New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 12:53 AM

Urdu Section ( 30 Apr 2014, NewAgeIslam.Com)

How Oppressive Islam Triggers Atheism اسلام کی انتہاپسند تشریحات سے کس طرح الحاد و بے دینی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں

 

 

 

 

مصطفی ایکیول

19مارچ 2014

تمام اسلامی ممالک میں کوئی بھی نظریہ اس قدر قابل نفرت نہیں ہے جتنا کہ الحاد اور بے دینی ہے۔ اکثر مسلمانوں کے لئے یہ حقیقت کہ کچھ لوگ اس خدا کے وجود سے انکار کر سکتے ہیں جس نے انہیں عدم سے وجود بخشا ایک بیہودہ اور شرمناک بات ہے۔ لہذا اسلامی تحریکیں الحاد سے اپنے معاشروں کی حفاظت کے لئے اپنی پوری کوششیں کرتی ہیں۔ کچھ لوگ ملحد فلسفیوں کے خلاف رد و ابطال تحریر کرتے ہیں جو کہ ایک خوش آئند کوشش ہے جبکہ کچھ لوگ ملحدانہ نظریات کو فروغ دینے والی کتابوں، مطبوعات یا ویب سائٹ کو ہیک کرنے یا ان پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بہ الفاظ دیگر ایسا لگتا ہے کہ اکثر مسلمان یہ سوچتے ہیں کہ خدا پر ایمان کو خارجی قوتوں سے ختم کیا جا سکتا ہے خاص طور پر "بے دین" مغرب اس کے لیے ایک خطرہ ہے۔ تاہم، خود مسلم ممالک میں سر گرم داخلی قوتوں سے ہوشیار رہنا سمجھداری کی بات ہو سکتی ہے۔

میں مسلم ممالک کے مغربی سیکولر اشرافیہ کی بات نہیں کر رہا ہوں جیسا کہ کچھ لوگوں کو اس کا وہم ہو سکتا ہے۔ اس اشرافیہ طبقہ نے کبھی کبھی مذہبی لوگوں کے تئیں ظالمانہ رویہ اختیار کیا ہے اور ان کے حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔ لیکن جابرانہ سیکولر ازم کبھی بھی ایمان اور مذہب کے لیے بڑے پیمانے پر نقصان کی وجہ نہیں بنا۔ بلکہ اس کے برعکس اس کی وجہ سے اکثر مذہب کو طاقت و قوت ملی ہے۔

مذہب کے لیے حقیقی خطرہ داخلی سطح پر ہے اور مزید یہ کہ اسلام کو خطرہ ان لوگوں کے ہاتھوں پہنچ سکتا ہے جو اسلام کی سب سے بڑی خدمت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور وہ کوئی اور نہیں بلکہ آمریت پسند اسلام پرست ہی ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دوسرے تمام مسلمانوں پر بہ جبر اکراہ اسلام کی فرسودہ تشریح مسلط کرنے میں شدت کو دیکھ کر خود مسلمان ہی مذہب سے متنفر ہو جاتے ہیں۔

قاہرہ کے ایک صحافی محمد عبدا لفتاح نے حال ہی میں ایک مضمون لکھا ہے جس میں انہوں نے اس رجحان کو اجاگر کیا ہے اور اس کا عنوان "اسلام کے دور میں اسلام کو چھوڑنا" رکھا ہے ( ڈیلی نیوز مصر، 24جنوری)۔ عبدا لفتاح نے اپنی اس تحریر میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ کس طرح کچھ عرب نوجوان اسلام کے نام پر جبر و تشدد اور غیر معقولیت کی وجہ سے اپنا مذہب چھوڑ رہے ہیں۔

مثال کے طور پر اخوان المسلمون کے سابق کارکن اسامہ ڈورا نے کہا کہ " میں نے اس کی تفصیلات میں سے کچھ کے درمیان جو تنازعات دیکھے ہیں اور مجھے جو لگتا ہے کہ عقلمندی، انصاف اور عقلیت پسندی کی صورت حال نا قابل تصور حد تک بری ہو چکی ہے اس بنا پر ایک مذہب کی حیثت سے میں نے اسلام سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے"۔

اس کی ایک مثال ایک سلفی مبلغ یاسر برہمی ہیں جو آئین میں غلامی پر ایک واضح پابندی کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ غلامی ضروری طور پر غیر اسلامی نہیں ہے۔ اسی طرح کی آوازیں مسلسل عورتوں، غیر مسلموں اور حریف اسلامی فرقوں پر ان کے خوفناک خیالات کے ساتھ ایک زلزلہ پیدا کر رہی ہیں۔

عبدالفتاح کے مطابق مصر کے اسلام پسندوں کے اقتدار تک پہنچنے کے طریقوں نے صرف مسئلہ کو مزید سنگین کیا ہے: ان کے متنازعہ فیہ آرا زیادہ واضح اور زیادہ خطرناک بن گئے ہیں۔ ان کے الفاظ:

" اسلام پسند خود ان کے فرسودہ اور قرون وسطی کے خیالات کے ساتھ عوامی سطح پر مشہور ہونے کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ دہائیوں سے ان کے خیالات صرف داخلی سطح تک ہی محدود تھے۔ لیکن جیسے ہی وہ اقتدار میں آئے تو انہیں اس بات کا احساس ہو گیا کہ ہر بیان کی ایک قیمت ہے۔"

مصری صحافی کا مندرجہ ذیل بیان ان لوگوں کے لیے بھی اہم ہے جو ریاست کی طاقت سے اپنے معاشروں میں اسلام کا بول بالا چاہتے ہیں :

"اقتدار کی طرف بڑھتے ہوئے اسلام پسندوں نے اب تک ہر چیز کو اسلامی بنانے والے اس لمحے کو حاصل نہیں کیا ہے جس کا انتظار وہ شدت کے ساتھ کر رہے ہیں۔ اس کے بجائے وہ شکوک و شبہات، سماجی سیکولرازم اور الحاد و بے دینی کی لہر پیدا کرنے میں اپنا بے مثال تعاون پیش کر رہے ہیں۔"

ان تمام باتوں کا ماحصل یہ ہے کہ اگر مسلمان اپنے ہم مذہبوں کی خدا پرستی کو لیکر واقعی فکر مند ہیں تو انہیں یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ اسلام کو خطرہ صرف اس کے کھلے مخالفین سے ہی نہیں ہے بلکہ اسلام کو خطرہ خود اسلام کے کٹر حامیوں سے ہی ہے۔ مؤخر الذکر کے خلاف ایک (سخت) موقف اختیار کرنا نہ صرف آزادی کے لئے بلکہ دوسرے الفاظ میں خود اسلام کی (بقاء) کے لئے ضروری ہے۔

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

ماخذ:

http://www.hurriyetdailynews.com/how-oppressive-islam-triggers-atheism.aspx?pageID=449&nID=63770&NewsCatID=411

URL for English article

http://www.newageislam.com/islamic-ideology/mustafa-akyol/how-oppressive-islam-triggers-atheism/d/56191

URL for this article:

  http://newageislam.com/urdu-section/mustafa-akyol,-tr-new-age-islam/how-oppressive-islam-triggers-atheism--اسلام-کی-انتہاپسند-تشریحات-سے-کس-طرح-الحاد-و-بے-دینی-کی-راہیں-ہموار-ہوتی-ہیں/d/76824

 

Loading..

Loading..