New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 11:13 AM

Urdu Section ( 10 Apr 2013, NewAgeIslam.Com)

The Law of Al Taqiya in Islam اسلام میں تقیہ کا قانون

 

حروف کو چھوٹا یا بڑا کرنے کیلئے او پر  A A A پر کلک کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نصیر احمد، نیو ایج اسلام

6 اگست 2012

(انگریزی سے ترجمہ : مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام)

انگریز ادیب تھامس کارلائل کا کہنا ہے کہ:

میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ان کی منافقت سے آزاد فطرت کے لئے پسند کرتا ہوں  ۔۔۔اور ان  واضح الفاظ کے لئےجن میں ،وہ روم کے بادشاہوں ،اور فارس کے راجاوں سے خطاب کرتے ہیں ، اور انہوں نے انہیں اس بات کی ہدايت سے نوازا ،کہ وہ اس زندگی میں اور ابدی زندگی میں ان کے لیے کیا پسند  کرتے ہیں ۔ "

انہوں نے ‘Heroes and Hero Worship and the Heroic in History’، میں مزید لکھا کہ :

"وہ شخص جس کے خلاف مغرب کی بہتان تراشی اور دروغ گوئی خود ہمارے لئے  شرمناک ہے۔"

"ایک عظیم پر سکون شخصیت، جو کہ پر عزم تھی ۔اور وہ پوری دنیا کو حرارت بخشنے آئے تھے ؛ خالق کائنات نے انہیں ایسا ہی کرنے کا حکم دیا تھا۔"

لفظ تقیہ اکثر اس معنیٰ میں ، کسر شان کے لئے  استعمال کیا جاتا ہے، کہ مسلمانوں کو دھوکہ دہی کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔اس دلچسپ قانون کو ، آئیےاس کے امکانات اور موزونیت کو  سمجھنے کے لئے  پرکھتے ہیں ۔ قرآن مجید میں مندرجہ ذیل ہدایات ہیں :

2:42۔ اور حق کی آمیزش باطل کے ساتھ نہ کرو اور نہ ہی حق کو جان بوجھ کر چھپاؤ،۔

17:35 "اور ناپ پورا رکھا کرو جب (بھی) تم (کوئی چیز) ناپو اور (جب تولنے لگو تو) سیدھے ترازو سے تولا کرو، یہ (دیانت داری) بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے (بھی) خوب تر ہے،"

2:282۔ اے ایمان والو! جب تم کسی مقررہ مدت تک کے لئے آپس میں قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو، اور تمہارے درمیان جو لکھنے والا ہو اسے چاہئے کہ انصاف کے ساتھ لکھے اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اسے اﷲ نے لکھنا سکھایا ہے، پس وہ لکھ دے (یعنی شرع اور ملکی دستور کے مطابق وثیقہ نویسی کا حق پوری دیانت سے ادا کرے)، اور مضمون وہ شخص لکھوائے جس کے ذمہ حق (یعنی قرض) ہو اور اسے چاہئے کہ اﷲ سے ڈرے جو اس کا پروردگار ہے اور اس (زرِ قرض) میں سے (لکھواتے وقت) کچھ بھی کمی نہ کرے، پھر اگر وہ شخص جس کے ذمہ حق واجب ہوا ہے ناسمجھ یا ناتواں ہو یا خود مضمون لکھوانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو اس کے کارندے کو چاہئے کہ وہ انصاف کے ساتھ لکھوا دے، اور اپنے لوگوں میں سے دو مردوں کو گواہ بنا لو، پھر اگر دونوں مرد میسر نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں (یہ) ان لوگوں میں سے ہوں جنہیں تم گواہی کے لئے پسند کرتے ہو (یعنی قابلِ اعتماد سمجھتے ہو) تاکہ ان دو میں سے ایک عورت بھول جائے تو اس ایک کو دوسری یاد دلا دے، اور گواہوں کو جب بھی (گواہی کے لئے) بلایا جائے وہ انکار نہ کریں، اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا اسے اپنی میعاد تک لکھ رکھنے میں اکتایا نہ کرو، یہ تمہارا دستاویز تیار کر لینا اﷲ کے نزدیک زیادہ قرینِ انصاف ہے اور گواہی کے لئے مضبوط تر اور یہ اس کے بھی قریب تر ہے کہ تم شک میں مبتلا نہ ہو سوائے اس کے کہ دست بدست ایسی تجارت ہو جس کا لین دین تم آپس میں کرتے رہتے ہو تو تم پر اس کے نہ لکھنے کا کوئی گناہ نہیں، اور جب بھی آپس میں خرید و فروخت کرو تو گواہ بنا لیا کرو، اور نہ لکھنے والے کو نقصان پہنچایا جائے اور نہ گواہ کو، اور اگر تم نے ایسا کیا تو یہ تمہاری حکم شکنی ہوگی، اور اﷲ سے ڈرتے رہو، اور اﷲ تمہیں (معاملات کی) تعلیم دیتا ہے اور اﷲ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے،۔

283۔ اور اگر تم سفر پر ہو اور کوئی لکھنے والا نہ پاؤ تو باقبضہ رہن رکھ لیا کرو، پھر اگر تم میں سے ایک کو دوسرے پر اعتماد ہو تو جس کی دیانت پر اعتماد کیا گیا اسے چاہئے کہ اپنی امانت ادا کر دے اور وہ اﷲ سے ڈرتا رہے جو اس کا پالنے والا ہے، اور تم گواہی کو چُھپایا نہ کرو، اور جو شخص گواہی چُھپاتا ہے تو یقینا اس کا دل گنہگار ہے، اور اﷲ تمہارے اعمال کو خوب جاننے والا ہے،

تحریری شکل میں معاہدہ، بعد میں شرائط کو تبدیل کرنے کی کسی بھی گنجائش اور تنازعات کو ختم کر دیتا ہے۔

اس کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کے مطابق، "کسی سودے میں  دونوں فریقوں  کے پاس اس وقت تک  (اسے منسوخ کرنے کے) کرنے کا اختیار ہوتا  ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں ۔ اگر وہ ایماندار ہیں اور نقائص ظاہر کرتے ہیں ، ان کے اس سودے میں برکت ہو گی ، لیکن اگر وہ جھوٹ بولتے ہیں اور نقائص کو چھپاتے ہیں  تو برکت ختم کر  دی جائے گی "(بخاری، مسلم)۔ اس میں  یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس بات سے  قطع نظر ،کہ مقابل ، مسلمان ہے یا غیر مسلم۔

مسلمان تاجر، ان کی غیر معمولی ایمانداری کے لئے مشہور تھے۔ یہ وہ تاجر ہیں   جنہوں نے بہت سے لوگوں  کو اسلام قبول کروایا ، اور ملیشیاء، انڈونیشیا، اور مشرقی افریقہ جیسے ممالک اسی زمینوں کی اعلیٰ مثالیں ہیں کہ  جن میں کبھی مسلم حکومت نہیں ہوئی،  لیکن اس  کی آبادی نے اسلام قبول کر لیا ۔

ایک اور مستند حدیث سے  واضح ہوتا ہے کہ جھوٹ بولنا بہتان ہے۔

ملک نے  الولید بن عبداللہ بن سید  کےحوالے  سے مجھے یہ بیان  کیا کہ ۔ المطلب  بن عبداللہ بن حنطب  المکزومی  نے انہیں  بتایا کہ ایک شخص نے اللہ کے رسول، صلی اللہ علیہ وسلم ، سے پوچھا کہ غیبت کیا ہے؟ "   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ، "یہ ایک آدمی کے بارے میں ایسی باتیں ذکر کرنا ہے، جو وہ خود  سننا نہیں چاہتا ۔" انہوں نے کہا کہ، " یا رسول اللہ! کہ اگر وہ سچ ہو تب بھی ؟" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،نے کہا کہ، ‘اگر تم کچھ سراسر جھوٹ کہو ، تو یہ بہتان ہے۔ " (کتاب#  56 ، حدیث#  56۔4۔10)

سورت 106آیت 16 میں تقیہ  کا احاطہ کیا گیا ہے

‘جو شخص اپنے ایمان لانے کے بعد کفر کرے، سوائے اس کے جسے انتہائی مجبور کر دیا گیا مگر اس کا دل (بدستور) ایمان سے مطمئن ہے، لیکن (ہاں) وہ شخص جس نے (دوبارہ) شرحِ صدر کے ساتھ کفر (اختیار) کیا سو ان پر اللہ کی طرف سے غضب ہے اور ان کے لئے زبردست عذاب ہے،’۔

مندرجہ ذیل میں ،مفتی محمد شفیع کی، ان  کی  کتاب معارف القرآن سے ، اس آیت کی شرح پیش کی جا رہی  ہے:

" ،ایک ایسے شخص کے بارے میں  ، جسے کلمۂ  کفر  بولنے کے لئے مجبور کیا گیا ہو،  اور اس با ت کا خطرہ ہو ، کہ اگر اس نے ایسا نہیں کیا توقتل کر دیا جائیگا، مذہبی حکم یہ ہے ۔ اگر تمام احتمالات  میں اسے ایسا لگتا ہے کہ ، جو  لوگ اسے جس  بات کی دھمکی دے رہے ہیں ،ان کے اندر ایسا کرنے  کی مکمل صلاحیت ہے، تو یہ ایک مجبوری کی حالت ہے۔ ، لیکن، اگر اسے کفر کے کلمات ، صرف  زبانی طور پر،کہنا ہو ،   لیکن دل ایمان پر جما ہو، وہ دل جو جھوٹ اور شر  بکنے سے انحراف کرتا ہو ، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ (قرطبی مظہری )

یہ آیت اس وقت نازل کی گئی  جب کچھ عظیم صحابہ کرام کو مکہ کے مشرکین نے  گرفتار کر لیا  تھا۔ گرفتار ہونے والوں میں، سیدنا  عمار اور ان کے والدین سیدنا  یاسر اور سیدہ سمیہ ، سیدنا صہیب، بلال اور خبّاب (رضی اللہ عنہم اجمعین) شامل تھے ۔ ان میں سے، سیدنا  یاسر ور ان کی اہلیہ سیدہ سمیہ ، ا اور خبّاب ، نے ، کوئی بھی  کفر یہ لفظ بولنے سے انکار کر دیا۔ سیدنا  یاسر اور خبّاب  ہلاک کر دئے گئے تھے ،اور سیدہ سمیہ کو  دو ایسے  اونٹوں میں باندھا گیا تھا، جنہیں  مختلف سمتوں میں دوڑایا  گیا، اور انہیں  دو حصوں میں چاک کر کے ، وحشیانہ طریقے سے  قتل کر دیا گیا  ۔ یہ اسلام کی خاطر ،سب سے پہلے، شہادت حاصل کرنے والےتھے۔ سیدنا عمار نے صرف زبانی، کفر کا اعلان کیا تھا اور چھوڑ دئے گئے تھے ۔ ان کی رہائی کے بعد ، انہوں  نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور بڑی بے چینی کے ساتھ یہ واقعہ بیان کیا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ان سے پوچھا، جب آپ ایسا بیان دے رہے تھے،اس وقت آپ  کے دل کی کیفیت کیا تھی؟ انہوں نے جواب دیا کہ ، ‘‘اس وقت  میرا دل پرسکون تھا ،  اور ایمان پر مضبوطی سے قائم تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر، ان کے ذہن و دماغ کو مطمئن کر دیا  کہ ، انہیں  اس کے لئے، کسی طرح کی  سزا کا سامنا نہیں کرنا  پڑے گا ۔ آیت 16:106 اس کی تصدیق میں نازل کی گئی تھی۔

مسلم علماء کرام نے ، ان کی فقہ کی  کتابوں میں مزید واضح کیا ہے کہ تقیہ  کی اجازت ، صرف جبر کی صورت ،میں  ہے ،  جہاں مجبور کو ان  دونوں باتوں  کا اندازہ ہو  کہ، مجبور کرنے والے  اس دھمکی کو پوری کرنے کے قابل ہیں ، یا  ان کے ذریعہ ایسا کئے جانے کا غالب امکان ہے، اور اس کی زندگی یا اعضاء کو خطرہ ہے ۔

مسلمانوں کے لئے اخلاقیات کا معیار بہت اعلیٰ ہے:

• ایک مسلمان کو ان کے خلاف بھی جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں ہے ،جو اس کے خلاف جھوٹ بولتے ہیں۔

• ایک مسلمان کو ایسے کسی دوسرے کی خواتین کے ساتھ زنا کرنے کی اجازت نہیں ہے،جنہوں نے ان کی خواتین کے ساتھ زنا کیا ہے  ۔

• ایک مسلمان کو جوابی کارروائی میں بھی جلا کر مارنے  کی اجازت نہیں ہے۔

اصول کا  سادہ اطلاق یہ ہے کہ جو کچھ بھی ممنوع ہے وہ ممنوع ہے، اور جوابی کارروائی میں بھی جائز نہیں ہے۔

تقیہ تمام مہذب ممالک کا قانون ہے۔

اتفاق سے ، ہندوستان اور اکثر مہذب دنیا نے ،تقیہ کے اس قرآنی قانون کو قانونی حیثیت دی ہے۔ اس حد تک، وہ شریعت کی پیروی کرتے ہیں ۔

مثال کے طور پر، ایک پولیس افسر کے سامنے کئے گئے اقرار، ثبوت کے طور پر قانون کی عدالت میں ناقابل قبول ہیں، کیونکہ جبر فرضی ہے  جب تک کہ، ایک مجسٹریٹ کی موجودگی میں  اعتراف کو ریکارڈ کرتے ہوئے اس پر حجت نہ کی جائے ۔

دفعہ 26: پولیس کی حراست میں ملزم  کی طرف سے اعتراف کی ،اس کے خلاف تصدیق نہیں کی جائے گی  : ایک پولیس افسر کی حراست میں کسی بھی شخص کے ذریعہ کیا گیا اقرار ، اس شخص کے خلاف قابل قبول نہیں ہو گا ، جب تک کہ فوری طور ایک مجسٹریٹ کی موجودگی میں اس کا  اعتراف نہ کیا جائے ۔

جبر یا دباؤ کے تحت کیا جانے والا معاہدہ   قابل تنسیخ ہے۔

دفعہ 15-13 کے مطابق ‘‘ایک معاہدہ اس وقت قابل تنسیخ  ہو جاتا ہے ،جب فریقوں  میں سے ایک یا اس سے زیادہ، کی رضامندی اس معاہدے کے لئے  جبراً، نا مناسب  اثر و رسوخ اور غلط بیانی، یا دھوکہ دہی سےحاصل کی گئی ہو ، صرف  ایک یا زیادہ فریقوں کی مرضی سے کیا گیا معاہدہ،قانون کے ذریعہ قابل نفاذ ہے، لیکن جو معاہدہ دوسرے یا دوسروں کی مرضی سے کیا جا تا ہے وہ ایک قابل تنسیخ معاہدہ ہے ۔

مہا بھارت میں تقیہ  

ہندو صحیفے  کسی بھی دوسری مذہبی کتابوں سے  کہیں زیادہ وسیع اور زیادہ قدیم ہیں ۔ اسی وجہ سے وہ معلومات اور علم و حکمت کا سب سے زیادہ دلچسپ ذریعہ ہیں، اور مسلمانوں کا ان صحیفوں کا مطالعہ بہت زیادہ فائدہ مند ہو گا ۔ اللہ تعالی نے قرآن میں ان چیزوں کو  چھوڑ دیا ہے، جو ہم مسلمان دوسرے صحیفوں سے سیکھ سکتے ہیں، اور یہ لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا اللہ کا راستہ ہے۔ میرے عقل کے مطابق، دوسرے صحیفوں سے فائدہ حاصل کرنے اور  مطالعہ کرنے سے انکار بھی کفر ہے، اس لئے کہ  یہ اللہ کے ذریعہ دیگر کمیونٹیز کو  عطا کردہ مہربانی کا  انکار ہے۔ تقابل  کے لئے، مہا بھارت کی کتاب 8 سیکشن 69 پر غور کریں، جو مندرجہ ذیل میں مذکور  لنک سے لیا گیا ہے  :

http://www.sacred-texts.com/hin/m08/m08069.htm

"اے پانڈو کے بیٹو، یہ اسرار اخلاقیات کے ساتھ منسلک ہیں، یہ اسرار جس کا اعلان بھیشم ،نیک یودھشٹر،ودورجسے بصورت دیگر ، مشہور شخصیت کا ،کشتری، اور کنتی ،  کہا جاتا ہے، کے  ذریعہ کیا گیا تھا۔ میں تجھے اس کی تمام اسرار کی تفصیلات بتاؤں  گا۔ او  دھننجئے ! اسے غور سے سنوں ،وہ جو سچ بولتا ہے نیک ہے۔ سچ سے بلند  کچھ نہیں ہے۔ دیکھو، تاہم، سچ جیسا کہ اس پر عمل کیا جاتا ہے ، اسے سمجھنا حد سے زیادہ مشکل ہے، جیسا کہ اس کی  ضروری صفات کا تعلق ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ سچ نا قابل بیان  ہو، اور باطل بھی نا قابل بیان  ہو، جہاں جھوٹ سچ اور سچ جھوٹ بن جاتا ہے  ۔ زندگی کی  خطرناک صورتحال میں اور شادی میں، جھوٹ  بیان  کرنے کے قابل بن جاتا ہے ۔ کسی کی ساری جائداد کے نقصان کی صورتحال میں، جھوٹ بیان کرنے کےقابل بن جاتا ہے  ۔ شادی کے موقع پر  ، یا کسی عورت سے لطف اندوز  ہونے کے موقع پر ، یا جب زندگی خطرے میں ہو، یا جب کسی کی ساری جائداد چھین لئے جانے  کے قریب ہو، یا ایک برہمن کے لئے  جھوٹ قابل بیان ہو  سکتا ہے۔ جھوٹ کی ان پانچ قسموں  کے بارے میں  گناہ نہ ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان مواقع پر جھوٹ سچ بن جاتے ہیں اور سچ جھوٹ ۔ وہ بیوقوف ہے جو حق اور باطل کے درمیان فرق جانے بغیر، حق پر عمل کرتا ہے ۔ اس شخص کو  اخلاقیات سے واقف کہا جاتا ہے،جب وہ حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے کے قابل ہوتا ہے ۔ تو اس میں حیرت کی کیا بات ہےکہ ایک حکیم انسان ، جرم کا ارتکاب کر کے ایک ظالمانہ عمل کو مساوی قرار دیتا ہے ، ہو سکتا ہے کہ وہ اندھے جانور کا قتل کر کے ‘ولاکا’ جیسی عظیم فضیلت حاصل کر لے  ؟  اس میں پھر تعجب کی کیابات  ہے کہ، ایک بے وقوف اور جاہل شخص بھی، فضیلت جیتنے کی خواہش کو مساوی کر کے ،‘کوشیکا ’ (رہنے والے) کی طرح دریاؤں کے درمیان بہت بڑا گناہ حاصل کر لے؟ "

کرشنا نے بھی یہ سکھایا ہے  کہ جھوٹ بولنا، آدھا سچ اور دھوکہ دہی، جنگ میں قابل قبول ہے، اور پوری دنیا بغیر کسی استثناء کے  اسی پر عمل کرتی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے، عشق بازی  کے دوران جھوٹ بولنے کو ،گناہ سے خالی  کہا جاتا ہے۔ یہ ایک عظیم احساس پیدا کرتا ہے کہ  عشق بازی کے دوران جھوٹ بولنا دونوں میں سے کسی کے لئے  دھوکہ نہیں ہے۔ یہ صرف محبت سازی کی خوشی کو بڑھانے کے لئے عمل کرتا ہے۔

تقیہ  کا امکان اسلام میں بہت کم ہے ، ان سب کے  مقابلے میں جو مہا بھارت میں کرشنا نے سکھایا تھا، اور صرف ان حالات کا احاطہ کرتا ہے جہاں زندگی یا اعضاء  کے ضیاع کا یقینی  خطرہ ہو۔

نصیر احمد نے آئی آئی ٹی کانپور سے انجینئرنگ میں گریجویشن کیا ہے، اور سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں، 3 دہائیوں تک ذمہ دار عہدوں پر خدمات انجام دینے کے بعد، ایک آزاد مشیر ہیں۔

URL for English article:

 http://newageislam.com/islam-and-spiritualism/by-naseer-ahmed,-new-age-islam/the-law-of-al-taqiya-in-islam/d/8182

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/naseer-ahmed,-new-age-islam--نصیر-احمد/the-law-of-al-taqiya-in-islam--اسلام-میں-تقیہ-کا-قانون/d/11098

 

Loading..

Loading..