New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 11:35 PM

Urdu Section ( 1 Apr 2012, NewAgeIslam.Com)

Uncertainties and Karachi’s Falling Environment بے یقینی کے سایے اور کراچی کی دگرگوں صورت حال


مجاہد حسین، نیو ایج اسلام

’’انتظار کرو اور آخری حد تک اپنے مفادات کے حصول کے لیے سودے بازی کا مظاہرہ کرو،اس دوران زبان و بیان پر قابو رکھو اور اس بحرانی وقفے میں جو بھی آڑے آئے اُس کو دھیان میں رکھو تاکہ بوقت ضرورت اُس کے ساتھ معاملہ کیا جاسکے‘‘یہ وہ چند مختصر اور بنیادی اُصول ہیں جن کی پاسداری کے سہارے صدر مملکت آصف علی زرداری اور اُن کی کوششوں سے تاریخی شخصیت کا روپ دھارتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے پاکستان اور اس کے عوام کی زندگیوں پر کسی قسم کا مثبت اثر ڈالے بغیر اپنی حکومت کا دورانیہ تقریباً مکمل کرلیا ہے۔پاکستان میں کسی جمہوری حکومت نے کبھی خواب میں بھی یہ سوچا نہ ہوگا کہ وہ آئی ایس آئی کو چاروں شانے چت کردے گی لیکن یہ کارنامہ موجودہ حکومت نے ہنستے کھیلتے ہوئے سرانجام دے ڈالا ہے۔آئی ایس آئی کے سابق چیف ہاتھ ملتے ہوئے رخصت ہوچکے ہیں اورنئے چیف تہہ دل سے وزیراعظم کے شکر گزار ہیں کہ اُنہیں اس منصب کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔عدالتیں پریشان ہیں کہ صدر اور وزیراعظم کو کس طرح شکنجے میں لائیں کیوں کہ دونوں شخصیات کسی طور آسان شکار ثابت نہیں ہوسکیں۔آرمی چیف اپنے سابق پیش رو کے انجام سے بخوبی واقف ہیں اور خاموشی اِن کے لیے ہمیشہ بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔

ایک نئی تبدیلی البتہ یہ ہے کہ دفاع پاکستان اور دفاع اسلام کے عنوانات کے تحت کامیاب جلسے کرنے والی قوتیں اسلام آباد کی فیصلہ ساز قوتوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں۔مولانا فضل الرحمن،حافظ سعید اور منور حسن کے درمیان مقابلہ جاری ہے کہ کون کس قدر طاقت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ابتدائی نتائج یہ بتاتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کمزور حریف نہیں جب کہ حافظ سعید آسانی کے ساتھ منور حسن کو مات دے چکے ہیں۔منور حسن جماعت اسلامی کے سیاسی زوال کی آخری نشانی ثابت ہوئے ہیں کیوں کہ وہ اپنے پیش رو قاضی حسین احمد کی طرح متحرک نہیں ۔بعض ذرائع کا خیال ہے کہ دفاع پاکستان کونسل،دفاع اسلام کے نام مولانا فضل الرحمن اور تحریک انصاف کے جناب عمران خان کو پاکستان کے روایتی خفیہ ہاتھوں کی مدد حاصل ہے تاکہ ملک میں ’’متبادل قیادت‘‘ کے تصور کو عملی جامہ پہنایا جائے۔دوسری طرف مرکز میں برسراقتدار پیپلز پارٹی اور ملک کے سے بڑے صوبے پنجاب میں اقتدار کی مالک مسلم لیگ نواز روایتی انتخابی سیاست میں اپنا آپ مضبوط بنا رہی ہیں۔جس کے بعد طاقت ور اداروں کا ’’متبادل قیادت کاتصور‘‘ کسی قسم کی انتخابی سیاست میں دھندلاتا نظر آرہا ہے۔عمران خان کی تحریک انصاف ایسے کسی انتخابی معرکے میں بُری طرح شکست سے دوچار ہوگی جب کہ مخصوص علاقوں سے باہر ملاؤں کے پاس کوئی انتخابی طاقت نہیں ہے۔دفاع پاکستان کونسل کی روح رواں جماعت الدعوہ ویسے ہی جمہوریت کو کفر سمجھتی ہے اور حافظ سعید صاحب جب تک جمہوریت کی تکفیر والے اپنے فتوئے سے رجوع نہیں کرتے اِن کی جماعت کی طرف سے کسی انتخابی معرکے میں حصہ لینا بعید ازقیاس ہے۔تحریک انصاف کے ایک’’الہامی‘‘ ساتھی اور معروف قلم کار جناب ہارون رشید کی طرف سے البتہ’’خطرے‘‘ کی پیشگی بو سونگھ لینے کی حس کی داد دینا پڑے گی کہ اُنہوں نے کہنا شروع کردیا ہے کہ پاکستان کو جمہوریت اور جمہوری حکومتوں نے کچھ نہیں دیا۔پاکستان اور پاکستان کے عوام کی تمام تر ترقی میں ڈکٹیٹروں کا ہاتھ ہے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کسی الیکشن کی صورت میں پاکستان میں کون سی سیاسی جماعتیں پھر میدان مارنے کے لیے تیار کھڑی ہیں۔

غرض ایک ایسی صورت حال سب کے سامنے موجود ہے جس میں واضح نظر آرہا ہے کہ اگر انتخابات ہوتے ہیں تو ’’متبادل قیادت‘‘ کچھ بھی حاصل نہیں کرپائے گی اورریاست کو ایک دوسری قسم کی انارکی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔کیوں کہ تحریک انصاف کے قائد جناب عمران خان یہ اعلان کرچکے ہیں کہ اُن کی پارٹی کی شکست صرف انتخابی دھاندلی سے ممکن ہوگی اور ایسی صورت میں وہ اپنے مخصوص’’سونامی‘‘ کا رخ اسلام آباد کی طرف موڑ دیں گے۔دفاع پاکستان کونسل کسی قسم کے انتخابی معرکے میں کسی کامیابی سے ہمکنار ہوتی نظر نہیں آتی البتہ مولانا فضل الرحمن دوبارہ اُتنی نشستیں جیت لیں گے جن کے بل بوتے پر وہ آسانی کے ساتھ سودے بازی کرسکتے ہیں۔ایسی ہی صورت حال ایم کیو ایم کی بھی ہے جسے کراچی میں کسی بڑے انتخابی حریف کا سامنا نہیں اور اس کی مسلح طاقت ہر قسم کی درکار کامیابی کے حصول کے لیے کافی ہے۔

کراچی میں گذشتہ ہفتے سے جاری قتل وغارت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان کے اقتصادی مرکز میں عدم تحفظ کی سطح کتنی بلند ہے اور متحارب سیاسی پارٹیاں اور گروہ کس قدر طاقت ور ہیں۔ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین واضح طور پر دھمکی دیتے نظر آرہے ہیں جب کہ دوسری طرف اے این پی کی قیادت اپنے مؤقف پر قائم ہے اور کراچی میں اس کی مخاصمت مزید خون ریز ہوتی جارہی ہے۔عام تاثر یہ ہے کہ کراچی کے متحارب گروہ بھتے اور سیاسی برتری کی جنگ میں مصروف ہیں جس میں ایک دوسرے کے کارکنوں کا قتل معمول کی بات ہے۔البتہ وزیرداخلہ کا بار بار کا یہ انکشاف کسی کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکا کہ کراچی کی بدامنی میں متشدد مذہبی تنظیموں،القاعدہ کے ساتھی گروہوں،تحریک طالبان کے مختلف دھڑوں اور مقامی سطح پر تیزی کے ساتھ مسلح ہوتی ہوئی سنی تحریک کے انتقام کی آگ میں جلتے نوجوانوں کی طرف سے جو کچھ سامنے آرہا ہے اُس کو بھی نظر میں رکھنا چاہیے۔وزیرداخلہ چوں کہ خود اپنی متذبذب بیانی کا شکار ہوئے اور اب اُن پر کسی سطح پر بھی اعتبار نہیں کیا جاتا اس لیے اُن کی اس نہایت اہم بات کو بھی ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا ہے۔یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ کراچی اب ہر قسم کی متشدد تنظیموں کا سب سے بڑا مرکز ہے جو نہ صرف اِنہیں پناہ فراہم کرتا ہے بلکہ اِن کو معاشی فوائد بھی دیتا ہے۔        

حال ہی میں "پنجابی طالبان" سمیت نو کتابوں کے مصنف، مجاہد حسین اب نیو ایج اسلام کے لئے ایک باقاعدہ کالم لکھیں گے۔ تقریبا دو دہائیوں سے وہ تحقیقاتی صحافی کی حیثیت سے معروف اخبارات میں لکھ رہے ہیں۔ ان کی تحریریں پاکستان کے سیاسی اور سماجی وجود ، ایک ملک کے اس کے ابتداء کے مختصر وقت گزرنے کے بعد سے ہی مشکل دور سے گزرنے سے متعلق موضوعات کا وسیع پیمانے پر احاطہ کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر دہشت گردی اور سلامتی سے متعلق امور ان کے مطالعہ کے خصوصی شعبے رہے ہیں۔ مجاہد حسین کے پاکستان اور بیرون ملک کے سنجیدہ حلقوں میں کافی قارئین ہیں۔ آزاد اور غیر جانبدارانہ طرز فکر کو ماننے والے مصنف مجاہد حیسن، بڑے پیمانے پر  طبقوں، اقوام، اور انسانیت کو درپیش چیلنجوں کا ایماندارانہ تجزیہ پیش کرتے ہیں۔

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/uncertainties-and-karachi’s-falling-environment--بے-یقینی-کے-سایے-اور-کراچی-کی-دگرگوں-صورت-حال/d/6971

 

Loading..

Loading..