New Age Islam
Fri Mar 13 2026, 10:31 PM

Urdu Section ( 2 Aug 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Lived Reality as a Palestinian ایک فلسطینی کی زندہ حقیقت

مشتاق الحق احمد سکندر، نیو ایج اسلام

 1 اگست 2023

نام کتاب: What It Means To Be Palestinian: Stories of Palestinian Peoplehood

 مصنف: ڈینا ماتر

 مطبوعہ: لندن، برطانیہ: I.B Tauris & Co. Ltd

 ص214۔ آئی ایس بی این: 9781848853638

 -------

 فلسطین کا مسئلہ ہماری عصری تاریخ میں سب سے طویل عرصے سے جاری ہے۔ یہ برطانوی سامراج کی میراث ہے اور اس نے اسرائیل کی تخلیق کے ساتھ ایک ناقابل حل تنازعہ کا درجہ حاصل کر لیا ہے جو 1948 میں فلسطینیوں کی مقامی آبادی کو بے گھر کرکے شروع ہوا تھا۔ وہ اس سانحہ کو نکبہ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور وہ ہر سال 14 مئی کو اس کی یاد مناتے ہیں۔ پہلے نکبہ کے بعد سے جو اسرائیل کی ظالمانہ تخلیق ہے، فلسطینیوں نے اپنی عصری تاریخ کے مختلف مراحل میں اسی طرح کے نکبات کا مشاہدہ کیا ہے۔ نکبہ فلسطینیوں کے لیے نہیں رکا ہے بلکہ انھیں زندگی بھر نکبات سے دو چار ہوتا رہنا پڑے گا۔ لاکھوں افراد مختلف عرب ممالک میں بغیر گھر کے پناہ گزین ہیں اور وہ لوگ جو مغربی کنارے اور غزہ کے مقبوضہ علاقوں میں بچے ہیں انہیں بھی اسرائیل کے ہاتھوں بے گھر ہو جانے کا خوف لگا رہتا ہے۔ جلاوطنی اور بے گھری ہی وہ مسائل نہیں ہیں جو فلسطینیوں کو پریشان کر رہے ہیں بلکہ غیر قانونی نظربندیاں، تشدد، گھروں کو اڑانے اور یہاں تک کہ قتل و غارت گری وہ بھیانک حقیقتیں ہیں جو ان کی روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہیں۔

 جیسا کہ نام سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جو مسئلہ فلسطین کی تاریخی یا سیاسی مبادیات سے متعلق ہے، بلکہ اس کا بنیادی محور عام فلسطینیوں کی زندگیاں ہیں، جنہوں نے اپنی زندگیوں پر اس تنازعے کے اثرات اور نتائج کا تجربہ کیا ہے۔ ایک طرح سے یہ فلسطین کی بھی عصری تاریخ ہے کیونکہ فلسطین اور مسئلہ فلسطین کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ایک دوسرے سے اس قدر الجھے اور پیوستہ ہیں کہ فلسطین کے بارے میں کسی بھی گفتگو میں وہ ایک دوسرے سے الجھ جاتے ہیں۔ فلسطین میں سیاست نجی ہے اور سیاست انفرادی فلسطینیوں کی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالتی ہے، یہ کتاب اسی حقیقت کی گواہ ہے۔

 ڈینا ماتر نے اپنی کتاب کے دیباچے میں ان مسائل کی وضاحت کی ہے جو فلسطینیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے انہیں گھیرے ہوئے ہیں۔ "پہلا یہ کہ فلسطینی تاریخ کو صرف اور صرف اسرائیلی تاریخ یا داستان کے حوالے سے دیکھا جاتا ہے، اور دوسرا یہ کہ فلسطینیوں کی کہانی، بطور عام انسانوں کے جو حکومت کی تشدد کا نشانہ بنے ہوئے ہیں، بڑی حد تک پوشیدہ ہے۔" کتاب کے موضوع کے میں دینا بتاتی ہیں، "یہ کتاب فلسطینیوں کے اختیارات ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے، طاقتوں کے ہاتھوں ایسے بے یار و مددگار کے طور پر نہیں، جیسا کہ انہیں اکثر پیش کیا گیا ہے، بلکہ ان کی تاریخ کے جدید دور کے نازک ترین مراحل کے بیچ میں ان کے کردار کے طور پر۔" (P-xii)

اپنے تعارف میں، ڈینا نے ان کہانیوں کو بیان کیا ہے جو تاریخی ترتیب سے متعلق ہیں جو فلسطین کی تاریخ کے بعض مراحل سے مطابقت رکھتی ہیں۔ یہ کہانیاں فلسطین میں برطانوی راج کے خلاف 1936 کی بغاوت سے شروع ہوتی ہیں اور اوسلو معاہدے (1993) پر ختم ہوتی ہیں۔ یہ کتاب مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے فلسطینیوں اور فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں رہنے والوں کے ساتھ انٹرویوں اور بات چیت پر مبنی ہے۔ اس طرح یہ کتاب مسئلہ فلسطین کی زبانی تاریخ میں ایک اچھا کارنامہ ہے۔ یہ ذاتی کہانیوں کے ذریعے فلسطینی تجربات کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کہانیوں سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا ہے اور آخر میں صرف ایک افسانہ لکھا گیا ہے جو فلسطینیوں کی کہانی کو کھلا رکھیں۔

 کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا باب، On the Road to Nakba: Palestine as a Landscape and a People، 1936-48، کے نام سے ہے جو فلسطینیوں کی مختلف کہانیوں کو بیان کرتا ہے جنہوں نے اس تجربے کو جیا ہے، اور یہ واضح کرتا ہے کہ کس طرح کچھ فلسطینی جو بچپن میں ہی فلسطین سے ہجرت کر گئے تھے، جلاوطنی کے گہرے نقوش جاری کرتے رہے، اور اب بھی واپسی کی خواہش رکھتے ہیں لیکن وہ آرزو اور دائمی جلاوطنی کبھی ختم نہیں ہوئی۔ فلسطینیوں کی نسل کشی کا آغاز اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہوا کیونکہ ہزاروں افراد کو ان کی آبادیوں اور زمینوں سے بے دخل کر دیا گیا جن پر صہیونیوں نے فوجی طاقت کے ذریعے ناجائز قبضہ کر رکھا تھا۔ کچھ ذاتی کہانیاں بیان کرتی ہیں کہ کس طرح روزمرہ کے مسائل ایک قبیلے کے اندر ایک سربراہ کے ذریعے حل کیے جاتے تھے اور ثالثی کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ جب یہودیوں اور عربوں کے درمیان زمین پر مسائل پیدا ہوئے تو عدالتوں سے رجوع کیا گیا۔ عرب یہودیوں کے ساتھ باہمی ہم آہنگی معمول کی بات تھی لیکن جب مہاجر یہودی یہاں آنے لگے مسائل تب ہی شروع ہوئے۔ اس طرح اسرائیل کی تخلیق نے فلسطینیوں کی زندگی کا پقرا رخ ہی بدل دیا۔ ایسے فلسطینی بھی تھے جن کا خیال تھا کہ یہ نقل مکانی عارضی ہے اور وہ دوبارہ اپنی آبائی سرزمین پر واپس چلے جائیں گے، لیکن یہ خواہش اور خواب کبھی پورا نہیں ہوا۔

 دوسرے باب کا عنوان ہے، Living the Nakba: In the ‘Perilous Territory of Not Belonging’, 1948-64۔ اس میں فلسطینیوں کی کہانیاں بیان کی گئی ہیں جن کی اپنی سرزمین اور آبادیوں سے علیحدگی نے انہیں المناک تجربات سے روشناس کروایا۔ ان کی اپنی آبائی سرزمین کی خواہش اس امید کے ساتھ جاری رہی کہ وہ ایک دن واپس لوٹیں گے لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ واپسی کی امیدیں اور امکانات مرتے گئے۔ اس باب میں اسرائیل میں رہنے والے فلسطینیوں اور اسرائیل میں رہنے والے مصنفین کی کہانیاں بھی بیان کی گئی ہیں جنہوں نے فلسطینی مزاحمت میں اپنا کردار ادا کیا۔

 تیسرے باب کا عنوان ہے"Raising the Fedayeen: Between Romance and Tragedy, 1964-70"۔ اس میں الفتح کی پیدائش اور ارتقاء کو فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کے مسلح باغی دھڑے کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور قتل و غارتگری اور مسلح شورش اس کے ساتھ لائی گئی ہے۔ اس میں لالہ خالد ایک نوجوان گوریلا کی کہانی بیان کی گئی ہے جس نے ایک ہوائی جہاز کو ہائی جیک کیا تھا۔ اس دور میں خواتین کی متحرک سرگرمی اور مزاحمتی تحریک میں ان کی فعال شرکت دیکھنے میں آئی۔ فدائین بننا رومانوی اور زیادہ تر نوجوانوں کا خواب تھا۔ لیکن یہ دور بھی ختم یو گیا۔ فلسطینی گوریلوں اور اردنی فوج کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ مزاحمت نے اپنی رونق کھو دی اور خواتین بھی فراموشی میں چلی گئیں۔ مزاحمتی تحریک پر مایوسی چھا گئی، اور بہت سے مزاحمتی جانبازوں کو گرفتار کرلیا گیا یا حراست میں لے لیا گیا۔ اب جیلوں میں زندہ رہنا ایک ترجیح بن گیا اور اس طرح مزاحمت کے بچوں کی ایک نئی نسل نے جنم لیا۔

 چوتھے باب کا عنوان ہے "Living the Revolution: Living the occupation, 1970-87"۔ اس میں فلسطینی مزاحمت کو حاصل ہونے والی دو دہائیوں کی کامیابیوں اس کے زوال اور نقصانات کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں اس زوال کے ساتھ جڑے صدمے اور یادوں کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں اردن، لبنان، اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینیوں کی زندگیوں کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں پوری ایمانداری کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح فلسطینیوں کو شامی فوج نے مارا جب وہ پی ایل او اور اس کے رہنما یاسر عرفات سے دستبردار ہو گئے۔ لبنان کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں تھی۔ لبنانی ریاست نے بھی فلسطینیوں کو قتل اور بے گھر کر دیا۔ عام فلسطینی یاسر عرفات کی پالیسیوں اور موقف سے مایوس تھے جنہوں نے ان کے مطابق انہیں بیروت میں بے یارومددگار چھوڑ دیا۔ فلسطینی مسلح جدوجہد کو ان مصائب کے لیے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جس کے نتیجے میں مختلف فلسطینی گروہوں کے درمیان آپس کی لڑائیاں ہوئیں۔ فلسطینیوں کے درمیان ایک دوسرے کے لیے ہمدردی کے فقدان نے حالات اور خراب کر دیے۔

 "چلڈرن آف دی سٹونز: لیونگ دی فرسٹ انتفاضہ" کتاب کا آخری باب ہے جس میں فلسطینیوں کی نئی سیاسی تحریک یافتہ نوجوان نسل کی مزاحمت کو بیان کیا گیا ہے جو پتھروں کے ذریعے اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت کرتی ہے۔ اس کے بعد اس کے نقطہ عروج کو بیان کیا گیا ہے جسے اوسلو معاہدے کی شکل میں پہلا انتفادہ کہا جاتا ہے۔ خودکش بم حملے کا ایک مختصر حوالہ جس نے حماس کے سامنے آنے کے ساتھ ہی دوسرے انتفاضہ کو نمایاں کیا اور مسلح شورش نے دوبارہ زور پکڑ لیا، اس باب کے آخر میں بھی بیان کیا گیا ہے۔

 مجموعی طور پر یہ کتاب فلسطینیوں کی زبانی تاریخ میں ایک اہم خدمت ہے اور یہ عام اور دیگر اہم فلسطینی افراد کی زندگیوں کی تفصیلات فراہم کرتی ہے۔ مصنفہ کو ان کی کاوشوں اور ان تجربات کو سیاہ اور سفید میں نقل کرنے میں درد بھری تحقیق کے لیے مبارکباد دینا ضروری ہے، جن سے فلسطینی ان کئی دہائیوں میں گزرے۔ یہ کتاب سال 1993 میں ختم ہونے کے باوجود، اور اس کے بعد سے اب تک دو دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے جس میں بہت سی نئی کہانیوں اور زبانی تاریخ سامنے آ چکی ہے، جسے اب دستاویزی شکل میں لانے کی ضرورت ہے، لیکن اس سے کتاب کی قدر و اہمیت میں کمی نہیں آتی۔ فلسطین تنازعہ میں دلچسپی رکھنے والے ہر فرد کے لیے یہ ایک ضروری کتاب ہے۔ کتاب کی کہانیاں اس سرزمین کے لوگوں پر فلسطین کے تنازعات کے اثرات اور نتائج کو باریک بینی سے بیان کرتی ہیں۔ یہ کتاب ان مختلف مسائل کو درج اور ان کا تجزیہ کرتی ہے، جن کا فلسطینیوں کو مختلف سرزمینوں میں سامنا ہے۔ یہ واقعی ایک اچھی کتاب ہے اور فلسطینی تاریخ کا کوئی بھی طالب علم یا اسکالر شاید ہی اس کتاب سے بے نیاز رہ سکتا ہے۔

English Article: Lived Reality as a Palestinian

 URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/lived-reality-palestinian/d/130361

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..