سمت پال،
نیو ایج اسلام
26 ستمبر 2022
اتنا بھی
نہ جھک کے کوئی پائمال کر جائے تجھے
اپنی نہ سہی،
غیرت قوم کی تو سوچ ذرا
یاس یگانہ
چنگیزی
جب کوئی ریس میں رینگنے کا فیصلہ
کرتا ہے
تو جلد یا بدیر، وہ گر ہی جاتا
ہے
راقم الحروف کا اپنی بنگلہ نظم
کا ترجمہ
انسانی رویے کی سب سے زیادہ عجز
و انکساری والے مظاہر میں سے ایک اس کا کس کی خوشامد کرنا ہے۔ عمر احمد الیاسی کا آر
ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کو بابائے قوم کہنا چاپلوسی کی ایک شرمناک مثال ہے۔
اگرچہ کوئی بھی اس کے پیچھے الیاسی
کے مفادات کو سمجھ سکتا ہے کیونکہ ہندوستان تیزی سے ہندو راشٹر بنتا جا رہا ہے، لیکن
مسلمانوں کو آر ایس ایس کے سربراہ اور دوسرے بااثر ہندوؤں کی چاپلوسی کرنے کی ضرورت
نہیں ہے۔
ایک سراسر ہندو تنظیم اور اس کے
سربراہ کی اس طرح کے غلامانہ اور جاہلانہ انداز میں چاپلوسی کرنا اچھی بات نہیں ہے۔
چاپلوسی احساس کمتری کے شدید احساس اور چھپے ہوئے خوف سے پیدا ہوتی ہے۔
قرون وسطی کے زمانے میں عرب فوجی
جنرل امیر الخوب نے کہا تھا کہ جب آپ اپنے مخالف کی شدید مذمت اور لعن طعن کرنے کے
بعد بھی ناکام رہتے ہیں تو اس کا آخری سہارا یا حتمی نتیجہ چاپلوسی ہوتا ہے۔ پھر آپ
اس کے جوتے چاٹ کر اس کے محبوب نظر بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک جنگ یا سفارتی حکمت
عملی کے طور پر چاپلوسی کو سمجھا جا سکتا ہے اور اسے نظر انداز بھی کیا جا سکتا ہے۔
لیکن کسی کو خوش کرنے کے لیے سماجی اشارے کے طور پر اس کے آگے جھکنا ناقابل قبول اور
ذلت آمیز ہے۔ اس سے اس شخص کی اور اس برادری کی شبیہہ داغدار ہوتی ہے جس سے اس کا تعلق
ہوتا ہے۔
(عزت نفس یا وقار) ایک ایسی
چیز ہے جس پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہئے۔ مسلمانوں کو زمین پر لیٹنے کی ضرورت
نہیں ہے اور ہندوازم/آر ایس ایس کے فرعونوں کو انہیں نیچا دکھانے کی مہلت دینے کی ضرورت
ہے۔ چاپلوس الیاسی کو اس کا ادراک ہونا چاہیے۔ اپنی عزت نفس کو برقرار رکھیں اور اپنا
سر اونچا رکھیں۔
English
Article: Muslims Needn't Crawl
URL:
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism