New Age Islam
Sat Jun 25 2022, 03:02 PM

Urdu Section ( 8 Jun 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Guidelines for a Healthy and Wholesome Life in the Qur'an and Hadith قرآن و حدیث میں صحت مند اور عافیت والی زندگی کے رہنما اصول

مجاہد ندوی

3 جون،2022

قرآن مجید میں اللہ عزوجل نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو مسلمانوں کیلئے ایک بہترین او رقابل تقلید نمونہ قرار دیا ہے،:”حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات (مبارکہ) میں ایک بہترین نمونہ ہے ہر اس شخص کے لئے جو اللہ او ریوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔“(الاحزاب،21)

صحت، جو کہ آج کل انسانی زندگی کا ایک سب سے اہم مسئلہ بن کر ابھری ہے،بلکہ کورڈ۔19 نے ساری دنیا کے سامنے یہ ثابت کردیا کہ انسانی ترقی کے سارے دعوے کس قدر کھوکھلے او ربے بنیاد ہیں، انسان ترقی کے اپنے بلند بانگ دعوؤں میں کس قدر بودا اور اس طرح کی ناگہانی آفات کیلئے کس قدر تیاری سے دور ثابت ہوا ہے۔ لیکن اللہ کالاکھ لاکھ شکر و احسان ہے کہ مذہب اسلام میں انسان کو ایک صحتمند زندگی کے متعلق مکمل ہدایات قرآن و حدیث میں جاری کردی گئیں، او ریہ ہدایات کیوں نہ جاری ہوتیں اس لئے کہ مومنین کی جان معمولی او ربے وقعت نہیں، ان کو تو اللہ عزوجل نے خرید لیا ہے۔ اور جب یہ ہمارے خالق کی امانت ہوئی تو اس نے ہی اس کی حفاظت کا طریقہ بھی ہم کو سکھایا ہے۔

صحت کی نعمت اور ہدایت:

ہم صبح صبح اکثر پارک میں اور سڑکوں پر لوگوں کو چلتے اور دوڑتے دیکھتے ہیں۔ ایک اچھی خاصی تعداد اس مارننگ واک کی عادی نظر آرہی ہے۔ لیکن اگر ان صبح صبح چلنے اور روزش کرنے والوں کاایک چارٹ تیار کیا جائے تو معلوم ہوگاکہ ان میں اسے اکثر شوگر اور بلڈپریشر جیسے امراض کا شکار ہیں اور ڈاکٹر کے مشورے پر اب اس پر عمل کررہے ہیں۔بہت اچھی بات ہے۔ لیکن اس حرکت اور ورزش کی ضرورت ان کوبھی ہے جو کسی مرض کا شکار نہیں ہیں او راللہ کے فضل و کرم سے صحتمند ہیں۔اس لئے کہ آج کی لا پروائی کا شاخسانہ اکثر کل چکانا پڑتا ہے۔ اسی کی جانب ہماری توجہ دلاتے ہوئے سرور کونین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ نعمتیں ایسی ہیں کہ جن کے معاملے میں اکثر لوگ غفلت میں پڑے ہیں: صحت او رخالی وقت۔“ (بخاری) اس کے علاوہ ایک اور حدیث میں ہے: ”مشغولیت سے پہلے اپنے خالی وقت کو اور بیماری سے پہلے اپنی صحت کو غنیمت جانو۔“(حاکم)

طاقتور مومن،کمزور مومن:

اسلام مسلمانوں کو جسمانی قوت حاصل کرنے کیلئے ہر طرح سے ابھارتاہے۔ مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہؓ  روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاقتور مومن بہتر ہے او راللہ کو محبوب ہے بمقابلہ کمزور مومن کے، او رہر کسی میں خیر ہے۔“

حالانکہ امام نوویؒ اور بعض دیگر ائمہ نے یہاں طاقت سے مراد ایمان کی طاقت لی ہے، لیکن عام طور پر تقریباً سبھی علماء و ائمہ اس سے مراد جسمانی طاقت مراد لیتے ہیں۔ او رکہتے ہیں کہ ظاہری و بدنی قوت والا مومن صبر میں، عمل میں اور عبادات میں آگے بڑھا ہوا ہوگا، اس لئے اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ او رکمزور لوگوں کی بھی دل شکنی نہ ہو اس کے لئے دونوں میں خیر ہونے کی بات بھی کہہ دی گئی ہے۔ لیکن اس حدیت میں مسلمانوں کے لئے ایک واضح پیغام ہے کہ ان کی صحت، ان کی بدنی عافیت ان کو اللہ کامحبوب بنانے والی ہے اور اللہ عزوجل کی عبادتوں کیلئے جسمانی صحت ایک نہایت اہم ذریعہ ہے،اس لئے ان کو اس کے حصول کی کوشش او راس کے میسر آنے کے بعد اس کی حفاظت بہت ضروری ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ:

اک صحمند زندگی گزانے کے لئے سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم صحتمند طریقہ زندگی اپنائیں۔ اپنے روزمرہ کے معمولات کا ایک نظام بنائیں او راس پر مضبوطی سے قائم رہیں۔ ان معمولات میں ہمارے لئے محنت اور حرکت موجود ہو۔ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ اس اندھیری دنیا میں ہمارے سامنے بالکل ایک روشن قندیل کی طرح موجود ہے، جو ہم کو زندگی کے ہر محاذ پر آگے بڑھنے کا راستہ بتاتی ہے۔مختلف کتب کے حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یومیہ معمول (جوو قت او رحالات کے حساب سے کبھی کبھار تبدیل بھی ہوتا تھا) ان باتوں پر محیط تھاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کے وقت اٹھنے کے عادی تھے، فجر بعد سونے کامعمول نہ تھا(لاک ڈاؤن کی وجہ سے ایک اچھی خاصی تعداد اس کاشکار ہوچلی ہے) ہاں بعد ظہر کچھ دیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرمایا کرتے تھے جس کو عربی میں قیلولہ کہا جاتاہے اور جس سے ہمیں بھر پور قوت وتوانائی حاصل ہوتی ہے۔ رات میں عشاء کے بعد جلد سوجانے کا معمول تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود کے آرام کے لئے اور اپنے اہل و عیال کے لئے کچھ وقت ضرور فارغ کیا کرتے تھے۔ گھر میں جب ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اپنے کام کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ یہ ساری عادتیں انسان کے لئے ایک نہایت ہی خوشحال، خوش و خرم اور صحتمند زندگی کی ضامن ہیں۔ اگر ہم ان بہترین عادتوں کا آئینہ سامنے رکھ کر آج ہماری زندگی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگاکہ نہ صرف یہ کہ ہم اس طریقہ سے کہیں بہت دو رنکل آئے ہیں بلکہ اس کی بہت بھاری قیمت بھی چکارہے ہیں۔

غذا میں اعتدال و توازن

قرآن مجید میں اللہ عزوجل نے صرف چھ الفاظ میں نہایت ہی مختصر اور جامع انداز میں سارے انسانوں کے لئے کھانے پینے کی سب سے بہترین ہدایات جاری کردی ہیں۔ سورۃ الاعراف،آیت  31 میں اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:”او رکھاؤ او رپیو، اور فضول خرچی مت کرو۔“ تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ اللہ عز وجل نے ساری کی ساری طب کو آیت کے اس آدھے حصے میں جمع کردیا ہے۔ اس لئے کہ اللہ عزوجل نے انسان کو کھانے پینے کی اجازت دی اور فوری بعد اسراف او رزیادتی نہ کرنے کا حکم دیا۔ اور جس نے اپنے کھانے کو کنٹرول کرلیا، اس نے اپنی صحت پرعبور حاصل کرلیا۔ اطباء کا ماننا ہے کہ انسانی جسم کی 80 فیصد بیماریاں معدے میں خرابی کی وجہ سے ہی ہوتی ہے۔

غذا کی بات نکلی ہے تو ہم سب کے لئے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مشعل راہ کے طورپر کافی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی آدمی نے اپنے پیٹ سے برابر تن کبھی نہیں بھرا۔ آدمی کے لئے وہ چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھ سکیں۔ اور اگر اس کو (زیادہ) کھانا ہی ہو تو پھر ایک تہائی کھا نے کے لئے،ایک تہائی پانی کے لئے او رایک تہائی ہوا کے لئے ہونا چاہئے۔(نسائی، ترمذی)

یہ واضح ہدایات ایک انسان کو نہ صرف غذا کے متعلق بہترین ہدایات دیتی ہیں بلکہ یہی انسان کی صحت کی سب سے بڑی ضامن ہیں بشرطیکہ دستر خوان پر بیٹھ کر بھی ان کو یاد رکھا جائے او ران پر بھرپور عمل کیا جائے، نہ کہ تکلف برطرف، نوالہ ہر طرف، کو روبہ عمل لایا جائے۔

بیمار ہونے پر:

اور اگر یہ سب کرنے کے بعد بھی انسان کو بیماری آتی ہے، او روہ کبھی کبھار وقتاً فوقتاً آتی ہی رہتی ہے تو یہاں بھی اسلام ہم کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا بلکہ انسان کو علاج کی جانب راغب کرتاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علاج کیا کرو، اس لئے کہ ہر بیمار ی کاعلاج ہے، سوائے بڑھاپے کے۔(بخاری،مسلم)او رابوداؤد کی ایک حدیث میں ہے کہ ”اللہ عزوجل نے بیماری اور دوا دونوں نازل کی ہیں، ہر بیماری کی دوا ہے تو تم علاج کروایا کرو اور حرام چیز کے ذریعہ علاج نہ کرو۔“ ظاہری علاج کے ساتھ ساتھ قرآن مجید او رآپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت دعاؤں سے بھی علاج کی تعلیمات دی گئی ہیں۔ سورۃ الفاتحہ کو سورۃ الشفاء اسی لئے کہا جاتاہے کہ اس میں ہر بیماری سے شفاء موجود ہے۔

مختصر یہ کہ انسان کی صحت او راس کی عافیت اسلام میں نہایت اہمیت کی حامل ہے، اور اسلام نے اسی لئے اس سمت میں مکمل رہنمائی فرمادی ہے تاکہ وہ اپنی صحت کی حفاظت کرے اور اس طرح دین میں عبادات اور اللہ عزوجل کے کاموں کیلئے خود کو زیادہ سے زیادہ چاق و چوبند بنا سکے۔ اب انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی صحت کی اہمیت کو سمجھے، اپنے بدن کو اللہ کی امانت سمجھ کر اس کا خیال رکھے۔ آج کے اس دور میں جب پتہ نہیں غذا کے نام پر کیا کیا ہمارے پیٹ میں جارہا ہے، اچھی اور متعدل مقدار میں غذا کااہتمام کرے تاکہ وہ ایک صحتمند اور توانائی سے بھر پور زندگی گزار سکے، ایک ایسی زندگی جس میں اللہ وجل کی زیادہ سے زیادہ عبادت ہوکیونکہ یہی تو انسان کی تخلیق کامقصد ہے۔

3 جون،2022، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/guidelines-healthy-life-quran-hadith/d/127201

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..