New Age Islam
Mon Dec 06 2021, 06:24 PM

Urdu Section ( 19 May 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Pakistan: New Governments, Prolonged Problems, Grave Concerns نئی حکومتیں، پرانے مسائل اور گہرے خدشات

 

مجاہد حسین، نیو ایج اسلام

 20مئی، 2013

پاکستان مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف جزوی طور پر اس بات پر متفق ہیں کہ اُن کی مرکز اور صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومتیں دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات کریں گی اور ملک بھر میں پھیلے ہوئے دہشت گردوں اور فرقہ پرستوں کو مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی ،انتہا پسندی اور فرقہ واریت سے باز رکھنے میں کامیابی حاصل کرلیں گی۔بظاہر یہ ایک سمجھ میں آنے والی منطق ہے کہ انتخابات سے پہلے طالبان نے یہ پیش کش کی تھی کہ اگر پاکستان مسلم لیگ،جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی ضمانت مہیا کریں تو وہ حکومت پاکستان سے مذاکرات پر تیار ہیں لیکن یہ مذاکرات اس بنیاد پر نہیں ہوں گے کہ پہلے ہمیں غیر مسلح ہونے کا کہا جائے۔

انتخابات کے بعد مسلم لیگ نواز مرکز میں حکومت سازی کے لیے مطلوبہ نشستیں حاصل کرچکی ہے اور بلوچستان کے علاوہ خیبر پختونخواہ میں بھی اس کے پاس کسی حکمران اتحاد میں شامل ہونے کے لیے نشستیں موجود ہیں۔طالبان نے البتہ تحریک انصاف کو اس وقت ضمانت کے قابل نہیں سمجھا تھا لیکن ڈرون حملوں کے خلاف تحریک انصاف کے موقف اور نیٹو فورسز کے ساتھ ساتھ امریکی انتظامیہ کے بارے میں عمران خان کے بے لچک موقف کے باعث اِنہیں طالبان کی طرف سے کسی قسم کی مخالفت کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف یا مسلم لیگ نواز کسی ایک کے ساتھ حتمی اتحادسے گریز نہیں کریں گی کیوں کہ اِنہیں اس حوالے سے صوبے میں طاقت کے حامل طالبان کی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

مرکز میں جماعت اسلامی کے پاس کوئی ایسی طاقت نہیں کہ مسلم لیگ نواز کو اس کی ضرورت پڑے لیکن تحریک انصاف کو مرکز میں مسلم لیگ نواز کی قیادت نظر انداز نہیں کرنا چاہتی۔سب سے مشکل مرحلہ تحریک انصاف کو لاحق ہے کیوں کہ خیبرپختونخواہ میں حکومت سازی اگرچہ آسان ہوگی لیکن نہایت اُلجھی ہوئی صورت حال میں حکومت کرنا ایک مشکل امر ہوگا، جس کے بارے میں ابھی سے تحریک انصاف کے پاس کوئی لائحہ عمل نظر نہیں آتا۔تحریک انصاف کے متوقع وزیراعلیٰ جناب پرویز خٹک نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ اُنہیں طالبانائزیشن سے کوئی خطرہ نہیں اور نہ ہی طالبانائزیشن اُن کی نظر میں کوئی مسئلہ ہے، جب کہ اُنہیں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے مذاکرات کا سہارا لینا پڑے گا۔

دیکھنا یہ ہے کہ طالبان جو دہشت گردی کی علامت ہیں اور دہشت گردی کے بغیر اِن کی کوئی حکمت عملی آگے نہیں بڑھتی وہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی مخلوط حکومت کے ساتھ کس قسم کا ’’تعاون‘‘ کرتے ہیں۔اپوزیشن میں یا حکومت سے باہر ہوتے ہوئے شاید اِس طرح کی ذمہ داریوں کے بوجھ کا احساس نہیں ہوتا لیکن جب آپ حکومت میں ہوں تو نہ چاہتے ہوئے بھی ذمہ داری کو قبول کرنا پڑتا ہے۔مثال کے طور پر ڈرون حملوں کی دشمن تحریک انصاف صوبائی حکمران کے طور پر قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے رکوانے کا مینڈیٹ نہیں رکھتی اور نہ ہی مرکز میں متوقع مسلم لیگی حکومت کے خدوخال اور کوائف سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ شدت کے ساتھ ڈرون حملوں کی مخالفت کرے گی یا ایسا کوئی انتظام کر پائے گی کہ ڈرون حملے بند ہو جائیں۔تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ امریکہ ڈرون حملے اور قبائلی علاقوں کے لیے اپنی سابقہ پالیسی جاری رکھے گا۔اگر امریکی پالیسی اور ڈرون حملے جاری رہتے ہیں اورمرکز سے لے کر متاثرہ صوبے تک میں طالبان کی ضمانتی سیاسی جماعتیں حکومت میں رہتی ہیں تو جو صورت حال ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

صرف ایک صورت نظر آتی ہے کہ تحریک انصاف،جماعت اسلامی اور طالبان ترجمان احسان اللہ احسان مشترکہ پریس کانفرنس کرکے دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ ڈرون حملے عالم اسلام کے خلاف جارحیت ہیں جن کو فوری طور پر بند ہونا چاہیے اور ہم اِن کی مذمت کرتے ہیں۔دوسری طرف میاں نواز شریف یہ تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ وہ ایک حقیقی جمہوری جماعت کے سربراہ ہیں جو بطور وزیراعظم پاکستان کو لاحق مسائل کا حتی المقدور تدارک کریں گے۔لیکن میاں صاحب اور اُن کے ساتھیوں کی فوری توجہ پاکستان کے معاشی مسائل کے حل کی طرف ہے جو لامحالہ طور پر ایک نہایت اہم اور ناگزیر ضرورت ہے لیکن اس میں بھی کوئی ابہام نہیں کہ پاکستانی ریاست کو لاحق معاشی مسائل کا براہ راست تعلق دہشت گردی اور امن و امان کی مخدوش صورت حال کے ساتھ بھی ہے۔یہ ممکن نہیں کہ امن و امان کی حالت بہتر بنائے بغیر پاکستان کو معاشی استحکام بخشا جاسکے۔

پنجاب میں مسلم لیگ نواز کی سابقہ حکومت نے دہشت گردی اور فرقہ واریت کے گھمبیر مسئلے کو کسی حد تک نظر انداز کیا ہے اور انتہاء پسندوں کی مرکزی حکومت کی طرف مبذول توجہ کے باعث اس کو زیادہ مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔حتی کہ ایک موقع پر وزیراعلیٰ شہباز شریف کے منہ سے نکل گیا کہ طالبان اور ہماری پالیسی میں کوئی فرق نہیں اور اُنہوں نے طالبان سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ پنجاب کو اپنی کارروائیوں سے محفوظ رکھیں۔ اس کے علاوہ سب لوگ جانتے ہیں کہ فرقہ واریت کے لیے سب سے زیادہ افرادی قوت فراہم کرنے والا صوبہ پنجاب ہے اور سابق صوبائی حکومت نے اعلانیہ فرقہ پرست اور طالبان کے ساتھی لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق کو مالی امداد فراہم کی اور اس کی عدالتوں سے رہائی کے معاملات میں معاونت کی۔

سابقہ انتخابات میں پنجاب میں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے مسلح گروہوں نے مسلم لیگ نواز کے اُمیدواروں کو کامیاب کروانے کے لیے اپنی خدمات فراہم کی تھیں اور اس مرتبہ کالعدم سپاہ صحابہ کے کئی سابق رہنما مسلم لیگ نواز کے پلیٹ فارم سے منتخب بھی ہوئے ہیں۔اس طرح کی ایک واضح مثال گجرات کے ایک روایتی دشمن دار خاندان عبدالمالک کوٹلہ خاندان کے چشم و چراغ عابد رضا کوٹلہ کی ہے جومسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ عابد رضا کوٹلہ فرقہ وارانہ قتل وغارت کے کئی مقدمات کا سامنا کرتا رہا ہے اور اس کے علاوہ مشرف پر ہوئے ایک خودکش حملے میں بھی مبینہ طورپر ملوث تھا، لیکن چونکہ اس وقت اس کا تعلق گجرات کے چورہدری شجاعت خاندان سے تھا اس لیے کوشش کے بعد اس کو بچا لیا گیا۔اب یہ نوجوان مسلم لیگ نواز کا رکن قومی اسمبلی ہے اور پہلے سے کئی گنا طاقت ور ہے۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ نئی حکومت پاکستان میں دہشت گردی اور فرقہ واریت کا تدارک کرسکے گی البتہ اس کی نوعیت میں کچھ واضح تبدیلیاں ضرور آئیں گی۔پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھے گی اور قومی اسمبلی میں اس حوالے سے قانون سازی کے لیے بعض متنازعہ بل بھی پیش کیے جائیں گے۔فرقہ پرستوں کے پاس چونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی طاقت بھی آتی جارہی ہے اس لیے اِن کو روک دینا نہایت مشکل ہوگا۔خیبر پختونخواہ میںِ انتہا ء پسندوں کو خصوصی رعایات دی جائیں گی اور پنجاب میں اِنہیں پہلے کی نسبت فرقہ وارانہ کارروائیاں جاری رکھنے میں زیادہ آسانی ہوگی کیوں کہ اِن کے ساتھی اب براہ راست اقتدار میں ہوں گے اور اُن کے لیے عدالتوں اور پولیس پر اثر انداز ہوناآسان ہوگا۔المیہ یہ ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کا کوئی پروگرام نہیں اور زیادہ تر سیاسی جماعتیں اس کو مقامی اور بین الاقوامی حکومتوں کے اقدامات کا ردعمل قرار دیتی ہیں۔

انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی مقامی وجوہات کو نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔مثال کے طور پر کوئی بھی سیاسی جماعت دینی مدارس کے انتہا پسندانہ اور فرقہ وارانہ نصاب کو تبدیل کرنے جیسا مطالبہ نہیں کرسکتی اور نہ ہی ایسے لوگوں کو لگام دے سکتی ہے جو زبان و بیان سے فرقہ وارانہ کام جاری رکھتے ہیں۔فرقہ پرستوں اور انتہا پسندوں کو کارروائیوں کے لیے چندہ جمع کرنے سے نہیں روکا جاسکتا اور نہ ہی مقامی سطح کے جرائم میں ملوث عناصر پر قابو پایا جاسکتا ہے۔یہ ایک مشکل گھڑی ہے جس میں پاکستان میں منتخب ہونے والی نئی حکومتیں پاکستان کے مشکل اور پیچیدہ مسائل کا سامنا کریں گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ بظاہر پُرعزم نظر آنے والی جماعتیں کچھ بدل پائیں گی کہ نہیں؟

مجاہد حسین ، برسیلس میں نیو ایج اسلام کے بیرو چیف ہیں ۔ وہ حال ہی میں شائع شدہ کتاب ‘‘پنجابی طالبان’’  سمیت نو کتابوں کے مصنف ہیں۔  تقریبا دو دہائیوں سے وہ تحقیقاتی صحافی کی حیثیت سے معروف اخبارات میں لکھ رہے ہیں۔ ان کی تحریریں پاکستان کے سیاسی اور سماجی وجود اوراسکے  اپنی تشکیل کے فوراً بعدسے ہی مشکل دور سے گزرنے سے متعلق موضوعات کا وسیع پیمانے پر احاطہ کرتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر دہشت گردی اور سلامتی سے متعلق امور ان کے مطالعہ کے خصوصی شعبے رہے ہیں۔ مجاہد حسین کے پاکستان اور بیرون ملک کے سنجیدہ حلقوں میں کافی قارئین ہیں۔ آزاد اور غیر جانبدارانہ طرز فکر کو ماننے والے مصنف مجاہد حسین، بڑے پیمانے پر طبقوں، اقوام، اور انسانیت کو درپیش چیلنجوں کا ایماندارانہ تجزیہ پیش کرتے ہیں۔

URL:

 http://www.newageislam.com/urdu-section/mujahid-hussain,-new-age-islam-مجاہد-حسین/pakistan--new-governments,-prolonged-problems,-grave-concerns-نئی-حکومتیں،-پرانے-مسائل-اور-گہرے-خدشات/d/11654

 

Loading..

Loading..