New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 10:51 PM

Urdu Section ( 4 Dec 2017, NewAgeIslam.Com)

Islam and Mysticism: Is ‘Nafs’ Soul? (Part - 1) اسلام اور تصوف: کیا 'نفس' روح ہے؟ (حصہ 1)



نصیر احمد، نیو ایج اسلام

05 جولائی 2017

لغت میں تصوف کا معنی غیر واضح یا مبہم مذہبی یا صوفی عقیدہ اور خاص طور پر پراسرار امور میں عقیدہ سے متعلق بیان کیا گیا ہے۔ قرآن خود کو کتاب مبین اور ایک ایسی روشن کتاب قرار دیتا ہے جو کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہو کر چیزوں کو واضح کر کے بیان کرنے والی ہے۔ لہذا اسلامی مذہبی علم واضح اور روشن ہے اور جو غیر واضح یا مبہم ہے وہ اسلام نہیں ہے۔ لہٰذا، اسلامی تصوف ایک صنعت تضاد ہے لیکن مسلمانوں کے درمیان تصوف کو وسیع پیمانے پر مقبولیت حاصل ہے اور اس نے قرآن کے سادہ اور آسان دین کو مکمل طور پر مسخ کر دیا ہے۔

ہمارے علم میں ترقی کے دو راستے ہیں 1) تجربہ اور منطقی استدلال پر مبنی توضیحی علم۔ یہ اضافی اور تدریجی ترقی ہے جو مسلسل جا ری رہ سکتی ہے۔ 2) وحی کے ذریعہ علم میں غیر سلسلہ وار یا فوری ترقی۔ ریاضی میں بہت سے قضیوں کے ثبوت قضیوں کی ترکیب کے بعد سامنے آئے۔ مثال کے طور پر اگر چہ رامانوجم نے ہمیں عددی تھیوری میں بہت سارے شاندار قضیے فراہم کئے لیکن ان قضیوں کے ثبوت دیگر ریاضی دانوں نے کئی سال کے بعد فراہم کئے۔ آئن سٹائن نے کئی سالوں تک اپنی عام تھیوری کے ریاضیاتی ثبوت کے لئے جد و جہد کی ، جبکہ وہ تھیوری خود اسی نے وضع کی تھی۔ یہاں تک کہ ثبوت فراہم ہو جانے کے باوجود بھی عظیم سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا کہ آئنسٹائن نے مادی دنیا کا ایک یکسر مختلف ماڈل کس طرح دریافت کیا؟ اس نظریہ کے تجرباتی ثبوت بھی بہت بعد میں سامنے آئے۔ لہذا، یہ مشاہداتی تجربہ کی موزوئیت کے لئے ایک نظریہ کو تشکیل دینے کا معاملہ نہیں تھا۔ اس لئے کہ بصیرت کے ذریعہ علم میں ایسی ترقی صرف الہام یا وجدان کے ذریعہ ہی حاصل ہو سکتی ہے۔

تصوف کو علم کا صوفی ادراک بھی قرار دیا جا سکتا ہے جس تک عقل کی رسائی ممکن نہیں ہے ، جو مراقبہ اور کسر نفسی کے ذریعہ حاصل ہوسکتا ہے۔ قرآن وحی الٰہی پر مبنی ایک کتاب ہے اور اس میں وہ تمام 'صوفی' علوم موجود ہیں جن کی ضرورت انسانوں کو ہے، لیکن ان کی فہم و بصیرت انسانی عقل سے ماوراء ہے۔ قرآن خود کو ایک ایسی کتاب بیان کرتا ہے جو انسان تیار نہیں کر سکتے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جسے خدا نے وحی کی شکل میں نازل کیا ہے ، اسی لئے جو لوگ اس کا انکار کرتے ہیں ان کے لئے قرآن کا سادہ چیلنج یہ ہے کہ وہ اس جیسی کوئی ایک سورت ہی پیش کر دیں۔ اس چیلنج پر میں نے اپنے مضمون (سائنس اور مذہب) میں تفصیل کے ساتھ گفتگو کی ہے۔

قرآن نے تمام اسرار کو واضح کر دیا ہے، لہٰذا ایسا کوئی بھی 'تصوف' جس کا ذکر قرآن میں نہیں ہے، یا وہ سائنس نہیں ہے ، اسے صرف وہم و گمان کی پیداوار ایک چھوٹا اور بے بنیاد تصور مانا جائے گا۔

(5:15) اے اہل کتاب! یقیناً تمہارے پاس ہمارا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) آچکا جو تمہارے سامنے کتاب اللہ کی بکثرت ایسی باتیں ظاہر کر رہا ہے جنہیں تم چھپا رہے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر کرتا ہے، تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور اور واضح کتاب آچکی ہے۔

(36:69) نہ تو ہم نے اس پیغمبر کو شعر سکھائے اور نہ یہ اس کے ئق ہے۔ وه تو صرف نصیحت اور واضح قرآن ہے:

اس کتاب کی تشریح اس انداز میں نہیں کی جاسکتی ہے جس انداز میں کسی شاعر کے شعر کی تشریح کی جاتی ہے۔ شاعری کی طرح اس کی آیتوں کے متعدد معانی نہیں ہوتے بلکہ اس کی آیت کا صرف ایک واضح اور غیر مبہم معنی ہوتا ہے۔ تاہم جو لوگ اس کی تشریح کرتے ہیں اور اس کے واضح معنی کا تعین کرنے اور اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں وہ حقیقت کے متلاشی نہیں بلکہ فلسفہ اور شاعری کے دلدادہ ہیں۔ وہ اسلام کے تصوف پسند ہیں اور اسلام کے آسان عقائد کو مسخ کرنے والے ہیں۔

انبیاء ایک "واضح پیغام" کے ساتھ مبعوث کئے گئے

انبیاء کو ایک واضح پیغام کے ساتھ مبعوث کیا گیا اور انہیں قرآن نے ‘‘رسول مبین’’ یا واضح پیغام کا حامل یا واضح ڈر سنانے والا قرار دیا ہے،: 7:184؛ 11:25، 22:49، 26:115؛ 29:50؛ 38:70؛ 43:29؛ 44:13؛ 46:9؛ 51:50، 51؛ 67:26؛ 71:2۔

اسلام کے پیغمبر "صوفی علوم" کے حامل نہیں ہیں

قرآن یہ واضح کرتا ہے کہ اسلام کے پیغمبروں کو اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں معلوم تھا جو ان پر وحی کے ذریعہ نازل کیا گیا تھا اور ان پر جو کچھ نازل کیا گیا تھا وہ تمام انسانوں کے لئے تھا اور تمام انسان اس میں شریک تھے۔

(46: 9) "آپ کہہ دیجئے! کہ میں کوئی بالکل انوکھا پیغمبر تو نہیں نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ میں تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی بھیجی جاتی ہے اور میں تو صرف علی الاعلان آگاه کر دینے وا ہوں۔ "

(7:188) آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لیے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا، مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ نے چاہا ہو اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت سے منافع حاصل کر لیتا اور کوئی نقصان مجھ کو نہ پہنچتا میں تو محض ڈرانے وا اور بشارت دینے وا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں۔ "

(11:31) "میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، (سنو!) میں غیب کا علم بھی نہیں رکھتا، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، نہ میرا یہ قول ہے کہ جن پر تمہاری نگاہیں ذلت سے پڑ رہی ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کوئی نعمت دے گا ہی نہیں، ان کے دل میں جو ہے اسے اللہ ہی خوب جانتا ہے، اگر میں ایسی بات کہوں تو یقیناً میرا شمار ظالموں میں ہو جائے گا۔ "

(6:50) آپ کہہ دیجئے کہ نہ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف جو کچھ میرے پاس وحی آتی ہے اس کی اتباع کرتا ہوں آپ کہئے کہ اندھا اور بینا کہیں برابر ہوسکتا ہے۔ سو کیا تم غور نہیں کرتے؟

پراسرار امور کا حصول شیطان کی عبادت اور کفر ہے۔

جہاں تک پراسرار امور یا جادو کی طاقت پر ایمان کا تعلق ہے، قرآن واضح طور پر یہ بیان کرتا ہے کہ پراسرار امور یا جادو کی طاقت کے حصول کی کوشش شیطان کی پیروی ، کفر اور فتنہ ہے اور جادو کے خریداروں کے لئے آخرت کی نعمتوں میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

(2:102) اور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین (حضرت) سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے۔ سلیمان نے تو کفر نہ کیا تھا، بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا، وه لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے، اور بابل میں ہاروت ماروت دو فرشتوں پرجو اتارا گیا تھا، وه دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں تو کفر نہ کر، پھر لوگ ان سے وه سیکھتے جس سے خاوند وبیوی میں جدائی ڈال دیں اور دراصل وه بغیر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، یہ لوگ وه سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائے اور نفع نہ پہنچا سکے، اور وه بالیقین جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور وه بدترین چیز ہے جس کے بدلے وه اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے۔

(103) اگر یہ لوگ صاحب ایمان متقی بن جاتے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہترین ثواب انہیں ملتا، اگر یہ جانتے ہوتے۔

اگر چہ اللہ کے فرشتوں نے انسانوں کو جادو سکھایا تھا لیکن یہ آزمائش تھی اور جو لوگ اس کا شکار ہوئے انہوں نے خود کو شیطان کے ہاتھوں بیچ دیا اور آخرت کی نعمتوں میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

اسلام میں تصوف کی کوئی گنجائش نہیں ہے

جب قرآن انسان کو ایمان کی روشنی عطا کرتا ہے تو شیطان کے پیروکاروں کے علاوہ کون ہے جو تصوف کی تاریکیوں کا سودا کرے اور دوبارہ اندھروں کا مسافر بن جائے۔

 (2:257) ایمان نے والوں کا کارساز اللہ تعالیٰ خود ہے، وه انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جاتا ہے اور کافروں کے اولیاء شیاطین ہیں۔ وه انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں، یہ لوگ جہنمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے۔

کیا ہمارے پاس ایک روح ہے؟

روح کے بغیر تصوف کیا ہے؟ لیکن کیا ہمارے پاس کوئی روح ہے؟ تمام مذاہب اور ثقافتوں میں "روح" کا بنیادی معنی ہمارے "نفس" کا غیر مادی یا "روحانی" حصہ ہے، جس کا اپنا خود کا شعور اور اپنی ذہانت ہے ، جو ہمارے جسم اور ہمارے دماغ کے بغیر بھی موجود ہوتی ہے اور ہمارے جسم کے ساتھ نہیں مرتی ، اور یہ شاید ہماری پیدائش سے پہلے بھی موجود تھی۔ ایسی کوئی چیز موجود نہیں ہے اور نہ ہی ان باتوں کو سائنس تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی قرآن۔ اگرچہ روح کا ایسا تصور غیر منطقی اور غیر سائنسی ہے، اور ہمارے اندر یا دوسروں کے اندر اس کی موجودگی کا کوئی تجرباتی ثبوت بھی نہیں پایا جاتا، لیکن مسلمانوں سمیت تمام مذہبوں اور ثقافتوں میں ایسی روح کی موجودگی کا تصور بہت مضبوط ہے۔ لہذا یہ بات کہ قرآن میں روح کا ایسا کوئی تصور موجود نہیں ہے اکثر لوگوں کے لئے حیرت کی         بات ہو گی ، لیکن یہ سچ ہے جیسا کہ ابھی ہمیں جلد ہی یہ معلوم ہو جائے گا۔

قرآن میں دو الفاظ کا ترجمہ غلط طریقے سے اکثر "روح" کر دیا جاتا ہے، اور وہ الفاظ یہ ہیں:

1۔ روح

2۔ نفس

المیہ یہ ہے کہ یہ دونوں الفاظ مترادفات بھی نہیں ہیں۔ واضح طور پر قرآن میں کوئی ایک بھی لفظ ایسا نہیں ہے جس کا معنیٰ روح ہو اور یہ دو الفاظ جو کہ ایک دوسرے کے مترادفات بھی نہیں ہیں "روح" کے لئے اس کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ قرآن میں روح کا کوئی تصور موجود نہیں ہے، اور کسی ایسی آیت میں بھی ان دونوں میں سے کسی بھی لفظ کا کوئی ذکر نہیں ہے جس کا موضوع موت یا قیامت ہے۔

ہمارے پاس مادی جسم اور دماغ کے علاوہ اور کیا ہے؟ ہمارے پاس یادوں کی شکل میں زندگی کے تجربات ، حاصل کردہ علم، طرز فکر و نظر ، نفس کا شعور اور اخلاقی شعور یا نفس لوامہ جو ہم نے اپنی مذہبی اخلاقی تعلیمات یا سیکولر اخلاقیات کی بنیاد پر تیار کیا ہے جو ہمیں ہمارے غلطیوں پر مطلع کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے اندر یہ شعور بھی ہے جو ہمیں نفس لوامہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو ہمیں ان باتوں میں ملوث ہونے سے روکتا ہے جنہیں ہم غیر اخلاقی مانتے ہیں۔ ہمارے پاس جدید معتبر لفظ کا استعمال کرنے کا بھی شعور ہے۔ اور ابھی جن چیزوں کا ذکر کیا گیا ان میں سے کسی کو بھی "روح" نہیں کہا جاسکتا۔ میں نے قرآن میں نفس کا معنی بیان کر دیا ہے۔ نفس وہ شعور ہے جو حالت بیداری میں ہمارے ساتھ ہوتا ہے اور جب ہم سوتے ہیں اور جب ہم فوت ہو جاتے ہیں تو یہ شعور ہم سے جدا ہو جاتا ہے۔ جسم ، دماغ، یاد، طرز فکر، حواس، اعصابی نظام اور اعضاء کے بغیر نفس کیا ہے؟ جب جسم مر جاتا ہے تو نفس بھی مر جاتا ہے اور ایک زندہ شخص بغیر نفس کے کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمارے مادی جسم، ذہنی عمل، یاد داشت، احساسات وغیرہ سمیت ان تمام کو ایک جانکاری مانا جا سکتا ہے ، اور قیامت کے دن بشمول نفس کے اسی حال میں جس میں ہم آج ہیں ہمیں اٹھانے کے لئے اسی کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک سائنس اور قرآن کا تعلق ہے تو بحالت بیداری زندہ جسم کے بغیر نفس کا کوئی آزادانہ وجود نہیں ہے۔

انگریزی لفظ (soul) کا استعمال ایک شخص، نفس، ضمیر اور شعور کے لئے بھی کیا جاتا ہے۔ اس معنی میں جب اس کا استعمال کیا جاتا ہے، تو اس کا مطلب نفس ہوتا ہے لیکن چونکہ ہمارا مقصد یہ جاننا ہے کہ کیا یہ "ہمارے زندہ جسم کے بغیر بھی موجود ایک لافانی وجود" ہے اسی لئے ہم اس ایک کے علاوہ قرآن کا ترجمہ کرتے وقت لفظ (soul) کے دیگر تمام معانی کو نظر انداز کریں گے۔ میں نے اس ضمن میں چالیس مشہور و معروف ترجمہ نگاروں کے تراجم کا مطالعہ کیا ہے اور اختصار کے ساتھ ذیل میں اس کا تجزیہ پیش کیا ہے کہ انہوں نے اس لفظ کا کیا ترجمہ کیا ہے۔

نفس پر موت آتی ہے

یوسف علی (3:145) بغیر اللہ تعالیٰ کے حکم کے کوئی جاندار نہیں مرسکتا،

لفظی ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کسی بھی جاندار کے لئے موت نہیں ہے

یوسف علی نے ‘‘لنفس’’ کا ترجمہ (a soul) کیا ہے جبکہ اس کا معنی "ایک شخص کے لئے" ہے۔ 31 دیگر ترجمہ نگاروں نے اس آیت میں میں ‘‘لنفس’’ کا ترجمہ (a soul) ہی کیا ہے۔ چونکہ روح کے بارے میں تصور یہ ہے کہ اس پر موت واقع نہیں ہوتی اسی لئے بہتر ہے کہ نفس کا ترجمہ "شخص" کر لیا جائے۔ جیسا کہ ابھی بیان کیا گیا ایک زندہ شخص کو اس کے نفس سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور ایک زندہ شخص سے الگ ہو کر ایک نفس کا کوئی وجود نہیں ہے اور وہ اس زندہ شخص کی موت کے ساتھ ہی مر جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ایسے کسی نفس کا کوئی تصور نہیں ہے جس پر موت واقع نہ ہوتی ہو لہٰذا اس کا بنیادی معنی "soul" نہیں ہے۔ آٹھ مترجمین نے نفس کا بجا طور پر ترجمہ ایک شخص یا انسان کیا ہے۔

کل نفس ذآئقة الموت 29:57،21:35،3:185

ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے

واضح طور اس آیت میں نفس سے مراد فرد انسان ہے کوئی لا فانی "روح" نہیں۔

(33 مترجمین نے نفس کا ترجمہ روح کیا ہے اور سات نے اس کا ترجمہ ایک زندہ فرد یا انسان کیا ہے)۔

63:11 وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا ۚ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ

لفظی ترجمہ: لیکن اللہ تعالیٰ کسی کو بھی ہر گز مہلت نہیں دیتا جب اس کا مقرر وقت آجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان سب سے بخوبی باخبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

ہم نے ابھی ثابت کیا کہ "نفس" کے اوپر موت واقع ہوتی ہے اسی لئے یہ وہ نہیں ہو سکتا جو ہماری موت کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔ یا ہمارے پیدا ہونے سے بھی بہت پہلے سے موجود تھا۔ اس کا بنیادی معنیٰ روح نہیں ہے۔ اگر چہ مترجمین نفس کا ترجمہ روح کرتے ہیں جبکہ آیت میں نفس کی موت کی بات کی گئی ہے، اس سے واضح ہے کہ انہوں افراد کے معنی میں روح کا استعمال کیا ہے۔

احساسات اور جذبات کے معنیٰ میں نفس

نفس برائی کی ترغیب دینے والا ہے

احساسات فتنوں کا شکار ہوتے ہیں۔ مثلاً یوسف (علیہ السلام) جب نوجوان ہوئے تو اس عزیز کی بیوی نے انہیں رجھانے کی کوشش کی جس نے زمانہ طفولیت میں آپ کو گود لیا تھا۔ یوسف (علیہ السلام) کہتے ہیں کہ وہ انسان ہونے کے دعویٰ سے خود مستثنی نہیں سمجھتے؛ ان کے احساسات بھی خواہشات کے فتنوں کا شکار ہوتے ہیں اگر چہ اس طرح کی خواہش جائز نہیں ہے۔ صرف خدا کی رحمت ہی کی بدولت وہ اپنے آپ کو ان فتنوں سے بچانے میں کامیاب ہو سکے جس کے نتیجے میں ان سے کوئی غلط فعل سرزد ہو سکتا تھا۔

(12:53) "میں اپنے نفس کی پاکیزگی بیان نہیں کرتا۔ بیشک نفس تو برائی پر ابھارنے وا ہی ہے، مگر یہ کہ میرا پروردگار ہی اپنا رحم کرے، یقیناً میرا پالنے وا بڑی بخشش کرنے وا اور بہت مہربانی فرمانے وا ہے"۔

(28 مترجمین نے اس میں نفس کا ترجمہ روح کیا ہے جبکہ دیگر 12 مترجمین نے اس کا ترجمہ نفس اور جان کیا ہے۔)

20:96 قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوا بِهِ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ أَثَرِ الرَّسُولِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذَٰلِكَ سَوَّلَتْ لِي نَفْسِي

لفظی ترجمہ: اس نے جواب دیا کہ میں نے وه چیز دیکھی جو انہوں نے نہیں دیکھی ، تو میں نے فرستادہٴ الٰہی کے نقش قدم سے ایک مٹھی (دھول) بھر لی اسے (بچھڑے پر) ڈال دیا اسی طرح میرے نفس نے یہ بات مجھے تجویز کی۔ "

(تیس مترجمین نے نفس کا ترجمہ روح کیا ہے۔ تین نے اس کا ترجمہ دماغ اور دیگر آٹھ مترجمین نے اس کا ترجمہ اور جان/ باطن /اپنا آپ کیا ہے)۔

4:128 وَأُحْضِرَتِ الْأَنفُسُ الشُّحَّ

طمع ہر ہر نفس میں شامل کر دی گئی ہے۔

(تیس مترجمین نے الانفس کا ترجمہ روح کیا ہے۔ دیگر دس مترجمین نے اس کا ترجمہ افراد یا لوگ کیا ہے)۔

فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِينَ

5:30 پس اسے اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر آماده کر دیا اور اس نے اسے قتل کر ڈا، جس سے نقصان پانے والوں میں سے ہوگیا۔

یہاں نفسہ کا استعمال "اپنے احساسِ نفس" خواہشات، لالچ، حسد، خوف وغیرہ کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔

(اس آیت میں 29 مترجمین نے نفسہ کا ترجمہ روح کیا ہے۔ گیارہ دوسرے مترجمین نے اس کا ترجمہ خودی، خود غرضی، سوئے نفس، جذبہ، ذہن، بری فکر انانیت وغیرہ کیا ہے)۔

نفس لوامہ

(75:1) میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی؛

(2) اور قسم کھاتا ہوں اس نفس کی جو ملامت کرنے وا ہو۔

(3) کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہیں کر سکتے؟

(4) ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کردیں۔

(5) بلکہ انسان تو چاہتا ہے کہ آگے آگے نافرمانیاں کرتا جائے۔

نفس لوامہ عقل و شعور کی اس مخالفت کو قرار دیا جا سکتا ہے جس کا تجربہ ہمیں اس وقت ہوتا ہے جب ہم کوئی ایسا کام انجام دیتے ہیں جو اس کے خلاف ہوتا ہے جسے ہم درست مانتے ہیں۔ صحیح اور غلط کا احساس، یا ہمارے معاشرے کی اقدار کا علم ہمیں اسی طرح ہوتا ہے جس طرح ہم اپنی مادری زبان سیکھتے ہیں۔ ہم بات کرنے کا طریقہ سیکھنے کے دوران اپنے اقدار اور صحیح اور غلط کا بھی شعور حاصل کرتے ہیں اس لئے کہ اپنی بات چیت کے ذریعہ ہم صرف زبان ہی نہیں بلکہ اس معاشرے کے اقدار کو بھی ہم سیکھتے اور جانتے ہیں جس کے افراد کے ساتھ ہم کلام کرتے ہیں۔ ایک اخلاقی زندگی گزارنے کے لئے ضروری علم حاصل کرنے کی اپنی کوششوں کی بنیاد پر اس میں مزید بہتری پیدا ہوتی ہے۔ نفس لوامہ کے رد عمل میں صحیح راستے کی تائید میں ہم اپنا طرز عمل تبدیل کر سکتے ہیں یا ہم اپنے نفس کے فتنوں کا شکا ہو کر برے اعمال میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہم اس طرح کے اعمال پر عقلی دلیل بھی فراہم کر سکتے ہیں۔

(درج ذیل آیت میں 34 مترجمین نے نفس کا ترجمہ روح کیا ہے۔ اور صرف چھ مترجمین نے اس کا ترجمہ شعور کیا ہے۔)

نفس المطمئنہ

آخرت میں جنہیں کامیاب حاصل ہو گی انہیں نفس مطمئنہ قرار دیا گیا ہے

(89:27) اے اطمینان پا جانے والا نفس

(28) تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی وه تجھ سے خوش

(29) پس میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا!

(30) "ہاں، میری جنت میں داخل ہو جا!

کس کا نفس مکمل طور پر امن و امان کی حالت میں ہو گا؟ مکمل طور پر امن و امان کی حالت میں ان کا نفس ہو گا جنہوں نے ایمانداری کے ساتھ نفس لوامہ کے مطابق اپنے طرز عمل کو تبدیل کیا اور اس راستے پر چلے جسے وہ درست مانتے ہیں۔ جو لوگ ہر طرح سے اپنی زندگی سے مطمئن تھے اور لالچ، حسد، نفرت، غصہ اور نفسانی خواہشات کا شکار نہیں ہوئے اور جنہوں نے ان تمام چیزوں کے لئے خدا کا شکر ادا کیا جو انہیں عطا کیا گیا۔

ایسے افراد جو اپنے ساتھ مطمئن ہیں اور خدا کی رضاء پر راضی ہیں وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مطابق یہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ خدا پر یقین کے بغیر، لوگ نفس لوامہ کو تاویل و تصویب سے کچل دیں گے، اپنی نفسانی خواہشات کا شکار ہوں گے ، ہر چیز کے لئے لالچی ہوں گے، خود سے بہتر لوگوں سے حسد کریں گے ، لوگوں کے مال و اسباب کی بناء پر ان سے نفرت اور دشمنی کریں گے ، غیر محفوظ محسوس کریں گے اور اپنی غلطیوں اور گناہوں کا دفاع کریں گے۔ مکمل طور پر غیر مطمئن نفس ان کا ہے جو مزید زندگی کی چاہ میں اس دار فانی سے رخصت ہوتے ہیں۔ امن میں رہنے والا نفس ان کا ہو گا جو یہ جانتے ہیں کہ انہوں نے نیک نیتی کے ساتھ جو بھی نیکی بن سکی انجام دیا اور حق پر قائم رہے اور تمام قسم کے حالات میں نیکی کے تمام مواقع کا بخوبی استعمال کیا۔

ہم میں سے ہر ایک شخص یہ جانتا ہے کہ وہ نفس مطمئنہ کے کس مقام پر فائز ہے۔ اس طرح کا نفس بے خوف ، پر امید، نفرت سے آزاد اور یقینی طور پر مجنوں نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے کہ دماغی خلل ایک ایسے نفس کی علامت ہے جو خود سے اور خود کے ارد گرد کے ماحول سے خوش نہیں ہے۔

(درج ذیل آیت میں 34 مترجمین نے نفس کا ترجمہ روح کیا ہے۔ اور صرف چھ مترجمین نے اس کا ترجمہ انسان کیا ہے۔)

16: 7 وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ إِلَىٰ بَلَدٍ لَّمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنفُسِ ۚ إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ

لفظی ترجمہ: اور وه (جانور) تمہارے بوجھ ان مقامات تک اٹھا لے جاتے ہیں جہاں تم (خود) کو انتہائی مشقت میں ڈالے بغیر پہنچ ہی نہیں سکتے تھے۔ یقیناً تمہارا رب بڑا ہی شفیق اور نہایت مہربان ہے۔

یوسف علی: (16:7) اور وه تمہارے بوجھ ان شہروں تک اٹھالے جاتے ہیں جہاں تم بغیر روح پر بارگراں کے بغیر پہنچ ہی نہیں سکتے تھے۔ یقیناً تمہارا رب بڑا ہی شفیق اور نہایت مہربان ہے،

تکلیف جسم کے لئے ہے "روح" کے لئے نہیں۔

(چھ مترجمین نے الانفس کا ترجمہ روح کیا ہے۔ اور 24 مترجمین نے اس کا ترجمہ آپ خودکیا ہے)

39:42 اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَىٰ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ

یوسف علی (39:42) اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آئی انہیں ان کی نیند کے وقت قبض کر لیتا ہے، پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ غور کرنے والوں کے لیے اس میں یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں۔

ہماری نیند میں جو شئی اخذ کی جاتی ہے وہ ہماری روح نہیں بلکہ ہمارا شعور ہے۔ اپنی موت کے وقت بھی ہم اپنا شعور ہی کھوتے ہیں۔ نیند اور موت دونوں حالتوں میں ہم سے ہمارا شعور چھین لیا جاتا ہے اور جن کے لئے موت نہیں ہے ان کا شعور واپس کر دیا جاتا ہے اور جن کے لئے موت کا فیصلہ ہو چکا ہے ان کا شعور واپس نہیں کیا جاتا ہے۔ لہٰذا، لانفس کا مطلب روح نہیں بلکہ شعور ہے۔ یہ آیت نفس کا معنی بالکل واضح کر دیتی ہے۔ اور یہ وہی شئی ہے جس کا حامل ایک زندہ شخص بیداری کی حالت میں ہوتا ہے۔ یہ نیند، کوما یا موت کی حالت میں وارد ہونے والی کوئی چیز نہیں ہے۔ نیز یہ بیداری کی حالت میں کسی زندہ شخص سے آزاد کوئی وجود نہیں ہے۔

(تیس مترجمین نے الانفس کا ترجمہ روح کیا ہے۔ باقی تمام صحیح معنی کی تلاش میں ناکام رہے ہیں اور انہوں نے نیند کو موت کے ساتھ خلط ملط کر دیا ہے۔ انہوں نے اس کا ترجمہ کیا ہے ‘‘ نیند کی حالت میں لے لی گئی ‘‘جان’’ اور انہیں واپس کر دی گئی جنہیں موت نہیں آئی’’۔ جبکہ اس کا صحیح معنیٰ یہ ہے کہ نیند کی حالت میں ہمارا شعور ہم سے چھین لیا جاتا ہے اور جب ہم بیدار ہوتے ہیں تو انہیں واپس کر دیا جاتا ہے لیکن جنہیں موت آجاتی ہے انہیں یہ شعور واپس نہیں کیا جاتا۔ موت کی بالکل سادہ الفاظ میں تعریف اس طرح بیان کی گئی ہے کہ زندگی یا خود کے شعور کا مستقل طور پر کھو دینا جبکہ نیند عارضی طور پر شعور کھونے کا نام ہے۔ صرف ایک مترجم نے اس کا قریبی معنی کیا ہے اور ان کا نام شبیر احمد ہے)

اس حصے میں ہم نے یہ مطالعہ کیا کہ نفس کا مطلب کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ اس کا مطلب ایسی کوئی لافانی روح نہیں ہے جو موت کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔ اس کا مطلب بیداری کی حالت میں ہمارا 'احساس، قوت فکر، دانشمندی، ہوائے نفس کا شکار ہونا، شعور عقل و استدلال اور نفس لوامہ یا آسان لفظوں میں ہماری انفرادی شخصیت یا تشخص ہے جسے ایک خاص مدت تک زندگی ملتی ہے اور آخر کار اس پر بھی موت وارد ہوتی ہے۔ موت جسم اور نفس دونوں پر وارد ہوتی ہے۔ اگرچہ بہت سے مترجمین نے بے بنیاد طریقے سے نفس کا ترجمہ روح کیا ہے جبکہ قرآن کی کسی بھی آیت میں ‘‘روح’’ نفس کا بنیادی معنی نہیں بلکہ ثانوی معنیٰ ہے۔ لہٰذا، ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ قرآن کی کسی بھی آیت میں نفس کا بنیادی معنی روح نہیں ہے جو "ہماری موت کے بعد بھی زندہ رہتی ہے"۔ اگلے حصہ میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ 'روح’ کا معنیٰ کیا ہے۔

URL: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/naseer-ahmed,-new-age-islam/islam-and-mysticism--is-‘nafs’-soul?-(part---1)/d/111786

URL: http://newageislam.com/urdu-section/naseer-ahmed,-new-age-islam/islam-and-mysticism--is-‘nafs’-soul?-(part---1)--اسلام-اور-تصوف--کیا--نفس--روح-ہے؟-(حصہ-1)/d/113450

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..