New Age Islam
Mon Sep 27 2021, 10:02 PM

Urdu Section ( 5 Sept 2017, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Triple Talaq Case تین طلاق معاملہ: غیر منصف مسلم مرد اور ان کے غیر منصف رہنما


نصیر احمد، نیو ایج اسلام

26 اگست 2017

جب ایک قوم اور اس کی قیادت ظالم ہو جاتی ہے تو اللہ ان کو ایک ایسے معاملے سے آزماتا ہے جس سے ان پر اللہ کے غضب نازل ہونے سے پہلے ان کی محرومیت کی انتہائی حد کا انکشاف ہوتا ہے۔ شاہ بانو کیس ایسا ہی معاملہ تھا۔ یہ ایک 62 سالہ خاتون کا معاملہ ہے جس نے اپنی ازدواجی زندگی کے پہلے 14 سالوں کے دوران اپنے شوہر سے پانچ بچوں جنم دیا جسے اس کے بعد 62 سال کی عمر میں صرف طلاق لینے کے لئے اگلے 32 سالوں تک اپنے شوہر کی دوسری بیوی کے ساتھ رہنا پڑا۔ اسے اپنے شوہر سے گزر بسر کے لئے معقول خرچ حاصل کرنے کی خاطر عدالتوں کی مدد حاصل کرنے کی ضرورت پڑی۔ نچلی عدالت نے ہر مہینے 25 روپے ادا کر نے کا حکم دیا جسے ہائی کورٹ نے 1978 میں بڑھا کر 179 روپے اور چند پیسے ادا کرنے کا حکم دیا۔ اس کے شوہر نے جو کہ ایک اچھے وکیل تھے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک وکیل ہونے کی وجہ سے وہ اپنی 62 سالہ طلاق شدہ خاتون کو سپریم کورٹ تک لے آئے ، جب کہ وہ اسے اپنی آمدنی کے مطابق عدالت کی مداخلت کے بغیر مہربانی کے ساتھ اس سے زیادہ رقم ادا کر سکتے تھے۔

طلاق شدہ خواتین کے ساتھ رویہ

اس سے متعلق قرآن کریم کی آیت یہ ہے:

(2:241) اور طلاق یافتہ عورتوں کو بھی مناسب طریقے سے خرچہ دیا جائے، یہ پرہیزگاروں پر واجب ہے۔

قرآن نے اپنی حکمت میں اس آیت کو مطلق رکھا ہے۔ گزر بسر کرنے کے لئے معقول خرچ کیا ہے اس کا فیصلہ اس کے معاشرے اور اس معاشرے کے معمول اور معاملے کی نوعیت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ ایک ایسی 62 سالہ خاتون کے معاملے میں کہ جب وہ سن ایاس کو پہنچ چکی ہے اور جو نہ تو اب شادی کے قابل ہے اور نہ ہی کوئی کام کرنے کے لائق ہے، مناسب اور معقول ایک مرتبہ صرف 5400 کا تعین نہیں بلکہ ماہانہ وار اخراجات کا تعین ہے۔ یہ بات کسی کے تصور سے بھی باہر ہے کہ اچھے وسائل اور اچھے ذرائع آمدنی رکھنے والا ایک شخص اس عورت کو گزربسر کرنے کے لئے 180 مہینہ سے بھی کم رقم ادا کرتا ہے جس عورت نے اس کے ساتھ ایک بیوی کی حیثیت سے اپنی زندگی کے بہترین 46 سال بسر کئے ہیں۔ کسی بھی اچھے انسان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کو انصاف کی تلاش میں عدالتوں کے چکر کاٹنے پر مجبور کرنے کے بجائے سخاوت کا مظاہرہ کرے اور اسے اتنی رقم ادا کرے جو قابل قبول ہو۔ ایک اچھے انسان سے یہ بھی امید کی جاتی ہے کہ ایک لمبے عرصے سے اس کی نوکری کرنے والا انسان جب ضعیف و کمزور ہو جائے اور کام کرنے کے لائق نہ رہے تو وہ اس کی بھی دیکھ بھال کے لئے اخراجات ادا کرے ۔ سپریم کورٹ نے اپیل مسترد کردی اور ہائی کورٹ کے حکم کو برقرار رکھا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ متنازعہ فیہ ہو گیا۔ مسلمانوں کی بہت سی جماعتوں نے اس کے خلاف احتجاج کئے جس کا انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ یہ ان کے مذہب اور ان کے پرسنل لاء کے حق پر حملہ ہے۔ ان کے ترجمان سنی بریلوی رہنما عبیدالله خان اعظمی اور سید کاظی تھے۔ اس معاملے میں سب سے پیش پیش 1973 میں قائم کی گئی ایک تنظیم مسلم پرسنل لاء بورڈ تھی۔ شرعی عدالتوں کو عورت کو انصاف دلانے یا اس کے شوہر کے خلاف معاملے میں اس کی مدد کرنی چاہیے تھی۔ تاہم مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس معاملے میں اس بنیاد پر شوہر کی حمایت کی کہ شرعی قانون کے مطابق وہ درست تھے۔ اسلامی اداروں اور عوام کی حمایت کی ناانصافی نے ایک فرد کی ناانصافی کو مزید بدترین بنا دیا تھا۔

سورہ الطلاق

(65:7) صاحبِ وسعت کو اپنی وسعت (کے لحاظ) سے خرچ کرنا چاہئے، اور جس شخص پر اُس کا رِزق تنگ کر دیا گیا ہو تو وہ اُسی (روزی) میں سے (بطورِ نفقہ) خرچ کرے جو اُسے اللہ نے عطا فرمائی ہے۔ اللہ کسی شخص کو مکلّف نہیں ٹھہراتا مگر اسی قدر جتنا کہ اُس نے اسے عطا فرما رکھا ہے، اللہ عنقریب تنگی کے بعد کشائش پیدا فرما دے گا۔

(8) اور کتنی ہی بستیاں ایسی تھیں جن (کے رہنے والوں) نے اپنے رب کے حکم اور اُس کے رسولوں سے سرکشی و سرتابی کی تو ہم نے اُن کا سخت حساب کی صورت میں محاسبہ کیا اور انہیں ایسے سخت عذاب میں مبتلا کیا جو نہ دیکھا نہ سنا گیا تھا۔

(9) سو انہوں نے اپنے کئے کا وبال چکھ لیا اور اُن کے کام کا انجام خسارہ ہی ہوا۔

(10) اللہ نے اُن کے لئے (آخرت میں بھی) سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ سو اللہ سے ڈرتے رہا کرو اے عقل والو! جو ایمان لے آئے ہو، بیشک اللہ نے تمہاری (ہی) طرف نصیحتِ (قرآن) کو نازل فرمایا ہے۔

ظالموں پر اللہ کا عذاب

آنے والے انتخابات کو نظر میں رکھ کر راجیو گاندھی نے صورتحال سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی اور "مسلمان خواتین (پروٹیکشن آف رائٹس آن ڈیورس) ایکٹ 1986" جاری کیا ، اور ظالم مسلمانوں اور ان کے ظالم رہنماؤں کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ ہندوؤں کی جانب سے بھی احتجاجی مظاہرہ کی توقع تھی اور ان کو فرو کرنے کے لئے راجیو گاندھی نے ہندوؤں کو عبادت کرنے کے لئے بابری مسجد کے دروازوں کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیا تھا۔

باقی معاملات سب کے سامنے ہیں۔ پوری مسلم آبادی اور ان کے رہنماؤں کی طرف سے شاہ بانو کے ساتھ اتنی بڑی ناانصافی کا معاملہ سامنے نہیں آتا تو تاریخ کچھ اور ہی ہوتی۔ ہر طبقے سے داد و تحسین حاصل کرنے کی سیاست نے پولرائزیشن کی سیاست کو بڑھاوا دیا جس کے نتیجے میں بابر مسجد کے انہدام، فسادات اور مزید پولرائزیشن کے راستے ہموار ہوئے اور آج ایک ایسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے جس میں مسلم ووٹ کوئی بھی تبدیلی پیدا کرنے میں ناکام ہے اس لئے کہ ہندو مکمل طور پر پولرائزیشن کا شکار ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے اکثریت پسندی کی سیاست فروغ پا رہی ہے۔

"مسلمان خواتین (پروٹیکشن آف رائٹس آن ڈیورس) ایکٹ 1986"جس کا مقصد بظاہر سپریم کورٹ کے فیصلے کو پلٹنا تھا ، تھوڑا بہت حاصل ہوا جیسا کہ یہ شمیمہ فاروقی بمقابلہ شاہد خان کیس سے واضح ہے۔ یہ ایکٹ ثمر آور ہوا اس لئے کہ اس کی بنیاد اس بات پر تھی کہ سپریم کورٹ نے شرعی قانون میں مداخلت کی ہے جبکہ سپریم کورٹ نے یہ ظاہر کیا کہ         اس نے قرآن کریم میں شرعی قانون کے ساتھ مداخلت نہیں کی تھی بلکہ در حقیقت اس نے اپنے فیصلے کی بنیاد قرآن کی آیت نمبر 2:241 کے واضح پیغام پر رکھی ہے۔

تین طلاق کیس

کیس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء اور علماء نے شاہ بانو معاملے سے سبق نہیں سیکھا ہے۔ تین طلاق کے عمل کو بدعت اور قرآن کریم کی شریعت کے خلاف اور ناپسندیدہ مانا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے علماء اس کو خود بخود ممنوع قرار دینے کے لئے تیار نہیں ہیں اگرچہ مسلم عورتیں اور ان کی تنظیمیں اس کا مطالبہ کر رہی ہیں ۔ کیا وہ مسلمانوں کے اوپر اللہ کے مزید غضب کے منتظر ہیں؟ کیا ان کی نظر دیوار پر لکھی ہوئی اس تحریر پر نہیں پڑتی کہ اگر وہ اپنی عورتوں کو انصاف دینے کے لئے خود کو تبدیل نہیں کرتے اور اپنی اصلاح نہیں کرتے تو وہ تباہ ہو جائیں گے؟ یہ ایک شرمناک بات ہے کہ اس کیس کو فیصلہ کے لئے عدالتوں میں جانا پڑا تھا اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اس مسئلے کو آل انڈیا ویمنس پرسنل لاء بورڈ اور بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن کے ساتھ مذاکرات سے حل نہ کر سکا۔ وہ تمام مسلم شادیوں میں استعمال کئے جانے کے لئے ایک مثالی نکاح نامہ تیار کرنے کے لئے کم از کم ان کے ساتھ کام کر کے اب بھی کوئی اچھا کام کر سکتے ہیں۔ ایک شادی کے معاہدے میں طے شدہ شق شامل کیا جانا چاہئے۔ ایسا کرنے سے تعدد ازدواج پر پابندی عائد نہیں ہوگی کیونکہ فریقین اس طے شدہ شق کو خارج کرنے یا تبدیل کرنے پر اتفاق کر سکتے ہیں یا بیوی بعد میں دوسری شادی کی اجازت دے سکتی ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور دیگر اداروں کو فتویٰ جاری کر کے تین طلاق پر پابندی عائد کرنے کے لئے جو کچھ کر سکتے ہیں انہیں کرنا چاہئے اور یہ حکم صادر کرنا چاہئے کہ طلاق لازمی طور پر دو مرحلوں کے ساتھ مشروط ہے جن کے درمیان عدت کے چار مہینے کی مدت کا فاصلہ ہونا ضروری ہے ، اور ایک نشست میں متعدد مرتبہ دیا گیا طلاق غیر موثر ہے۔ عدت کی مدت شوہر کے گھر میں گزارنا لازمی ہے جس کے دوران زوجین مصالحت کر سکتے ہیں۔ اور انہیں یہ اعلان کرنا چاہئے کہ طلاق کے متعلق گزشتہ عمل غلط تھا اور قرآن کریم کے مطابق نہیں تھا۔

دیگر معاملات میں درست راستے کی رہنمائی

راستہ بالکل واضح ہے۔ شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے اور اب ایک نشست میں تین طلاق کے معاملے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شریعت کے متعلق علماء کی تفہیم کو بہت سے مسلم متاثرین کی جانب سے عدالت میں چیلنج کیا جانا بالکل واضح ہے ۔ مسلمانوں کے پاس ایک کتاب قرآن ہے جس میں اسی کتاب کے دعوی کے مطابق ایک "کامل و اکمل دین" یا مذہب یا نظام حیات کا بیان ہےجس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کی تمام آیاتِ "محکمات" میں سے ہر ایک کا ایک منطقی معنیٰ اخذ کیا جا سکتا ہے جیسا کہ اس پر میں نے اپنے متعدد مضامین میں روشنی ڈالی ہے۔ اس اصول کی بنیاد پر جو اس کتاب مبین میں مذکور ہے ، اس کے کسی بھی واضح حکم اور ہدایت کا ماضی کے جس بھی حکم اور معمول کے ساتھ تنازعہ ہو اسے مسترد کیا جا سکتا ہے۔ مسلم شہریوں کے لئے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی کے مطلب کا بھی فیصلہ قرآن کریم سے ہی کیا جانا چاہئے اور تمام قسم کے ذاتی معاملات میں بھی فیصلہ قرآن کریم کے مطابق ہی کیا جانا چاہئے۔ اس کا مطلب کسی بھی ادارے کے لئے ایسی آزادی نہیں ہو سکتا ہے کہ وہ مذہب کی ایک مخصوص تعبیر پیش کر کے مسلمانوں کے کسی بھی طبقے پر ناانصافی کا مظاہرہ کرے اگر چہ مذہب کی وہ تعبیر قرآن سے متضاد ہی کیوں نہ ہو۔

لہٰذا، مسلم اداروں ، مدرسوں اور علماء کو اس امر پر توجہ دینی ہی ہوگی کہ جب تک وہ لازمی اصلاحات کی شروعات نہیں کرتے اور معاشرے کے تمام طبقوں کے تئیں ذمہ دار نہیں ہوتے ، تب تک ان کے اوپر اس بات کا خطر قائم ہے کہ انہیں عدالتوں کی جانب سے مسترد اور خارج کیا جاتا رہے گا۔ ان کی ساکھ میں گراوٹ سے خود مذہب میں لوگوں کے اعتماد کا خاتمہ ہوگا۔ انہیں مذہب کی تباہی کا آلہ کار نہیں بننا چاہئے۔ اسلامی فقہ تعصب و تنگ نظری کا شکار ہو چکی ہے ، اور اب قرآن کی روشنی میں اس کی اصلاح کرنے کا وقت آ چکا ہے۔ اب لوگ بیدار ہو رہے ہیں۔ علماء کو بھی جلد بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔

مدارس میں زیر تعلیم طالب علموں کا بنیادی حق ہے کہ انہیں قرآن کریم کے آفاقی پیغامات کی تعلیم دی جائے اور انہیں مذہب کی تعصب و تنگ نظری پر مبنی تعلیمات سے دور رکھا جائے –جیسا کہ اس کی فقہ یہ شکل اختیار کر چکی ہے۔ حکومت اور عدالتوں کا یہ حق اور ان کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ انہیں مدارس کے نصاب اور مواد کی اصلاح کرنے کی ہدایات دیں تاکہ وہ قرآن کریم کے واضح پیغام سے ہم آہنگ ہو سکے جس میں ہر اس شخص کو مسلمان تسلیم کیا گیا ہے جو خدا کو مانتا ہے (خواہ اس کا نام کچھ بھی ہو) اور نیک اعمال کرتا ہے۔ اور کافر ایک غیر مسلم نہیں بلکہ مذہب سے قطع نظر ہر وہ انسان ہے جو خدا کے خلاف بغاوت اور ظلم کرنے والا ہے ، اگر چہ اس کا مذہب اسلام ہی کیوں نہ ہو۔ مذہب اسلام کفر نہیں بلکہ صرف ظلم کے خلاف لڑنے کی اجازت دیتا ہے اور یہ ایک ایسا مذہب ہے جس میں کسی مذہب پر عمل کرنے کی آزادی پر کسی بھی طرح کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ لیکن آج جو اسلام کی تعلیم دی جا رہی ہے وہ اس کے برعکس اور قرآن مجید کی آیات کے واضح ، واحد اور منطقانہ معنی کے خلاف ہے ، جس کی وضاحت میں نے اپنے مضامین میں کی ہے۔ خود مسلمانوں اور اپنے ملک کے مفادات کی خاطر ضروری ہے کہ مدارس کے طالب علم کشادہ ذہن ہوں اور قرآن مجید کے مطابق اپنے مذہب کے ساتھ وہ کسی بھی طرح کا کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔

یہ قرآن کے مطابق اچھا مسلمان بننے کا ایک موقع ہے جس کے مطابق مسلمان ایک ایسا شخص ہے جس پر اعتماد کیا جا سکتا ہو اور جو کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا ہو اور کبھی ظلم نہ کرتا ہو۔ ہمیں مختلف سطحوں پر 1400 سالوں سے تعصب و تنگ نظری اور زن بیزاری کے کفر پر مشتمل اپنی فقہ میں اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو اپنی غلطیوں کے برے اثرات اور قران کے حقیقی پیغام سے واضح انحراف سے بچانا لازمی ہے تاکہ ان کی زندگی پر لعنت نہیں بلکہ رحمت و برکت ہو۔

URL: http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/naseer-ahmed,-new-age-islam/the-triple-talaq-case--the-unjust-muslim-men-and-their-unjust-leaders/d/112343

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/the-triple-talaq-case-/d/112440


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..