New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 10:05 PM

Urdu Section ( 23 Apr 2014, NewAgeIslam.Com)

A Disaster, We are Unable to See ایک ایسا عفریت جو ہمیں نظر نہیں آرہا

 

 

 

 

مجاہد حسین، نیو ایج اسلام

24اپریل، 2014

تحریک طالبان کے ترجمان یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جنگ بندی کا خاتمہ حکومتی عدم دلچسپی اور اُن کے پیش کردہ مطالبات کو مکمل طور پر تسلیم نہ کیے جانے کا منطقی نتیجہ ہے۔جواب میں وفاقی وزیرداخلہ بھی اپنے معروضات پیش کرنے میں مصروف ہیں اور بہت حد تک اس وقت وہ اپنے موقف میں درست ہیں۔دیگر سیاسی و مذہبی جماعتیں اس حوالے سے تقریباً خاموش ہیں کیوں کہ صورت حال نازک ہوتی جارہی ہے اورقومی سلامتی کونسل کے اجلاس نے جہاں طالبان اور دیگر جنگجو گروہوں کو ایک صاف پیغام دیا ہے وہاں حکومت اور فوج کے درمیان کشیدگی کے خواہش مندوں کو بھی اسی طرح کا پیغام ملا ہے۔مسلح جنگجو ؤں کی طرف سے ممکنہ حملوں کے پیش نظر حکومت اور سیکورٹی ادارے کس قسم کے جواب کی تیاری کرتے ہیں ،اس کے بارے میں ابھی سے کچھ کہنا قبل ازوقت ہے کیوں کہ حکومت اور سیکورٹی اداروں کو مذاکرات شروع ہونے سے کچھ عرصہ قبل کیے گئے فضائی حملوں کی کامیابی اور اُن کے اثرات سے آگاہی حاصل ہے۔لب لباب یہ ہے کہ دو تین ماہ کی اذیت پرستی کے بعد ایک بار پھر حالات وہیں سے شروع ہونے جارہے ہیں جہاں اِن میں قدرے تبدیلی کا موقع آیا تھا۔

اِن غیر نتیجہ خیز مذاکرات سے برآمد ہونے والے چند حقائق کا اگر جائزہ لیا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جہاں بہت سے تکنیکی سقم موجود ہیں وہاں مخصوص اقسام کے اہداف کا فوری حصول بھی راہ کی ایک بڑی روکاٹ ثابت ہوا ہے۔مثال کے طور پر حکومت کی فوری توجہ ایک جامع قسم کی جنگ بندی کے اعلان کا حصول تھا، اور اس کی شاید بڑی وجہ حکمران جماعت کی انتخابی مہم بھی تھی جس میں اس جماعت کی قیادت پاکستان کے عوام سے یہ وعدہ کرتی رہی کہ وہ ملک میں امن و امان کو ہر قیمت پر قائم کریں گے۔لہذا فوری جنگ بندی کے طالبانی اعلان کو ہی کامیابی کی حتمی دلیل سمجھ لیا گیا ۔ظاہر ہے طالبان کی طرف سے اس قسم کی جنگ بندی کا اعلان مشروط تھا جس میں یہ ایک بڑی شرط تھی کہ اُن کے منتخب کردہ افراد کو پاکستانی جیلوں سے رہا کیا جائے۔لیکن اس دوران عوام کو یہ نہیں بتایا گیا کہ ہم اس عارضی جنگ بندی کے عوض طالبان کو کیا پیش کررہے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی موجود ہیں کہ سیکورٹی اداروں کو بھی جنگ بندی کے اعلان کے عوض طالبان کو قیدیوں کی رہائی کی صورت میں پیش کیے جانے والے تحفے کا پوری طرح علم نہیں تھا، جو بعد میں ایک اختلاف کی صورت میں سامنے آیا۔اختلاف اُس وقت شدید نوعیت اختیار کرگیا جب ایک طرف طالبان نے ایف سی کے اغواء شدہ افراد کو بے دردی کے ساتھ قتل کردیا اور اُن کو لاشوں کی بے حرمتی کی فلمیں جاری کردیں۔لیکن حکومت کی طرف سے اس موقع پر ایک عجیب قسم کی پسپائی اورلاچاری کا تاثر سامنے آیا جس نے نہ صرف سیکورٹی اداروں کو مشتعل کردیا بلکہ دوسری طرف طالبان جنگجوؤں کے حوصلے بھی مزید بلند کردیئے جو یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید حکومت ایکبار پھر سیکورٹی اداروں کو سخت اقدامات کا حکم جاری کردے گی۔

دوسرا عنصر جس کی طرف ابھی بہت زیادہ توجہ نہیں دی گئی وہ اِن مذاکرات کے دوران طالبان اور اُن کے لاتعداد اتحادی گروہوں کی طرف سے ملک کے شہری علاقوں میں اپنے پشتے مضبوط کرنے کا ہے کیوں کہ مصدقہ ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ جب مذاکرات اپنی پوری شد ت کے ساتھ جاری تھے اس دوران پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخواہ کی حکومتوں کو سیکورٹی اداروں کی طرف سے ایسی رپورٹس جاری کی گئیں جن میں یہ بتایا گیا تھا کہ کس طرح طالبان اور اُن کے ساتھی جنگجو تینوں صوبوں کے شہری علاقوں میں اپنے آپ کو منظم کررہے ہیں اور اگر اِن کو اس موقع پر نہ روکا گیا تو یہ ریاست کے لیے خطرناک ہوگا۔حیران کن بات ہے کہ سوائے سندھ کی صوبائی حکومت کے کسی دوسرے صوبے نے اس حوالے سے حرکت تک نہ کی، جب کہ سندھ کی حکومت بھی محض ایسے اقدامات ہی کرسکی جو اس حوالے سے قطعی ناکافی تھے۔اس کی وجہ گھیراؤ شدہ سندھ حکومت کی اپنی سیاسی مجبوریاں اور بہت حد تک نااہلی تھی۔

پنجاب کی طرف سے یہ جواب دیا گیا کہ صوبائی حکومت اس حوالے سے بہت حساس ہے اور طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات کے پس منظر میں ابھی سے ایسی کسی بڑی کارروائی کا خطرہ مول نہیں لے سکتی جو قومی سطح پر نقصان دہ ثابت ہو۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ روپورٹس میں نشان زد علاقوں (جنوبی پنجاب کے اضلاع لیہ، ملتان، خانیوال، لودھراں، بہاول پور، بہاول نگر اور حیم یار خان) میں خفیہ اداروں کو الرٹ کردیا گیا ہے جو مناسب اقدامات تجویز کریں جن کی روشنی میں صوبائی حکومت کوئی قدم اُٹھائے گی۔ اس سے زیادہ مہمل جواب خیبر پختونخواہ کی حکومت کی طرف سے موصول ہوا، جس میں صرف یہ کہا گیا تھا کہ صوبائی حکومت اپنے فرائض سے پوری طرح آگاہ ہے اور حالات کے مطابق کارروائی کرے گی۔پنجاب کے وزیراعلی سماجی سطح کے جرائم کی خبروں کے ردعمل کے طور پر خود مہنگے دورے کرکے جنوبی پنجاب میں چکر لگاتے رہے تاکہ ذرائع ابلاغ میں اُن کی فعالیت کا ڈنکا بجتا رہے لیکن ان اضلاع کے انتظامی عہدیداروں کے ساتھ اِنہیں سیکورٹی معاملات کے حوالے سے بات چیت کا موقع نہ مل سکا۔اس دوران مسلح انتہا پسند اپنی پوری قوت کے ساتھ اپنے گروہوں کو مذکورہ علاقوں میں ہر قسم کی سہولیات فراہم کرنے میں مصروف رہے اور صوبائی حکومت ہر قسم کے انتباہ کو نظر انداز کرکے اپنے کام میں جتی رہی۔

سب سے زیادہ حوصلہ شکن امر یہ ہے کہ اگر سول حکومت پاکستان میں مکمل امن و مان کی خواہاں ہے اور ہر قسم کی مذہبی و فرقہ وارانہ انتہا پسندی کا خاتمہ چاہتی ہے تو کیا یہ اس کے فرائض میں شامل نہیں کہ سیکورٹی اداروں کی امن و امان کے حوالے سے فراہم کردہ رپورٹس اور انتباہ کا نوٹس لیا جائے؟ نشان زد علاقوں میں انتظامی طور پر ایسے اقدامات کیے جائیں کہ انتہا پسند شہری علاقوں میں اپنے مسکن مضبوط نہ بنا سکیں؟لیکن بدقسمتی سے اس طرف دھیان دینے والا کوئی نہیں اور اس کی دیگر وجوہات میں یہ بھی شامل ہے کہ بہت سے اراکان پارلیمنٹ مقامی مذہبی و فرقہ پرست انتہا پسندوں سے وابستہ ہیں اور اُن کی گاہے بگاہے مدد کرکے سیاسی حیات حاصل کرتے ہیں۔چونکہ خالص انتظامی اُمور کو بھی مقامی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی مرضی کے مطابق چلایا جاتا ہے اور ضلعی انتظامیہ اُن کے سامنے عضو معطل ثابت ہوتی ہے اس لیے پاکستان کے شہری علاقوں میں فروغ پذیر انتہا پسندی کا مقابلہ مشکل سے مشکل تر ہورہا ہے۔پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو یہ ایک ایسی مجبوری لاحق ہوچکی ہے جس کے مضمرات کی طرف ابھی تک کسی کی توجہ نہیں گئی ۔چھوٹ دو اور سیاسی فائدہ حاصل کرو کی حکمت عملی پاکستانی ریاست کی بقاء کے لیے ایک بڑا سوال اُٹھا رہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ پہاڑوں اور غاروں میں پناہ گزین انتہا پسندجو ریاست کے خلاف برسرپیکار ہیں وہ ایسے خوفناک جنگجوؤں کے سامنے بونے نظر آئیں گے جو آج ہمارے شہروں میں ہماری اپنی مدد سے پل رہے ہیں اورجو بہت قریب سے وار کریں گے۔فرقہ وارانہ جنگ میں ہم اِن کے شدید وار کا مزہ چکھ چکے ہیں اور ابھی تک سنبھل نہیں پائے۔

مجاہد حسین ، برسیلس (Brussels) میں نیو ایج اسلام کے بیرو چیف ہیں ۔ وہ حال ہی میں شائع شدہ کتاب ‘‘پنجابی طالبان’’  سمیت نو کتابوں کے مصنف ہیں۔  تقریبا دو دہائیوں سے وہ تحقیقاتی صحافی کی حیثیت سے معروف اخبارات میں لکھ رہے ہیں۔ ان کی تحریریں پاکستان کے سیاسی اور سماجی وجود اوراسکے  اپنی تشکیل کے فوراً بعدسے ہی مشکل دور سے گزرنے سے متعلق موضوعات کا وسیع پیمانے پر احاطہ کرتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر دہشت گردی اور سلامتی سے متعلق امور ان کے مطالعہ کے خصوصی شعبے رہے ہیں۔ مجاہد حسین کے پاکستان اور بیرون ملک کے سنجیدہ حلقوں میں کافی قارئین ہیں۔ آزاد اور غیر جانبدارانہ طرز فکر کو ماننے والے مصنف مجاہد حسین، بڑے پیمانے پر طبقوں، اقوام، اور انسانیت کو درپیش چیلنجوں کا ایماندارانہ تجزیہ پیش کرتے ہیں۔

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/mujahid-hussain,-new-age-islam/a-disaster,-we-are-unable-to-see-ایک-ایسا-عفریت-جو-ہمیں-نظر-نہیں-آرہا/d/76726

 

Loading..

Loading..