New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 02:32 AM

Urdu Section ( 21 Feb 2018, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Perils of Being a Muslim Male Feminist مسلم مرد کے حقوق نسواں کا علم بردار ہونے کا سنگین خطرہ

مشتاق الحق احمد سکندر ، نیو ایج اسلام

10 فروری 2018

مسلم معاشرے میں حقوق نسواں کی علم برداری (Feminism) ایک بھاری بھرکم اصطلاح ہے۔ ٹیکنالوجی سے لیکر اسلامی سائنس اور یہاں تک کہ اسلامی بینک کاری کے نظام تک تمام باتیں قابل قبول ہیں لیکن اگر میں اسلامی حقوق نسواں کی علم برداری (Feminism) کے لئے کھڑا ہونے کا دعوی کرتا ہوں، تو ہر ایک ایسے انسان کے چہرے پر ناراضگی اور غم و غصے کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں، جو علمی اقدار اور فلسفہ پر کوئی توجہ دئے بغیر ہر مغربی علم و فن کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں۔ اگر وہ گہرائی کے ساتھ اپنا محاسبہ کریں تو انہیں یہ معلوم ہوگا کہ ان کے دعوے کس قدر کھوکھلے ہیں!

علم کی اسلام کاری کے ناکام منصوبے سے لیکر اسلامی بینک کاری کے نظام تک اکثر مسلم اہل علم ان فضول اصطلاحات پر گامزن ہیں۔ لیکن وہ اسلامی حقوق نسواں کی علم برداری (Feminism) کو مغرب کی توسیع، اسلامی اخلاقیات کو کمزور کرنے اور مسلم دنیا میں خاندانی نظام کی ساخت کو تباہ کرنے کی سازش اور اس کا منصوبہ قرار دیتے ہیں جو کہ پہلے سے ہی مغرب کی بڑی سازش کے بجائے جدیدیت، عالمگیریت اور تبدیلیوں کے اثرات کی وجہ سے زیادہ خطرے کی زد پر ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ آسان عذر بن چکا ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کرنے کے بجائے ہر چیز کو مغرب اور یہودی سازش قرار دیتے ہیں۔ اس سازشی نظریہ کی ذہنیت نے ان کی پیش رفت اور دانشورانہ ترقی پر لگام لگا کر انہیں خوش فہمی میں مبتلاء کر دیا ہے۔

خواتین کا سوال مسلمانوں کے لئے ایک عجیب بات ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اسلام عورتوں کو مکمل حقوق عطا کر چکا ہے لہذا انہیں حقوق نسواں کی علم برداری (Feminism) میں نجات کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی حقوق نسواں کی علم برداری (Feminism) کے بارے میں ان کا خیال اسلامی بینک کاری کے نظام اور علم کی اسلام کاری کے بارے میں ناکام منصوبوں کے برعکس ہوسکتا ہے اور وہ اس کی تکمیل سے بھی پہلے اس کی موت کا گمان رکھتے ہوں ۔ مسلم خواتین کو قانونی امداد کے ذریعے بچانے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی جیسے مرد متعصب کو ان کے بچاؤ میں آنے کی ضرورت ہے۔ انہیں ضرورت صرف اس بات کی ہے ان کے ان حقوق کو دوبارہ بحال کیا جائے جو اسلام، قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے انہیں پہلے ہی عطا کر دیا ہے۔ لیکن صدیوں سے چلے آ رہے پیدرانہ نظام ،زن بیزاری کے رجحان اور مقدس صحیفوں کی تعبیر و تشریح نے مسلم خواتین سے ان انقلابی حقوق کو سلب کر لیا ہے۔ اب اس پیدرانہ نظام سے لڑنے اور مسلم خواتین کو اپنے حقوق کو دوبارہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

اسلامی حقوق نسواں کی علم برداری (Feminism) ایک ایسی تحریک ہے جس کا مقصد ان کے حقوق کو بحال کرنا اور اسلام کی ایک صنفی غیر جانبدار تعبیر و تشریح پیش کرنا ہے۔ ہم اسلامی حقوق نسواں کی علم برداری (Feminism) یا جنسی انصاف کی بات کو ترک کرتے ہیں اس لئے کہ اسلام کا مقصد ہی یہی ہے۔ میں خو کواسلام میں صنفی انصاف کی تحریک کے ساتھ جوڑتا ہوں۔ ایک عورت کو حقوق نسواں کی علم بردار (feminist) کے طور پر پیش کرنا آسان ہے۔ نہیں ! آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ کوئی مرد حقوق نسواں کا علم بردار (feminist) کیسے ہو سکتا ہے؟ نہیں، وہ ضرور ہم جنس پرست ہوگا جو اپنی جنسیت کو حقوق نسواں کی علم برداری (Feminism) کے لبادے میں چھپا رہا ہے۔ آپ کے دوست آپ کو ہم جنس پرست یا عورت باز کہتے ہیں۔ کچھ مرد دوستوں کے لئے حقوق نسواں کی علم برداری (Feminism) کا دعوی خواتین تک پہنچنے ، انہیں دوست بنانے اور ان کا استحصال کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ زیادہ تر مرد یہ سوچتے ہیں کہ مرد عورت کی دوستی ممکن ہی نہیں ہے لیکن اگر اس کے ساتھ کچھ جنسی زاویہ بھی شامل ہو تو یہ ممکن ہے۔ کچھ ہوشیار مرد دوست جو خواتین کے ساتھ آپ کی آشنائی سے واقفیت رکھتے ہیں وہ آپ سے چاہتے ہیں کہ آپ کا طرزعمل ایک ثالثی جیسا ہو جو کہ آپ کی محبت ، تعلقات اور فلرٹ کے لیئے ایک زینہ ہو۔

آپ اپنی خاتون دوست، ساتھیوں اور متعلقین کے لئے اکثر زن صفت ہوتے ہیں اس لئے کہ آپ اتنے ہی جذباتی ہیں جتنا ایک انسا ن کو ہونا چاہئے۔ لیکن پدرانہ اقدار کے حاملین نے اس نظریہ کو مضبوط کیا ہے کہ مردوں کو رقیق القلب نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی انہیں کسی جذبات کا اظہار کرنا چاہئے یا وہ یہ برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ وہ بہادر ہیں اور انہیں خواتین کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں سے زیادہ تر عورتیں نرم اور صنفی انصاف پسند مردوں کو مستقبل کے شوہروں کے طور پر نہیں دیکھتی ہیں لہٰذا انہیں دوست بنا لیتی ہیں ، بلکہ ان مردوں کو یہ مقام دیتی ہیں جو سوٹ بوٹ سے لیس ایک سپاہی کی طرح تیار ہوں۔ اس کے علاوہ اگر آپ کے پاس کوئی گرل فرینڈ یا کوئی منگیتر ہو بھی جائے اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دیتی ہے اور آپ اسے جسمانی یا نفسیاتی سزا دئے بغیر چھوڑ دیتے ہیں تو آپ یقینی طور پر ایک مرد کہلانے کے حقدار نہیں ہیں۔ اور اس مسئلے میں آپ کے مرد دوستوں کی بات ہی کیا کی جائے اس لئے کہ ان کے لئے آپ ایک بزدل انسان ہیں ، یہاں تک کہ آپ کی خواتین دوست بھی آپ کو احمق اور بیوقوف کہیں گی کیونکہ آپ انتقام لینے میں یقین نہیں رکھتے۔

اس مقام پر مجھے ایک اپنے ایک مرد حقوق نسواں کے علم بردار (feminist)دوست کی یاد آئی جس نے ایک ہفتے کے لئے دو خاتون دوستوں کی میزبانی کی۔ جب وہ رخصت ہونے لگیں تو ان میں سے ایک نے اس کے سامنے یہ خیال ظاہر کیا کہ ہمیں یہ لگا کہ آپ نامرد ہیں اس لئے کہ میزبانی کے اس ایک ہفتے کے دوران کم از کم ان میں سے ایک کے ساتھ جسمانی تمتع اٹھانے کے تمام مواقع موجود ہونے کے باوجود آپ نے خوبصورت لڑکیوں کے ساتھ لطف اندوزی کا موقع گنوا دیا۔ گویا کہ جسمانی فائدہ اٹھانا ہی مرد کی ایک واحد خصوصیت ہے۔ حقوق نسواں کے علم بردار (feminist) یا صنفی انصاف پسند افراد نہ تو نامرد ہیں نہ ہی جسمانی خواہشات سے خالی ہیں بلکہ وہ اس حقیقت کو پسند کرتے ہیں کہ جسمانی تعلق قائم کرنے سے قبل محبت کا ہونا ضرور ی ہے، بجائے اس کے کہ محض حیوانی خواہشات کی تکمیل کی جائے۔ موقع ہاتھ لگنے پر جنسی بھوک کی تسکین کے بجائے وہ اپنی گرل فرینڈ یا بیویوں کے تئیں وفادار ہونے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

مذہبی ذہنیت رکھنے والے پیدرانہ اقدار کے حامل ساتھیوں کے لئے آپ صرف آزادانہ میل جول کے سیلاب کے دروازوں کو کھول رہے ہیں، خاندانوں کو توڑ رہے ہیں اور ان عورتوں کو غیر محدود آزادی فراہم کر رہے ہیں جنہیں پہلے سے ہی عقل اور مذہب میں ناقص مانا گیا ہے۔ مزید آپ بیویوں کو بھی فیصلے کا اختیار دیکر ایک تباہی کو دعوت دے رہے ہیں کیوں کہ انہیں اپنے شوہروں کے تابع رہنا چاہئے اس لئے کہ شادی کا نظام اسی وقت تک چل سکتا ہے جب تک اس کا سربراہ کوئی ایک ہی فرد ہو۔ ان کے مطابق شادی باہمی محبت، احترام اور تفہیم پر مبنی نہیں ہے بلکہ اقتدار کے تعلقات پر مبنی ہے جسے وہ مذہب اور سماجی معیارات کی آڑ میں چھپا رہے ہیں۔

آپ کو سب سے بڑا جھٹکا اس وقت لگے گا جب آپ کی خاتون حقوق نسواں کی علم بردار (feminist) دوست خود کو علماء کے کام پر مقرر کر لیں گی اور جب ان کے ساتھ آپ کی نااتفاقی ہوگی تو وہ فتوی جاری کریں گی۔ آپ پر برسانے کے لئے ان کے پاس سب سے بہترین تازیانہ یہ ہے کہ آپ پیدرانہ اقدار کے حامل ہیں اس لئے کہ کسی بھی مسئلے کے بارے میں ہو سکتا ہے کہ آپ ان کے ساتھ متفق نہ ہوں۔ مجھے ماضی قریب میں اس وقت تک ساتھی خاتون حقوق نسواں کی علم بردار (feminist) کی جانب سے اس تلخ تجربے کا سامنا نہیں ہوا جب تک میں نے ایک طلاق کے معاملے میں دونوں فریقوں کو نہیں سن لیا ، اس واقعے کے بعد میں ایک ایسے حل پر پہونچا جو میرے لئے مفید تھا۔ لیکن حقوق نسواں کی علم بردار (feminist) نے شوہر کو سزا دینے کا ذہن بنا لیا تھا اس لئے کہ وہ مرد تھا اور اس کی بیوی نے یہ کہا کہ اس کے شوہر نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے، جسے تصدیق کے بغیر ابتدائی بیان میں تسلیم کر لیا گیا تھا۔ میرے لئے حقوق نسواں کی علم برداری (Feminism) کا مقصد مردوں کو ضرب لگانا نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد صنفی انصاف ہے جس میں دونوں جنس برابر کے شریک ہیں۔ میں نے اس پرپیچ مسئلہ کو حل کرنے کے لئے اپنی کوششوں کو جاری رکھا اور میں نے اس حقوق نسواں کی علم بردار (feminist) جماعت کے اگلے اقدام کے بارے میں جاننے کی کوشش کی جس کے بارے میں میرا گمان تھا کہ وہ مجھے بھی اس جماعت کا ایک حصہ سمجھتی ہیں۔ لیکن مجھے اس وقت بے تحاشہ حیرت ہوئی جب 'حقوق نسواں کی علمبردار دوستوں' نے مجھے یہ کہتے ہوئے جھڑک دیا کہ میں ایک مرد ہوں اور وہ مجھ پر اپنا منصوبہ ظاہر نہیں کر سکتیں ، کیوں کہ میں ایک مرد ہوں اور میرے لئے حقوق نسواں کا علمبردار ہونا مشکل ہے اگرچہ میں نے اس کی پوری کوشش کی، گویاکہ میرے لئے اس کی تصدیق اور سرٹیفکیٹ مجھے صنفی انصاف پسند کارکن یا حقوق نسواں کا علمبردار ہونے کے لئے ضروری تھا۔ لہذا حقوق نسواں کے علم برداروں (feminists) کے درمیان بھی آپ کی فعالیت اور صنفی انصاف کے تعلق سے ایک موقف موجود ہے۔

لیکن اگر آپ کا یقین مضبوط ہے اور اگر صنفی انصاف پر آپ کا یقین پختہ ہے تو یہ خطرات آپ کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ نیز، ہمیں یہ بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا میں کچھ اچھائیاں ایسی ہیں جو اس لائق ہیں کہ ان کے لئے جد و جہد کی جائے۔ صنفی انصاف ایسی ہی ایک اچھائی ہے اور صنفی جہاد کا سپاہی بننے کے لئے آپ کو عورت ہونا ضرور ی نہیں ہے۔ اس کے لئے ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ آپ کے اندر پیدارانہ اقدار کو ختم کرنے کی جذباتی تپش موجود ہو اور آپ ان باتوں پر توجہ نہ دیں کہ پیدرانہ اقدار کے حامل افراد اور حقوق نسواں کے علم بردار (feminists) آپ کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ آپ کو صرف یہی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ آپ کا مقصد انصاف کا قیام ہے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/mushtaq-ul-haq-ahmad-sikander,-new-age-islam/perils-of-being-a-muslim-male-feminist/d/114235

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/perils-being-muslim-male-feminist/d/114364


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..