New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 04:03 AM

Urdu Section ( 30 Apr 2012, NewAgeIslam.Com)

Atmosphere of Uncertainty in Pakistan پاکستان میں بے یقینی کی فضاء


مجاہد حسین، نیو ایج اسلام
پاکستان میں ہر قسم کی بے چینی کا دوردورہ ہے اور ریاست تقریباً ہر حوالے سے مشکلات کا شکار ہے کیوں کہ مقننہ،عدلیہ اور انتظامیہ میں سے ہر کوئی بالا دستی کا خواہش مند ہے ۔فوج اس صورت حال میں اقتدار پر قبضہ کرنے میں ہمیشہ عجلت کا مظاہرہ کرتی رہی ہے لیکن آج وہ محض اس لیے ایسا کرنے سے گریز کررہی ہے کہ اب پاکستان کی وحدت ماضی کی نسبت بہت زیادہ کمزور ہے۔ملک کے ایک بڑے حصے میں دہشت گردوں کا راج ہے تو ساتھ ہی سیاسی تنازعات جنگ کی صورت حال اختیار کررہے ہیں۔قبائلی پٹی ریاست کی دسترس سے بہت دور جاچکی ہے اور بلوچستان میں ایسے لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو اسلام آباد سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ملک کا مذہبی طبقہ ساری دنیا کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہورہا ہے اور ریاست کو محاذ جنگ پر مصروف دیکھنا چاہتا ہے۔حیران کن بات یہ ہے کہ سب جانتے ہیں کہ ریاست میں اتنا دم خم نہیں ہے اور اس کی معاشی زبوں حالی عروج پر ہے لیکن پھر بھی لڑنے مرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جیسے ہی امریکی اور نیٹو افواج افغانستان سے نکلیں گی پاکستان کی ریاست تشدد پسندوں کے سامنے سرنگوں ہوجائے گی۔بعض یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ،بھارت اور اسرائیل ایک گہری سازش کے تحت ایٹمی ملک پاکستان کو گرداب میں پھنسانا چاہتے ہیں تاکہ اس کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کیاجاسکے۔کچھ ایسے دانش ور بھی پاکستان میں اچھا خاصا نام کما رہے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ اگر پاکستان طالبان اور القاعدہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو درست کرلیتا ہے تو یہ اس کی بقاء کی ضمانت دے سکتے ہیں اور پاکستان کے روایتی دشمن ممالک بھارت ،امریکہ اور اسرائیل کے تمام ناپاک منصوبے خاک میں مل سکتے ہیں۔
اس دوران ایک نئی اُفتاد آن پڑی ہے اور نہایت زوردار آواز میں خود کو آزاد اور خود مختار عدلیہ قرار دینے والی پاکستانی سپریم کورٹ نے پاکستان کے وزیراعظم کو توہین عدالت کے ایک مقدمے میں مجرم قرار دیدیا ہے۔عدالت سمیت ہر کوئی اچھی طرح جانتا ہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی وزیراعظم کے طور پر نامزدگی اور موجودگی کا اولین سبب ملک کا صدر آصف علی زرداری ہے۔یوسف رضا گیلانی کسی ذاتی وصف یا سیاسی جدوجہد کے بل بوتے پر ملک کے وزیراعظم نہیں بلکہ اس کی وجہ صدر مملکت کی رضامندی ہے۔اب وہ جس عہدیدار کی مکمل صوابدید کی بناء پر وزیراعظم ہیں ،اُس عہدیدار کے خلاف عدلیہ کے حکم پر کس طرح عمل کرسکتے ہیں؟یوسف رضا گیلانی کی جگہ کوئی اورہوتا یا کسی دوسرے کو آج بھی ملک کا وزیراعظم بنا دیا جائے تو وہ صدر مملکت کے خلاف سوئس عدالتوں کو خط نہیں لکھے گا بلکہ ایسی صورت حال میں تو وزیراعظم ہی اُس کو نامزد کیا جائے گا جو پیشگی اپنا استعفیٰ لکھ کر صدر مملکت کو تھما کر حلف اُٹھانے پر رضامند ہو گا۔ہوسکتا ہے فوج اس صورت حال میں سول حکومت کی بجائے عدلیہ کا ساتھ دیتی جو ہمیشہ فوجی آمروں کا ساتھ دیتی آئی ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ فوجی قیادت عدلیہ سے بھی خوش نہیں اور خفیہ اداروں کی طرف سے غائب کیے گئے پاکستانیوں کے مقدمے کی سماعت اُس کو ناگوار گزر رہی ہے۔اس کے علاوہ آئی ایس آئی اور فوجی قیادت کی سیاسی چیرہ دستیوں اور فنڈز کے بے تحاشہ استعمال کا ایک مشہور زمانہ مقدمہ’’اصغر خان کیس‘‘ بھی فوجی قیادت کو ناخوش کرنے کے لیے کافی ہے۔ایک تیسرا معاملہ سابق سفیر حسین حقانی اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ احمد شجاع پاشا کی ایک امریکی شہری سے حساس معاملات پر خط کتابت اور ملاقاتیں ہیں جن کے ابتدائی خدوخال سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی ایس آئی سول حکومتوں کو اُلٹانے کی کس حد تک رسیا ہوچکی ہے۔
وزیراعظم کے خلاف فیصلے کے بعد اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نواز آپے سے باہر ہوچکی ہے اور ہر صورت میں حکومت گرانا چاہتی ہے۔ساتھ ہی سونامی جیسی قدرتی آفت کو پاکستان کی سیاست میں نئے معانی دینے میں مصروف عمران خان بھی کسی وقت میدان میں نکل سکتے ہیں اور اس بار بھی اُن کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو وہ اپنا ’’سونامی‘‘ سڑکوں پرلے آئیں گے۔دوسری طرف پاکستانی ملاؤں ، سابق فوجی عہدیداروں اور ناکام سیاستدانوں کا مقدس اتحاد’’ دفاع پاکستان کونسل‘‘بھی پوری قوت کے ساتھ سرگرم ہے اور نیٹو سپلائی لائن کی بحالی کے خلاف خونی جدوجہد کے نعرے سے لے کر ملک کے اقتدار کے حصول کے تک معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے۔بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں اور اُن کے سول مددگاردفاع پاکستان کونسل اور عمران خان کی’’سونامی بردار‘‘ سیاسی جماعت کی پشت پر ہیں جو ہر صورت میں ناپسندیدہ پیپلز پارٹی اور انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے میاں نواز شریف کو آئندہ اقتدار سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔فوجی قیادت سے سمجھتی ہے کہ میاں نواز شریف اقتدار میں آکر بھرپور قوت کے ساتھ ریاستی اُمور میں فوجی مداخلت کا خاتمہ کردیں گے جب کہ پیپلز پارٹی اگر دوبارہ اقتدار میں آجاتی ہے تو اس کی قیادت پر پھر سے بھروسہ کرنا خطرناک ہوگا۔یہ ایک ایسا مخمصہ ہے جو فوجی قیادت کو لاحق ہے اور جس کے خاتمے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
اس ساری تگ و دو میں ریاست کے معاملات اور پاکستان کے عوام کی حالت پر توجہ کرنا کسی طور ممکن نہیں رہا۔یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام کے بڑے حصے کی براہ راست ترجمانی ذرائع ابلاغ کے ہاتھوں میں آچکی ہے جو نہ صرف وابستگیوں کا حامل ہے بلکہ اب اس کی صفوں میں مہم جوؤں کی بہت بڑی تعداد بھی شامل ہوچکی ہے۔اس کا واضح ترین نتیجہ یہ ہے کہ آج اگر کوئی سپریم کورٹ کی طرف نظریں جمائے بیٹھا ہے کہ وہ حکومت کو اُٹھا کر باہر پھینک دے تو کسی کی نظریں جی ایچ کیو کی طرف لگی ہوئی ہیں جو عموماً ایسے حالات میں حرکت میں آتا ہے اور پاکستان کی ایک نئی سمت کی طرف سفر شروع کردیتا ہے۔

حال ہی میں "پنجابی طالبان" سمیت نو کتابوں کے مصنف، مجاہد حسین اب نیو ایج اسلام کے لئے ایک باقاعدہ کالم لکھیں گے۔ تقریبا دو دہائیوں سے وہ تحقیقاتی صحافی کی حیثیت سے معروف اخبارات میں لکھ رہے ہیں۔ ان کی تحریریں پاکستان کے سیاسی اور سماجی وجود ، ایک ملک کے اس کے ابتداء کے مختصر وقت گزرنے کے بعد سے ہی مشکل دور سے گزرنے سے متعلق موضوعات کا وسیع پیمانے پر احاطہ کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر دہشت گردی اور سلامتی سے متعلق امور ان کے مطالعہ کے خصوصی شعبے رہے ہیں۔ مجاہد حسین کے پاکستان اور بیرون ملک کے سنجیدہ حلقوں میں کافی قارئین ہیں۔ آزاد اور غیر جانبدارانہ طرز فکر کو ماننے والے مصنف مجاہد حیسن، بڑے پیمانے پر  طبقوں، اقوام، اور انسانیت کو درپیش چیلنجوں کا ایماندارانہ تجزیہ پیش کرتے ہیں۔

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/atmosphere-of-uncertainty-in-pakistan--پاکستان-میں-بے-یقینی-کی-فضاء/d/7186

 

Loading..

Loading..