New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 03:42 PM

Urdu Section ( 7 Aug 2016, NewAgeIslam.Com)

The Ahadith That Distort The Message Of The Quran - Part 1 قرآن کے پغام کو مسخ کرنے والی حدیثیں:حصہ اول

 

 

 

 

 

نصیر احمد، نیو ایج اسلام

14 جولائی 2016

ایکبھی موضوع ایسا نہیں ہے جس پر احادیثقرآن مجید کے واضح پیغاممقابلے میں گمراہ نہ کرتے ہوں خواہ وہ عنوان جنگ کا ہو، طلاق کا ہو، خواتین کی گواہی کا ہو، وراثت کا ہویہاں تک کہ حج کا ہی مسئلہ کیوںنہ ہو۔ اس مضمون میں ہم اس ایک حدیث پر گفتگو کریں گے جوسب سے زیادہ نقصاندہ ہے اور اپنے منشا اور دائرہ کار کے اعتبار سے واقعی شیطانی ہے۔ مندرجہ ذیل حدیث پر غور کریں:

2:191سے 193تک اور8:36 سے 8:38 تک آیتوں کی تشریح میں تفسیر ابن کثیرنے ایک حدیث نقل کی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:

«أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَل »

 (مجھے اس وقت تک تمام بنی نوع انسان سے جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم نہ کر لیں اور زکوة ادا نہ کریں۔اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو انہوں نے مجھ سے اپنی جان اور مال کیامان حاصل کر لی، سوائے اس کے جو اسلامی قوانین کی گرفت میں آیا اور ان کا حساب اللہ تعالی کے ساتھ ہو گا"

مذکورہ بالا حدیث نے نہ صرف یہ کہ قرآن کے پیغام کو مسخ کیا ہےبلکہ مسلمانوں کو دور اوائل کے ایسے اسلام کے ایک ایسے جھوٹے سرگزشت پر یقین کرنے کے لیے مجبور کیا ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔شایدتمام علماء کرام کا ماننا یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی اتھارٹی کے تحت عیسائیوں اور یہودیوں کو جزیہ اداکرنے یا جنگ کا سامنا کرنے کا اختیار دیا گیا تھا ، لیکن مشرکین لیے کوئی چارہ نہیں تھا یا تو وہ اسلام قبول کرتےیا ہلاک کردئے جاتے۔حقیقت سے اوپر کچھ بھی نہیں ہو سکتا ہے۔آیت9:29پر غور کریں:

’’ تم ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرو جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یومِ آخرت پر اور نہ ان چیزوں کو حرام جانتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام قرار دیا ہے اور نہ ہی دینِ حقاختیار کرتے ہیں(اگر چہ وہ اہلِ کتاب میں سے ہوں)،یہاں تک کہ وہ تابع و مغلوب ہو کر اپنے ہاتھ سے خراج ادا کریں‘‘۔

وہ لوگ کون ہیں جو خدا پر اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے؟کیا وہ یہودی اور عیسائی ہیں؟یقینی طور پر نہیں! صرف مشرکین ہی ایسے لوگ ہٰیں جن پر قرآن نے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہ لانے کا الزام لگایا ہے۔ایسی متعدد آیات ہیں جن میں یہودیوں اور عیسائیوں کی بات کی گئی ہےلیکن ایک بھی آیت میں ان پر اللہ یا روز قیامت پر ایمان نہ لانے کا الزام نہیں لگایاگیا ہے۔اور ایسی بھی متعدد آیات ہیں جن میں "مشرکین" کا ذکر ہے اور ان آیتوں میں ان پر روز قیامت پر ایمان نہ لانے اور اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے یا اللہ اور روز آخرت دونوں پر ایمان نہ رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے(44:35, 50:3, 56:47)۔لہٰذا، علماء کرام کس طرح آیت کے اس حصے کو "مشرکین" سے منسوب کرنے کے بجائے یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ منسوب کرتے ہیں؟ وہ اس حدیث کی وجہ سےگمراہی کا شکار ہو چکے ہیں جس کے مطابق مشرکین اسلام قبول نہ کرنے کی وجہ زندگی کا حق کھو چکے ہیں اور اسی وجہ سے ان کے لیےجزیہ ادا کرنے اور مشرک کی حیثیت سے زندگی گزرنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ واقعی ایک شیطانی حدیث کو قرآن کے ایک بہت ہی واضح پیغام پر ترجیح دے دی گئی ہے!

یہودیوں اور عیسائیوں پر اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام نہ ماننے اور دین حق کو تسلیم نہ کرنے کا الزام ہے(4:161, 5:42, 5:62,63)۔لہٰذا، آیت کے آخری حصے کا موضوع یہودی اور عیسائی ہیں۔لہذا،مذکورہ آیت میں مشرکین،یہودیوں اور عیسائیوںکا احاطہ کیا گیا ہے اور ان سب کو اپنی خوشی سے جزیہ ادا کرنے یا جنگ کا سامنا کرنےکا اختیار دیا گیا ہے۔

یوسف علی نے یہ کہہ کر کہ "اگر چہ وہ اہل کتاب میں سے ہوں"اس کی ایک صحیح تفہیم پیش کی ہے،اور اس طرح اشارہ کیا ہے کہ آیت کا موضوع بنیادی طور پر مشرکین اور وہ اہل کتاب ہیں جو ’’اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام نہیں مانتے اور نہ ہی دینِ حق اختیار کرتے ہیں ‘‘۔

اب ہم اس غلط تشریح کا مطالعہ کرتے ہیں جس کا سہارا محمد اسد نے محولہ حدیث کے معنی کو موزوں بنانے کے لیے لیا ہے:

’’اور تم ان لوگوں کے ساتھ (بھی) جنگ کرو جو [اس سے پہلے] وحی نازل کر دیئے جانے کے بعد بھی [حقیقۃً]نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یومِ آخرت پر اور نہ ان چیزوں کو حرام جانتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام قرار دیا ہے اور نہ ہی دینِ حق کی پیروی کرتے ہیں[جو اللہ نے ان کے اوپر نافذ کیا ہے]،یہاں تک کہ وہ جنگ کے بعد تابع و مغلوب ہو کر اپنے ہاتھ سے خراج ادا کرنے پر [راضی] ہو جائیں‘‘۔

یہ بات قابل غور ہے کہ انہوں نے کس طرح مذکورہ آیت کے پہلے حصہ کے ساتھ خلط ملط کیا ہے۔

 "اور تم ان لوگوں کے ساتھ (بھی) جنگ کرو جو [اس سے پہلے] وحی نازل کر دیئے جانے کے بعد بھی [حقیقۃً]نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یومِ آخرت پر "

اگر خدا اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے عیسائیوں اور یہودیوں پر ایمان نہ لانے کا الزام لگانا ہو تو ایسا کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ یہ کہا جائے کہ وہ "حقیقۃً" ایمان نہیں رکھتے۔ انہوں نےلفظ"حقیقۃً" کو قوسین میں اس لیے رکھا کہ وہ قرآن میں نہیں ہے۔لہٰذا، کیا وہ منافق تھے؟ اور اگر ایسا ہے تو قرآن اس بات کی وضاحت کیوں نہیں کرتا ہے کہ یہودی اور عیسائی اگر چہ ایمان لانے کا دعوی کرتے ہیں لیکن وہ حقیقت میں ایمان نہیں رکھتےہیں؟ اس آیت میں قرآن لا محالہ ان لوگوں کی بات کر رہا ہے جو اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں نہ کہ ان لوگوں کی جو کہ ایمان کا تو دعویٰ کرتے ہیں لیکن در اصل اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ سادہ حقیقت یہ ہے کہ آیت کے اس حصے میں عیسائیوں اور یہودیوں کو نہیں بلکہ مشرکین کو مراد لیا گیا ہے۔

اسدآیت کے پہلےاور دوسرے حصے کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "چونکہ، اس جملے کے شروع میں ان لوگوں پر جان بوجھ کر خدا اور روز آخرت پر ایمان سے انکار کے اتنے سنگین گناہ کا الزام ہے اسی لیے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ ان پر اس کے بعد اپنے مذہبی قانون کے خلاف نسبتا معمولی جرائم کا الزام لگایا جائے۔ "

وہ اس سادہ حقیقت سے اتنے بہرے اور اندھے کیوں ہو گئے ہیں کہ انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ پہلے حصے میں مشرکین کا ذکر ہے اور دوسرے حصے میں یہودیوں اور عیسائیوں کا ذکر ہے؟ اس میں قصور مذکورہ بالا حدیث کا ہے۔

اس طرح سے وہ اندونوں حصوں میں مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ": نتیجۃً ان کا ’’ان چیزوں کو حرام نہ ماننے پر زور دیا جانا جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے‘‘ضرور کسی ایسی چیز ہی کی طرف اشارہ ہونا چاہیے جو اللہ کے ساتھ کفر کرنے جیسا سنگین ہو۔ ان کے خلاف جنگ کے حکم کے تناظر میں اس "کچھ" کا مطلب صرف ایک ہی ہو سکتا ہے -اور وہ بے سبب جارحیت ہے: اس لیے کہ یہی ایک ایسی چیز ہے جس کی ممانعت کا اعلان اللہ نے ان تمام رسولوں کے ذریعہ کروایا ہے جنہیں انسانوں تک اللہ کا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔لہٰذا، قرآن کی اس آیت کو سابقہ مذاہب کے برائے نام پیروکاروں کے خلاف اہل ایمان کے لیے اعلان جنگ مانا جانا چاہیے اس لیے کہ وہ قرآن کے پیروکاروں کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کر کے خود اپنے ہی معتقدات کا انکار کرتے ہیں۔ (سی ایف منار X، 338)۔ "

در اصل محمد اسد یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قرآن مجیدمسلمانوں کو یہودیوں اور عیسائیوں کے خلاف لڑنے کا حکم صرف اسی صورت میں دے رہا کہ جب وہ ان کے خلاف لڑیں، اور پھر انہیں شکست دینے کے بعدان پر جزیہ عائدکریں! اگر قرآن یہی کہنا چاہتا ہے تو کیا اس کا کوئی آسان اور واضح طریقہ نہیں ہے؟ انتہائی ناقابل اعتماد احادیث کی روشنی میں قرآن کی تشریح کرنے والے اسے ایک ایسی گنجلک اور پیچیدہ کتاب کے طور پر پیش کرتے ہیں جسے (خدا نہ کرے) کوئی بھی ان اہل علم کی مدد کے بغیرنہیں سمجھ سکتا۔

مندرجہ بالاحدیث کی بنا پر جن دیگر آیات کی غلط تشریح کی جاتی ہےوہ 8:38اور8:36، ہیں اور اس کے ذریعہ غلط طریقہ سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگوں کا مقصد صرف مشرکین کی جانب سے مذہبی ظلم و ستم اور جارحیت کو ختم کرنا ہی نہیں تھابلکہ ان جنگوں کا مقصد خود ’’شرک‘‘کو ختم کرنا تھا۔

یہ آیتیں2:191 سے لیکر 2:193تک کی آیتوں سے مشابہ ہیں جن کی بھی غلط تشریح کی گئی ہےاور اس سےیہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جنگ کا حکم صرف مذہبی ظلم و ستم کے "فتنہ" کو ختم کرنے اور "اللہ کے دین"کو قائم کرنے کے لیے نہیں دیا گیا ہے بلکہ اس کا مقصد خود ’’شرک‘‘ کو ختم کرناہے۔اور "اللہ کے دین" کا واضح موقف یہ ہے کہ "دین میں کوئی جبر نہیں ہے"،اوراللہ کا دین جان بوجھ لیکن پرامن طریقے سے اللہ کے دین کو جھٹلانے والوں کو "ان کے اپنے طریقے پر زندگی بسر کرنے کی" اجازت دیتا ہے۔

اب ہمان تمام حقائق کا جائزہ لیں گے جو فتح مکہ کے بعد اور اس کے دیڑھ سال کے اندر رونماں ہوئے جن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام دوسرے قبائل کو شکست دی جو اسلام کے دور اوائل میں مسلمانوں کے خلاف لڑتے تھےاور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے جزیرہ عرب کو اپنے سیاسیاقتدار کے تحت کر لیا تھا۔ان تمام حقائق و واقعات کا احاطہ سورہ توبہ میں کیا گیا ہے۔

آخری فیصلہ

بار بار مکی سورتوں میں جس انجام سے خبردار کیا گیا تھا اللہ کو اس کا فیصلہ نافظ کا وقت آچکا تھا۔ جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکالا گیا تھا اللہ نے مکہ والوں کو تباہی سے بچالیا تھا۔کفار مکہ کے باقی سرداروں میں سے چند کو فتح مکہ کے بعد سزائے موت دے دی گئی تھی۔

سورہ توبہ نازل ہونے کی تاریخی ترتیب سے ماقبلِ آخری سورۃ ہے جوفتح مکہ کے تقریبا 18 ماہ کے بعد اس وقت نازل کی گئی تھی جب چھوٹی چھوٹی تمام مزاحمتیں ختم ہو چکی تھیں۔زیادہ تر جنگیں مکہ والوں اور ان کے تمام مشرکین اتحادیوں کے ساتھ تھی۔غور کریں کہ ان آیتوں میں کب لفظ مشرک استعمال کیاگیا ہے اور کب لفظ کافر استعمال کیاگیا ہے۔

آیت 9:1اور 9:2میں تمام مشرکینکے لیے چار ماہ تک عام معافیکا اعلان کیا گیا ہے لیکن ان میں یہ تنبیہ بھی موجود ہے کہ مدت کے اختتام پر ان کے درمیان جو کافر ہیں وہ شرم میں ڈوب جائیں گے۔

 آیت 9:3اور 9:4 میںمشرکین ساتھ تمام معاہدوں کی منسوخی کا اعلان کیا گیا ہے سوائے ان لوگوان کے جنہوں نے کبھی اپنا معاہدہ نہیں توڑا اور کافروں (نہ کہ مشرکین) کے لیے دردناک عذاب کا اعلان کیا گیا ہے۔

آیت9:5میں چار ماہ کی مدت کے اختتام پر مندرجہ ذیل لوگوں کی رعایت کے ساتھ تمام مشرکین کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے:

           جنہوں نے اپنے عہد کو کبھی نہیں توڑا یامسلمانوں کے ساتھ کبھی لڑائی نہیں کی (9:4)

           جو اسلام کو قبول کرتے ہیں، نماز ادا کرتے ہیں اور جو زکوةدیتے ہیں (9:5)

           جو پناہ حاصل کرنا چاہتے ہیں(9:6)

اگر حکم صرف کافروں کو قتل کرنے کا تھاتو پھر مسئلہ یہ پیدا ہوتا کہ ان کی شناخت کس طرح کی جاتی اس لیے کہ جنگ میں اب کوئی بھی دشمن ان کے سامنے نہیں تھا۔ان آیتوں میں مندرجہ بالا استثناء کے ذریعےمشرکین کے درمیان غیر کافر کی شناخت کی گئی ہے۔باقی تمام آیتیں ان کافروں کے کفر کے ثبوت میں ہیں جنہیں قتل کیا جانا تھاجس میں مسلمانوں کے ساتھ اپنے عہد کو نہ توڑنے یا ان کے ساتھ کبھی جنگ نہ کرنے والوں کے علاوہ باقی تمام مشرکین شامل ہیں۔ پناہ کے متلاشی سرکشی نہیں کرتے لہٰذا وہ کافر نہیں ہیں۔

مندرجہ ذیل آیتیں مزیداس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کے ساتھ جنگ کا حکم دین یا اس عقیدے سے کفر کی وجہ سے نہیں ہے جو صرف اللہ کے علم میں ہےبلکہ وعدوں اور عہد کی خلاف ورزیکرنے کے کفراور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو شہر سے نکالنے کا منصوبہ بنانےاور مسلمانوںپر حملہ کرنے والوں میں سب سے پہلے ہونے کی وجہ سے ہے۔محض کفر پر قتل کرنے کا کوئی حکم نہیں ہے۔

(9:12) اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قَسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی کریں تو تم (ان) کفر کے سرغنوں سے جنگ کرو بیشک ان کی قَسموں کا کوئی اعتبار نہیں تاکہ وہ (اپنی فتنہ پروری سے) باز آجائیں۔ (13) کیا تم ایسی قوم سے جنگ نہیں کرو گے جنہوں نے اپنی قَسمیں توڑ ڈالیں اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جلاوطن کرنے کا ارادہ کیا حالانکہ پہلی مرتبہ انہوں نے تم سے (عہد شکنی اور جنگ کی) ابتداء کی۔

مذکورہ بالا آیتوں کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف ان ’’کافروں‘‘ کو قتل کا حکم ہے جنہوں نے پوری سرگرمی کے ساتھ اسلام کی مخالفت کی،مسلمانوں کے ساتھ جنگیں کیں، اپنے معاہدوں کو توڑا اور عام معافی کے چار مہینے کی مدت کے بعد بھی سرکشی پر آمادہ رہے۔ اس زمرے میں کتنے لوگ آتے ہیں؟ عام معافی کی مدت کے بعد میں کسی بھی شخص کے قتل کا واقعہ تلاش کرنے سے قاصر ہوں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یا توان میں سے سب نے اسلام قبول کر لیا تھا، یا پناہ حاصل کر لی تھی یاکسی ہمسایہ ملک کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب ان لوگوں کا کیا جنہوں نے اپنے معاہدوں کو کبھی نہیں توڑا لیکن ان کےمعاہدوں کی میعاد ختم ہوگئی تھی، اور جنہوں نےپناہ تو حاصل کی لیکن کبھی اسلام قبول نہیں کیا؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ آیت9:29کے مطابقوہ اپنے مذہب پر عمل کر سکتے ہیں لیکن انہیں جزیہ ادا کرنا ہوگا۔اس سے یہ ظاہر ہے کہ کوئی بھی اس زمرے میں نہیں آتااور اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہونی چاہئے۔کفار مکہ کے بقیہ سرداروں نے ایک بار جب یا تو اسلام قبول کر لیا یا ہجرت کر کے کہیں اور چلے گئےتو پھر باقی لوگوں کو اسلام قبول کرنے میں کوئی مزاحمت نہیں تھی اوروہ سب ایک بڑی تعداد میں دین اسلام کے اندر داخل ہو گئے ، جیسا کہ سورہ نصرسے واضح ہے۔

(110: 1) جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے،

 (2) اور جب تم لوگوں کے ہجوم میں اللہ کی دین میں داخل دیکھتا ہے،

 (3) اپنے پروردگار کی تسبیح، اور اس کی مغفرت کی دعا کی اس نے (فضل اور رحمت سے) توبہ قبول کی جاتی ہے۔

محض کفر کی وجہ سے کسی ایک شخص کو بھی قتل نہیں کیا گیا اور "دین میں کوئی جبر نہیں ہے"اور"تمہارے(امن پسند کافروں کے لیے)لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین"کے اصول کی خلاف ورزی نہ توپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کیاور نہ ہی سابقہ نبیوں میں سے کسی نے کی اور یہ اللہ کے دین کے ابدی اصولوں میں سے ہے۔

سب سے معتدل اسلامی اسکالر جاوید غامدی سمیت دیگر علماء مذکورہ حدیث کے تعلق سے مکمل طور پر اپنا توازن کھو چکے ہیں۔ جاوید غامدی لکھتے ہیں کہ نبوی مشن کے اختتام پر وہ تمام لوگ جنہوں نے اسلام کو قبول نہیں کیا یا تو خدا کے عذاب سے ہلاک ہو گئے یاپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی فوج نے انہیں اپنی تلوار کا نشانہ بنا لیااس لیے کہ عقیدے کا کفر ان کے خلاف ثابت ہو چکا تھا۔ قرآن میں ایک بھی آیت ایسی نہیں ہے نہیں ہے جس میں محض کفر کی وجہ سے کافروں کے قتل کا جواز ملتا ہو۔سابقہ انبیاکے مشن پر نظر کرتے ہوئے یہ جاننا مشکل نہیں ہے کہ ان سے اس مسئلے میں غلطی ہوئی ہے۔حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ کی نو نشانیوں کی مدد سے کئی سالوں تک مصر میں اپنے دین کی تبلیغ و اشاعت کی لیکن اس کے باوجود بہت کم لوگ ایمان لائے۔دریائے نیل میں ڈوبکر ہلاک ہونے والے کافروں میں صرف فرعون اور اس کے کچھ حواری تھے جو حضرت موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرنے کی نیت سے اس کے پیچھےچلے تھے۔ غیر مومنوں کے درمیان صرف وہی کافر(خدا اور رسول کے دشمن) تھے اور صرف انہیں کو دریا میں غرق کر کے اللہ نے ہلاک کیا تھے۔ موسی علیہ السلام سے پہلےحضرت یوسف علیہ السلام نے مصر میں اپنے دین کی تبلیغ و اشاعت کی اور جب موسی علیہ السلام نے تبلیغ شروع کی تو اس وقت تک مصریوں کے درمیان کوئی ایک بھی مومن نہ تھا۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے مشن کے اختتام پر بہت سے لوگوں نے ان کے دین کو قبول نہیں کیا تھا لیکن اس کے باوجود کسی کو بھی نہ تو اللہ نے اپنے عذاب سے ہلاک کیا اور نہ ہی تلوار سےانہیں ہلاک کیا گیا۔

اس سے یہ ظاہر ہے کہ مذہب کے تمام منکرین پرامن تھے اور اسی وجہ سے کسی کو بھی تباہ نہیں کیا گیا۔حضرت یونس علیہ السلام کےدور میں تمام لوگوں نے (جن کی تعداد چندلاکھ ہے) ان کے دین کو قبول کیااور کسی کو بھی تباہ اور ہلاک نہیں کیا گیا۔اس حدیث نے تمام اسکالر اور علماء کرام کو گمراہ کیا ہے لہٰذا، اسے شیطانی احادیث کے زمرے میں شامل کر کے اسے مسترد کیا جانا ضروری ہے۔یہ غلط تشریحاتاس مذہبی جبر و تشدد کی جڑ ہیں جو آج مسلمان اپنی ا قلیتوں پر ڈھا رہے ہیں۔جو نام نہاد مسلمان ایساکرتے ہیں وہ کافر کی قرآن کی تعریف کی بنیاد پر آج کے کافر ہیں جس سے مراد ظلم و ستم اور خاص طور پر مذہبی جبر و تشدد ہے۔ دین میں جبر و تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور کسی بھی اللہ کے رسول اور نبی نے اور ان کے سچے پیروکاروں نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ جو لوگ "شرک"کو تباہ کرنے کے لئے پرامن غیر مسلموں سے لڑتے ہیں وہ شیطان کے پیروکار ہیں۔

URL for English article:

http://newageislam.com/islamic-ideology/naseer-ahmed,-new-age-islam/the-ahadith-that-distort-the-message-of-the-quran---part-i/d/107957

URL of Part 2: http://newageislam.com/islamic-ideology/naseer-ahmed,-new-age-islam/the-ahadith-that-distort-the-message-of-the-quran-–-part-two/d/107984

- See more at: http://newageislam.com/islamic-ideology/naseer-ahmed,-new-age-islam/the-ahadith-that-distort-the-message-of-the-quran---part-i/d/107957#sthash.Xy7JhLUY.dpuf

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/naseer-ahmed,-new-age-islam/the-ahadith-that-distort-the-message-of-the-quran---part-1--قرآن-کے-پغام-کو-مسخ-کرنے-والی-حدیثیں-حصہ-اول/d/108207

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..