New Age Islam
Wed Apr 15 2026, 09:41 AM

Urdu Section ( 27 Jul 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Global Islamic Movement: Islamic Revivalist Movements Are a Factual Reality of The Muslim World عالمی اسلام پسند تحریک: مسلم دنیا کی ایک زندہ حقیقت

 مشتاق الحق احمد سکندر، نیو ایج اسلام

 25 جولائی 2023

نام کتاب:? Global Islamic Movement: Why and How

 مصنف: شمیم اے صدیقی

مطبوعہ: بروکلین، یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ: دی فورم فار اسلامک ورک،

 صفحہ 118۔ آئی ایس بی این: مذکور نہیں۔

 -----

 اسلامی احیاء کی تحریکیں مسلم دنیا کی ایک جیتی جاگتی حقیقت ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر احیاء پسند تحریکوں نے اپنی کوششیں ایک اسلامی ریاست کے قیام پر مرکوز کیں، اس عمل کے ذریعے جسے علمی طور پر اسلام پسندی کہا جاتا ہے۔ اسلام پسندی نے ارتقاء اور تبدیلی کا ایک دور دیکھا ہے اور اب یہ زیادہ تر مسلم ممالک میں مابعد اسلام پسندی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اب بھی بہت سے خطوں اور معاشروں میں اسلام پسندی کے علمبردار اور نظریات رکھنے والے اس اسلام پسندی منصوبے کی ناکامی کی وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا نقطہ عروج اسلامی ریاست کا قیام تھا۔

 ایک اسلامی نظریہ ساز اور کارکن شمیم اے صدیقی کی زیر نظر کتاب انہیں وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کتاب کے پیش لفظ میں، زندگی نو کے ایڈیٹر، جو کہ جماعت اسلامی ہند کی ایک اردو اشاعت ہے، ایم رفعت لکھتے ہیں، "کتاب گلوبل اسلامک موومنٹ درحقیقت ایک فکر انگیز کتاب ہے۔ انسانیت کی بہتری کے لیے پرعزم تمام افراد کو مصنف کے پیغام کو پڑھنا اور سمجھنا چاہیے" (ص ۱۰)

 اپنے دیباچے میں، شمیم احیاء پسند تحریکوں کے مایوس کن نتائج پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، وہ لکھتے ہیں’’اب میں بدقسمتی سے یہ محسوس کرتا ہوں کہ تمام تحریکیں محض معاشرتی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ موجودہ نظام کو بدلنے اور کسی مسلم سرزمین پر اسلامی ریاست کے قیام کے اپنی نظریاتی جستجو کے دلدل میں میں دنھسے ہوئے ہیں۔ تاہم میں جو دیکھ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ ہماری تحریکیں اپنی مخلصانہ کوششوں کے باوجود کہیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ امت ہر لحاظ سے انتہائی تباہ کن صورتحال سے دوچار ہے۔‘‘ (ص-۱۶) ۔ یہ کتاب تباہی کی وجوہات کو سمجھنے کی کوشش اور امت کی ان بیماریوں کا علاج تلاش کرنے کی ایک کوشش ہے۔

 شمیم کا کہنا ہے کہ ہر نظام چاہے وہ جمہوری ہو، سوشلسٹ ہو، کمیونسٹ ہو یا آمرانہ ہو، انسانیت کو درپیش مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کے بعد وہ مسلمانوں کو سرمایہ دارانہ نظام کا متبادل پیدا کرنے کی ضرورت پر لکھتے ہیں جو کہ شمیم کے مطابق زوال پذیر ہے، ’’اب سرمایہ داری بھی اپنی موت کے دہانے پر ہے۔ مسلمانوں کو اس دنیا کے بہت سے سرمایہ دارانہ جمہوری معاشروں کے لیے ایک متبادل نظام زندگی کے طور پر بطور ماڈل ایک اسلامی ریاست تیار کرنا چاہیے۔ یہ دنیا بھر میں ہماری اسلامی تحریکوں کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے کہ وہ اس کا نمونہ پیش کریں ایسا نہ ہو کہ ہم دوبارہ پیچھے رہ جائیں۔ (ص ۱۷ )

 شمیم بار بار مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ خود کا جائزہ لیں اور اپنے گھر کو ترتیب دیں اور پھر دوسروں کو اسلام کے اولین پیغام کی طرف بلائیں۔ وہ قاری کو اسلامی ریاست کے قیام میں اسلامی تحریکوں کی ناکامی کے اسباب کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ اس حقیقت پر تنقید کرتے ہیں کہ عرب بہار جس نے اسلام پسند تحریکوں کے لیے امید کی کرن پیش کی تھی، ایک المناک وہم ثابت ہوا کیونکہ عرب بادشاہتوں نے اخوان المسلمون کی اسلامی تحریک کے کارکنان کو قتل کرنے کے لیے آمر عبدالفتاح السیسی کو رقم ادا کی۔ اسلامی تحریکوں کے خلاف اس طرح کی بربریت کے باوجود، شمیم آمرانہ حکومتوں کا تختہ الٹنے کے اقدام کے طور پر کسی خفیہ یا پرتشدد سرگرمی کی وکالت نہیں کرتا بلکہ جمہوری حل کے لیے آواز اٹھاتا ہے، جیسا کہ ان کے بقول، "مسلم عوام میں جمہوری عمل کی خواہش پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ وقت کے ساتھ نظام کو تبدیل کرنا، ایک دہائی یا اس سے زیادہ کہہ لیں"(ص ۳۰)

 شمیم اسلامی نظامِ سیاست، معیشت اور سماجی نظم کے بارے میں مزید لکھتے ہیں۔ اس کتاب میں امیر اور غریب قوموں کے درمیان فرق، مغرب اور اس کے مسلم سرزمین پر نو آباد کاری کے منصوبے پر بھی بحث کی گئی ہے۔ مزید اسلام پسند تحریکوں کی مخالفت امریکی پالیسیوں، بادشاہتوں اور آمرانہ حکومتوں سے واضح ہوتی ہے جو امریکہ اور دیگر اتحادی طاقتوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کی سرزمین پر حکومت کرتی ہیں، "کہیں بھی اسلام کو "سیاسی وجود" کے طور پر ابھرنے کی اجازت نہیں ہے اور بدقسمتی سے، امریکہ، جو کہ جمہوری اقدار کا علمبردار بنا پھرتا ہے، اس میں اپنا قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ کھلم کھلا مخالفت ہے کہ کہیں بھی اسلامی قوتوں اور اسلامی تحریکوں کو جمہوری عمل کے ذریعے بھی کامیاب نہیں ہونے دینا ہے۔ ہر جگہ ان کی کوششوں کو ناکام کر دیا جاتا ہے، کہیں براہ راست اور کہیں ان کے مقامی "ایجنٹوں" کے ذریعے۔

 بنگلہ دیش، افغانستان، مصر، پاکستان، تیونس اور لیبیا میں جو کچھ چل رہا ہے اور شام اور عراق میں جاری خانہ جنگی اور مشرق وسطی کے قلب عرب دنیا میں داعش کی نئی کوششوں کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ گیم پلان کافی واضح نظر آتا ہے۔ ان سیکولر قوتوں نے جان بوجھ کر "عرب بہاریہ" کے عروج سبوتاژ کیا اور تیونس کے "محمد بو عزیزی" کے بے گناہ خون کو ضائع کر دیا، جو شمالی افریقہ میں عہد سازی کی بیداری کے "غیر ارادی" بانی تھے۔ سیکولر دنیا اور اس کے "سربراہ" اپنا آپا کھو چکے ہیں۔ وہ اسلام کی اندھا دھند مخالفت کر رہے ہیں جو کہ اب ان کی ایک آخری امید ہے جب کہ تمام سیکولر نظام ناکام ہو چکے ہیں اور سرمایہ دارانہ جمہوریت ”آکسیجن ٹینٹ“ کے نیچے بستر مرگ پر پڑے اپنے دن گن رہی ہے۔ پوری سیکولر دنیا "ایک پاگل کتے" کا کردار ادا کر رہی ہے جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے" (P-90

 یہ زمینی حقائق ہیں، حالانکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلامی تحریکوں نے سیاست کے مغربی نظام کو قبول کیا ہے جس میں انتخابات میں شرکت اور حکومت کی تبدیلی کے لیے جمہوری طریقے شامل ہیں، لیکن پھر بھی عوام کے مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا جاتا اگر وہ اسلام پسند جماعتوں کے حق میں ہو۔ یہ کتاب یقیناً ایک شاندار کتاب ہے کیونکہ یہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسلام پسند تحریکوں میں حقیقتاً خود شناسی کا عمل موجود ہے اور جبر کے باوجود انہوں نے تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ مزید شمیم اس بات پر تنقید بھی کرتے ہیں کہ مسلمان دعوت یعنی لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کا فریضہ انجام نہیں دے رہے ہیں۔

English Article: Global Islamic Movement: Islamic Revivalist Movements Are a Factual Reality of The Muslim World

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/islamic-movement-revivalist-movements-muslim/d/130309

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..