New Age Islam
Wed Oct 27 2021, 05:55 PM

Urdu Section ( 6 Sept 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Muslim Construction of Pre-Islamic Arabia قبل از اسلام عرب کی مسلم ساکھ

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

1 مئی 2021

 کیا اسلام نے زمانہ جاہلیت کا خاتمہ کر دیا یا اسے جاری رکھا؟

جھلکیاں:

1.      قبل از اسلام عرب کو مشرکانہ اور رجعت پسندانہ بتانے والی تصویر کو سمجھنا اتنا آسان نہیں ہے۔

2.      حضرت خدیجہ کی شخصیت اس بات کا ثبوت ہے کہ اس وقت عورتوں کو کافی آزادی حاصل تھے۔

3.      ممکن ہے کہ توحید کے اسلامی تصور کی جڑیں خود الوہیت کے بارے میں قبل از اسلام کے تصورات میں موجود ہوں۔

-----

عام طور پر جب ہم کسی بھی مسلم عالم دین کو سنتے ہیں تو اسلام سے پہلے کے عرب کے بارے میں کافی سادہ بات ہمیں سننے کو ملتی ہے۔ کہانی یہ بیان کی جاتی ہے کہ ظہور اسلام سے قبل عرب معاشرہ شرک میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہر قبیلے کے اپنے دیوی اور دیوتا تھے جن کی وہ روزانہ اور خاص مواقع پر عبادت کیا کرتے تھے۔ مزید یہ کہ معاشرے کے سماجی اصول انتہائی رجعت پسندانہ تھے۔ بچیوں کا قتل عام بات تھی۔ ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ اسلام کی آمد نے سب کچھ بہتر کر دیا۔ اور یہ تبدیلی صرف مذہب کے لحاظ نہیں بلکہ متعلقہ سماجی اور ثقافتی اصولوں کے لحاظ سے بھی تھی۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اسلام سے پہلے کے زمانے کو جاہلیت کا دور کہا جاتا تھا۔ لیکن ان دعووں کی تاریخی حیثیت کیا تھی؟ یا ہمیں صرف اس لئے اس بات پر یقین کر لینا چاہیے کیونکہ اسلامی علماء ایسا چاہتے ہیں؟ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ اسلام نے زمانہ جاہلیت کا اس طرح سد باب نہیں کیا جو ہم میں سے بہت سے لوگ مانتے ہیں۔ قبل از اسلام اور بعد از اسلام کے عرب معاشرے کے درمیان ایک نمایاں تسلسل برقرار تھا۔

لیکن پہلے ضروری یہ ہے کہ لفظ جاہلیہ کو ہی ختم کر دیا جائے۔ فاتح ہمیشہ تاریخ کو اپنے نقطہ نظر سے لکھتے ہیں۔ کیوں کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ زیادہ تر فاتح ہمیں ایسی کہانی سناتے ہیں جو ان کی فتح کو جائز ٹھہرائے۔ جدید یورپ نے غلاموں اور دیگر کالونیوں میں روشن خیالی پیدا کرنے کی داستان تیار کی تاکہ ان کی فتوحات کا جواز پیش کیا جا سکے۔ سیاہ فام اور ایشیائی لوگوں کو ان کی اپنی بھلائی کے لیے فتح کیا جانا تھا تاکہ وہ گوروں کی تہذیب و تمدن کا وارث بن سکیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ابتدائی اسلام نے اس قوم کو مسخر کرنے کے لیے بھی یہی حربہ اختیار کیا تھا جس پر اس نے حکومت کی تھی۔

اسلام کے ظہور سے قبل کے زمانے کو مجموعی طور پر جہالت کا دور قرار دیا گیا۔ گویا اسلام سے پہلے کا عرب ہر قسم کی اچھائی سے خالی تھا اور اس خطے میں صرف ایک اچھی چیز اسلام کی آمد تھی۔ اس بیانیہ میں بڑے مسائل ہیں۔ جس شدت کے ساتھ اسلام نے 'کافرانہ' معمولات کی مذمت کی اس کا مطلب یہی تھا کہ اس ماضی کی کوئی بھی ثقافتی بو ملنا مشکل ہے جبکہ وہ موجود تھی اور اس پر توجہ نہیں دی گئی۔ مثال کے طور پر ہم یہ جانتے ہیں کہ اسلام سے پہلے کا عرب میں زبان و ادب کا بڑا بول بالا تھا اور شاعروں کا بڑا عزت و احترام تھا۔ فی البدیہہ مشاعروں کی مجلسیں منعقد ہوتی تھیں اور کچھ بہترین کلاموں کو عوامی طور پر خانہ کعبہ کی دیواروں پر آویزاں کیا جاتا تھا۔ اس لیے بلا تعجب قرآن کو سب سے پہلے جن چیلنجوں کا سامنا تھا وہ اسی مضبوط شاعرانہ روایت سے تھے۔ قرآن نے کلام الٰہی ہونے کا دعوٰی کیا تھا لہذا اس کی بے مثال فصاحت و بلاغت کو اس وقت مختلف شاعروں نے چیلنج کیا تھا۔ قرآن نے مختلف آیات [11:13 ، 17:88 ، 2:23] میں اسی طرح کے خدشات کا جواب دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کو ان چیلنجوں کا جواب دینا ہی تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ فصاحت و بلاغت کے محاذ پر ان کا مقابلہ قرآن سے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب اسلام کافی طاقتور ہو گیا تو اس نے ان شاعروں کی شاعری کو قوت بازو سے مٹا دیا۔

اسلام نے یہ بھی یقینی بنایا ہے کہ دنیا کے سامنے یہ اعلان کیا جائے کہ اسلام ہی عورتوں کا نجات دہندہ ہے۔ ابتدائی مسلم مصنفین نے بچیوں کے قتل کے قبل از اسلام کے عرب معمولات کی مذمت کی اور اسلام کو اس گناہ سے ایک عظیم نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا۔ یہ بات بھی شدید مبالغہ آمیز معلوم ہوتی ہے۔ بچیوں کے قتل کا رواج عام نہیں بلکہ کچھ مخصوص قبائل تک ہی محدود تھا۔ اگر یہ رواج اتنا عام تھا جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے تو ہمارے پاس خدیجہ جیسی مضبوط شخصیت نہیں ہوتیں جو کہ خود ایک آزاد عورت تھی۔ نبی کریم ﷺ کی پہلی بیوی حضرت خدیجۃ الکبری نے نہ صرف آپ ﷺ سے شادی کی تجویز پیش کی بلکہ وہ اپنا کاروبار بھی چلایا کرتی تھیں اور محمد ﷺ ان کی ملازمت میں تھے۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ حقیقت اس بات کی مثال ہے کہ اسلام نے عورتوں کو اعلیٰ مقام عطا کیا ہے۔ لیکن معاملہ قدرے پیچیدہ ہے۔ یہ واقعہ درحقیقت اسلام سے پہلے کے عرب میں خواتین کی اعلیٰ حیثیت کی مثال پیش کرتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت خدیجۃ الکبری نے پیغمبر اسلام ﷺ سے نکاح وحی کے آغاز اور اسلام کے قیام سے پہلے کیا تھا۔ درحقیقت محمد ﷺ نے خدیجۃ الکبری کے زندہ رہنے تک کسی دوسری عورت سے شادی نہیں کی اور ان کی موت کے بعد آپ ﷺ کسی چیز کے وارث نہیں بنے۔ یقینا یہ واقعہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ شادی خدیجۃ الکبری کے بنائے ایک خاص معاہدے کے مطابق ہونی چاہیے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کیا ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی بعد کی تمام شادیاں گھریلو ذمہ داریاں نبھانے کے لئے تھیں کیونکہ ہمیں ان کی دیگر ازواج مطہرات میں غیر گھریلو کاموں میں مصروف ہونے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ممکن ہے کہ اسلام نے عورتوں کو زیادہ حقوق کے بجائے ان کے پہلے کے کچھ حقوق چھین لیا ہو جو انہیں روایتی طور پر حاصل تھے۔ عقد نکاح تیار کرنے کا رواج جاری رہا لیکن اب ایک مثالی مسلمان عورت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ گھر میں بندھ جائے گی اور خود کو شوہر کی مملوکہ بنا دے۔

قبل از اسلام اور بعد از اسلام عرب کے دیگر امور کا تسلسل اب بھی موجود ہے۔ یہ عمومی عقیدہ بھی درست نہیں ہے کہ سارا عرب ہی مشرک تھا۔ کیونکہ اس دور میں یہودیت اور نیسٹورین عیسائیت کی موجودگی کے مکمل دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ یہ سچ ہے کہ مختلف قبائل کے مختلف دیوی اور دیوتا تھے جن کی وہ عبادت کرتے تھے۔ لیکن جیسا کہ احمد الجلد نے نشاندہی کی ہے کہ عرب میں اللہ کا بھی تصور موجود تھا اور اللہ کا یہ تصور نہ صرف حجاز بلکہ موجودہ یمن کے کچھ حصوں میں بھی انتہائی مقبول تھا۔ عام طور پر یہ مانا جاتا تھا کہ اللہ ایک خدا ہے جو شریک سے پاک ہے اور پوری کائنات کا محرک حقیقی ہے۔ لہٰذا توحید کا یہ بنیادی اصول قبل از اسلام غیر سامی عرب میں مکمل طور پر معدوم نہیں تھا۔ اسلامی تصور اور یہاں تک کہ ذات باری کا نام بنیادی طور پر لفظ الالٰہ کی مزید تفصیل ہے۔ قرآن [4:48] ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ شرک کو ناپسند کرتا ہے جس کا بنیادی مطلب اس کے ساتھ شریک ٹھرانا ہے۔ یہ یقینا الالٰہ کے تصور کی ترقی ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ قبل از اسلام کے عرب اپنے قبائل کے مخصوص دیوتاؤں کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے رہیں۔ شرک کے خلاف قرآنی حکم ایسے تناظر میں ایک کامل و اکمل معنی پیش کرتا ہے۔ اسلام عربوں کی مذہبی تاریخ میں وقفہ پیدا کرنے کرنے کے بجائے یہ بات زیادہ معقول معلوم ہوتی ہے کہ قبل از اسلام اور اسلامی سیاق و سباق کے درمیان نمایاں تسلسل موجود تھا۔

لیکن ایک نئی جدت کا دعوٰی کرنے کے لیے اسلام کو ایک ماضی ایجاد کرنا پڑا۔ اور اس ماضی کو بدنام کرنا ضروری تھا تاکہ اسلام کو ترقی پسند اور جدید قوت کے طور پر پیش کیا جائے۔ یقینا ماضی کی آواز ہمیشہ دبائی گئی ہے۔ اپنی تاریخ کے اس غیر متوازن نظریے کو درست کرنا اب مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ ایسا کرنے سے ایمان کے بنیادی اصولوں پر کوئی سوال نہیں کھڑا ہوگا جیسا کہ کچھ لوگوں کا گمان ہے۔ بلکہ اس سے ہمارے یہاں تک پہنچنے کی تھوڑی داستان سامنے آ جائے گی۔

English Article: The Muslim Construction of Pre-Islamic Arabia

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/muslim-construction-pre-islamic/d/125322

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..