New Age Islam
Sat Jul 20 2024, 12:13 PM

Urdu Section ( 6 Jul 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Final Shape of Qadri and Imran’s Revolutions قادری اور عمران کے انقلابات کی حتمی صورت گری

مجاہد حسین، نیو ایج اسلام

6جولائی، 2014

قومی سیاسی اُفق پر کچھ ٹھہراؤ محسوس ہونے لگا ہے کیوں کہ علامہ طاہر القادری اور عمران خان حکومت کو کچھ ہفتوں کی مہلت دینے پر تیار ہیں۔طاہر القادری یقینی طور پر رمضان المبارک کی مصروفیات اور احترام رمضان کے تقاضوں کے تحت کسی قسم کے اُلجھاؤ سے گریز کررہے ہیں جب کہ عمران خان اپنے حتمی وار کے لیے یوم آزادی کو منتخب کرچکے ہیں۔ایسے خواہش مندان کے لیے جو اسلام آباد کو میاں برادران سے خالی دیکھنا چاہتے ہیں ناچار کچھ دن انتظار کرنا پڑے گا۔میاں برادران بھی رائے ونڈ میں جمع ہیں اور آج مسلم لیگ کے اندر پڑجانے والی دراڑ کو ٹھیک کرنے کے لیے وزیرادخلہ چوہدری نثار علی خان کے گلے شکوئے دور کرنے میں مصروف ہیں۔

اُمید ہے کہ میاں برادران چوہدری نثار علی کو منا لیں گے اور مسلم لیگ کے اندر جاری ٹوٹ پھوٹ کے عمل کو آگے بڑھنے سے روک دیں گے۔لیکن اس تمام مشق سے طاہر القادری اور عمران خان کی صورت میں حکومت کے سر پرمنڈلانے والے طوفانوں کے تیور تبدیل کرنے میں اِنہیں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ابھی سے یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ طاہر القادری اور عمران خان کس حد تک حکومت کے لیے خطرناک ہوں گے لیکن یہ طے ہے کہ دونوں اپنے اپنے وار کو حتی المقدور کاری بنانے کے لیے سرتوڑ کوشش کررہے ہیں۔

طاہر القادری اپنے ایسے تمام مخیر ساتھیوں کو جو بیرون ملک آباد ہیں پاکستان آنے اور انقلاب میں حصہ لینے کا حکم دے چکے ہیں جب کہ عمران خان ملک میں بڑے بڑے اجتماعات کا ایک کامیاب تجربہ رکھتے ہیں اور اُن سے اُمید کی جارہی ہے کہ وہ اسلام آباد میں ایک بڑا اجتماع کرلینے کی مکمل اہلیت رکھتے ہیں۔مثال کے طور پر دونوں لیڈر اگر اپنے اپنے اجتماعات کو ایک خاص حد تک لیجاتے ہیں اور اِنہیں وہ قوت حاصل ہوجاتی ہے جس کے لیے وہ بیتاب ہیں تو انقلاب کی تکمیل کا مرحلہ کس طرح طے ہوگا، اس کے بارے میں ابھی تک دونوں خاموش ہیں۔

اس میں کوئی ابہام نہیں کہ دونوں لیڈروں کو یقین ہے کہ جب اُن کے اجتماعات اقتدار میں موجود لوگوں کی تبدیلی کے لیے ناگزیر صورت اختیار کرجائیں گے تو ملکی افواج حرکت میں آئیں گی اور اسلام آباد کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیں گی۔وزیراعظم کو اقتدار سے ہٹا کر کہیں محفوظ مقام پر نظر بند کردیا جائے گا اور سرکاری ٹیلی ویژن پر آرمی کے چیف کی تقریر کے لیے اعلانات شروع ہوجائیں گے۔پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی جائے گی وغیرہ، اس طرح کی صورت حال ماضی میں ہم کئی بار دیکھ چکے ہیں۔ایسے ہی خواب ہمارے اکثر لیڈر دن رات دیکھتے پائے جاتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں ایسا ہو بھی جاتا ہے۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا دونوں میں سے کوئی ایک لیڈر بھی ایسا مکمل انقلاب لانے کی سکت رکھتا ہے؟ اور کیا اس طرح کے کسی انقلاب کا راستہ روکنے کے لیے کوئی دوسری قوت موجود ہے؟

دیکھنا یہ ہے کہ علامہ طاہر القادری کس حد تک ’’انقلاب‘‘ کے لیے درکار قوت کا مظاہرہ کرپاتے ہیں۔طاہر القادری صاحب کے انقلاب کے لیے سب سے بڑا خطرہ پنجاب یا وفاق کی حکومت سے زیادہ انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے زخمی دہشت گرد ہیں جو وزیرستان آپریشن کا بدلہ لینے کے لیے کسی عوامی اجتماع کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔علامہ طاہر القادری ایسے شورش پسندوں کے بارے میں سخت موقف رکھتے ہیں اور کچھ عرصہ پہلے خودکش حملوں کے بارے میں ایک مدلل فتوی صادر کرچکے ہیں ،جس کے بعد دہشت گردوں کے ہاں اُن کے لیے کسی قسم کی رعایت باقی نہیں۔دہشت گردوں کے ہاں علامہ طاہر القادری سے بیزاری کی دوسری بڑی وجہ اُن کا پاکستان کی فوج کی طرف واضح جھکاؤ بھی ہے اور طاہر القادری کی جماعت پاکستان عوامی تحریک وہ واحد جماعت ہے جس نے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے حق میں باقاعدہ ریلیاں منعقد کی ہیں۔

بعض ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ دہشت گرد علامہ طاہر القادری کے مرکزی دفتر کو کئی بار دھمکیاں دے چکے ہیں اور طاہر القادری دہشت گردوں کا ایک بڑا ہدف ہیں۔طاہر القادری سے دہشت گردوں کی مخاصمت کی ایک اور وجہ جو قدرے گھمبیر بھی ہے اور مستقبل میں اس کی صورت گری مزید مہلک بھی ہوسکتی ہے، وہ ہے علامہ طاہر القادری سے واضح ترین مسلکی اختلاف۔اس اختلاف کی ایک دوسری مہلک اور کسی قدر مماثل شکل دیکھنے کے لیے کراچی میں سنی تحریک کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ کس طرح انتہا پسندوں نے سنی تحریک کی قیادت کو چن چن کر ختم کیا ہے اور آج بھی اُن کے لیے کس قسم کے خطرات موجود ہیں۔

اگر مسلکی اختلاف کی یہ صورت علامہ طاہر القادری اور اُن کی جماعت کی طرف رخ کرلیتی ہے تو کہا جاسکتا ہے کہ ریاست کو مزید خطرناک صورت ھال کا سامنا کرنا پڑے گا۔کہا جاسکتا ہے کہ طاہر القادری اور اُن کی جماعت کے لیے پاکستان کے مسلح انتہا پسندوں کے ہاں کوئی رعایت نہیں اور خاص طور پر اُس وقت جب طاہر القادری کسی قسم کی سیاسی قوت حاصل کرلیتے ہیں تو یہ دشمنی مزید خطرناک اور مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔اس لیے یہ کہنا آسان ہے کہ طاہر القادری کو کسی قسم کے کامیاب انقلاب سے پہلے کٹھن حالات کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے، جس کی تمام تر جزئیات ہمارے سامنے ہیں۔

باقی رہے حضرت عمران خان اور چودہ اگست کو اسلام آباد کے درودیوار ہلادینے والا اُن کا ممکنہ سونامی تو اس کے بارے میں کئی انادزے لگائے جارہے ہیں۔اگر حکومت عمران خان کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے چار نشان زد انتخابی حلقوں کے ووٹوں کی شفاف طریقے سے تحقیقات کروانے پر رضا مند ہوجاتی ہے تو عمران خان کہہ چکے ہیں کہ وہ چودہ اگست کے سونامی کی کال واپس لے لیں گے۔ظاہر ہے حکومت کسی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے اِن حلقوں کی دوبارہ شفاف گنتی اور کاسٹ کردہ ووٹوں کے نشان انگوٹھا وغیرہ کی تحقیق کا اہتمام کرسکتی ہے اور اگر عمران خان کے اِن چار حلقوں کے بارے میں عائد کردہ الزامات سچ ثابت ہوتے ہیں تو یقینی طور پر حکمران جماعت کی چار نشستیں ختم ہوجائیں گی اور عمران خان کو حکومت پر اخلاقی برتری حاصل ہوجائے گی۔

 لیکن اس کے بعد کیا ہوگا؟ خود ابھی تک عمران خان کے پاس اس سوال کا جواب نہیں۔ظاہر ہے اس طرح کی صورت حال کے بعد عمران خان نہایت شریفانہ مطالبہ کریں گے کہ حکومت مستعفی ہوجائے اور مڈٹرم انتخابات کا اعلان کیا جائے۔کیا حکومت اس طرح کی کسی ندامت کے بعد مستعفی ہو جائے گی؟ ایک عام خیال یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوگا اور عمران خان نئی تیاری کے ساتھ اگلا وار کرنے کا ارادہ ظاہر کریں گے۔اِن کا اگلا وار کتنا موثر ہوگا اور وہ سونامی کی ہی کال دیں گے یا خیبر پختونخواہ کی حکومت توڑ دیں گے، عمران خان ایک مستقل مصیبت کی صورت میں مرکزی حکومت کے سرپر سوار رہیں گے۔یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا آسان نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ ریاست کے نقصانات کی تفصیل میں اضافہ ہوتا رہے گا اور معاملات پہلے سے کہیں زیادہ بگڑ جائیں گے۔

مجاہد حسین ، برسیلس (Brussels) میں نیو ایج اسلام کے بیرو چیف ہیں ۔ وہ حال ہی میں شائع شدہ کتاب ‘‘پنجابی طالبان’’  سمیت نو کتابوں کے مصنف ہیں۔  تقریبا دو دہائیوں سے وہ تحقیقاتی صحافی کی حیثیت سے معروف اخبارات میں لکھ رہے ہیں۔ ان کی تحریریں پاکستان کے سیاسی اور سماجی وجود اوراسکے  اپنی تشکیل کے فوراً بعدسے ہی مشکل دور سے گزرنے سے متعلق موضوعات کا وسیع پیمانے پر احاطہ کرتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر دہشت گردی اور سلامتی سے متعلق امور ان کے مطالعہ کے خصوصی شعبے رہے ہیں۔ مجاہد حسین کے پاکستان اور بیرون ملک کے سنجیدہ حلقوں میں کافی قارئین ہیں۔ آزاد اور غیر جانبدارانہ طرز فکر کو ماننے والے مصنف مجاہد حسین، بڑے پیمانے پر طبقوں، اقوام، اور انسانیت کو درپیش چیلنجوں کا ایماندارانہ تجزیہ پیش کرتے ہیں۔

URL: https://newageislam.com/urdu-section/final-shape-qadri-imran’s-revolutions/d/97927

Loading..

Loading..