New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 11:41 AM

Urdu Section ( 14 March 2014, NewAgeIslam.Com)

Is Elimination of Terrorism Possible? (Part 2) کیا دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے؟ قسط دوئم

 

 

مجاہد حسین، نیو ایج اسلام

15 مارچ، 2014

اس میں کوئی ابہام باقی نہیں رہاکہ ریاست پر قبضے کے خواہاں دہشت گردوں اور اُن کے حامیوں کاصفایا مشکل ترین اہداف میں شامل ہوچکا ہے کیوں کہ پاکستان میں سول و فوجی حکومتوں کی ناقص کارکردگی نے عام لوگوں کو اتنا زیادہ متنفر کردیا ہے کہ وہ عبرتناک سزاکے تصور میں راحت محسوس کرنے لگے ہیں۔مذہبی لبادہ اوڑھے انتہا پسندوں کے بارے میں یہ بھی تصور کیا جاتا ہے کہ وہ درویش صفت انسان ہیں اور اِن کا اکل کھرا موقف و مقصد یہ ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا قانون پوری قوت کے ساتھ نافذ کردیا جائے چاہے اس کے حصول کے لیے جتنے بھی انسانوں کو قتل کیا جائے ،کوئی حرج نہیں۔

مثال کے طور پر پاکستان میں فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے اقتدار کو ابتدائی طور پر قانونی جواز فراہم کرنے والی عدالت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو بعد میں عوامی پسندیدگی محض اس لیے حاصل ہوئی کہ وہ ماوارئے قانون ہتھکنڈوں کے حامل افراد اور اداروں کو اُلٹا لٹکادیں گے۔بڑے عہدیداروں کو سزائیں سنائی جائیں گی اور ملک میں عدل و انصاف کے دھارے بہہ نکلیں گے،لوگوں نے اپنی محرومیوں کا مداوا چیف جسٹس کی ذات سے جوڑ دیا۔سابق چیف جسٹس سے باندھ لی جانے والی اُمیدوں اور انتہا پسندوں کے طاقت ور اداروں اور افراد کے خلاف بے رحمانہ حملوں سے انتقام اور ازالے کے لاتعداد خواہش مندوں کی وابستگی ایک سمجھ میں آنے والی کیفیت ہے۔

جیسے لاتعداد خواہش مندان عدل و انصاف سابق چیف جسٹس کی ذات سے جڑے طمطراق اور خالصتاً ذاتی مفادات میں پیوست جانبداری سے آگاہ نہیں تھے ایسے ہی وہ طالبان مسلح گروہوں کے اجزائے ترکیبی اور اِن کے عزائم کے بارے میں بہت حد تک لاعلم ہیں۔عام لوگوں کو روانی کے ساتھ بتایا جاتا ہے کہ افغان بوریہ نشینوں نے پہلے لادین روسیوں کو تباہ و برباد کردیا اور اب امریکہ سمیت نیٹو کی کثیر ملکی افواج کو خاک چاٹنے پر مجبور کردیا ہے۔دنیا کی اتنی زیادہ طاقت ور اقوام کی افواج کو شکست فاش دینے والوں سے غائبانہ طور یہ توقع بندھ جاتی ہے کہ وہ ہندو بھارت کی بزدل افواج کا منٹوں میں صفایا کردیں گے اور جو کام ہمارے سابق حکمران اور زبردست افواج سات عشروں میں نہیں کرسکیں، وہ کام چند دنوں میں مسلح انتہاپسند کرگزریں گے۔

مثال کے طور پر پاکستانی ذرائع ابلاغ میں کوئی اس طرح کی غیر جانبدار تحقیق کرنے کو تیار نہیں کہ پاکستان میں ہزاروں افراد کی ہلاکتوں کی ذمہ دار فرقہ وارانہ جماعتوں اور گروہوں کی طاقت کا اصل مرکز کہاں واقع ہے؟ پاکستان میں انتہا پسندی کے سوتے کہاں سے اور کیسے پھوٹتے ہیں؟پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے فرقہ واریت اور انتہا پسندی میں کیسا کردار ادا کیا ہے؟ پاکستان کے طاقت ور اداروں نے اس ضمن میں کس طرح کا کردار نبھایا ہے؟سب سے بڑھ کر آج پاکستانی ریاست جس مقام پر کھڑی ہے یہاں سے واپسی کے لیے اس کو کس طرح کے کٹھن مراحل سے گزرنا پڑے گا؟ اور بدقسمتی سے اگر یہ سفر جاری رہتا ہے تو مستقبل کا پاکستان کیسا ہوگا؟شدید نوعیت کے منقسم اور متذبذب ٹیلی ویژن مذاکروں میں دوطرفہ خواہشات اور ایک دوسرے کو چت کردینے تک محدود مکالموں سے زیادہ کچھ منعکس ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ دانش وران کرام دو واضح ترین دھڑوں میں منقسم ہوا میں تلواریں چلاتے نظر آتے ہیں اور ریاست انہدام کی طرف رواں دواں ہے۔

شاید بہت کم لوگ یہ تسلیم کرنے کو تیار ہیں کہ منتخب حکومت کی طرف سے حالیہ مذاکرات کی دعوت نے انتہا پسندوں کو نہ صرف مضبوط کیا ہے بلکہ ریاست کے اندر اِن کے خیر خواہوں کی آواز کو مزید توانا کردیا ہے۔حکومت واضح طور پر انتہا پسندوں کے سامنے اوندھے منہ لیٹی ہوئی نظر آتی ہے، جو قدرتی طور پر بالادست فریق کا اپنا تصور دھندلا چکی ہے اور دعوت مذاکرات آگے بڑھ کر منت سماجت کی شکل اختیار کرچکی ہے۔واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ فوج نے مذاکرات میں اپنے نمایندے کی شرکت سے انکار کرکے حکومت کے بالادست تصور کو مرمت کرنے کی کوشش کی ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت آج بھی بہت سے معاملات میں مشرف دشمنی کے اپنے روایتی تصور سے جان نہیں چھڑا سکی اور اِسے طالبان و القاعدہ بشمول فرقہ پرست گروہ، محض اس لیے بُرے نہیں لگتے کہ دونوں میں’’مشرف دشمنی‘‘ ایک قدر مشترک کی حیثیت رکھتی ہے۔حالاں کہ انتہا پسندوں نے آگے بڑھ کر اپنے ریاست دشمن تصور کو مزید اُجاگر کردیا ہے اور واضح کردیا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے ہر قسم کے حربے اختیار کرنے کے لیے تیار ہیں۔

میاں نواز شریف کو ہر وقت یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کا واضح ہدف وہ نہیں بلکہ اُن کے ہر قسم کے مخالف لوگ ہیں، جو پاکستان کی مذہبی اساس کے دشمن ہیں اور ریاست کو مغرب کی کاسہ لیس بنانا چاہتے ہیں۔اِنہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ اگر اُن کی حکومت قبائلی علاقوں اور پاکستان کے بڑے شہروں میں جڑ پکڑ چکے انتہا پسندوں اور فرقہ پرستوں کے خلاف کھلی جنگ چھیڑ دے گی تو حتمی نقصان منتخب حکومت کو اُٹھانا پڑے گا اور پھر کوئی طاقت ور مہم جو اُنہیں آسانی کے ساتھ اقتدار سے باہر پھینک کر ملکی عدلیہ کو رام کرلے گا اور یوں وہ قدرت کی طرف حاصل شدہ حکمرانی کا یہ تقریباً آخری موقع بھی گنوا دیں گے۔میاں صاحب دراصل ایک ایسے سہمے ہوئے شخص کی مانند نظر آتے ہیں جو لاتعداد دشمنوں کی بھیڑ میں خزانہ ہاتھ آجانے کے بعد اس کی حفاظت کے خوف سمیت دشمنوں کی چھینا جھپٹی سے لرزاں ہوتا ہے۔یہ ایک ایسا مقام ہے جہاں بے خطر ہوکر بڑے فیصلے کرنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے ۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت انہدام کے خطرے سے دوچار ریاست کو کس طرح استحکام بخشتی ہے۔ہمسایہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد ممکنہ طور پر نظر آنے والی خطرناک صورت حال سے نبٹنے کے لیے پاکستانی ریاست دو عشرے پہلے کی اپنی تقریباً فرسودہ حکمت عملی پر دوبارہ گامزن ہوجاتی ہے یا فاصلے پر رہ کر اپنے مفادات کے لیے بہتر انداز اختیار کرتی ہے۔ملک کے اندر پھیلے ہوئے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو کمزور کرتی ہے یا تزویراتی گہرائی کے پٹے ہوئے تصور کو پالش کرنے میں جت جاتی ہے؟جس کے تحت ہم ریاست کے کونے کھدروں تک میں مسلح مہم جو گروہوں کو پوری طرح طاقت ور بنا چکے ہیں۔یہ ایک ایسی کشمکش ہے جس کے تقریباً سبھی خدوخال ریاست کی بقاء اور پاکستانی سماج کے ارتقاء کے لیے خطرناک ہیں۔

دوسرے طرف کوئی ایک مسلح گروہ بھی میاں نواز شریف کی حکومت کے لیے خیر سگالی کے تصورات نہیں رکھتا۔نہ اُنہیں پاکستانی عوام سے کسی قسم کی ہمدردی ہے اور نہ ہی پاکستان کی افواج اُن کے ہاں کسی بہتر سلوک کی حق دار ہیں۔دہشت گردوں کی اس حوالے سے یکسوئی پاکستانی ریاست کے لیے مزید پریشانیاں پیدا کردیتی ہے جب وہ ریاست کے آئین اور اس کے اداروں کو یکسر طور پر رد کردیتے ہیں۔مزے کی بات یہ ہے کہ اس قسم کے تصورات کی ترویج کے لیے دہشت گردوں کو لاتعداد وکیل آسانی سے دستیاب بھی ہوجاتے ہیں جو نہ صرف ریاست کے آئین کو رد کردیتے ہیں بلکہ ریاست کے عوام اور افواج کی لاتعداد قربانیوں کو یک جنبش قلم مسترد کردیتے ہیں۔اس قسم کی ذہن سازی کیونکر ممکن ہوسکی ہے اور اس کا مداوا کیسے ممکن ہے؟(جاری ہے)

مجاہد حسین ، برسیلس میں نیو ایج اسلام کے بیرو چیف ہیں ۔ وہ حال ہی میں شائع شدہ کتاب ‘‘پنجابی طالبان’’  سمیت نو کتابوں کے مصنف ہیں۔  تقریبا دو دہائیوں سے وہ تحقیقاتی صحافی کی حیثیت سے معروف اخبارات میں لکھ رہے ہیں۔ ان کی تحریریں پاکستان کے سیاسی اور سماجی وجود اوراسکے  اپنی تشکیل کے فوراً بعدسے ہی مشکل دور سے گزرنے سے متعلق موضوعات کا وسیع پیمانے پر احاطہ کرتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر دہشت گردی اور سلامتی سے متعلق امور ان کے مطالعہ کے خصوصی شعبے رہے ہیں۔ مجاہد حسین کے پاکستان اور بیرون ملک کے سنجیدہ حلقوں میں کافی قارئین ہیں۔ آزاد اور غیر جانبدارانہ طرز فکر کو ماننے والے مصنف مجاہد حسین، بڑے پیمانے پر طبقوں، اقوام، اور انسانیت کو درپیش چیلنجوں کا ایماندارانہ تجزیہ پیش کرتے ہیں۔

URL for Part-1:

http://www.newageislam.com/urdu-section/mujahid-hussain,-new-age-islam/is-elimination-of-terrorism-possible?-(part-1)-کیا-دہشت-گردی-کا-خاتمہ-ممکن-ہے؟-قسط-اول/d/56073

URL for this article:

http://newageislam.com/urdu-section/mujahid-hussain,-new-age-islam/is-elimination-of-terrorism-possible?-(part-2)--کیا-دہشت-گردی-کا-خاتمہ-ممکن-ہے؟-قسط-دوئم/d/56145

 

Loading..

Loading..