New Age Islam
Sun May 16 2021, 08:20 AM

Urdu Section ( 7 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Israel and the US Key to Peace ا من کی کنجی اسرائیل اور امریکہ کے ہاتھ میں

 

 

صدر اوباما کو جواب دوسری بار منصبِ صدارت پر فائز ہوکر محفوظ ہیںمئی ۲۰۱۱ ء کا ان کا بیان یا ددلایا جانا چاہیے جس میں انھوں نے ۱۹۶۷ ء کی مشرق وسطیٰ کی جنگ سے پہلے قائم سرحدوں پر مبنی فلسطینی ریاست کا مطالبہ کیا تھا

نجیب جنگ

8 دسمبر ، 2012

اللہ کی منتخب قوم کے روحانی باپ پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خون آج بھی عربوں، یہودیوں اور عیسائیوں کی رگوں میں دوڑ رہا ہے اور اِس خون کی کافی مقدار مشرق وسطیٰ میں مقدس اثقفی ورثے پر قابض ہونے کے لیے بہائی جا چکی ہے۔ جمی کارٹر نے اپنی مشہور زمانہ تصنیف  Palestine: Peace Nor Aparthied میں لکھا ہے کہ ارض مقدس میں بہایا گیا خون خالق کائنات سے آج بھی فریاد کررہا ہے۔ اور یہ کربناک فریاد امن کی ہے۔ ۱۹ ؍نومبر کو اقوام متحدہ کی مجلس عام نے فلسطین کو آبزرور یا مبصر کی حیثیت  دینے کے لیے زبردست رائے دہندگی سے خطے میں قیامِ امن کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ ۹؍ منفی ووٹوں کے مقابل ۱۳۸ ؍مثبت ووٹوں کی تعداد یہ ظاہر کرتی ہے کہ امن عالم کو منتشر کر سکنے والے حد درجہ حساس مسئلے کے تئیںدنیا لاتعلق اور بے نیاز نہیں رہ سکتی۔

واقعہ یہ ہے کہ اس خطے نے گزشتہ نصف صدی کے دوران نہ صرف تلف شدہ زندگیوں اور تباہ شدہ مادی املاک بلکہ اس عرصے میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں پر طاری خوف اور صدمے کے اعتبار سے بھی بھاری قیمت چکائی ہے۔ سال۲۰۰۰ ء سے اب تک ۲۰۰ ؍اسرائیلی اور تقریباً ۷۰۰۰؍فلسطینی لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ان میں زخمی ہونے والوں کی تعداد بالترتیب  ۵۹۵۷۵ اور ۱۰۷۹۲ ہے۔ عرب آراضی پر قبضے کی کوشش میں اسرائیل نے فلسطینیوں کے ۲۴۸۱۳مکانات تباہ کرکے نہ صرف عربوںکو بے گھر کر دیا بلکہ پورے خطے کودہشت گردی کی ایسی بھٹی میں جھونک دیاجس سے پوری دنیا کا سکون غارت ہوگیا ہے۔

ناقابل ِتصور مصائب کے باوجود یہ تصادم ختم ہوتا نہیں لگتا۔ اس میں شک نہیں کہ زمینی صورتِ حال سنگین مسائل سے دوچاررہی ہے۔ حالانکہ عرب اقوام اسرائیل کو ہمسائے کے طور پر قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہیں زیادہ سے زیادہ عرب آراضی پر قابض ہونے کی اسرائیلی کوششیں جاری ہیں۔ فلسطینی قیادت کے اندر تنازعات و اختلافات کی وجہ سے اسرائیلی فلسطینیوں کا اعتراف کرنے اور نتیجتاً ان سے گفت و شنید سے انکار کرتے ہیںاور کسی حل پر پہنچنے کی غرض سے طرفین پر دباؤ ڈالنے کے لیے امریکہ حقیقتاً کوئی قابلِ اعتبار تجویز لے کر سامنے نہیں آیاہے۔

درحقیقت سچائی یہ ہے کہ اسرائیل کو امریکیوں سے لا محدود سیاسی، مالی اور مذہبی مدد ملتی رہی ہے اور اب بھی مل رہی ہے۔ جس سے اسرائیل عالمِ اسلام میں خصوصاً اور پوری دنیا میں عموماً اعتبار کھو بیٹھا ہے۔ اس طرح کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ پچھلے دو سال میں امریکہ نے اسرائیل کو مذہبی امداد کے طور پر یومیہ ۲۔۸ ملین ڈالر کی رقم دی ہے جب کہ فلسطین کو اس نے ایک پیسہ بھی نہیں دیا۔ اس لیے سچائی تو یہی ہے کہ امریکہ نے بین الاقوامی قوانین اور اسرائیل کے رسماً منظور شدہ عالمی معاہدوں کی بنیاد پر فروغِ امن کی واقعی مناسب کوشش نہیں کی۔

پچھلے چند برسوں میں اس خطے کی صورت غیر متناسب طور پر خطرناک رخ اختیار کر گئی ہے۔ ایک طرف تو یہ حقیقت ہے کہ اسرائیل کے پاس نیوکلیائی اسلحوں کا بہت بڑا ذخیرہ ہے اور وہ کسی بھی ہمسائے کو تباہ کرنے یہاں تک کہ ایران پر بھی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بات عرب اقوام کو خود اپنے نیوکلیائی بم تیار کرنے پر اکسائے گی۔

ا س لیے فوجی سطح پر کسی بھی طرح کی جانبازی اس خطے کو نیوکلیائی جنگ کی راہ پر ڈال کر عالمی امن کوتباہ کرسکتی ہے۔ بہر حال اسے تاریکی میں امید کی کرن کہیے کہ خطے کے عوام امن کی کوششوں کو کامیاب ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ طرفین کی لفاظی اور ان کے مطالبا ت نا گوار اور نامعقول لگتے ہوں گے لیکن کہا یہ جاتا ہے کہ عرب قائدین ذاتی طور پر قیام امن میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہی حال اسرائیلی شہریوں کا ہے جن کے اعتدال پسندی کے مطالبے کو سنجیدگی سے سنا اور سمجھا ہی نہیں جارہا ہے۔ افسوس اس کا ہے کہ ایسے لمحے میں بھی جب اسرائیل امن کے اقدامات کے موقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اس نے ایک متنازع ترین علاقے(ای۔ا)  میں رہائشی مکانات تعمیر کرنے کا قدم اٹھایا ہے جہاں یہودی بستیاں تصادم کے دو رہائشی حل کے لیے موت کی گھنٹی تصور کی جاتی رہی ہیں۔ یہ بستی بڑی بستیوں کو یروشلم سے جوڑدے گی اور فلسطین دو ٹکڑوں میں بٹ جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل نے مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے پر ۳۰۰۰ ؍مزید مکانات تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

لیکن دنیا کو یہ تاریخی موقع گنوانا نہیں چاہیے ۔ صدر اوباما کو جواب دوسری بار منصبِ صدارت پر فائز ہوکر محفوظ ہیںمئی ۲۰۱۱ ء کا ان کا بیان یا ددلایا جانا چاہیے جس میں انھوں نے ۱۹۶۷ ء کی مشرق وسطیٰ کی جنگ سے پہلے قائم سرحدوں پر مبنی فلسطینی ریاست کا مطالبہ کیا تھا۔ ایسے تین کلیدی مسائل ہیں جنھیں لازماً حل کیا جانا چاہیے۔

۱۔   فلسطینیوں کو اسرائیل کے وجود کا حق تسلیم کرنا چاہیے۔

۲۔  بین الاقوامی قوانین کی صراحت کے مطابق اسرائیلیوں کو فلسطینی عوام کاامن ووقار کے ساتھ زندہ رہنے کا حق تسلیم کرنا چاہیے۔

۳۔ اسرائیل اور فلسطین دونوں کو اس سے متفق ہونا اور ایک دوسرے کو یہ یقین دلانا چاہیے کہ لڑائی میں شریک نہ رہنےوالے مردوں، عورتوں اور بچوں کا خون مزید نہیں بہایا جائے گا اور نہ ہی ایسا تشدد ضمنی اتلاف کی اصطلاح کے تحت حق بجانب قرار دیا جائے گا۔

امن کا انحصار اسرائیل پر ہے اور اس پر کہ امریکہ کس حد تک اسرائیل پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ امریکہ دیگر خطوں اور ملکوں کے معاملات میںبھی الجھارہتا ہے، مثلاً عراق، ایران، افغانستان اور شمالی کوریا۔  اس لیے وہ اپنی تمام کوششیں اسرائیل فلسطین تصادم پر ہی مرکوز نہیں کرسکتا۔ عرب ممالک کے بھی اپنے مسائل ہیں۔ان میں سے بعض میں داخلی اختلافات اور تنازعات ہیں۔ بعض جمہوریت کی طرف قدم بڑھار ہے ہیں، جس سے ان کی قیادتوں کو خطرہ لاحق ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی بحث اور بنیادپرستی کی لے تیز ہورہی ہے ۔ لیکن عربوں کو یہ محسوس کرنا اورکھُل کر اُس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہیے جسے اسرائیل کہتے ہیں۔ اسی طرح جیسے اسرائیلیوں کو اس مختصر سی آراضی کے بچے ہوئے حصے میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا چاہیے جو اقوام متحدہ نے فلسطینیوں کے لیے مختص کی ہے۔ فلسطینیوں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت تمام انسانی حقوق دیے جائیں، مثلاً حق ِخودارادیت، حق ِجمہوریت، زندگی اور جسم کے تحفظ کا حق اور املاک کا تقدس وغیرہ۔یہ وہی سیدھا اور سچا راستہ ہے جس کی جستجو بین الاقوامی برادری کو کرنی چاہیے۔

نجیب جنگ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر ہیں۔

8 دسمبر، 2012  بشکریہ۔ انقلاب ، نئی دہلی

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam-and-the-west/najeeb-jung/israel-and-the-us-key-to-peace/d/9587

URL for this article:

 http://www.newageislam.com/urdu-section/najeeb-jung-نجیب-جنگ/israel-and-the-us-key-to-peace-ا-من-کی-کنجی-اسرائیل-اور-امریکہ-کے-ہاتھ-میں/d/9593

 

Loading..

Loading..