New Age Islam
Wed Dec 01 2021, 03:41 AM

Urdu Section ( 29 Jan 2019, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Acceptance of Islam by the Enemies of Islam اسلام دشمنوں کا قبول اسلام


20جنوری،2019

جو اسلام کے دشمن تھے جو قرآن مجید کے خلاف تھے اور جو مسلمانوں کے خون کے پیاسے تھے وہی اسلام قبول کر رہے ہیں ،وہی قرآن مجید پر ایمان لا رہے ہیں اور وہی مسلمان بن رہے ہیں۔عجیب و غریب حقیقت ہے ۔ دنیا حیران ہے۔ آئے دن ایسا ہو رہا ہے کہ اسلام کے خلاف زہر اگلنے والا ایمان لے آتاہے ۔ قرآن مجید کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے والا اس کو چومتا نظر آتا ہے ۔ اور مسلمانوں کے خلاف حملے کرنے والا مسلمانوں کی ڈھال بنا نظر آتا ہے ۔ در اصل قدرت نے اسلام میں ایسی لچک رکھی ہے کہ وہ اس کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے اتنا ہی یہ ابھرتا ہے ۔ تاریخ اسلام کامطالعہ کریں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ جب جب امن کی فضا کا دور میسر آیا تو اسلام پھیلتا ہی چلا گیا ۔ عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک نظر دوڑائیں تو یہ سمجھنے میں قطعاً کوئی وقت پیش نہیں آتی کہ عقیدہ توحید کی دعوت اس قدر سیدھی صاف اور دل میں اتر جانے والی دعوت ہے کہ ہر قلب سلیم رکھنے والا شخص اسے فوراً قبول کر لینے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ قرآن مجید کا انداز بیان اس قدر مؤثر اور شیریں ہے کہ اس کے اندر لوگوں کے دل و دماغ کو مسخر کرنے کی بے پناہ قوت ہے۔ ملّی زندگی میں مشرکین کے شدید مظالم کی وجہ سے اسلام قبول کرنا گویا اپنی موت کو دعوت دینا تھا، لیکن اس کے باوجود جو شخص ایک دفعہ توحید سمجھ لیتا اور قرآن مجید کی آیات سن لیتا ، وہ ہر طرح کا خطرہ مول لے کر دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتا۔مشرکین مکہ کی مخالفت ، استہزاء ، بدترین جسمانی او رذہنی تشدد میں سے کوئی بھی ہتھکنڈہ لوگوں کو دائرہ اسلام میں داخل ہونے سے نہ روک سکا ۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اس دور میں بھی یوروپ اور امریکا میں اسلام دشمنی انتہاء پر رہی ہے۔ خاص طور پرامریکا پر القاعدہ کے حملہ کے بعد تو اسلاموفوبیا نے سونامی کی شکل اختیار کرلی تھی، مگر یہ بھی اللہ کی شان ہے کہ جب جب اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کی لہر چلا ئی گئی، اس کا الٹا اثر ہوا۔جس نے قرآن پاک کے خلاف محاذ بنایا بعد میں اس نے قرآن پاک کو چوم لیا، جس نے اسلام کے خلاف فلم بنائی وہ اب پیغمبر اسلام کی زندگی پر فلم بنا چکا ہے، جس نے مسلمانوں کے خلاف سیاست کر کے کامیابی حاصل کی ، اس نے جب اسلام کا مطالعہ کیا تو سیاست اور کرسی کو لات مار دی اور کلمہ طیبہ پڑھ لیا۔اس عجیب و غریب رجحان نے دنیا کے بڑے بڑے دماغوں کو چکر ا دیا ہے۔ ایک بات تو واضح ہے کہ کسی بھی مذہب یا شخص کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈہ اس وقت تک کام کرتا ہے جب تک کہ کوئی اس پر یقین کرتا رہے۔ اگر کوئی اس کے بارے میں مطالعہ شروع کردیتا ہے تو ایک مختلف تصویر سامنے آجاتی ہے۔ بہر حال ایسے معاملات اب سامنے آرہے ہیں ، جن میں اسلام مخالف اور دشمن جب اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو سجدہ ریز ہو جاتے ہیں ۔

ٓٓآرتھر واگنر ۔ اسلام دشمنی سے قبول اسلام تک

پہلا واقعہ آرتھر واگنر کا ہے۔ اسلام کے مخالفت کے بعد جرمن سیاست داں خود ہی مسلمان ہوگیا۔ جرمنی میں مہاجرین اور اسلام مخالف سیاسی جماعت ’’اے ایف ڈی‘‘ کے ایک سیاست داں نے اسلام قبول کرنے کے بعد پارٹی کی نیشنل ایگزیکیٹوکمیٹی کے رکن کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسی اسلام دشمنی کے سبب انتخابات میں اے ایف ڈی تیسری بڑی سیاسی قوت بن کر سامنے آئی تھی۔ اے ایف ڈی نے اپنی مرکزی ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن اور اہم سیاست داں آرتھر واگنر کے اسلام قبول کرنے کی تصدیق کی ہے۔ اے ایف ڈی کاکہنا ہے کہ پوروپی یونین کی بیرونی سرحدوں کو بند کردینا چاہئے تاکہ غیر قانونی مہاجرین اس بلاک میں داخل نہ ہوسکیں ۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملکی سرحدوں کی نگرانی بھی سخت کردی جائے۔ اس پارٹی کا اصرار ہے کہ ایسے سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کوفوری طور پر ملک بدر کردیا جائے جن میں اکثریت مشرق وسطیٰ کے باشندوں کی ہے جن کی درخواستیں مسترد ہوچکی ہیں۔ آرتھر واگنر کاتعلق وفاتی جرمن ریاست برانڈ نبرگ سے ہے ۔ اے ایف ڈی نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ پارٹی کو ان کے اسلام قبول کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں ۔

آرتھر واگنر 2015میں مہاجرین اور اسلام مخالف جماعت میں شامل ہوئے تھے ۔ پارٹی کی صوبائی کمیٹی میں انہیں چرچ او رمذہبی امور کا نگراں مقرر کیا گیا تھا۔ واگنر روسی نژاد جرمن شہری ہیں اور اے ایف ڈی میں شمولیت سے قبل وہ چانسلر انجیلا میریکل کی سیاسی جماعت سی ڈی یو کے پلیٹ فارم سے سیاست کررہے تھے ۔ پچھلے سال جنوری میں اسے ایف ڈی کی مرکزی ایگز یکیٹو کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے استعفیٰ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ وہ ذاتی وجوہات کے بنا پر کمیٹی کے رکن کے طور پر کام نہیں کریں گے۔ ایک مقامی جرمن اخبار نے ان سے اسلام قبول کئے جانے کے حوالے سے پوچھا تو انہوں نے اس موضوع پر بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ’’ یہ میرا ذاتی معاملہ ہے‘‘۔

ارنودوان ڈورن۔ اسلام مخالف فلم سے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک

یہ ہے ہالینڈ کے ایک انتہا پسند سیاستداں ارنودوان ڈورن کے قبول اسلام کا حیرت انگیز واقعہ جس ملک میں نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے کئی بار شائع کئے جاچکے ہیں ۔ ان کا دائیں بازوں کے اسلام دشمن گروہ سے تعلق تھا۔اسلام سے اس قدر نفرت ہوئی کہ انہوں نے اسلام کے متعلق توہین آمیز فلم بنانے کا ارادہ کرلیا۔ اسی مقصد کے لئے انہوں نے اسلام کامطالعہ شروع کیا ۔ مطالعہ کے دوران انہیں اسلام کی سچائی معلوم ہوگئی او رانہوں نے بالآخر گزشتہ مہینے اسلام قبول کر لیا ۔ وہ عمرہ کے لئے سعودی عرب گئے ۔ اس دوران انہوں نے غلاف کعبہ کی کڑھائی میں بھی حصہ لیا ۔وہ امام مسجد نبوی ؐ سے بھی ملے اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جاکر روتے رہے ۔ان کا ارادہ ہے کہ اب وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس کے متعلق دستاویزی فلم بناکر ماضی کی اسلام دشمنی کا کفارہ ادا کریں گے۔ بے شک بندوں کے دل اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ جب چاہے ان کو بدل دے ۔ اللہ تعالیٰ اس نومسلم ڈچ کو بت کدہ ہالینڈ کی تاریکیوں میں راہ حق پر ثبات عطا کرے اور ان سے دین اسلام کی خدمت لے۔

ایک انٹر ویوں میں ڈورن نے کہا کہ وہ اپنی زندگی مکمل طور پر اسلام کے صحیح پیغام کی تبلیغ میں وقف کردیں گے اور دنیا بھر میں اس فلم کو فروغ دیتے ہوئے رحمت اللعالمین کی تعلیمات کو پھیلائیں گے ۔ انہوں نے کہا ’’ میں تمام یوروپی ممالک میں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں اسلام اور مومنین کی خدمت میں کوئی کسر باقی نہ رکھوں گا۔ میں بہترین سعی کرتے ہوئے اس نقصان کی تلافی کروں گا، جو میں نے فلم ’’فتنہ‘‘ کے ذریعہ اسلام اور اس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی ۔ ڈورن جو سابق میں ولندیزی سیاست داں گیرٹ وائلڈرس کی دائیں بازو والی شدت پسند پارٹی کے ممتاز رکن رہے ۔ انہوں نے مسجد نبوی ؐ میں نماز ادا کی اور گستاخانہ فلم کا حصہ بننے پر پچھتاوے کا اظہار کیا ۔ ڈورن ان فریڈم پارٹی قائدین میں سے تھے جنہوں نے فلم ’’فتنہ‘‘بنائی۔

گیری میلر ۔ قرآن کو چیلنج کیا، پھر قرآن پر ایمان لے آیا

یہ اس شخص کی کہانی ہے، جس نے قرآن کو چیلنج کیا لیکن بعد میں اپنا نام عبدالاحد رکھا۔ گیری میلر جو ٹورنٹو یونیورسٹی میں ماہر علم ریاضی اور منطق کے لیکچر ار ہیں ، اب کینڈا کے ایک سرگرم مبلغ ہیں ایک وقت انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ عیسائیت کی عظیم خدمت کرنے کے لئے قرآن مجید کی سائنسی اور تاریخی غلطیوں کو دنیا کے سامنے لائیں گے،جو اس کے مبلغ پیروکاروں کی مدد کرے تاکہ مسلمانوں کو عیسائیت کی طرف لایا جاسکے تاہم نتیجہ اس کے بالکل بر عکس تھا میلر کی دستاویز جائز تھیں او ر تشریح اور ملاحظات سے مثبت تھے ۔ مسلمانوں سے بھی اچھے جو وہ قرآن مجید کے متعلق دے سکتے تھے ۔ اس نے قرآن مجید کو بالکل ایسا ہی لیا جیسا ہوناچاہئے تھا او ران کا نتیجہ یہ تھا کہ یہ قرآن مجید کسی انسان کا کام نہیں ۔

پروفیسر گیری میلر کے مطابق کسی بھی مقدس کتاب نے اس قسم کا اندازہ نہیں اپنایا کہ جس میں پڑھنے والے کو ایک خبر دی جارہی ہواو رپھر یہ کہا جاتاہے کہ یہ نئی خبر (اطلاع) ہے۔ یہ ایک بے نظیر چیلنج ہے۔ پروفیسر میلر کیتھولک انسائیکلو پیڈیا کے موجودہ عہد (زمانہ) کا ذکر کرتے ہیں جو قرآن کے متعلق ہے یہ واضع کرتا ہے کہ باوجود اتنے زیادہ مطالعہ نظریات اور قرآن نزول کی صداقت پر حملوں کی کوشش او ربہت سے بہانے اور حجتیں ، جن کو منطقی طور پرتسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ چرچ کو اپنے آپ میں یہ ہمت نہیں ہوئی کہ ان نظریات کو اپنا سکے ۔ابھی تک اس نے مسلمانوں کے نظریہ کی سچائی اور حقیقت کو تسلیم نہیں کیا کہ قرآن مجید میں کوئی شک نہیں او ریہ آخری آسمانی کتاب ہے۔ حقیقت میں پروفیسر میلر اپنا نقطہ نظر تبدیل کرنے اور صحیح راستہ چننے میں کافی حد تک صاف گواور ایماندار تھا۔ 1978میں پروفیسر میلر نے اسلام قبول کیا اور اپنے آپ کو عبدالاحد کے نام سے پکارا۔ اس نے کچھ عرصہ سعودی عرب میں تیل او رمعدنیات کی یونیورسٹی میں کام کیا اور اپنی زندگی کو دعویٰ بذریعہ ٹیلی ویژن اور لیکچرز کے لئے وقف کردیا۔

20جنوری،2019 بشکریہ : ہفت روزہ نئی دنیا،نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/acceptance-islam-enemies-islam-/d/117590


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..