New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 07:30 PM

Urdu Section ( 21 Sept 2017, NewAgeIslam.Com)

Does The Quran Ask Us To Follow The Sunnat Of The Prophet? کیا قرآن ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کرنے کا حکم دیتا ہے؟

 

 

 

 

 

نصیر احمد، نیو ایج اسلام

18 اگست 2017

مذہب یا اللہ کے دین کی تعلیم خدا کے رسولوں یا نبیوں پر نازل ہونے والی کتاب کی وحی پر مبنی ہے۔ یہ باتیں پیغمبروں کے مشن اور حالات و واقعات کے مختلف مراحل سے متعلق ہوتی ہیں۔ لہذا، یہ خود نبی اور ان کی امت کے لوگوں کے لئے ایک تجرباتی مرحلہ تھا۔ گزشتہ نبیوں اور ان کی امتوں کی کہانیوں کا بیان بھی ان کی تعلیم کے طریقہ کار میں شامل ہے۔ پیروی کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہترین نمونہ بھی بیان کیا گیا ہے اس لئے کہ وہ مذہب پر عمل کرنے میں اپنے الفاظ اور اعمال کے اعتبار سے قرآن کی جیتی جاگتی تصویر ہیں ، جیسا کہ قرآن میں اس کا ذکر ہے۔ تاہم، جب ہم نبیوں کی سنت کی پیروی کرنے کی مذہبی ضرورت اور اہمیت و افادیت کی بات کرتے ہیں تو ان میں مذہبی معاملات میں ان کی مثال کے علاوہ ان کی ذاتی ترجیحات ، ان کے لباس کا انداز ، غذا اور دیگر معمولات زندگی وغیرہ بھی شامل ہوتے ہیں ، لہٰذا، سوال یہ ہے کہ کیا ان چیزوں میں بھی پیغمبر وں کی پیروی قرآن کا مطالبہ ہے؟ کیا کوئی بھی صحیفہ ہم سے نبیوں کی سنت کی پیروی کرنے کا مطالبہ کرتا ہے؟ ہم اس کی تفتیش و تحقیق قرآنی شواہد کی روشنی میں کرتے ہیں۔

لفظ سنت جو کہ سنن سے مشتق ہے قرآن کریم میں 16 مرتبہ وارد ہوا ہے جس میں صرف ایک مرتبہ اس لفظ کا استعمال لوگوں کے عادات و اطوار اور معمولات کے لئے ہوا ہے ، جیسا کہ حسب ذیل سے ظاہر ہے۔

".. اور تمہیں اگلوں کی (نیک) روشیں (سنن) بتادے"۔ 4:26

ہمیں قرآن مجید کی پیروی کرنی ہے جو اگلوں کے اچھے طریقوں (سنن) کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ہمیں براہ راست ان لوگوں کی پیروی کرنے کا حکم نہیں دیا جا رہا ہے بلکہ قرآن سے رہنمائی حاصل کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اس لئے کہ ان لوگوں سے براہ راست رہنمائی حاصل کرنے میں مسئلہ یہ ہے کہ ان لوگوں کے اندر جس طرح اچھے معمولات ہیں اسی طرح ممکن ہے کہ ان کے اندر بری عادتیں بھی ہوں۔ اس لئے کہ پیغمبروں کے اندر بھی ایسی باتیں تھیں جنہیں اللہ نے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے ، جن کا ہم آئندہ سطور میں مطالعہ کریں گے۔

11 مختلف آیات میں لفظ سنت کا باقی 15 مرتبہ ذکر اللہ کی سنت یا اللہ کی روایت کو بیان کرنے کے لئے وارد ہوا ہے۔ قرآن میں ایسی کوئی آیت نہیں ہے جس میں لفظ سنت سے نبیوں کی سنت مراد ہو۔ انبیا اللہ کی پیروی کرتے ہیں اسی لئے وہ اللہ کی عبادت اور دین کے تمام معاملات پیروی کرنے کے لئے ایک نمونہ ہوتے ہیں۔ لیکن قرآن میں ایساکوئی بھی حکم نہیں ہے جس میں ان کی ذاتی طرز زندگی ، ترجیحات اور معمولات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہو۔

"تم سے پہلے (گذشتہ امتوں کے) بہت سے ایسے حالات (سنن) گزر چکے ہیں لہٰذا تم زمین کی سیر کرو اور دیکھو کہ انکار کرنے والوں کا کیا انجام ہوا۔" (3:137)

مندرجہ بالا آیت کا یہی پیغام مختلف عنوانات کے ساتھ مختلف مقامات پر وارد ہوا ہے۔ تاریخ خود کو دہراتی ہے کیونکہ اللہ اپنی سنت یا اپنے طریقوں کو تبدیل نہیں کرتا۔

"آپ کفر کرنے (اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی کرنے اور ان کی مخالفت کرنے ) والوں سے فرما دیں: اگر وہ (دشمنی سے) باز آجائیں تو ان کے وہ (گناہ) بخش دیئے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں، اور اگر وہ پھر وہی کچھ کریں گے تو یقیناً اگلوں کا طریقہ (سنت) گزر چکا ہے (انہیں جنگ بدر کے میدان میں سزا دی جا چکی ہے۔ یہ آیت جنگ بدر کے بعد نازل ہوئی تھی)"۔ 8:38

"ان سب رسولوں (کے لئے ہمارا) طریقہ (سنت یہی ہے) جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا اور آپ ہمارے طریقے (لسنتنا) میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے"۔ 17:77

اس کے علاوہ 4:26، 15:13، 18:55، 33:38، 33:62، 35:43، 40:85، 48:23 میں لفظ سنت کا استعمال کیا گیا ہے۔

پیغمبروں کی پیروی کرنے کا حکم

ہم سے نبیوں کی پیروی کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور انبیا ہمیں اللہ کے دین کی ہدایت دیتے ہیں۔ قرآن ہمیں ان کے دین کے معاملات میں ان کی پیروی کرنے کا حکم دیتا ہے ان کے سنت کے معاملات میں نہیں۔

"بیشک سب لوگوں سے بڑھ کر ابراہیم (علیہ السلام) کے قریب (اور حق دار) تو وہی لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی ہے اور (وہ) یہی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور (ان پر) ایمان لانے والے ہیں، اور اﷲ ایمان والوں کا مددگار ہے"۔ (3:68)

"فرما دیں کہ اللہ نے سچ فرمایا ہے، لہٰذا، تم ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی پیروی کرو جو حق کی جانب مائل تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔"(3:95)

"اور دینی اعتبار سے اُس شخص سے بہتر کون ہو سکتا ہے جس نے اپنا رُوئے نیاز اللہ کے لئے جھکا دیا اور وہ صاحبِ احسان بھی ہوا، اور وہ دینِ ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کرتا رہا جو (اللہ کے لئے) یک سُو (اور) راست رَو تھے ، اور اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا مخلص دوست بنا لیا تھا"۔ 4:125

اس کے علاوہ 16:123 میں بھی ہمیں ملت ابراہیمی یا ان کے مذہب کی پیروی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ہمیں ابراہیم علیہ السلام کی سنت نہیں بلکہ ان کے دین کی پیروی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

3:53، 3:55، میں عیسیٰ علیہ السلام کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے۔

درج ذیل آیتوں میں پیغمبر اسلام محمد ﷺ کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے

"جو اس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کرتے ہیں جو اُمّی نبی ہیں جن کو وہ لوگ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، جو انہیں اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے منع فرماتے ہیں اور ان کے لئے پاکیزہ چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور ان پر پلید چیزوں کو حرام کرتے ہیں اور ان سے ان کے بارِگراں اور طوق جو ان پر تھے، ساقط فرماتے ہیں۔ پس جو لوگ اس پر ایمان لائیں گے اور ان کی تعظیم و توقیر کریں گے اور ان کی مدد و نصرت کریں گے اور اس نور کی پیروی کریں گے جو ان کے ساتھ اتارا گیا ہے، وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں"۔ (7:157)

اس کے علاوہ 2:143، 3:20، 3:31 میں بھی یہی حکم وارد ہوا ہے۔

ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی کن امور میں پیروی کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے وہ آیت 7:157 میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت نہیں بلکہ صرف اللہ کا دین شامل ہے۔

اس امر کا مزید ثبوت کہ نبیوں کی پیروی کے حکم میں ان کی سنت شامل نہیں ہے

مثال کے طور پر عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی دیکھیں جنہوں نے کبھی شادی نہیں کی۔ اگر ہمیں ان کی سنت کی پیروی کرنے کا حکم ہوتا تو ہمیں شادی نہیں کرنی چاہئے۔ اس کے برعکس، کیا ہم شادی اس لیے کرتے ہیں کیونکہ یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے؟ شادی کرنے کا نہ تو کوئی حکم ہے اور نہ ہی یہ کوئی مذہبی فریضہ ہے۔ اگر ہم شادی کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے بلکہ ہم اس لئے شادی کرتے ہیں کہ ہمیں شادی کرنے کی اجازت ہے اور ہمیں شادی کرنے کی ضرورت ہے اور مذہب ہمیں اپنے جنسی تعلقات کو صرف اپنے شریک حیات تک ہی محدود رکھنے کا حکم دیتاہے۔ لہذا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ غیر مذہبی معاملات میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی جائے، اگر آپ چاہیں تو ایسا کر سکتے ہیں لیکن یہ آپ کے دین کا حصہ نہیں ہے۔

پیروی کرنے کی سب سے بہترین مثال

مادہ حمزه سین و (اسوہ) ہے

قرآن ہمیں ابراہیم علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مخصوص مثالوں کی پیروی کا حکم دیتا ہے۔

"فی الحقیقت تمہارے لئے رسول اﷲ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات) میں نہایت ہی حسین نمونہ ہے ہر اُس شخص کے لئے جو اﷲ کی اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اﷲ کا ذکر کثرت سے کرتا ہے"۔ (33:21)

قرآن اللہ ، یوم آخرت اور اللہ کے ذکر کے معاملات میں پیغمبر کے نمونے پر عمل کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ یعنی خاص طور پر ان معاملات میں ان کے نمونے کی پیروی کی جانی چاہئے۔ جبکہ قرآن میں اس بات کا ایک اشارہ بھی موجود نہیں ہے کہ مذہب کے علاوہ معاملات میں ان کی سنت کی پیری کرنا لازمی ہے۔

"بیشک تمہارے لئے ابراہیم (علیہ السلام) میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: ہم تم سے اور ان بتوں سے جن کی تم اللہ کے سوا پوجا کرتے ہو کلیتہً بیزار ہیں، ہم نے تم سب کا کھلا انکار کیا ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور نفرت و عناد ہمیشہ کے لئے ظاہر ہوچکا، یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لے آؤ، مگر ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ سے یہ کہنا کہ میں تمہارے لئے ضرور بخشش طلب کروں گا، اور یہ کہ میں تمہارے لئے اللہ کے خلاف کچھ (کرنے کا کوئی ) اختیار نہیں رکھتا ہوں۔ اے ہمارے رب! ہم نے تجھ پر ہی بھروسہ کیا اور ہم نے تیری طرف ہی رجوع کیا اور تیری ہی طرف ہمارا لوٹنا ہے"۔ (60:4)

"بیشک تمہارے لئے ان (ابراہیم علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں) میں بہترین نمونہ ہے ہر اس شخص کے لئے جو اللہ کی اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے، اور جو شخص رُوگردانی کرتا ہے تو بیشک اللہ بے نیاز اور لائقِ ہر حمد و ثناء ہے۔" (60:6)

ابراہیم علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں کی ایک خاص مثال ہے جس کی پیروی کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے اور ابراہیم علیہ السلام کی ایک اور مثال جس میں انہوں نے اپنے والد کے لئے دعا کی ہے جس کا ذکر ناپسندیدگی کے ساتھ قرآن میں ہے ، ہمیں اس کی پیروی کا حکم نہیں ہے۔

قرآن کریم کی مذکورہ آیات سے یہ واضح ہے کہ بعض معاملات میں پیروی کے لئے انبیاء کے نمونے کی پیروی کی اجازت ہے اور اس معاملے میں ان کی پیروی کی اجازت نہیں ہے جس سے ان کا پرہیز کرنا لازمی ہے۔ ان احکام سے ان معاملات میں بھی انبیا کی سنت کی پیروی کا استدلال نہیں کیا جانا چاہیے جن کا تعلق مذہب سے نہیں ہے ، جیسا کہ قرآن میں بیان کیا گیا ہے۔

اپنی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیروی

قرآن کریم ہمیں دن کے مقررہ اوقات میں باقاعدہ طور پر نماز قائم کرنے اور خاص طور پر جماعت کے ساتھ نماز قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یہ ایک مذہبی ضرورت ہے اور ہم تمام مذہبی معاملات میں ان کی مثال کی پیروی کرتے ہیں اس لئے کہ ہمیں اس کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک دن میں 5 وقت کی نماز ادا کرنے کی ایک مسلسل روایت رہی ہے جسے ہم نے اپنے بزرگوں سے سیکھا ہے اور ہم اس روایت کو اپنی آنے والی نسل تک منتقل کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں کسی تنازعہ یا کسی مسئلہ کی گنجائش کہاں ہے؟ قرآن نے قیام ، رکوع اور سجدہ کی صورت میں اس کا طریقہ کار بھی بیان کیا ہے ، اور چونکہ اسے ایک مذہبی فریضہ کے طور بھی بیان کیا گیا ہے جس میں ہمیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال پر عمل کرنا ضروری ہے، لہٰذا ، ہم ایسا کرتے ہیں۔

جب عمل مختلف ہو تو روایت کا سوال متنازع فیہ ہوسکتا ہے اس لئے کہ شیعہ جماعت کے ساتھ اپنی نماز میں سنیوں سے مختلف روایت پر عمل کرتے ہیں۔ جن معمولات کو ہم اجتماعی طور پر ادا کرتے ہیں ان میں رسم کو اہمیت حاصل ہے ، بصورت دیگر مراسم و معمولات کو کم ہی اہمیت حاصل ہے۔ روایت لوگوں کو پابند کرتی ہے اس لئے اہم ہے لیکن اس کا اور کوئی دوسرا مقصد نہیں ہے۔ لہذا، اگر آپ شیعوں کے ساتھ نماز ادا کر رہے ہیں تو ان کے مراسم کی رعایت کریں اور اگر آپ سنیوں کے ساتھ نماز ادا کر رہے ہیں تو ان کے مراسم کی رعایت کریں۔ مسلمانوں کے ساتھ کسی معاملے میں پابند ہونا ایک اچھی بات ہے اور اس کے لئے آپ اس کی جزا پائیں گے، اور اگر آپ اپنے فرقہ کے علاوہ دوسروں کی روایتوں پر عمل کریں تو یقیناً آپ کو اس کی سزا نہیں دی جائے گی۔ آپ بعض اوقات یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ بھی نماز ادا کر سکتے ہیں، لیکن اس میں آپ کو صرف ایک امر کا خیال رکھنا ہے کہ آپ ایسا کوئی کام نہ کریں جو قرآن میں ممنوع ہے اور وہ اپنے مذہب سے نکل کر ان کی طرح بن جانا ہے۔

قرآن رہنمائی کرتا ہے ، احادیث گمراہ کرتی ہیں

قرآن اللہ کے دین کی پیروی کرنے کا مکمل اور ایک واحد معتمد چشمہ ہدایت ہے اور چونکہ ہم اپنے مذہبی معاملات میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروي کرتے ہیں ، اس لئے اس کتاب سے بہتر اور کوئی ہادی نہیں ہوسکتا۔ اگر آپ کسی دوسری کتاب کی پیروی کرتے ہیں تو اس کی ذمہ داری آپ پر ہے کہ آپ کسی بھی طرح قرآن کے کسی حرف یا معنی کے خلاف نہ جائیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قرآن ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یا کسی نبی کی سنت کی پیروی کرنے کا حکم نہیں دیتا ہے جب تک کہ ان کی سنت کا تعلق دین سے اور اللہ کے اوامر و نواہی سے نہ ہو۔ یہاں تک کہ ان معاملات میں بھی آپ کو ان کے ذاتی تجربے کی بنیاد پر ان کے ذاتی نمونہ پر یا قرآن جسے ان کا عمل تسلیم کرتا ہے ان پر عمل کرنے کا حکم ہے۔

چونکہ نبی ہمارے درمیان نہیں ہیں ، اور مذہبی معاملات میں ان کی سنت کا ایک واحد معتمد رہنما صرف قرآن ہے نہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنی سنائی باتوں اور معمولات پر مشتمل احادیث۔ اور جب احادیث کا نزاع قرآن مجید سے ہو تو ہمیں اور بھی زیادہ محتاط ہونا ضروری ہے۔

احادیث کی تدوین 9ویں صدی میں انجام پذیر ہوئی جیسا کہ امام ترمذی کی وفات (ازبک892 ء) میں ہوئی، امام بخاری کی وفات (ازبک 870) میں ہوئی، ابو دائود کی وفات (فارسی 889 ء) میں ہوئی، ابن ماجہ کی وفات (فارسی 887 ء) میں ہوئی، النسائی کی وفات (فارسی 915) میں ہوئی، مسلم بن الحجاج کی وفات (فارسی 875) میں ہوئی، ابن حنبل اور کئی دیگر کی وفات (عرب 855) میں ہوئی۔ جو کہ صحاح ستہ میں سے چھہ اولین محدثین کی کتابیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام چھ بڑے محدثین عباسیوں کے دور میں اسلام کے سنہرے دور کے ہم عصر ہیں اس لئے اس امر کے امکانات ہیں کہ ان احادیث کی تدوین اسلام کو سیاسی مصلحتوں کے تابع رکھنے کے لئے ایک سیاسی منصوبہ ہو۔ احادیث ہر موضوع پر قرآن سے متصادم ہیں اور رسول اللہ (ﷺ) کے یہ مبینہ اقوال مستند ہیں تو پھر ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ کیا پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنی ساری زندگی قرآن کے پیغام کے خلاف تبلیغ و اشاعت میں بسر کی ہے! واضح طور پر یہ امر کسی کے تصور سے بھی پرے ہے۔ اور اسی وجہ سے ہمیں حدیث کو شیطان کا کام قرار دینا چاہیے اور جو مبینہ بیانات قرآن سے متصادم ہیں انہیں قرآن کریم اور نبی ﷺ کی توہین قرار دینا چاہیے۔

ہماری فقہ کے اندر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کی تاکید صرف احادیث کو مسلم معتقدات میں مرکزی حیثیت عطا کرنے کے لئے ہے ، اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو جاننے کا اس کے علاوہ اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ پیغمبروں کو خدا کا درجہ دیا جانا انسانوں کی ایک ناکامی ہے اور اس انسانی کمزوری کا شاطرانہ انداز میں استحصال کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ سنت کی پیروی کر کے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عزت اور ان کا احترام کر رہے ہیں، جب کہ وہ مذہبی معاملات میں آپ ﷺ کی اصل سنت سے گمراہ کئے جا رہے ہیں جس کا ایک واحد مصدر و منبع غیر مستند احادیث نہیں بلکہ قرآن ہے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/naseer-ahmed,-new-age-islam/does-the-quran-ask-us-to-follow-the-sunnat-of-the-prophet?/d/112243

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/naseer-ahmed,-new-age-islam/does-the-quran-ask-us-to-follow-the-sunnat-of-the-prophet?--کیا-قرآن-ہمیں-نبی-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کی-سنت-کی-پیروی-کرنے-کا-حکم-دیتا-ہے؟/d/112612

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..