New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 01:58 AM

Urdu Section ( 30 Sept 2016, NewAgeIslam.Com)

An Exposition of the Verse of Light (Ayat al-Nur) آیت نور کی توضیح و تشریح

 

 

 

 

 

 نصیر احمد، نیو ایج اسلام

29 ستمبر 2016

اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ زَيْتُونِةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُّورٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَن يَشَاءُ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال اس طاق جیسی ہے جس میں چراغہے؛ (وہ) چراغ، فانوس میں رکھا ہے۔ (یہ) فانوس گویا ایک درخشندہ ستارہ ہے جو زیتون کے مبارک درخت سے روشن ہوا ہے نہ (فقط) شرقی ہے اور نہ غربی ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تیل چمک رہا ہے اگرچہ ابھی اسے آگ نے چھوا بھی نہیں، (وہ) نور کے اوپر نور ہے ، اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور (کی معرفت) تک پہنچا دیتا ہے، اور اللہ لوگوں (کی ہدایت) کے لئے مثالیں بیان فرماتا ہے، اور اللہ ہر چیز سے خوب آگاہ ہے۔ (اللہ تعالی نے نور، 24/35)

قرآن کی جو آیت سب سے زیادہ خوبصورت ہے اور جس آیت پر سب سے زیادہ تبصرہ کیا گی ہے وہ آیت نور ہے،جس پر تمام مفسرین، عرفاء اور فلاسفہ نے گفتگو کی ہےاور اس پر ان سب نے اپنی اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اپنی رائے پیشکش کی ہے۔

کسی زبان کے ناکافی ذخیرہ الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے جب کوئی ایسی بات پیش کرنا مقصود ہو جسے عام الفاظ میں ادا کرنا ممکن نہ ہو تو اسےمجاز،استعارہ اور تشبیہ کا استعمال کر کے ادا کیا جاتا ہے ، مندرجہ بالا آیت بھی آیت مشابہت کے زمرے میں آتی ہے۔تاہم، قرآن پاک میں ایک اور آیت ایسی ہے جس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں جن استعارات اور تشبیہات کا استعمال کیاگیا ہے اس سے کیا مراد ہے۔

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔

علم کا دوسرا نام روشنی بھی ہے اس لیے کہ یہ ہمارے ارد گرد موجود حقائق کو روشن کرتا ہے اور انہیں ہم پر منکشف کرتا ہے۔

یہ آیت سورہ نور میں نازل کی گئی ہے جس کے 14 حصے ہیں اور اس کے ہر حصے میں قانون کے چند پہلوؤں یا اخلاقی طرز زندگی کے کچھ حصوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔اخلاقی طرز زندگی کے ساتھ اس آیت نور کا ربط بالکل صریح ہے۔ اس کے علاوہ، اس کتاب قرآن کا بنیادی مقصد بنی نوع انسان کو سیدھی راہ دکھانا اور دین کو مکمل کرنا یالوگوں کو اخلاقی طرز زندگی سے روشناس کرانا ہے۔ مزید تفصیل کے ساتھ اس کااحاطہ میرے اس مضمون میں کیا گیا ہے:

علم اور دین

مندرجہ ذیل آیت، آیت نور میں استعمال کیے گئے استعارے کے معنیٰ کی وضاحت کرتی ہے

(10:37) یہ قرآن ایسا نہیں ہے کہ اسے اللہ (کی وحی) کے بغیر گھڑ لیا گیا ہو لیکن (یہ) ان (کتابوں) کی تصدیق (کرنے والا) ہے جو اس سے پہلے (نازل ہوچکی) ہیں اور جو کچھ لکھا ہے اس کی تفصیل ہے، اس (کی حقانیت) میں ذرا بھی شک نہیں (یہ) تمام جہانوں کے رب کی طرف سے ہے۔

قرآن مجید میں جس دین اسلام کا ذکر ہے اس سے بنی نوع انسان کے لئے خدا کی طرف سے عطا کردہ سب سے پہلے اخلاقی اصول کی توثیقی اور اس کی بھرپور وضاحت دونوں مراد لیا جا سکتا ہے۔

"دوسروں کے حق میں ایسا رویہ اختیار کرو جس کی تم دوسروں سے خود اپنے حق میں توقع رکھتے ہو"

یہ دیکھنا بہت آسان ہےکہ سب سے پہلا اخلاقی اصول بالذات روشن ہے اور اس نے وحشت اور تاریکی سے نکل کرتہذیب و تمدن کے دور میں داخل ہونے کے لیے بنی نوع انسان کی رہنمائی کی ہے۔اس اخلاقی اصول کے بغیرکوئی بھی تہذیب ممکن نہ تھی۔اس آیت میں ایک مقدس درخت سے منورزیتون کے تیل کو استعارہ کے لئے استعمال کیاگیا ہے۔

يكاد زيتها يضيء ولو لم تمسسه نار

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تیل چمک رہا ہے اگرچہ ابھی اسے آگ نے چھوا بھی نہیں

جس بے مثال مہارت کے ساتھ قرآن نے ہمیں اخلاقی طرز زندگی کی تعلیم دی ہے اس کی متعدد سطحیں ہیں۔ پہلی سطح خود اخلاقی اصول ہے جو کہ بالذات روشن ہے اور اللہ نے اس کا موازنہ ایک مبارک درخت سے زیتون کے تیل کے ساتھ کیا ہے جس کا تعلق نہ تو مشرق سے ہے اور نہ ہی مغرب سے ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ بالذات منور اخلاقی اصول کا مصدر و سر چشمہ الہی ہے اور اس کا تعلق نہ تو اس زمین سے ہے اور نہ ہی مشرق یا مغرب سے ہے۔

 دوسری سطح الفاظ کے ذریعہ پیدا کی گئی منظر کشی اور اثر و رسوخ کی نفسیات کے سب سے زیادہ مؤثر آلات کا استعمال ہے، اور اس نقطہ کو واضح اور شک و شبہ سے پاک کرنے کے لیے ایک ہی پیغام کو مختلف طریقوں سے اور مختلف سیاق و سباق کےتحت تکرار کے ساتھ پیش کر کےاسے تقویت فراہم کرنا ہے۔اور روشنی کی دوسری سطح وہ ہےکہ جب پہلے سے بالذات منورزیتون کے تیل کو روشن کیا جاتا ہے اور وہ چمک اٹھتا ہے اور پوری کائنات کے ساتھ انسان کے تعلقات کے ہر پہلو پر روشنی ڈالتا ہے۔یہ میرے مضمون میں مذکور بالذات منور سب سے پہلے اخلاقی اصول کی مفصل تشریح ہے:

دین اسلام یا اسلام کے اندر اخلاقی طرز زندگی

اس کے نور کی مثال ایکایسے طاق کی ہے جس میں ایک چراغ ہےاور وہ چراغ ایک قندیل میں ہے اور وہ ایک چمکیلا روشن ستارہ ہے۔

اب اس شعلے کی حفاظت کرنے والے اور اسے اپنے آغوش میں لینے والے اس قندیل سے کیا مراد ہو سکتا ہے جس کا مذکورہ آیت نور میں ذکر ہے؟ قندیل کا کام شعلہ کو مستحکم کرنا اور مسلسل قائم رکھنا ہے،تاکہ کسی بھی روکاوٹ اور خفا کے بغیرچیزوں کو واضح طور پر دیکھا جا سکے۔ اسےاس کا حصول کسی بھی روشنی کو جذب کیے بغیرہونا چاہئے۔اس کے لیےاس قندیل کا ایک بے عیب اور چمکتے ہوئے ستارہ کی مانند واضح اور شفّاف ہونا ضروری ہے۔یہ زبان کا کردار ہے اور اس سے قرآن کی لسانی عمدگی ظاہر ہوتی ہے۔ زبان کے استعمال سے بات چیت اور ساتھ ہی ساتھ علم کو محفوظ کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ لسانی مہارت سے واضح اور شفّاف بات چیت کرنے اور غلط بیانی سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔اس کتاب کو قرآن میں اکثر کتاب مبینیا ایک ایسی کتاب بیان کیا گیا ہے جو واضح اور شفّاف ہے اور جو کسی بھی طرح کی کجی اور کمی سے پاک ہے۔عمدگی کی تیسری سطح لسانی کمال ہےجو اس روشنی کا احاطہ کرتا ہے اور اسے ایک قندیل کی طرح قرار دیتا ہے جو خود ایک درخشندہ ستارے کی طرح روشن اور تاباں ہے۔

اور یہ تمام چیزیں ایک ایسے خدا پر ایمان کے ایک مکمل اور خود کفیل نظام کے فریم ورک کے اندر ہیں جوپیدا کرنے والا ہے ، رب ہے، دستگیر ہے، قانون عطا کرنے والا ہے، تمام طاقت کا منبع ہے، دانا اور باخبر ہے، جاننے والا ہے، منصف ہے، رحم کرنے والا ہے، انعامات دینے والا ہے، بخشنے والا ہے، قیامت کے دن کا مالک اور بہت سی دیگر صفات کا حامل ہے۔

نُّورٌ عَلَى نُورٍ

روشنی کے اوپرروشنی

روشنی پر روشنی کا معنی اب واضح ہے –جس طرح قرآن میں بالذات روشن اخلاقی اصول کی توضیح کی گئی ہے اور جس لسانی عمدگی کے ساتھ اسے قرآن میں محفوظ کیا گیا ہے اس سے یہ واضح اور مبین ہے۔ قرآن بہت سے حقائق اور خاص طور پر ایک اخلاقی طرز زندگی پر روشنی ڈالتا ہے اور اس علم اور روشنی کا منبع اور سرچشمہ خود اللہ کی ذات ہے۔اس عمدگی کو بہترین انداز میں خود قرآن نے بیان کیا ہے۔

خدانے اپنے نور کا موازنہ سورج سے نہ کر کے ایک چراغ سے کیوں کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک چراغ کی روشنی صرف اسی کے لیے دستیاب ہے جو اسے تلاش کرتا ہےاس سورج کی روشنی کی طرح نہیں جو کہ ہر کسی کے لیے دستیاب ہے۔خدا کی روشنی صرف اس کے نور کے متلاشیوں کے دلوں کو منور کرتی ہے۔یہ ان لوگوں کے لئے نہیں ہےجو اندھیرے میں رہنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں اور خدا کی روشنی سے اپنا منھ موڑ لیتے ہیں۔

جو شخص روشنی کے اس منبع سے جتنا زیادہ قریب ہےوہ اس روشنی سے اتنا ہی زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے قابل ہے۔

(24:36) اللہ کا یہ نور) ایسے گھروں میں (میسر آتا ہے) جن کے بلند کئے جانے اور جن میں اللہ کے نام کا ذکر کئے جانے کا حکم اللہ نے دیا ہےان میں صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں-

(37) اللہ کے اس نور کے حامل) وہی مردانِ (خدا) ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت نہ اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے اور نہ نماز قائم کرنے سے اور نہ زکوٰۃ ادا کرنے سے وہ (ہمہ وقت) اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں (خوف کے باعث) دل اور آنکھیں (سب) الٹ پلٹ ہو جائیں گی-

(38) تاکہ اللہ انہیں ان (نیک) اعمال کا بہتر بدلہ دے جو انہوں نے کئے ہیں اور اپنے فضل سے انہیں اور (بھی) زیادہ (عطا) فرما دے، اور اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق (و عطا) سے نوازتا ہے ۔

 آیت 24:35 پر اس کی خوبصورتی،شاندارمنظر کشی اور اس میں مضمر صوفیانہ اسرار و رموز کی بناء پر بہت زیادہ گفتگو کی گئی ہے۔اس کا معنی اب تک ایک معمہ ہی بنا ہوا ہے اس لیے کہ علماء کرام اس کا وہ معنیٰ اخذ نہیں کر سکے جو اب اس بحث کے بعد واضح ہے۔اسلام سے پہلے کے معاشرے میں بھی ایک تہذیب موجود تھی اوراس زمانے میں بھی بہت سارے اخلاقی اصولوں سے لوگ واقف تھے۔امام غزالی نے اس آیت پر ایک رسالہ لکھا ہے۔انہوں نےطاق کو انسان کی ریڑھ کی ہڈی سے، قندیل کوانسانی دل اور نور کو اللہ کے روحانی علم سے تشبیہ دی ہے۔اس وضاحت میں کئی طریقوں سے اشکال وارد ہوتا ہے۔

آیت کی ابتداء میں،آیت کے اختتام میں اور درمیان میں موجود ہر تشبیہ اور استعارہ سےکامل یا الہی شئی ہی مراد ہےاس سے کوئی نامکمل یا کوئی انسانی شئی مراد نہیں ہے۔لفظ کمال کا استعمال ایک انسان کو بیان کرنے کے لئے نہیں کیا جاتا ہے۔ایک انسانی دل کامل شفاف قندیلیا الہی علم کا سب سے بہتر تحفظ نہیں ہے۔ کوئی بھی انسان کامل اور انسانی خطاؤں اور لغزشوں سے پاک نہیں ہے۔اس قیاس کا استعمال کسی نبی کے دل کے بارے میں بھی بات کرتے ہوئے قرآن نے نہیں کیا ہے کسی عام انسان کی تو بات ہی چھوڑہی دیں۔خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خود اپنے دل میں وہ چھپا رکھا تھا جو اللہ نے ظاہر کیاہے (33:37) ۔کچھ بھی نہ چھپانے والے انسانی دل کے لئے کامل قندیل کا استعارہ یہاں ناکام ہو چکا ہے۔

 ہاں! قرآن مجید میں اس بات کا ذکر ہے کہ قرآن کی تلاوت سے دل مضبوط ہوتا ہے نہ کہ شفّاف ہوتا ہے۔دل رازوں کوچھپاتا ہے جو کہ ہر چیز ظاہر کرنے کے برعکس ہے۔ ایک شخص (قلب سلیم) یعنی پاک دل حاصل کر سکتا ہےیااپنے دل میں بیماری پیدا کرسکتا ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کو ان کے دل کی خواہشات کی پیروی نہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا(38:26)۔دل نرم یا پتھر کی طرح سخت ہو سکتا ہے لیکن کبھی قندیل نہیں بن سکتا ہے شیشے کی طرح بالکل صاف و شفاف ہونے کی تو بات ہی چھوڑ دیں۔

يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَن يَشَاءُ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور (کی معرفت) تک پہنچا دیتا ہے، اور اللہ لوگوں (کی ہدایت) کے لئے مثالیں بیان فرماتا ہے، اور اللہ ہر چیز سے خوب آگاہ ہے۔

و اللہ اعلم بالصواب

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/naseer-ahmed,-new-age-islam/an-exposition-of-the-verse-of-light-(ayat-al-nur)/d/108710

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/naseer-ahmed,-new-age-islam/an-exposition-of-the-verse-of-light-(ayat-al-nur)--آیت-نور-کی-توضیح-و-تشریح/d/108726

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..