New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 05:55 AM

Urdu Section ( 31 Jul 2016, NewAgeIslam.Com)

A Complete Agenda for Reform in Islamic Theology اسلامی تعلیمات مں اصلاحات کا ایک مکمل ایجنڈا

 

 

 

 

 

نصیر احمد، نیو ایج اسلام

31مئی2016

اصلاحات کی ضرورت کیوں ہے اور اصلاح سے مراد کیا ہے؟قرآن اللہ کا کلام ہے۔ اور ایک مسلمان کے لیے نہ تو قرآن کے کسی ایک لفظ میں نہ تو کوئی تبدیلی کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اس کے معانی کو بدلا جا سکتا ہے۔لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ کیا قرآن مجید میں اللہ کے کلام کو صحیح طریقے سے سمجھا گیا ہے یا "تشریحات" کے ذریعےاس کے معانی و مطالب میں تبدیلی اور تحریف کر دی گئی ہے۔ اگر اس میں کوئی تحریف کر دی گئی ہے اور اس کے صحیح معنی کو خوب گہرائی و گیرائی کے ساتھ خود قرآن کا مطالعہ کر کے ہی ثابت کیا جا سکتا ہے اور اگر قرآن کا وہ ثابت کردہ درست معنیٰ ان مسائل کا حل پیش کرتا ہے جو آج ہمیں درپیش ہیں تو پھر اصلاحات سے مرادمحض تحریف کومسترد کرنا اور صحیح معانی و مطالب کو اپنانا ہے۔لہٰذا، اس اعتبار سے اصلاح قرآن مجید کی قدیم اسلامی تعلیمات کی طرف رجوع کرنے کا نام ہے۔ خوش قسمتی سےاصلاحات کا سب سے آسان طریقہ یہی ہےبشرطیکہ مسلمان انتہائی سختی اور گہرائی و گیرائی کے ساتھ قرآن کے مطالعہ سے ثابت ہونے والے "صحیح معنی" سے اتفاق کریں۔

اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ آج اسلامی معاشرے عدم توازن کا شکار ہیں۔ اسلام نے ہزاروں سال پہلے ہی مسلمانوں کو ہر معاملے میں یورپ سے زیادہ ترقی یافتہ بنا دیا تھا۔تاہم، ابتدائی طور پر یورپ مسلمانوں سے سیکھنے اور ان تمام علوم میں دماغ اور عقل و ہنر کا استعمال کرنے پر مجبور تھا جس کی وجہ سے مسلمان ہر میدان میں مہارت رکھتے تھے، اور پھر انہوں نے تقریبا ہر میدان میں مسلمانوں کو پیچھےچھوڑ دیا اور وہ آج ہم سے کم از کم پچاس آگے ہیں۔آج ترقی یافتہ دنیا شخصی آزادی، صنفی مساوات، انسانی حقوق، سائنس اور ٹیکنالوجی اور اخلاقیات میں آگے نکل چکی ہے۔ عدم توازن کی صورت حال نے مسلمانوں کو اپنے اس عظیم زوال کے اسباب پر ایک تقابلی انداز میں غور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔اس کے علاوہ یا تو "رضاکارانہ طور پر" یا جنگ کے ذریعےہماری سیاسی تابع داری کا بھی اس میں بہت بڑا دخل ہے۔ان کے ایک شاندار ماضی اور ان کے وجود کی موجودہ حقیقت کے درمیان ایک گہرے فاصلے نے انہیں اچھا رویہ اور صحیح طرز عمل اپنانے کے بجائے ان کے اس طرز عمل سے قریب کر دیا ہےجو ان کی ناکامی کی وجہ سے ہیں۔

قرآن کہتا ہے:

13:11 بیشک اﷲ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے آپ میں خود تبدیلی پیدا کر ڈالیں۔

یا

8:53اللہ کسی نعمت کو ہرگز بدلنے والا نہیں جو اس نے کسی قوم پر اَرزانی فرمائی ہو یہاں تک کہ وہ لوگ اَز خود اپنی حالتِ نعمت کو بدل دیں۔

آیت 8:53 سے مسلمانوں کے لیے یہ بات واضح ہو جانی چاہئے کہ ماضی میں کبھی اللہ نے ان کو اپنے جس فضل و انعام سے نوازا تھاوہ بدل چکا ہے اس لیے کہ مسلمان خود بدل گئے ہیں۔یہ تبدیلی اسلامی تعلیمات میں ایک بہت ہی منظم فساد کے ذریعےآہستہ آہستہ صدیوں میں پیدا ہوئی ہے۔یہ سچ ہے کہ مسلمان اس موجودہ حالت زار میں اس لیے ہیں کیوں کہ انہوں نے قرآن مجید کے قدیم اسلام سے دوری اختیار کر لی ہے۔یہ مذہب اسلام ہی ہے جس نے ابتدائی مسلمانوں کو مذہبی رواداری پر عمل کرنے اور اپنے سیاسی کنٹرول کے تحت آنے والے لوگوں کو اس مذہبی ظلم و ستم سے آزاد رکھنے کا درس دیا تھا جس کا شکار وہ خود گزشتہ حکومتوں کے تحت تھے۔اور یہ مسلمان ہی ہیں جو آج اقلیتوں کے حقوق سلب کر رہے ہیں اور مذہبی ظلم و ستم کی انتہاء کر رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مذہبی ظلم و ستم کے خاتمے کے لیے جنگیں لڑیں اور قرآن صرف ظلم و جبر کرنے والوں اور مذہبی جبر و تشدد انجام دینے والوں کو "کافر" قرار دیتا ہے،اور اس لفظ ’’کافر‘‘ کا استعمال عام طور پر کسی بھی دوسرے مذہب کے لوگوں کے لئے نہیں کیا گیا ہے۔اور آج اس مذہبی ظلم و ستم کو ختم کرنے کے لیے خود مسلمانوں کے خلاف لڑنے کی ضرورت ہے وہ اس دور کے "کافر" بن چکے ہیں۔ کامیاب لوگوں کی مثال ہمارے سامنے ہے۔کیا ہم ان سے کچھ سبق حاصل کر سکتے ہیں؟جی ہاں، اگر ہم اپنے ذہنوں کے دریچوں کو اس کے لیے بند نہیں کرتے تو ہم ان سے کچھ سبق حاصل کر سکتے ہیں۔

اگرچہ قرآن مجید کو اس دنیا میں سب سے وسیع پیمانے پر پڑھا جاتا ہے لیکن اسے سمجھا بہت کم جاتا ہے۔ایسے مسلمان بہت کم ہیں جو قرآنی تعلیمات کو سمجھنے کے لئے قرآن مجید پڑھتے ہیں۔اکثر لوگ قرآن کی تلاوت صرف "انعامات" حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ جو لوگ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں وہ اپنے سامنے موجود الفاظ کے حقیقی معانی کو سمجھنے کے بجائے اپنی سوچ کو صرف اسی دائرے تک ہی محدود  رکھتے ہیں جتنی انہیں تعلیم دی گئی ہے۔یہاس وقت واضح ہوتا ہےجب کوئی اہم قرآنی الفاظ و عبارات کے متعلق ان کے نقطہ نظر کو سمجھتا ہے ۔ وہ صرف وہی سمجھتےہیں جو انہیں خطبات یاتفسیروں کے ذریعےمدارس میں سمجھنے کی تربیت دی گئی ہے۔بہ الفاظ دیگر، قرآن مجیدکے متعلق ان کی سمجھ قرآن کی اصل تعلیمات پر مبنی نہیں ہے بلکہ ان کے متعلق جو انہیں سکھایا گیا ہے اس پر مبنی ہے۔

یہاں قرآن کیان خصوصیات کا ذکر کیا جاتا ہے جو اس کے معانیکو سمجھنے میں معاون ہیں:

(27:1) یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں؛

(39:28)قرآن عربی زبان میں ہے، جس میں ذرا بھی کجی نہیں ہے تاکہ وہ تقوٰی اختیار کریں،۔

(4:82) تو کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے، اور اگر یہ (قرآن) غیرِ خدا کی طرف سے (آیا) ہوتا تو یہ لوگ اس میں بہت سا اختلاف پاتے، ۔

(18:69) اور ہم نے اُن کو (یعنی نبیِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو) شعر کہنا نہیں سکھایا اور نہ ہی یہ اُن کے شایانِ شان ہے۔ یہ (کتاب) تو فقط نصیحت اور روشن قرآن ہے۔

(39:23) اللہ ہی نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے، جو ایک کتاب ہے جس کی باتیں (نظم اور معانی میں) ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں (جس کی آیتیں) بار بار دہرائی گئی ہیں، جس سے اُن لوگوں کے جسموں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر اُن کی جلدیں اور دل نرم ہو جاتے ہیں (اور رِقّت کے ساتھ) اللہ کے ذکر کی طرف (محو ہو جاتے ہیں) ۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے وہ جسے چاہتا ہے اس کے ذریعے رہنمائی فرماتا ہے۔ اور اللہ جسے گمراہ کر دیتا (یعنی گمراہ چھوڑ دیتا) ہے تو اُس کے لئے کوئی ہادی نہیں ہوتا ۔

(10:82)اور اللہ اپنے کلمات سے حق کا حق ہونا ثابت فرما دیتا ہے اگرچہ مجرم لوگ اسے ناپسند ہی کرتے رہیں

(9:125) اور جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے تو اس (سورت) نے ان کی خباثتِ (کفر و نفاق) پر مزید پلیدی (اور خباثت) بڑھا دی اور وہ اس حالت میں مرے کہ کافر ہی تھے۔

ذیل میں ان اہم نکات کا ذکر کیا جا رہا ہے جنہیں سمجھنا ضروری ہے:

 قرآن مجید شاعری کی کوئی کتاب نہیں ہے۔ شاعر اس انداز میں اہم الفاظ کا استعمال کرتے ہیں کہ اس میں اس کے تمام یا متعدد معانی شامل ہو جاتے ہیں اس کے باوجود جملہ اور اس کا معنیٰ صاف و شفاف اور قابل فہم رہتا ہے یااسی لفظ کا استعمال ایک ہی جملے میں مختلف معانی کے لیے کیا جاتا ہے۔یہ شاعری کی ایک خصوصیت ہے۔ قرآن نے یہ امر واضح کر دیا ہے کہ یہ شاعری کی کوئی کتاب نہیں ہے اور اسی وجہ سے اس میں ان الفاظ کو استعمال کیا گیا ہے جن سے معانی واضح ہوتے ہیں اور ایسے الفاظ کو ترک کر دیا گیا ہے جن سے معانی میں کوئی پیچیدگی پیدا ہو یا اس میں مختلف تشریحات کی کوئی گنجائش بچے۔ یہاں سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ کسی شخص کو قرآن کی تشریحاس انداز میں نہیں کرنی چاہئے کہ جس انداز میں کسی شاعری کی تعبیر وتشریح کی جاتی ہے، اور نہ ہی ان مختلف معانی کے بارے میں بحث و مباحثہ کرنا چاہیے جن کی گنجائش اس آیت میں ہو سکتی ہے بلکہ اس کا ایسا آسان اور سیدھا معنی لینا چاہئے جو مکمل طور پر قرآنی تعلیمات کے موافق ہو۔ اور یہ طریقہ کار خاص طور پر ’’آیات محکمات‘‘ کی صورت میں اپنانا چاہیےجن میں ایک مسلمان کو صحیح معمولاتی درست طرز عمل کی ہدایت دی جاتی ہے۔لیکن جہاں تک آیات متشابہات کا سوال ہے تو ان آیات کے اندر اس بات کی گنجائش ہے کہ انہیں اس انداز میں اس کے حقیقی یا مجازی معنیٰ میں لیا جائے کہ جس سے وہ طریقہ کار متاثر نہ ہو جس میں ایک مسلمان کو اپنی امور کو منظم کرنا ضروری ہے۔

اس پیغام کو مختلف انداز میں اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ جس سے قرآن کے اس پیغام کو یا آیات کے ان معانی کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے جو مطلوب و مقصود ہیں۔ اور اس طرح کسی آیت کو سمجھنے میں غلطی کی گنجائش آسانی کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔

قرآن مجید کی کسی بھی آیت کے معنی کی صحیح تفہیم کے حوالے سے کسی بھی امکان کو خود قرآن کی دوسری آیات کی مدد سے رفع کیا جا سکتا ہے۔ قرآن کی سب سے بہترین اور سب سے زیادہ جامع تفسیرخود قرآن ہی ہے۔

قرآن جس مستقل مزاجی،شفافیت اور عدم تناقص کا مظاہرہ کرتا ہے وہ غیر معمولی ہے۔ قرآن 6 ہزار سے زیادہ آیاتپر مشتمل ایک ایسی کتاب ہے جس میں بمشکل ہی کسی کو کوئی ایک بھی ایسا لفظ مل سکتا ہے جو دو یا دو سے زائد معانی پر مشتمل ہو۔اور قرآن کی یہ مستقل مزاجی صرف کسی ایک آیتی سورت تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ مستقل مزاجی، موافقت اور توازن کا یہ نظارہ مکمل قرآن میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس طرح کی مستقل مزاجی، موافقت اور توازن کے باوجود صرف کوئی لاپرواہ انسان ہی کوئی خطا کر سکتا ہے، یا صرف وہی گمراہ ہو سکتا ہے "جس کے دل  میں کوئی بیماری ہو"یاجس کا قرآن کی حکمت پر ایمان کمزور ہو یا جو آیات کے صحیح معانی کو ان معانی سے بدلنے کا ارادہ رکھتا ہوجو اسے صحیح معلوم ہوتے ہیں !

تاہم، علماء کرام قرآن کی ا"تشریح" اس انداز میں کرتے ہیں جس سے لوگوں کی نظروں میں قرآن کی شبیہ شدیداختلافات و تناقضات والی کتاب کی بن چکی ہے۔اور وہ ان تضادات کا تصفیہ کرنے کے لئے غلط طریقےناسخ و منسوخ کا اصول پیش کرتےہیں جس انطباق قرآن مجید پر قطعاً نہیں ہوتا بلکہ اس کا انطباق گزشتہ آسمانی کتابوں پر ہی ہوتا ہے، اس لیے کہ ’’ہر ایک میعاد کے لئے ایک نوشتہ ہے،‘‘ (13:38)۔

(2:106) ہم جب کوئی آیت منسوخ کر دیتے ہیں یا اسے فراموش کرا دیتے ہیں (تو بہرصورت) اس سے بہتر یا ویسی ہی (کوئی اور آیت) لے آتے ہیں، کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر (کامل) قدرت رکھتا ہے۔

اگر قرآن کو منسوخ آیات پر مشتمل مان لیا جائے تو پھر یہ دعوی غلط ثابت ہو جائے گا کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں کسی بھی تضاد، تناقص، کمی اور کجی کی کوئی گنجائش نہیں، اور یہ ایک ایسی کتاب ہے جو ہر چیز کو واضح انداز میں کھول کھول کر بیان کرنے والی ہے۔اسی لیے تنسیخ کا اصول قرآن پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔

قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو تشریح کی ضرورت کو ختم کرتے ہوئے بغیر کسی ابہام کے ہمیں ہر آیت کے حقیقی معنی کو سمجھنے کے قابل بناتی ہے۔ لوگ محض تشریح کرتے ہیں وہ مطلوبہ اصول وضوابط سے نابلد ہیں اس لیے کہ شایدوہ اس بات سے ناواقف ہیں کہ اس کے حقیقی معنی کو اخذ کرنا ممکن ہے۔ کسی بھی آیتکا حقیقی معنی یا تشریحوہ ہے جس کا کسی دوسری آیت کے واضح معنی سے کوئی ٹکراؤ نہ ہو۔اگر کسی آیت کی تشریح کسی دوسری آیت کے واضح معنی کے خلاف ہے تو وہاس آیت کا حقیقی معنی نہیں بلکہ ایک غلط تشریح ہے۔

آیت2:256 "دین میں کوئی زبردستی نہیں" کو ہی دیکھ لیں، جو کہ ایک مدنی آیت ہے۔ اب کسی بھی آیت کی تشریح اس طرح نہیں کی جا سکتی جو اس آیت کے خلاف ہو اور نہ ہی کوئی دوسری آیت ایسی ہو سکتی ہے جس سے اس آیت کی نفی ہو۔ایک مرتبہ اگر اس اصول کو اپنا لیا جائے تو  مکمل قرآن مجید کوتفاسیر، شان نزول یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبینہ احادیث پر انحصار کیے بغیرخود بخود ہی سمجھا جا سکتا ہے۔یہ کہنا کہ قرآن کو خود قرآن سے نہیں سمجھا جا سکتا اس دعویٰ کا انکار ہے جو قرآن میں بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ چیزوں کو واضح کرنے والی کتاب ہے۔

یہ کہنا کہ قرآن کی مکی آیتیں جامعیت اور رواداری کا پیغام دینے والی ہیں، لیکن اس کی مدنی آیتیں جنگجوئی، عدم رواداری اور علیحدگی پسندی کی تعلیم دینے والی ہیں، یہ کہنے کے مترادف ہے کہ مکی اور مدنی قرآن کے درمیان تضاد اور تناقض ہے۔خواہ کچھ بھی ہو قرآن میں کوئی تضاد نہیں ہے۔قرآن کی مکی آیتیں پوری وضاحت کے ساتھ ایسی تنبیہات پر مشتمل ہیں جن کا مذہبی ظلم و ستم انجام دینے والوں کے لئے آشکار ہونا موزوں ہے۔میں نے اپنے مضامین میں مکی اور مدنی دونوں زندگیوں کا احاطہ کرتے ہوئے پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پوری نبوی مشن کو بیان کیا ہے۔مدنی آیتوں کے ساتھ مکی آیتوں کے تناقض اور تضاد کی بات تو چھوڑ دیں قرآن کے کسی بھی پیغام میں کوئی عدم تسلسل اور کوئی انقطاع نہیں ہے۔

URL: http://www.newageislam.com/ijtihad,-rethinking-islam/naseer-ahmed,-new-age-islam/a-complete-agenda-for-reform-in-islamic-theology/d/107484

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/naseer-ahmed,-new-age-islam/a-complete-agenda-for-reform-in-islamic-theology--اسلامی-تعلیمات-مں-اصلاحات-کا-ایک-مکمل-ایجنڈا/d/108135

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..