New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 05:39 PM

Urdu Section ( 5 May 2014, NewAgeIslam.Com)

Dispute With the Journalists or Business Houses? صحافیوں یا کاروباری ترجمانوں کا تنازعہ؟

 

 

 

 

مجاہد حسین، نیو ایج اسلام

6مئی، 2014

پاکستان میں صحافت اور اس کی حدود وقیود کے بارے میں بہت کشیدہ صورت حال پیدا ہوچکی ہے اور امکان یہی ہے کہ پاکستانی صحافت کو مقتدر قوتوں کی خواہش کی رسی کے ساتھ باندھ دیا جائے گا۔اس خواہش کی تمام تر امکانی جزئیات خود پاکستانی صحافت کا ایک بہت بڑا حصہ ترتیب دے رہا ہے، جس کی نمایاں وجہ ذرائع ابلاغ کے اداروں اور افراد کی باہمی جنگ ہے۔کیوں کہ ریاست اور اس کے عوام کو لاحق اصل موضوعات سے مستقل طور پر کنارہ کشی اسی طور ممکن ہے کہ ذرائع ابلاغ کو ایسے موضوعات میں اُلجھا دیا جائے جن سے جان چھڑانا آسانی کے ساتھ ممکن نہ ہو۔جس ریاست میں قانون کے احترام اور آئین کی بالادستی کے تصورات ابھی پیدا بھی نہ ہو پائے ہوں اور وہاں خود کو قانون اور آئین قرار دے کر تمام اختیارات اور طاقت اپنے پاس جمع کرلینے کی روایت پوری قوت کے ساتھ موجود ہو وہاں محض نشان زد اداروں کے لیے حدود وقیود کے تانے بانے سمجھ میں نہ آنے والی منطق ہے۔

ایک صحافی پر ہوئے حملے اور اس کے بعد کے واقعات ایک باقاعدہ تنازعے کی صورت اختیار کرگئے ہیں اور اس کشیدگی کا منطقی انجام نظر آنے لگا ہے۔کچھ ایسی آوازیں بھی بلند ہورہی ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ حامد میر پر ہونے والے حملے کو جواز بنا کر پاکستان دشمن قوتیں پاکستانی ریاست اور اس کے سیکورٹی اداروں کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ہمارے ہاں چونکہ ’’وقتی اُبال‘‘ اس قدر شدید ہوتا ہے کہ معروضیت کے تمام پہلو اس کے نیچے دب جاتے ہیں اس لیے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔مثال کے طور پر میمو سیکنڈل میں جس قدر مصنوعی ہوا بھری گئی وہ ہمارے سامنے ہے اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ پاکستان کا منتخب صدر باقاعدہ اس منصوبہ بندی کے تحت ملک سے چلا گیا کہ اب یا تو وہ خاندان سمیت قتل ہوسکتا ہے یا پھر اس کو ہٹا کر زندان میں ڈال دیا جائے گا۔یہی سب کچھ ہمارے ہاں ریمنڈ ڈیوس نامی امریکی کی طرف سے دو پاکستانیوں کے قتل کے بعد ہوا، ایسا ہی جوار بھاٹا ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا اور پھر اس سے ملتی جلتی کیفیات لال مسجد واقعے اور عافیہ صدیقی کی امریکیوں کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ہمارے قومی اُفق پر چھائی رہیں۔

آج کچھ بھی تبدیل نہیں ہوسکا،میمو سکینڈل قومی یادداشت سے تقریباً محو ہوچکا ہے، ریمنڈ ڈیوس کو یاد کرنے والا بھی کوئی نہیں ملتا،اُسامہ بن لادن ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والے سوالات بھول چکے ہیں،لال مسجد دوبارہ آباد ہوچکی ہے اور اس کے وابستگان پہلے سے بہتر معاشی و سماجی آسودگی کے حامل ہیں اور عافیہ صدیقی کو بھی فراموش کیا جاچکا ہے۔یہی کچھ مشرف کے ساتھ بھی ہوا، اُس پر دائر سنگین مقدمے کی ہوا نکلنا شروع ہوچکی ہے اور وہ آسانی کے ساتھ مشکل وقت ایک فوجی ہسپتال میں گزار کر کراچی میں محو آرام ہے اور اُمید ہے کہ کسی دن وہ دبئی یا لندن کے محفوظ مقام سے ایکبار پھر قوم سے خطاب کرے گا۔آج ہم حامد میر پر ہوئے قاتلانہ حملے اور اس کے بعد حامد میر کے خاندان اور ادارے کی طرف سے اُچھالے گئے الزامات کے بعد اس بحث کا شکار ہیں کہ اب کیا ہوسکتا ہے۔معاصر ابلاغی اداروں میں ہیجانی کیفیت طاری ہے اور وہ اس کوشش میں مصروف ہیں کہ کسی طرح حامد میر اور اس کے ادارے کو ریاست دشمن قرار دلواکر اپنی کامیابی کا اعلان کریں۔

پورے ملک میں حامد میر اور اس کے ادارے کے خلاف احتجاجی جلوس برآمد ہورہے ہیں اور محض ایک الزام کے بعد بہت سے لوگ اس کوشش میں مصروف ہیں کہ فوج اور اس کے خفیہ ادارے کو باقاعدہ فریق بنا کر پیش کیا جائے۔حیرانی اس بات کی ہے کہ وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں کیوں کہ ابھی تک فوج اور اس کے خفیہ ادارے کی طرف سے ایسے لوگوں کو شٹ اپ کال نہیں دی گئی۔فوج ایک ایسا ادارہ ہے جس کو کسی طور ایسے موقع پرستوں کی حمایت کی ضرورت نہیں جو اس تنازعے میں اپنی خواہشات کا رنگ ڈال کر اپنے لیے مفادات کا سامان کرنے میں مصروف ہیں اور فوج کو اس کی پیشہ وارانہ سرگرمیوں سے باہر نکال کر ایسی جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں جو کسی طور بھی فوج کا منصب نہیں اور نہ ہی فوجیں ایسے تنازعات کا شکار ہوتی ہیں۔اس واقعے کی عدالتی سماعت اور محکمانہ تحقیقات جاری ہیں جن کے بعد سب کچھ سامنے آجائے گا قبل از وقت واویلا کسی طور ضروری نہیں۔اور ایسے ادارے اور افراد جو اپنے گندے کپڑے دھونا چاہتے ہیں اُن کا مطمع نظر محض اپنی دشمنیوں اور مفادات کے حصول سے آگے نہیں جاتا۔ اس لیے اِنہیں یہیں پر روک دینا ناصرف مناسب ہوگا بلکہ بہت زیادہ بھد کو اُڑنے سے اب بھی روکا جاسکتا ہے جو کسی صورت ریاستی اداروں کے لیے سود مند نہیں۔

جہاں تک پاکستان میں صحافتی قواعد و ضوابط کو نئے سرے سے ترتیب دینے کا مسئلہ ہے تو اس مقصد کے لیے صحافتی تنظیمیں اور حکومتی ادارے موجود ہیں، اس حوالے سے ایک صحت مندانہ بحث ہونا چاہیے لیکن کسی کو نقصان پہنچانے یا اپنا فائدہ بڑھانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔مثال کے طور پر پاکستانی صحافت محض دو میڈیا گروپوں کے گرد نہیں گھومتی اور نہ ہی یہ اِن گروپوں کی باہمی جنگ کے نتیجے میں موجودہ آزادی حاصل کرپائی ہے۔پاکستانی صحافت باقاعدہ ایک تاریخ رکھتی ہے اور لاتعداد صحافیوں نے اس آزادی کے لیے جدو جہد کی ہے، فوجی حکومتوں میں مصائب برداشت کیے ہیں اور جمہوری حکومتوں میں شخصی آمریت کا نشانہ بنی ہے۔

بدقسمتی سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ جنگ صحافتی اُصولوں کی بالادستی سے زیادہ صحافیوں کا روپ دھارے ہوئے میڈیا گروپوں کے ترجمانوں کے درمیان ہورہی ہے۔جو اپنے اپنے اداروں کی جنگ کو صحافتی اُصولوں کی جنگ بنانے پر تلے ہیں۔یہ ایک المیہ ہے کہ جو زیادہ درشت لہجہ اختیار کرتا ہے اور بسیار گوئی کا مظاہرہ کرتا ہے وہ اپنے آپ کواُصولی صحافت کا نمایندہ قرار دے دیتا ہے جبکہ معروضیت کہیں بہت دور دفن ہوجاتی ہے۔ایک دوسرے پر رکیک ذاتی حملے اور جملہ بازی کہیں بھی معروضی صحافت نہیں کہلاتی، یہ ایک معیار سے گری ہوئی اور مفاد پرستانہ چپقلش تو ہوسکتی ہے صحافت کی کوئی صنف نہیں۔یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی سرے بازار اپنے ہی جوتے سے اپنا سر پیٹنا شروع کردے۔ایک درشتی اور علیحدگی کی طرف مائل سماج میں ایسا ہونا ناگزیر ہے کیوں کہ جیسے جیسے مفاد پرست اور کشیدگی سے خوراک حاصل کرنے والے گروہ انبوہ کا روپ دھار لیتے ہیں معقولیت اور معروضیت اجنبی ہوتے جاتے ہیں۔

پاکستانی صحافت خود اپنے پاؤں کاٹنے میں مصروف ہے اور ایسا وقت بالکل قریب ہے جب اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہے گا اور ایک بار پھر صحافت کو ایسی دشوار صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا ، جیسا ماضی میں اس کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ایسے صحافتی مہم جوجن کی تعداد بہت قلیل ہے اُنہیں اس بات کی اجازت دیدی گئی ہے کہ وہ صحافت کا چہرہ مسخ کردیں۔اِنہیں آگے بڑھ کر روکنا ہوگا، اس سے پہلے کہ پوری صحافتی برداری اس یدھ میں شامل ہوجائے، اب بھی وقت ہے کہ ایسے مفاد پرستوں کو خود سے الگ کردیا جائے اور اِن کی حرکات کو یکسر نظر انداز کرکے معروضی صحافت کی طرف توجہ دی جائے۔اس رویے سے نہ صرف پاکستانی صحافت کا چہرہ نکھرے گا بلکہ اس کے بارے میں جو غلط فہمیاں جنم لے چکی ہیں اُن کا بھی تدارک ہوگا۔صحافیوں اور کاروباری ترجمانوں میں واضح لکیر کھینچ دینے کی ضرورت جتنی آج ہے پہلے کبھی نہ تھی کیوں آج پاکستانی صحافت شدید بحران کا شکار ہوچکی ہے۔اگر اس بحران کو بڑھنے دیا گیا تو جس آزادی کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے اس کو سلب کرنے والے آج بھی پاکستان میں طاقت ور ہیں اور وہ آگے بڑھ کر اس کا گلا گھونٹ دیں گے۔

مجاہد حسین ، برسیلس (Brussels) میں نیو ایج اسلام کے بیرو چیف ہیں ۔ وہ حال ہی میں شائع شدہ کتاب ‘‘پنجابی طالبان’’  سمیت نو کتابوں کے مصنف ہیں۔  تقریبا دو دہائیوں سے وہ تحقیقاتی صحافی کی حیثیت سے معروف اخبارات میں لکھ رہے ہیں۔ ان کی تحریریں پاکستان کے سیاسی اور سماجی وجود اوراسکے  اپنی تشکیل کے فوراً بعدسے ہی مشکل دور سے گزرنے سے متعلق موضوعات کا وسیع پیمانے پر احاطہ کرتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر دہشت گردی اور سلامتی سے متعلق امور ان کے مطالعہ کے خصوصی شعبے رہے ہیں۔ مجاہد حسین کے پاکستان اور بیرون ملک کے سنجیدہ حلقوں میں کافی قارئین ہیں۔ آزاد اور غیر جانبدارانہ طرز فکر کو ماننے والے مصنف مجاہد حسین، بڑے پیمانے پر طبقوں، اقوام، اور انسانیت کو درپیش چیلنجوں کا ایماندارانہ تجزیہ پیش کرتے ہیں۔

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/mujahid-hussain,-new-age-islam/dispute-with-the-journalists-or-business-houses?-صحافیوں-یا-کاروباری-ترجمانوں-کا-تنازعہ؟/d/76887

 

Loading..

Loading..