New Age Islam
Mon Sep 20 2021, 12:52 PM

Urdu Section ( 22 Jul 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Importance of Understanding Correctly, the Attributes of Allah – Divine Will, Justice and Mercy – Part One ارادہ ، عدل اور رحمت خداوندی – صفات الٰہیہ اور اس کی درست تفہیم کی اہمیت و افادیت

نصیر احمد، نیو ایج اسلام

11 فروری 2019

کیا حق ہے اور کیا باطل اور کیا اخلاقی ہے اور کیا غیر اخلاقی ان سے متعلق تمام علوم و معارف کا مصدر و سر چشمہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات ہے ۔ اگر ہم اس علم پرکامل عبور حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہم اس علم کےحصول کے لئے مکمل طور پر متوجہ ہو جائیں۔ اور اس کا طریقہ اللہ کی حقیقت و ماہیت یا اس کی تمام صفات کی کامل تفہیم حاصل کرنا ہے۔ اگر ہم اس کی کسی بھی صفت کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نہ ہی ہم کتاب اللہ کی اور نہ ہی حق و باطل کی سہی سمجھ حاصل کر سکیں گے اور اسی طریقے شیطان ہمیں گمراہ کرتا ہے اور کامل مسلمان ہونے سے محروم کر دیتا ہے۔ نص قرآنی ہر طرح کے فساد اور تحریف سے مکمل  طور پر محفوظ ہے لیکن اس کی تفہیم اور اس کے معانی و مطالب نہیں ۔

اس کا تعلق اللہ کے 99 ناموں کو حفظ کرنے سے نہیں ہے بلکہ اللہ کی 99 صفات کو جاننے یا اللہ کی حقیقت یا ماہیت کو مکمل طور پر سمجھنے سے ہے۔ اللہ کی صفات وہ شخص بخوبی سمجھتا ہے جس نے قرآن کو بغیر کسی تضاد کے کسی بھی آیت کو منسوخ سمجھے بغیر سمجھا ہو۔ ایسے شخص کو اللہ کی حقیقت و ماہیت کا علم بوجہ کمال حاصل ہوتا ہے۔

ارادہ الٰہی

علمائے اسلام کو ان تضادات وتناقضات سے کوئی فرق نہیں  پڑتا جو ان کی تاویلات و تشریحات سے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ اپنے کلام میں تضادات وتناقضات پیدا کرنے کے لئے آزاد ہے کیونکہ "وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے" اور یہ اس کے قادر مطلق ہونے کی دلیل ہے کہ وہ کسی اصول کا پابند نہیں ہے۔ اللہ کے ارادے اور  اس کی قدرت جیسی صفات کے بارے میں اس غلط فہمی کو پیدا کرکے شیطان لوگوں سےصفت’ناعاقبت اندیشی‘ کی عبادت کروانے میں کامیاب ہوگیا جو کہ شیطان کی صفت ہے نہ کہ اللہ کی۔

یقیناً اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے لیکناللہ نے ہی قانون کیبالا دستی اور علت کامل کا بھی فیصلہ کیا ہے اور یہ بھی اللہ کا ہی فیصلہ ہے کہ وہ کبھی بھی اپنی سنت اور کسی بھی فیصلے کو نافذ کرنے کے بعد تبدیل نہیں کرے گا ۔ قرآن اللہ کی کتاب ہے اس کی علامت یہ ہے کہ اس میں قطعا کوئی تضاد نہیں ہے اور اگر آپ کو کوئی کتاب یہ کہہ کر دی جاتی ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور آپ اس کتاب میں ایک بھی تضاد پائیں تو اسے شیطان کے چہرے پر دے ماریں کیونکہ ایسی کتاب اللہ کی نہیں ہوسکتی۔ حالانکہ یہ کتاب اللہ کی ہی طرف سے ہے لیکن ہمارے علماء نے تضادات و تناقضات پیدا کرنے والی اپنی غلط تشریحات کی بنیاد پر اسے شیطان کی کتاب بنا دیا ہے!

قرآن ایک آسان سی کتاب ہے جوکسی بھی پیچیدگی کے بغیر آسانی کے ساتھ سمجھی جا سکتی ہے ۔ اس کے لئے بس اتنا ہی ضروری ہے کہ ہم اس کے بالکل واضح لغوی معنی کو اختیار کریں۔ وہ علماء ہی ہیں جو ہر ایک آیت میں پیچیدگی پیدا کرتے ہیں اور اس کی غلط تشریحات لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ حدیث بالکل صحیح معلوم ہوتی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے سب سے پہلے علماء ہی جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ علماء پیچیدگیاں اس لئے پیدا کرتے ہیں کیوں کہ وہ صفات الٰہیہ کی صحیح معرفت نہیں رکھتے۔

صفت عدل

مثال کے طور پر صفت عدل کو ہی لے لیں ۔ کیااگر "مسلمان" خاندان میں پیدا ہونے والوں کو مشرکوں کے خاندان میں پیدا ہونے والوں پر برتری حاصل ہو تو کیا یہ خدا کا عدل ہوگا ؟ ماضی کے ہمارے چندعظیم علما کا یہ کہنا ہے کہ جنت کچھ لوگوں کے مقدر میں ہی لکھ دی گئی ہے جبکہ کچھ لوگوں کے مقدر میں جہنم یا اللہ نے کچھ لوگوں کو جنت کے لئے پیدا کیا ہے اور کچھ لوگوں کو جہنم کے لئے ۔ یہ واضح طور پر غیر سنجیدہ اور یکطرفہ بات معلوم ہوتی ہے جس سے علماء یہ کہہ کر پلہ جھاڑ لیتے ہیں کہ "اللہ کی مرضی جو وہ چاہے"۔ وہ اللہ کی دونوں صفات کی درست تفہیم سے دور ہیں ۔

اہل فکر و نظر اس کا جواب یہی دیں گے کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ کسی بھی مذہب میں پیدا ہونے والے افراد کو جنت / جہنم حاصل کرنے کا یکساں موقع ملنا چاہئے ، لیکن مسلمانوں کو یہ رائے تسلیم نہیں ہو گی کیونکہ یہ بات ان کے ذہنوں میں بس چکی ہے کہ غیر مسلم کافر ہیں اور وہ سب کے سب جہنم میں جائیں گے ، اور وہ یہ دیکھتے ہیں کہ جو جس مذہب میں پیدا ہوتا ہے وہ اسی میں رہتا ہے جبکہ مذہب بدلنے والوں کی تعداد بہت قلیل ہے۔

جو لوگ اس سوال پر قرآن مجید سے کوئی مبہم جواب تلاش کریں گے انہیں جواب مل جائے گا ، لیکناس کے خلاف پر جن لوگوں کا پختہ یقینہے وہ اس کے واضح جواب سے اندھے اور بہرے ہی رہیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک اللہ کے کلام پر بھروسہ کرنا اور پیچیدہ خیالات سے ذہن کو خالی کر کے قرآن پڑھنا سیکھاہی نہیں ہے ۔ لہذا ہمیں قرآن پڑھنے کا کوئی خاطر خواہ فائدہ ہی نہیں ہوتا ۔

 عام طور پر مسلمان اللہ کیانتہائی اہم صفات کو صحیح طور پر سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ صرف ایک ہی خدا کی عبادت کریں لیکن یہ خدا ان کے لئے جانبدار ہے جبکہ یہ اس رب العالمین کی صفت نہیں جو سکتی ہو العدل یا سراسر انصاف ہی انصاف ہے بلکہ یہ مشرکین کے دیوتاؤں کی صفت ہے۔ لہٰذا کیونکر ایک مشرک اور اسی طرح ایک مسلمان ایسے نقص کا متحمل ہو سکتا ہے جس کا اپنے خدا کے متعلق تصور اس حد تک عیب دار ہے جسے وہ اللہ کی طرف منسوب کرتا ہے ، یعنی جانبداری ، اسی وجہ سے مشرکین اپنے بے شمار معبودان باطل کو بہتر پاتے ہیں ؟

اگر مسلمان اس صفت الٰہیہ کو صحیح طور پر سمجھ لیتے ہیں تو انہیں یہ معلوم ہوجائے گا کہ وہ کسی بھی طرح دوسروں سے برتر و فائق نہیں ہیں سوائے اپنے نیک اعمال کے ۔’دوسروں‘ کے ساتھ ان کے طرز عمل سے حیرت انگیز تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ لہٰذا ان میں جو کچھ اچھی باتیں ہیں انہیں تسلیم کر سکتے ہیں اور ان کی ستائش بھی سکتے ہیں۔

کیا جہنم صفت رحمت کے منافی ہے؟

اگر جہنم نہ ہوتا تو کیا دنیاکے اندر کہیں کوئی بھلائی پائی جاتی؟ذات الٰہی اخلاقیات کا مظہر ہے۔ جہنم بھی اس کی رحمت کا ایک حصہ ہے ورنہ اس کے بغیر اس دنیا میںاور بھی ظلم ، ناانصافی اور تباہی و بربادی ہوتی۔ قرآن مجید میں نار جہنم کی تفصیل یہ ہے کہ یہ ایک شدید دائمی عذاب ہے۔

(4:56) جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں داخل کریں گے، جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گے کہ عذاب کا مزہ لیں، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔

اگر عذاب جہنم کی وعیدیں رحمت نہ ہوتیں تو اللہ قرآن میں یہ نہ فرماتا:

(55:37) پھر جب آسمان پھٹ ائے گا تو گلاب کے پھول کا سا ہوجائے گا جیسے سرخ نری (بکرے کی رنگی ہوئی کھال)

38.تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

39.تو اس دن گنہگار کے گناہ کی پوچھ نہ ہوگی کسی آدمی اور جِن سے

40.تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

41.مجرم اپنے چہرے سے پہچانے جائیں گے تو ماتھا اور پاؤں پکڑ کر جہنم میں ڈالے جائیں گے

42.تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے

43.یہ ہے وہ جہنم جسے مجرم جھٹلاتے ہیں،

44.پھیرے کریں گے اس میں اور انتہا کے جلتے کھولتے پانی میں

45.تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

نیکی اور بدی دونوں کی ہماری صلاحیت اس اختیار پر منحصر ہے جو اللہ نے ہمیں عطا کی ہے۔ اختیار کے بغیرہماری حیثیت نیکی اور بدی کے اختیار سے محروم جانوروں کیسی ہوتی اور ہم اپنی جبلت کے مطابق زندگی گذارتے۔ ایسی صورت میں جنت اور جہنم کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہوتی ۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ:

کیا اللہ آدم کی تخلیق کرنے اور اپنی تمام مخلوقات پر بنی آدم کو فضیلت دینے میں ناحق پر تھا ؟

اگر جہنم کم اذیت ناک ہوتا تو جنت بھی کم نعمتوں اور راحتوں والی ہوتی اور نیکی اور بدی کی ہماری صلاحیت کو کم کرنے کے لئے ہمارے اختیارات سلب کر لئے گئے ہوتے ۔ اللہ نے کائنات میں ایک بے مثال توازن قائم کیا ہے۔ جہنم کی تخلیق میں حکمت اور رحمت الٰہیہ دونوں کار فرما ہیں کہ جس کے بغیر نہ تو جنت ہوتی اور نہ ہی اپنا راستہ منتخب کرنے کی ہماری آزادی ۔ تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

---------------

Related Article:

The Importance of Understanding Correctly, the Attributes of Allah – Divine Will, Justice and Mercy – Part One

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/the-importance-understanding-correctly-attributes-part-1/d/125116


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..