-quran?--قرآن-مجید-کے-مطابق-کفر-کیا-ہے-اور-کافر-کون-ہیں؟/d/112669

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..