New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 12:24 PM

Urdu Section ( 7 Aug 2016, NewAgeIslam.Com)

The Ahadith That Distort The Message Of The Quran – Part Two قرآن کے پیغام کو مسخ کرنے والی احادیث – حصہ دوم

 

 

 

 

 

نصیر احمد، نیو ایج اسلام

16 جولائی 2016

سب سے پہلے میں اس مضمون کے عنوان کو واضح کرنا چاہوں گا اس لیے کہ اسے غلط سمجھا گیا ہے۔ عام طور پر احادیث پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اقوال کو مانا جاتا ہےجنہیں راویوں نے ایک تسلسل کے ساتھ بیان کیا ہو۔ تاہم ایساضروری نہیں ہے۔مثال کے طور پر احادیث میں ایک خلیفہ کی حیثیت سے حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کے احکام پر مشتمل روایتیں بھی ملتی ہیں۔

کئی لاکھ ایسی حدیثوں کو جمع کیا گیاجن میں سے صرف چند ہزار کو ہی امام بخاری، مسلم، داؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ کے مجموعہ میں شامل کیا گیا۔ان احادیث کے انتخاب کا معیار بنیادی طور پر روایت کےتسلسل کا قیام، راویوں کی ثقاہت اور ان کی شہرت کو بنیا گیا۔ کچھ احادیث ایسی تھیں جنہیں حدیث کے تمام مجموعوںمیں شامل کیا گیا اور کچھ احادیث ایسی تھیں جنہیں صرف ایکہی مجموعہ میں شامل کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ظہور مہدی کے متعلق احادیث بخاریمیں موجود نہیں ہیں۔ان لاکھوں احادیث کا کیاجنہیں محدثین نے ناقابل اعتماد قرار دیکر مسترد کر دیا ہے؟کیا امام بخاری، مسلم، داؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نےان ہزاروں حدیثوں کو مسترد کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے؟ جواب اگر نہیں ہے تو اگر کوئی ہر حدیث کو ناقابل اعتماد قرار دیکر مسترد کرتا ہے تو یہ نبی کی کوئی توہین نہیں ہے۔یہ ہر شخص کا اپناانتخاب ہے۔ احادیث پر ایمان لانا ایک مسلمان کے لیے ایمان کا رکن نہیں ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہان ​​کتابوں کونبی کی وفات کے 250 سال بعد مرتب کیا گیا تھا۔یہ ماننا کہ احادیث پر ایمان لانا ایک مسلمان کے لیے ایمان کا ایک رکن ہے ، دین اسلام کے اندر ایک بدعت ایجاد کرنا ہے جس کے لئے اللہ کی طرف سے کسی کو کوئی اختیارحاصل نہیں ہے۔ احادیث پر ایمان لانا پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے جیسانہیں ہے۔کیوں کہ ان کتابوں کے مرتب کیےجانے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کیاجاتا تھااور یہاں تک کہ ان کتابوں کے بغیربھی ان پر عمل کیا گیاہوگا۔ ان کتابوں میں صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہی نہیں ہے۔

خود امام بخاری اپنے صحیح میں بہت ساری احادیث کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔ان احادیث کو رواویوں کے تسلسل کی بناء پر صحیح کے زمرے میں شامل کیا گیا ہےنہ کہ ان کی درست گیاورقرآن مجید کے ساتھ اس کی مطابق کی بنیاد پر۔امام بخاری کوان کی علمی وسعت، مستقل مزاجی اور نظم و ضبط کے لئے تسلیم کیا جانا ضروری ہے۔انہوں نےایک محقق کی حیثیت سےایک عظیم کارنامہ انجام دیا ہےاور انہیں بجا طور پر اس بات کا احساس ہے کہ قرآن یا تاریخی شواہد کے ساتھ مطابقت یاعدم مطابق کا تجزیہ محض کوئی ایک شخص نہیں کرسکتا بلکہ اس کے لیے ایک پینل درکار ہے۔ انہوں نے اپنا یہ کام دوسروں کے لیےچھوڑ دیا لیکن بدقسمتی کسی نے بھی اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔

 حقیقت یہ ہے کہ ان کےمجموعہ میں متعددانتہائی مشکوک احادیث موجود ہیں۔ مزید چھان بین کے بغیران کے اس مجموعہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کا رجہ دینانبی صلی اللہ علیہ وسلم پر افترا باندھنےکے مترادف ہے۔جو کہ توہین رسالت ہے۔کسی حدیث کو ناقابل اعتماداور مشکوک،قرآن مجید کے واضح پیغام کے متضاداور تاریخی شواہدکے برعکس ہوناثابت کرنااور یہ کہنا کہ اسے جھوٹے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر دیا گیا ہے ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس الزام سے محفوظ اور صاف و شفاف کرنا ہے جو جھوٹ کے ذریعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر دیا گیا ہے۔قرآن کے منافیاور تاریخی شواہد کے برعکس کوئی بھی مبینہ حدیث واضح طور پر باطل ہے اور یہ شیطان کا کام ہے۔

معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ ایک بھی حدیث کو خاص کر کےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب نہیں کیا جا سکتا ہے۔ صرف عارضی طور پر ہی کسی حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کیا جا سکتا ہےاس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر افترا باندھناکسی بھی حدیث کو بالکل ہی نہ پڑھنے یابالکل ہی نقل نہ کرنے کے گناہ سے بھی بڑا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ احادیث عظیم محدثین کا ایک عظیم کارنامہ ہیں۔ اس کے باوجود یہ اپنے طریقہ کار کی نوعیت کے اعتبار سے ناقابل اعتماد ہی ہیں۔جب جب ہم نے کوئی تجربہ کیا ہے تب تب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ پانچ سے چھ راویوں پر مشتمل ایک چھوٹے سے تسلسل سے جب کوئی ایک سادہ پیغام مروی ہوکر جب آخری راوی تک پہنچتا ہے تو وہ مکمل طور پر مسخ ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے انسان سے لیکر سب سے آخری تک پہنچنے میں 30 منٹ سے زیادہ کا وقت نہیں گزرتا ہے۔لہٰذا، کوئی یہ تصور کر سکتا ہے کہ 200 سال کے عرصے میں راویوں کےایک طویل سلسلہ کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے۔ لہذا ، ہمیں یہ تسلیم کرنا ہی ہوگا کہ احادیث اپنی نوعیت کے اعتبار سےناقابل اعتماد ہیں اور احادیث کے مکمل مجموعہ کو مشکوک قرار دینا ہی ہوگا۔

علماءقرآن یا اسلام کی ابتدائی تاریخ کو سمجھنے میں مدد حاصل کرنے کے لیے احادیث کا مطالعہ کرسکتے ہیں لیکن انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کا مستند ثبوت نہیں مان سکتے۔احادیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مستند قول مان لینے سےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کذب اور افتراء باندھنے کے گناہ اور ایک انتہائی ناقابل اعتماد حوالہ کی بنیاد پر قرآن کے واضح پیغام کو مسخ کے گناہ کا ارتکاب کرنے کا خطرہ موجوود ہے۔

قرآن مجید میں ایسی متعدد آیات ہیں جن سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ صحیح اور غلط کے درمیان فیصلہ کرنے کی کسوٹی صرف قرآن ہے۔ میں نے اس مضمون کے حصہ اول میں اس بات کو ثابت کیا ہے کہ کس طرح مذکورہ حدیث کو قرآن کے بہت ہی واضح پیغام کو مسخ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔اگر قرآن کا مطالعہ احادیث کی عینک سے ہی کیا جائے تو پھر یہ کس طرح تضادات، کمی،کجی سے پاک الفرقان (معیار)،کتاب مبین (ایک واضح اور روشن کتاب) ہو سکتا ہے؟ اس میں کوئی تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کہ اسے اتنے غیر تسلی بخش انداز میں سمجھا گیا اوراس کے آسان سوالات کے بارے میں اتنی پیچیدگیاں اور اتنے ابہام ہیں۔ قرآن مجیدکےجس معیاراور جس خوبی کیا اعلان اللہ رب العزت نےکیا تھا اسے غیر معتبر احادیث کے ذریعے "ترجمانی" کر کےدیدہ و دانستہ تباہ کر دیاگیا ہے۔ان لوگوں کے علاوہ قرآن مجید،اللہ جل شانہ اور پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کون کر رہا ہے؟

مضمون کے اس حصے میں مختصر طور پر میں اس بات کا تجزیہ کروں گا کہ محولہ حدیث کس طرح قرآن مجیداورساتھ ہی ساتھ تاریخی شواہد کے خلاف ہے۔

مبینہ حدیث پر متعدد اعتراضاتہیں:

"مجھے لوگوں کے خلاف اس وقت تک جہاد کا حکم دیا گیاہے جب تک لوگ اس بات کا اقرار نہ کر لیں کہ ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ "

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کواس کاحکم کس نے دیا اور کس ذریعہ سے دیا؟ کیا یہ حکم اللہ کا تھا؟اگر ہاں، تو پھر اللہ نے اس کا حکم کس طرح دیا؟ اتنا اہم حکم قرآن میں کیوں نہیں ہے؟ اگر آپ ایمانداری کے ساتھ ان سوالات کے جواب دینے کی کوشش کریں گے تو آپ کو یہ بات سمجھ میں آ جائے گی کہ کیوں یہ حدیث ایک کھلا ہوا جھوٹ ہے ۔

اگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے خلاف اس وقت تک جہاد کا حکم دیا گیاتھا جب تک لوگ اس بات کا اقرار نہ کر لیں کہ ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے"تو پھر قرآن مجیدمیں یہ فرمان کیوں نازل کیا گیا: "اور اگر وہ صلح کے لئے جھکیں تو آپ بھی اس کی طرف مائل ہوجائیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں"؟ (8:61)۔ اگردشمن ایک سو سال تک امن کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کر لیں تو کیا ہوگا؟اس معاملے میں آپ کو کیا لگتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے کس حکم کی پیروی کرتے اور کیوں؟

کیوں اللہ اتنا متضاد حکم دے رہا ہے؟ قرآن مجیدکی رو سے اگر دشمن امن کی پیشکش کر رہا ہو توامن کو قبول کرنا ہوگا، لیکن ان سرگوشیوں سے اس وقت تک لڑنا ثابت ہوتا ہے جب تک وہ اسلام قبول نہیں کر لیتے۔کیا اس طرح کی سرگوشی اللہ اور اس کے رسول کی سنت ہے یا پھر شیطان؟"منفی اور تخریبی) سرگوشی محض شیطان ہی کی طرف سے ہوتی ہے تاکہ وہ ایمان والوں کو پریشان کرے حالانکہ وہ (شیطان) اُن (مومنوں) کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا مگر اللہ کے حکم سے، اور اللہ ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیے‘‘(58:10) ۔اسی طرح کیاحادیث اسلام کے لیے بدنامی کا باعث ہیں اور انہیں احادیث کی بنیاد پر اسلام ہراس لوگوں کے اس الزام کا جواز پیدا ہوتا ہے کہ اسلام دھوکہ اور دجل و فریب کا مذہب ہے!

628 عیسوی میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ کے ساتھ ایک 10 سالہ جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیا تھا جسے صلح حدیبیہ کا نام دیا جاتا ہے۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے ساتھ کیوں10 سال کی مدت کے لیےامن معاہدے پر دستخط کیا تھاجن کے خلاف آپ کو اس وقت تک جہاد کا حکم دیا گیا تھاجب تک وہاسلام قبول نہیں کر لیتے؟ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کیوںان کے ساتھ جنگ جاری رکھنےکے حکم کی نافرمانی کر رہے ہیں اور انہیں امن معاہدوں میں داخل کر رہے ہیں؟

مکہ والوں نے معاہدے کو توڑ دیا اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کو 629میں فتح کر لیااور جب وہ مکہ میں داخل ہوئے تو سعد ابن عبادہ نے کہا کہ آج قتل عام کا دن ہے لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلاح کی اور فرمایا آج رحمت کا دن ہے اور آپ نے ان تمام کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا۔جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے کلمہ پڑھنے تک جہاد کا حکم دیاگیا تھا تو آپ نے پھرکیوںان کے لیے عام معافی کا اعلان کیا؟

جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مسلسل اپنے اس مبینہ قول پر عمل نہ کرنا ثابت ہو گیا تویہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کو بدنام کرنےکے لیے ایک شیطانی کوشش کے علاوہ اور کیا ہے؟ چنانچہ،جو لوگ اس حدیث کا دفاع کرتے ہیں کیا وہ شیطان کے پیروکار اور حامی نہیں ہیں؟

URL for English article:

http://newageislam.com/islamic-ideology/naseer-ahmed,-new-age-islam/the-ahadith-that-distort-the-message-of-the-quran-–-part-two/d/107984

URL of Part One: http://newageislam.com/islamic-ideology/naseer-ahmed,-new-age-islam/the-ahadith-that-distort-the-message-of-the-quran/d/107957

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/naseer-ahmed,-new-age-islam/the-ahadith-that-distort-the-message-of-the-quran-–-part-two--قرآن-کے-پیغام-کو-مسخ-کرنے-والی-احادیث-–-حصہ-دوم/d/108208

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..